قرآن اور حاملینِ قرآن

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

قرآنِ مجید اﷲ رب العزت کا پاک کلام ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس میں زبردست تاثیر رکھی ہے جو شخص اپنے رب پر صدقِ دل سے یقین و ایمان رکھتا ہے، اس کی تلاوت سے اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس کی تلاوت سننے والوں کے دلوں پر سکینت نازل ہوتی ہے اور ان کی آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں۔ سورة المائدة کی آیت ۸۳ دیکھیں۔ مالکِ کائنات ارشاد فرماتا ہے:

وَاِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْيُنَهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ

’’اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے آخری) پیغمبر (محمدﷺ) پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں، اس لیے کہ انھوں نے حق بات کو پہچان لیا اور وہ (اﷲ کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار! ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے۔‘‘

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام:

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں آتا ہے کہ انھوں نے پیغمبر ذیشان محمدعربیﷺ کو نمازِ مغرب میں سورة الطور کی تلاوت فرماتے ہوئے سنا۔ حتی کہ آپﷺ تلاوت فرماتے فرماتے جب اس آیتِ کریمہ پر پہنچے:

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا يُوْقِنُوْنَ اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ[الطور: ۳۵۔ ۳۷]

’’کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے تئیں) پیدا کرنے والے ہیں یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ یقین ہی نہیں رکھتے۔ یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا کیا یہ (ان خزانوں کے) داروغہ ہیں۔‘‘

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب انھوں نے ان آیات مبارکہ کو سنا تو ان پر خشیت الٰہی طاری ہوگئی، انھیں یوں محسوس ہوا کہ میرا دل اُڑ جائے گا۔(دیکھیں: صحیح البخاري، کتاب التفسیر، حدیث: ۴۸۵۴)

اور پھر یہی آیات مبارکہ ان کی ہدایت کا سبب بن گئیں اور وہ مشرف بہ اسلام ہوگئے۔

مومن ہمیشہ عامل قرآن ہوتا ہے:

قرآنِ مجید تمام انسانیت کے لیے درسِ ہدایت کا درجہ رکھتا ہے۔ بندہ مومن تو کبھی اس سے اعراض کر ہی نہیں سکتا۔ اس کے لیے تو یہ کتاب شفائے قلب کی حیثیت سے باعثِ نجات بھی ہے۔ اس لیے فرمایا:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ[الأنفال: ۲]

’’مومن لوگ وہ ہیں جن کے سامنے اﷲ کا ذکر مبارک ہوتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں، جب ان کے سامنے اس کی آیات (یعنی احکام) کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔‘‘

حاملِ قرآن سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ :

سیدنا مسطح رضی اللہ عنہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے خالہ زاد بھائی تھے اور مسکین و غریب تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کی خدمت کرتے، خرچہ وغیرہ دیتے تھے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر منافقین نے الزام لگایا تو یہی مسطح رضی اللہ عنہ بھی اس سازش کا شکار ہوگئے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اﷲ کی قسم! مسطح رضی اللہ عنہ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں جو کچھ کہا ہے، اب میں اسے کوئی خرچہ وغیرہ نہیں دوں گا۔‘‘

اس پر قرآنِ مجید کی یہ آیت نازل ہوئی:

وَ لَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ يُّؤْتُوْۤا اُولِي الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِيْنَ وَ الْمُهٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْيَعْفُوْا وَ لْيَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ [النور: ۲۲]

’’اور تم میں سے فضیلت اور وسعت والے اس بات سے قسم نہ کھالیں کہ قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دیں اور لازم ہے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخشے اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘

جب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے قرآنِ مجید کا پیام سنا تو فوراً کہا:

بَلیٰ إِنِّيْ أَحَبُّ أَنْ یَّغْفِرَ اللهَ لِيْ

’’جی ہاں! کیوں نہیں۔ میں پسند کرتا ہوں کہ اﷲ مجھے معاف فرما دے۔‘‘پھر فرمایا: اﷲ کی قسم میں کبھی مسطح کا خرچہ بند نہیں کروں گا۔(صحیح البخاري، کتاب المغازي، باب حدیث إفك، رقم: ۴۱۴۱، ۲/ ۵۹۳۔ ۵۹۶)

حاملِ قرآن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ :

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی تھے، ان کی مجلس میں قرآنِ مجید کے ماہرین علماء و قراء کو بہت ہی اہم مقام حاصل تھا۔ سیدنا حر بن قیس رضی اللہ عنہ قرآنِ مجید کے زبردست ماہر تھے، انھیں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی مجلس و محفل میں خاصی منزلت حاصل تھی۔ ایک دن ان کا چچا عیینہ بن حصین بن حذیفہ ان کے پاس آئے اور کہا: اے بھتیجے! تجھے سیدنا عمر فاروق کی قربت حاصل ہے۔ مجھے بھی شرفِ ملاقات کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت لے دو۔ چنانچہ سیدنا حر رضی اللہ عنہ کے توسط سے عیینہ سیدنا خلیفۃ المسلمین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ پہنچتے ہی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا:

یا ابن الخطاب فواﷲ مَا تعطینا الجزل ولا تحكم بیننا بالعدل

’’اے خطاب کے بیٹے! نہ تو ہمیں مال دیتا ہے اور نہ تو ہمارے درمیان عدل سے فیصلے کرتا ہے۔‘‘

سیدