تقدیر حقیقت ہے اور اس پر ایمان لانا فرض ہے

بلاشبہ انسان اشرف المخلوقات ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان اپنے وجود کے اعتبار سے زمین و آسمانوں، صحراؤں، دریاؤں، ہواؤں، فضاؤں اور پہاڑوں کے مقابلہ میں ایک چھوٹی سی مخلوق ہے، گویا کہ کائنات کے وسیع و عریض اجزاء اور بے شمار عناصر میں انسان ایک معمولی عنصر ہے، ظاہر بات ہے کہ اپنے وجود، علم وشعور اور اختیارات کے حوالے سے انسان کا حدود و اربعہ نہایت ہی مختصر ہے۔ کیونکہ اسے بڑے ہی محدود علم سے نوازا گیا ہے۔

﴿وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَ مَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا﴾ ( بنی اسرائیل: ۸۵)

’’اور وہ آپﷺ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں، فرما دیں روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں بہت ہی تھوڑا علم دیا گیا ہے۔‘‘

جبکہ اللہ تعالیٰ کا علم لا محدود بھی ہے اور وہ نسیان اور ضعف سے پاک بھی اس لیے فرعون کے ایک اعتراض کے جواب میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا:

﴿قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ فِيْ كِتٰبٍ١ۚ لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَ لَا يَنْسَى﴾ (طٰهٰ: ۵۱، ۵۲)

’’فرعون نے کہا: جو لوگ پہلے فوت ہو چکے ہیں ان کا کیا بنے گا؟ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اس کا علم میرے رب کے پاس ہے جو ایک کتاب میں محفوظ ہے، میرا رب نہ چوکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔‘‘

اس لیے تقدیر پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور اس کے حتمی اور اکمل ہونے کا اقرار کرنا ہے۔ جس کی وضاحت نبی معظمﷺ کے ارشادات سے ہوتی ہے:

عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِﷺ كَتَبَ اللهُ مَقَادِیْرَ الْخَلَآ ئِقِ قَبْلَ اَنْ یَّخْلُقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِخَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍ قَالَ وَكَانَ عَرْشُهٗ عَلَی الْمَاءِ.(رواه مسلم: باب حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسٰی)

’’سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوق کی تقدیریں لکھ دیں تھیں اور اس وقت اللہ کا عرش پانی پر تھا۔‘‘

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللهِﷺ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ اِنَّ خَلْقَ اَحَدِكُمْ یُجْمَعُ فِیْ بَطْنِ اُمِّهٖ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا نُّطْفَةً ثُمَّ یَكُوْنُ عَلَقَةً مِثْلَ ذٰلِكَ ثُمَّ یَكُوْنُ مُضْغَةً مِثْلَ ذٰلِكَ ثُمَّ یَبْعَثُ اللهُ اِلَیْهِ مَلَكًا بِاَرْبَعِ كَلِمَاتٍ فَیَكْتُبُ عَمَلَهٗ وَاَجَلَهٗ وَ رِزْقَهٗ وَشَقِیٌّ اَوْ سَعِیْدٌ ثُمَّ یُنْفَخُ فِیْهِ الرُّوْحُ فَوَالَّذِیْ لَااِلٰهَ غَیْرُهُ اِنَّ اَحَدَكُمْ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ اَهْلِ الْجَنَّةِ حَتّٰی مَا یَكُوْنَ بَیْنَهُ وَبَیْنَهَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْهِ الْكِتَابُ فَیَعْمَلُ بِعَمَلِ اَهْلِ النَّارِ فَیَدْخُلُهَا وَاِنَّ اَحَدَكُمْ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ اَهْلِ النَّارِ حَتّٰی مَا یَكُوْنَ بَیْنَهُ وَبَیْنَهَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْهِ الْكِتَابُ فَیَعْمَلُ بِعَمَلِ اَهْلِ الْجَنَّةِ فَیَدْخُلُهَا. (رواه البخاری:باب خَلْقِ آدَمَ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَیْهِ وَذُرِّیَّتِه)

’’سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے سچے اور تصدیق کیے گئے رسول ﷺ نے فرمایا: تم میں ہر شخص کی تخلیق کی ابتدا اس کی والدہ کے رحم میں ایک نطفہ کی صورت میں چالیس دن میں ہوتی ہے پھر وہ چالیس دن جمے ہوئے خون کی شکل میں رہتا ہے پھر چالیس دن گوشت کی صورت میں رہتا ہے۔ پھراللہ تعالیٰ فرشتے کو چار باتوں کے ساتھ بھیجتے ہیں اور وہ اس کا کردار،اس کی موت،اس کا رزق، اس کا بد یا نیک ہونا لکھتا ہے۔ پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔اس کے بعد اللہ کے رسولﷺ نے اللہ کی قسم کھا کر فرمایا: جس کا کوئی شریک نہیں کہ تم میں سے کوئی جنتیوں والے عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جنت اور اس کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس پر تقدیر غالب آتی ہے اور وہ ایسے کام کرتا ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہوجاتا ہے۔اسی طرح ایک شخص عمر بھر دوزخیوں والے کام کرتا ہے یہاں تک کہ دوزخ اور اس کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی ہوتا ہے تو اس پر لکھا ہوا غالب آجاتا ہے تو پھر وہ جنتیوں والے عمل کرکے جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ ‘‘

اس حدیث میں آدمی کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو زندگی بھر ماحول کے اثرات، بزرگوں کے خوف یا اسلامی حکومت کے جبر سے بظاہر نیک اعمال کرتے ہیں لیکن ایمان ان کے دل میں راسخ نہیں ہوتا کیونکہ محض ماحول کے جبر کی وجہ سے وہ ظاہری طور پر نیک ہوتے ہیں۔ اس لیے انہیں جونہی موقعہ ملتا ہے تو وہ برائی کی طرف لپکے چلے جاتے ہیں، اسی طرح ہی بے شمار لوگ سوسائٹی یا گھریلو ماحول کی وجہ سے نیکی کی طرف متوبہ نہیں ہوتے لیکن فطرتاً نہایت ہی سعادت مند طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔ جب انہیں نیکی کا ماحول میسر آتا ہے تو بہت سے نیک لوگوں سے بڑھ کر نیک کام سر انجام دیتے ہیں۔ اس قسم کے لوگوں کی نیک نیتی اور حقیقی کردار موت کے قریب انہیں حقیقی اور اصل انجام کی طرف کھینچ لیتا ہے۔ اس کے برعکس فطری اور قلبی طور پر بُرا شخص موت کے وقت کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔ نبی کریمﷺ کے فرمان میں اسی فطری انجام کی نشان دہی کی گئی ہے۔

(( عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ فِي جَنَازَةٍ، فَأَخَذَ شَيْئًا فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِهِ الأَرْضَ، فَقَالَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ الجَنَّةِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِﷺ أَفَلاَ نَتَّكِلُ عَلَى كِتَابِنَا، وَنَدَعُ العَمَلَ؟ قَالَ: اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ، ثُمَّ قَرَأَ: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالحُسْنَى})) (رواه البخاری: بَابُ {فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى})

’’سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانا جہنم یا جنت میں متعین ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہم اپنی تقدیر پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل کرنا چھوڑ نہ دیں؟ آپﷺ نے فرمایا: نہیں بلکہ عمل کرتے رہو، ہر شخص کو اسی عمل کی توفیق دی جائے گی جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ جو شخص نیک لوگوں میں سے ہے۔ اس کو نیک اعمال کی توفیق حاصل ہو گی اور جو شخص بُرے لوگوں سے ہے، اسے بُرے لوگوں جیسے اعمال کرنے میں آسانی ہو گی۔ اس کے بعد آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت کی: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالحُسْنَى}’’ جس شخص نے صدقہ کیا ااور تقویٰ اختیار کیا اور سچ کی تصدیق کی۔‘‘

((عَنْ عِمْرانَ ابْنِ حُصَیْن أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ قَالَا رَسُولَ اللهِﷺ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ، وَيَكْدَحُونَ فِيهِ، أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فِيهِمْ مِنْ قَدَرٍ قَدْ سَبَقَ، أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ، وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ؟ فَقَالَ: لَا، بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فِيهِمْ، وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا)) (رواه مسلم: كتاب الْقَدَرِ)

’’سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مزینہ قبیلہ کے دو آدمیوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے استفسار کیا، اللہ کے رسول یہ فرمائیں کہ لوگ دنیا میں جو عمل کرتے اور اس کی مشقت اٹھاتے ہیں، کیا یہ اُس وجہ سے ہے جو پہلے سے لکھا جا چکا ہے اور پہلے سے ہی لوگوں کی تقدیر میں موجود ہے یا وہ کام مستقبل کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ یعنی اسکا ذکر پہلے سے موجود نہیں۔ جس کے بارے میں ان کے نبی نے انہیں مطلع کیا ہے اور اسے اُن پر کرنا لازم ہو چکا ہے اور ان پر یہ حجت قائم ہو چکی ہے؟ فرمایا: نہیں، ہر عمل کا ازل سے فیصلہ ہو چکا ہے اور اس کے بارے میں طے ہے کہ ہر آدمی نے وہی عمل کرنا ہے۔ فرمایا کہ اس کی اللہ کی کتاب نے اس طرح تصدیق کی ہے: وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ’’قسم ہے نفس کی اور اس ذات کی جس نے اس کے اعضاء کو جوڑا پھر اس میں اس کی بُرائی اوراس کی پرہیزگاری القا فرمائی۔‘‘

عَنْ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ لِابْنِهِ: يَا بُنَيَّ، إِنَّكَ لَنْ تَجِدَ طَعْمَ حَقِيقَةِ الْإِيمَانِ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: « إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمَ، فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ قَالَ: رَبِّ وَمَاذَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبْ مَقَادِيرَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ « يَا بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ هَذَا فَلَيْسَ مِنِّي (رواه أبی داؤد[صحیح])

’’سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو یہ نصیحت فرمائی کہ میرے بیٹے! تو اس وقت تک ایمان کی لذّت نہیں پا سکتا جب تک یہ یقین نہ کر لے کہ تجھے جو تکلیف پہنچی ہے وہ تجھ سے ٹلنے والی نہیں تھی اور جو کچھ تجھ کو ملا ہے وہ تجھے ضرور ملنے والا تھا کیونکہ میں نے اللہ کے رسولﷺ سے سنا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جو چیز پیدا فرمائی وہ قلم تھی اور پھر اس کو حکم دیا کہ لکھ۔ قلم نے عرض کی میرے رب ! میں کیا لکھوں؟ فرمایا کہ قیامت تک کے لیے ہر چیز کی تقدیر لکھ دے۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے بیٹے! میں نے اللہ کے رسولﷺ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: جو تقدیر پر اعتقاد اور یقین رکھے بغیر فوت ہوا وہ مجھ سے نہیں ہو گا۔‘‘

سیدنا آدم علیہ السلام سے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا مکالمہ:

عَنْ أَبِی هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ « احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ عِنْدَ رَبِّهِمَا، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، قَالَ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، وَأَسْكَنَكَ فِي جَنَّتِهِ، ثُمَّ أَهْبَطْتَ النَّاسَ بِخَطِيئَتِكَ إِلَى الْأَرْضِ، فَقَالَ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ وَأَعْطَاكَ الْأَلْوَاحَ فِيهَا تِبْيَانُ كُلِّ شَيْءٍ وَقَرَّبَكَ نَجِيًّا، فَبِكَمْ وَجَدْتَ اللهَ كَتَبَ التَّوْرَاةَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ، قَالَ مُوسَى: بِأَرْبَعِينَ عَامًا، قَالَ آدَمُ: فَهَلْ وَجَدْتَ فِيهَا وَعَصَى آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَى، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَفَتَلُومُنِي عَلَى أَنْ عَمِلْتُ عَمَلًا كَتَبَهُ اللهُ عَلَيَّ أَنْ أَعْمَلَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً؟ «قَالَ رَسُولُ اللهِﷺ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى (رواه مسلم: بَابُ حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ذکر کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا:اپنے رب کے ہاں سیدنا آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کا مکالمہ ہوا۔ سیدنا آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے سیدنا آدم علیہ السلام سے کہا: آپ ہی وہ آدم ہیں؟ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کرنے کے بعداس نے آپ میں اپنا حکم جاری فرمایا اور آپ کو ملائکہ سے سجدہ کروایا اور اپنی جنت میں ٹھہرایا پھر آپ نے اپنی غلطی کی وجہ سے لوگوں کو زمین پر ُاتروا دیا۔سیدنا آدم علیہ السلام نے پوچھا: کیا آپ ہی وہ موسیٰ علیہ السلام ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور ہم کلامی کے ساتھ سرفراز فرمایا اور آپ کو کتبات کی صورت میں تورات دی، جس میں ہر بات کی وضاحت تھی اور اللہ تعالیٰ نے تجھے سرگوشی کرنےکے لئے اپنے قریب فرمایا۔ جانتے ہو کہ کیا اللہ تعالیٰ نے میرے پیدا کرنے سے کتنا عرصہ پہلے تورات لکھ دی تھی؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: چالیس سال پہلے۔ سیدنا آدم علیہ السلام نے پوچھا۔ کیا اس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور وہ پھسل گیا؟ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی ہاں! لکھا ہوا ہے۔ سیدنا آدم علیہ السلام فرماتے ہیں پھر آپ مجھ پر ایسے عمل کے بارے میں اعتراض کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس کے ہونے کے بارے میں میری پیدائش سے چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا۔ رسول اکرم ﷺنے فرمایا: اس طرح سیدنا آدم علیہ السلام سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔‘‘

اس سے ثابت ہوا کہ ہر کسی کی تقدیر پہلے لکھی ہوئی ہے۔ اس کی وضاحت آگے چل کر ہو گی کہ کیا تقدیر انسان کو کوئی کام کرنے پر مجبور کرتی ہے؟

رسولِ معظم ﷺ کا مقصد یہ بتلانا ہے کہ انسان نے جو بھی اچھے، بُرے کام کرتا ہے یہاں تک کہ اس کا کھانا، پینا، اٹھنا، بیٹھنا، چلنا، پھرنا، بیماری اور تندرستی سب کچھ پہلے سے لکھ دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم اتنا مکمل، اکمل، جامع اور وسیع و عریض ہے کہ وہ غلط نہیں ہو سکتا۔

تقدیر کے بارے میں سیدنا عمر فاروق کا فیصلہ اور استدلال

’’سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شام کے دورے کے لیے گئے اور جب آپ سِرغ کے مقام پر پہنچے تو شام کے گورنر ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور دوسرے اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا اور آپ کو وہاں کے حالات بتلائے جن میں یہ بھی بتلایا کہ شام میں طاعون کا مرض پھیلا ہوا ہے۔ اس لیے مسئلہ پیدا ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنا دورہ جاری رکھیں یا واپس پلٹ جائیں۔ اس صورت حال میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے امیر المومنین نے حکم دیا کہ مہاجرین اولین کو بلائو، وہ آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے اس صورتحال پر مشورہ طلب کیا گیا، ان کی رائے میں اختلاف تھا۔ کچھ مہاجرین نے کہا کہ آپ نیکی کے کام کے لیے نکلے ہیں، اس لیے آپ کو واپس نہیں جانا چاہیے۔ دوسروں نے کہا کہ آپ کے ساتھ بہت سے اصحابِ رسول ہیں، اس لیے موت کو خواہ مخواہ دعوت دینے کی بجائے، آپ کو واپس چلے جانا چاہیے۔ پھر امیر المومنین نے مجھے فرمایا کہ اب انصار کو بلایا جائے وہ آئے اور انہوں نے بھی مہاجرین کی طرح مختلف خیالات کا اظہار فرمایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ چلے جائیں پھر مجھے حکم دیا کہ قریش کے ان سرداروں کو بلایا جائے جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے ہجرت کی تھی، چنانچہ انہیں بلایا گیا، وہ بالاتفاق کہنے لگے کہ آگے جانے کی بجائے آپ کو واپس پلٹ جانا چاہیے۔ اس کے بعد امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ ہم صبح مدینہ واپس جا رہے ہیں اور آپ واپس ہو گئے۔ یہ سنتے ہی ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کہنے لگے۔ کیا آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کاش یہ بات آپ کی بجائے کوئی اور کہتا۔ کیونکہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ انتہائی دانش مند آدمی تھے اور یہ بات ان کی دانش مندی کے خلاف تھی۔ چنانچہ امیر انہیں المومنین رضی اللہ عنہ نے فرمایا:  نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللهِ إِلَى قَدَرِ اللهِ’’ہاں میں اللہ کی تقدیر سے اللہ ہی کی تقدیر کی طرف جا رہا ہوں۔‘‘  سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کسی کام کی وجہ سے اس وقت موجود نہیں تھے۔ اسی اثناء وہ تشریف لے آئے اور کہنے لگے۔ ایسی صورت حال کے بارے میں میں نے نبی محترمﷺ سے سنا ہے: وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا ’’جب کسی علاقے میں طاعون پھیل چکا ہو تو وہاں نہ جائو اور جو موجود ہوں انہیں وہاں سے نکلنا نہیں چاہیے۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبیﷺ کا فرمان سُن کر اللہ کا شکر ادا کیا اور مدینہ واپس چل دیئے۔‘‘(رواه البخاری)

حقیقت یہ ہے کہ تقدیر اللہ تعالیٰ کا علم ہے اور انسان کا علم بہت ہی محدود ہے اس لیے انسان اپنے خالق و مالک اور علّام الغیوب کے علم کو کیسے سمجھ سکتا ہے؟ ’’اللہ‘‘ کے علم اور اس کے فیصلوں کو سمجھنے کا دعویٰ کرنا، ایسا ہے جس طرح کوئی بحرِ بے کراں کے مقابلے میں ایک قطرے کو سمندر کہنے کی حماقت کرے، تاہم انسانی حد تک تقدیر کے علم کو تھوڑا، بہت سمجھنے کے لیے دو مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔

۱۔ ماں باپ اپنے لخت جگر سے کتنی محبت، پیار کرتے اور اس کی تربیت و پرورش کے لیے کس قدر فکر مند ہوتے ہیں تاکہ ان کا بیٹا ہر قسم کی پریشانیوں اور مشکلات سے بچ کر کامیاب زندگی گزار سکے۔ مگر بہت سی خواہشوں، آرزوئوں، دعائوں اور کوششوں کے باوجود بیٹا بگڑتا ہی چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بڑا ہو کر ڈاکہ زنی اور تخریب کاری میں ملوث ہو جاتا ہے۔ بیٹے کے حالات دیکھ کر بوڑھا باپ اپنی ڈائری میں لکھ دیتا ہے کہ اگر میرا بیٹا ان حرکتوں سےباز نہ آیا تو پھانسی اس کا مقدر ہو گا۔ بدقسمتی سے بیٹا اپنے کیے کے بدلے پھانسی کے پھندے پر لٹک جاتا ہے۔

1۔ کیا بیٹا یہ کہہ سکتا ہے کہ میرے باپ نے پہلے سے یہ لکھ رکھا تھا اور یہ پھانسی اس کے لکھنے کی وجہ سے ہوئی ہے؟

2۔ کیا اس کی پھانسی میں باپ کی تحریر کا کوئی عمل دخل ہے؟

3۔ کیا بیٹا اپنے باپ کی ڈائری کو بہانہ بنا سکتا ہے؟

4۔ کیا ماں باپ اپنے بیٹے کی پھانسی کے درپے ہوئے اور وہ اس پر خوش ہو سکتے ہیں؟

۲۔ ایک اندھا آدمی جو ایسے راستے پر چل رہا ہے کہ جس کے آگے ایک کنواں ہے۔ راستے میں ملنے والا شخص اسے پورے اخلاص اور ہمدردی کے ساتھ سمجھانے اور روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اندھا اس کی بات ماننے کی بجائے ضد میں آ کر منہ بسورے اور گردن اٹھائے آگے کی طرف دوڑنا شروع کر دیتا ہے۔ سمجھانے والے نے اسے بچانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ کسی صورت رُکنے کا نام نہیں لیتا۔ اسے روکنے والا بالآخر ایک تحریر لکھ کر اس کی جیب میں ڈال دیتا ہے، جس میں یہ لکھا ہے کہ اگر یہ واپس نہیں پلٹے گا تو اس کا کنویں میں گرنا یقینی ہے۔ چند قدموں کے بعد اندھا کنویں میں منہ کے بل گر پڑتا ہے۔

1۔ کیا اندھا کہہ سکتا ہے کہ مجھے روکنے والے نے گرایا ہے؟

2۔ کیا وہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں اس کی تحریر کی وجہ سے کنویں میں گرا ہوں؟

3۔ کیا اس کاغذ نے اسے دھکا دیا ہے؟ ہرگز نہیں۔

کوئی معزز شخص کج بحثی سے ہٹ کر تقدیر کے مسئلہ کو سمجھنا چاہے تو یہ دو مثالیں اس کی رہنمائی کے لیے کافی نہیں ہیں، جو اس کے باوجود نہیں سمجھنا چاہتا تو اس کے پاس ان سوالات کا کیا جواب ہو گا؟

1۔ کیا اللہ تعالیٰ ماں باپ سے بے انتہا گُنا مہربان نہیں ہے؟

2۔ کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی تشریف آوری اور کتب آسمانی کے نزول کا کیا مقصد ہوا؟

3۔ اللہ تعالیٰ کا انسان کو نزع کے وقت تک معاف کرتے رہنے کا کیا مطلب لینا چاہیے؟

تقدیر کے منکرین کے بقول اگر انسان تقدیر کے ہاتھوں اتنا مجبور ہے اور اللہ تعالیٰ ہر صورت گناہ گاروں کو سزا دینا چاہتا ہے تو ان فرامین کا کیا مطلب لینا ہو گا؟

﴿مَا يَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِيْمًا﴾ (النساء: ۱۴۷)

’’تمہیں سزا دینے سے ’’اللہ‘‘ کو کیا فائدہ؟ اگر تم شکر گزار ہو جائو اور ایمان لائو تو اللہ تعالیٰ بہت قدر کرنے والا اور وسیع علم رکھنے والا ہے۔‘‘

کیا نعوذ باللہ ربِ کریم کے یہ ارشادات اور اس کی رحمتیں، بخششیں اور ہدایات خام بدہن برائے نام اور محض دکھلاوے کے لیے ہیں؟

ایسا سوچنا انبیاء کی توہین، آسمانی کتابوں کی تکذیب، اللہ کی رحمتوں کی ناشکری اور اس کی عطائوں کی بدترین ناقدری ہے۔ چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ تقدیر اللہ تعالیٰ کا علم ہے جو اس نے پہلے سے لکھ چھوڑا ہے، وہ نہ غلط ہو سکتا ہے اور نہ وہ انسان کو برائی کرنے پر مجبور نہیں کرتا ہے۔ لہٰذا تقدیر کا بہانہ بنانے والے نہ صرف اللہ اور اس کے رسول کریمﷺ پر ایمان نہیں رکھتے بلکہ وہ فہم و دانش کا بھی منہ چڑاتے ہیں۔

تقدیر کے بارے میں سوچ و بچار کرنے سے منع کیا گیا ہے:

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لاَ يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ: يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ بَعَثَنِي بِالحَقِّ، وَيُؤْمِنُ بِالمَوْتِ، وَبِالبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَيُؤْمِنُ بِالقَدَرِ. (رواه الترمذی: بَابُ مَا جَاءَ فِي الإِيمَانِ بِالقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ[صحیح])

’’سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: کوئی بھی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک چار چیزوں پر ایمان نہ لائے۔ 1گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور اس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ 2۔ موت برحق ہے۔ 3 موت اور موت کے بعد قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے پر یقین رکھے۔ 4۔ تقدیر پر ایمان لانا۔‘‘

عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ، أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ مِنْ قَدَرِ مَا سَبَقَ؟ أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ، وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ؟ فَقُلْتُ: بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ، وَمَضَى عَلَيْهِمْ، قَالَ فَقَالَ: أَفَلَا يَكُونُ ظُلْمًا؟ قَالَ: فَفَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ فَزَعًا شَدِيدًا، وَقُلْتُ: كُلُّ شَيْءٍ خَلْقُ اللهِ وَمِلْكُ يَدِهِ، فَلَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ، فَقَالَ لِي: يَرْحَمُكَ اللهُ إِنِّي لَمْ أُرِدْ بِمَا سَأَلْتُكَ إِلَّا لِأَحْزِرَ عَقْلَكَ. (رواه مسلم: بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ)

’’ابن یعمر رحمہ اللہ سیدنا ابو الاسود رضی اللہ عنہ دیلی سے بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تو جانتا ہے کہ لوگ اپنی زندگی میں کیوں عمل کرتے ہیں اور ان میں کیوں مشقت اٹھاتے ہیں؟ کیا ان معاملات کا پہلے سے فیصلہ ہو چکا ہے اور ان امور پر تقدیر غالب ہے یا جن اعمال کے ساتھ آدمی کو واسطہ پڑھتا ہے اور انہیں نبیﷺ کی لائی ہوئی شریعت نے واضح دلائل کے ساتھ سمجھا دیا ہے اور ان پر شریعت کی حجت قائم ہو چکی ہے۔ میں نے کہا: نہیں، بلکہ لوگوں کا ہر عمل ان کاموں میں سے ہے، جن کا پہلے سے فیصلہ ہو چکا ہے اور ان کے بارے میں تقدیر لکھی جا چکی ہے۔ عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا یہ ظلم نہیں؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان کے جواب سے گھبرا کر کہا: ہر چیز اللہ کی مخلوق ہے اور اس کی ملکیت ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے کام کے بارے میں باز پرس نہیں کی جا سکتی جبکہ لوگوں سے پوچھا جائے گا۔ عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تجھ پر رحم فرمائے۔ میں نے تجھ سے یہ سوال اس لیے پوچھا ہے تاکہ میں آپ کی عقل کا اندازہ کرسکوں۔‘‘

عَنْ أَبِي الصَّلْتِ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ كَثِيرٍ وَ مَعْنَاهُمْ قَالَ: كَتَبَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُهُ عَنِ الْقَدَرِ، فَكَتَبَ: أَمَّا بَعْدُ، أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللهِ وَالِاقْتِصَادِ فِي أَمْرِهِ وَاتِّبَاعِ سُنَّةِ نَبِيِّهِ ﷺ وَتَرْكِ مَا أَحْدَثَ الْمُحْدِثُونَ… (رواه ابی داود: باب لزوم السنة [صحیح مقطوع])

’’ابو رجاء ابو الصلت سے بیان کرتے ہیں ایک شخص نے تقدیر کے بارے میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو خط لکھا، جس کے جواب میں انہوں نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور تقدیر کے بارے میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے اور سنت کی اتباع کرنے کی وصیت کرتا ہوں مزید فرمایا کہ اہل بدعت نے دین میں جو کچھ ایجاد کر لیا ہے اسے میں تجھے چھوڑنے کی وصیت کرتا ہوں۔……‘‘

عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، فَقُلْتُ: لَهُ وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ، فَحَدِّثْنِي بِشَيْءٍ لَعَلَّ اللهَ أَنْ يُذْهِبَهُ مِنْ قَلْبِي، قَالَ: لَوْ أَنَّ اللهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ عَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فِي سَبِيلِ اللهِ مَا قَبِلَهُ اللهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَلَوْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا لَدَخَلْتَ النَّارَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّﷺ مِثْلَ ذَلِكَ (رواه أبی داود[صحیح])

’’ابن الدیلمی کہتے ہیں کہ میں اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے کہا، میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں، آپ مجھے ان کے بارے میں بتلائیں۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل سے ان شبہات کو نکال دے، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ زمینوں، آسمانوں کی پوری مخلوق کو عذاب دینا چاہے تو وہ دے سکتا ہے اور ان پر یہ ظلم نہیں ہو گا، اگر وہ ان پر رحم فرمائے تو یہ اس کی رحمت ان کے نیک اعمال سے بڑھ کر ہو گی اور اگر تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول نہیں کرے گا، جب تک تو تقدیر پر ایمان نہیں لائے گا اور اس عقیدہ پر یقین نہیں کرے گا کہ جو تجھے مصیبت پہنچی وہ تجھ سے ٹلنے والی نہیں تھی اور جو تکلیف تجھے نہیں پہنچی وہ تجھے پہنچنے والی نہ تھی اور اگر تو اس عقیدے کے بغیر مر گیا تو ہر صورت آگ میں داخل کیا جائے گا۔ ابن الدیلمی کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے بھی اسی طرح فرمایا۔ پھر میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان کی خدمت میں پہنچا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا۔ اس کے بعد میں سیدنا زید رضی اللہ عنہ بن ثابت کے پاس گیا اور انہوں نے نبیﷺ کے حوالے سے یہی بیان فرمایا۔‘‘

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِﷺلَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّی یُؤْمِنَ بِالقَدَرِ خَیْرِهِ وَشَرِّهِ، حَتَّی یَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ یَكُنْ لِیُخْطِئَهُ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَهُ لَمْ یَكُنْ لِیُصِیبَهُ. (رواه الترمذی: بَابُ مَا جَاءَ فِی الإِیمَانِ …[ صحیح ] )

’’سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیں لاتا اور یہاں تک کہ وہ جان لے کہ جو چیز اسے ملنے والی ہے وہ اسے ہی ملے گی، وہ کسی دوسرے کو نہیں مل سکتی اور جو چیز اسے نہیں ملی وہ کسی صورت اسے ملنے والی نہ تھی۔‘‘

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی نے تقدیر کے بارے میں پوچھا، کیا آدمی پوری طرح اختیار رکھتا ہے یا بے بس ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے اسے کھڑا ہونے کا حکم دیا جب وہ کھڑا ہوا تو فرمایا: اپنا پائوں اٹھائو، اس نے اپنا پائوں اٹھایا تو فرمایا: دوسرا بھی اٹھائو، وہ کہنے لگا اس طرح تو میں گر جائوں گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بس انسان کو اتنا ہی اختیار دیا گیا ہے۔ یعنی کچھ معاملات میں انسان با اختیار ہے اور کچھ میں بے اختیار ہے۔تقدیر کے مسئلے کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جب کوئی آدمی کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس کے نفع و نقصان کے بارے میں سوچتا ہے اور وہ ہمیشہ فائدہ حاصل کرنے کا سوچتا ااور فیصلہ کرتا ہے۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ کم سے کم عقل رکھنے والا شخص اپنے نقصان کے بارے سوچے اور اس کا فیصلہ کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے فائدے کے لیے سوچنا اور اس کے لیے کوشش کرنا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہر انسان کو زندگی گزارنے کے لیے کچھ اختیارات دیے گئے ہیں۔ اسی لیے تو وہ نفع و نقصان کے بارے میں سوچتا اور اپنی عقل کی حد تک فائدے کے لیے فیصلہ کرتا ہے۔ چنانچہ اس بارے میں بے شمار آیات ہیں جن میں سے صرف تین آیات پیش کی جاتی ہیں کہ جن میں یہ بات موجود ہے کہ انسان کو ایک حد تک اختیارات دیے گئے ہیں۔

﴿اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا﴾ (الدهر: ۳)

’’ہم نے انسان راستے کی راہنمائی دی، خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا بن جائے۔‘‘

﴿مَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِيْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِيْبٍ﴾ (الشوریٰ: ۲۰)

’’جو آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کی کھیتی کو بڑھا دیتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے ہم اسے دنیا میں دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔‘‘

﴿وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى﴾ (النجم: ۳۹)

’’انسان کے لیے کچھ نہیں مگر وہی جو اس نے کوشش کی ہوگی۔‘‘

﴿وَ مَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ يَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِيْرًا﴾ ( النساء: ۱۱۵)

’’جو شخص ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد بھی رسولﷺ کی مخالفت کرے اور مومنوں کے راستے سے الگ راستہ اختیار کرتا ہے، اسے ہم ادھر ہی پھیر دیں گے جدھر وہ پھرنا چاہتا ہے اور اسے جہنم میں داخل کریں گے جو داخل ہونے کی بدترین جگہ ہے۔‘‘

تقدیر کو بہانا بنانے والا شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ جھگڑا کرتا ہے:

عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِﷺ لَيْلَةً، فَقَالَ لَهُمْ: أَلاَ تُصَلُّونَ قَالَ عَلِيٌّ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللهِﷺ حِينَ قُلْتُ ذَلِكَ، وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَيَقُولُ: {وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا}. (رواه البخاری: بَابُ فِي المَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ {وَمَا تَشَاءُونَ ………)

’’علی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں ان کے والد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اور انہیں سیدنا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ ایک رات رسول کریمﷺ نے مجھے اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کو جگا کر فرمایا کہ تم تہجد کیوں نہیں پڑھتے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ سے کہا کہ ہماری جانیں ’’اللہ‘‘ کے ہاتھ میں ہیں وہ اٹھائے گا تو ہم اُٹھ جائیں گے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ بات کہی تو اللہ کے رسولﷺ میری بات کا جواب دیے بغیر اُٹھ کر چل دیئے۔ میں نے آپ کو جاتے ہوئے دیکھا اور سنا کہ اپنا ہاتھ اپنی ران پر مارتے ہوئے فرما رہے تھے: {وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا}’’انسان بڑا جھگڑا لو ہے۔‘‘ گویا کہ آپ نے تقدیر کا بہانہ بنانے والے کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ جھگڑا کرنے والا قرار دیا ہے۔‘‘

جس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہیے۔ ربِ کریم ہمیں اس عقیدے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!

حقیقت یہ ہے کہ جبریہ اور قدریہ کا عقیدہ رکھنے والے اعتدال کے راستے سے ہٹے ہوئے تھے اور ان کے بارے میں پوری امت کا اتفاق ہے کہ یہ لوگ گمراہ تھے اور جو بھی اس قسم کے نظریات رکھے گا وہ گمراہ ہو گا۔

اس عقیدے کی تعلیم کے باوجود ماضی میں مسلمانوں میں دو فرقے لاکھوں کی تعداد میں ایسے ہوئے ہیں، جو تقدیر کے مسئلہ میں مسلمانوں سے بحث و تکرار ہی نہیں بلکہ جنگ و جدال بھی کیا کرتے رہے ان میں ایک فرقے کا نام جبریہ اور دوسرے کا نام قدریہ تھا۔

جبریہ: اس عقیدہ کی بنیاد جہنم بن صوان سمر قندی نے رکھی، جبریہ سے مراد وہ لوگ تھے کہ جو یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ بندہ کلیتاً بے اختیار ہے۔ انسان جوکام کرتا یا اس سے جو کام سرزد ہوتے ہیں۔ ان میں اس کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ لہٰذا انسان بے بس ہے، اس لیے قیامت کے دن اس کی پکڑ نہیں ہونی چاہیے۔ اس طرح کے لوگ نہ صرف تقدیر کا انکار کرتے تھے اور کرتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے عدل اور قیامت کے عملاً منکر ہوتے ہیں۔

قدریہ: ان لوگوں کا عقیدہ یہ تھا کہ بندہ اپنے معاملات میں مکمل طور پر با اختیار ہے اور تقدیر کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس طرح یہ بھی تقدیر کو نہیں مانتے تھے۔

تقدیر حقیقت ہے اور اس پر ایمان لانا فرض ہے۔

تقدیر اللہ تعالیٰ کا علم ہے جو کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔

اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے پوری مخلوق کی تقدیر لکھ دی تھی۔

ہر انسان کی پیدائش سے پہلے اس کے مقدر کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔

تقدیر پر اکتفا کرنے کی بجائے نیک اعمال کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔

نبیﷺ نے تقدیر کے بارے میں سوچ و بچار کرنے سے منع کیا ہے۔

تقدیر انسان کو کوئی کام کرنے پر مجبور نہیں کرتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے نفع و نقصان کے بارے میں سوچنے اور سمجھنے کا اختیار دیا ہے۔

تقدیر کو بہانہ بنا کر نیک اعمال کو چھوڑنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ جھگڑا کرنے کے مترادف ہے۔

میاں محمد جمیل

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago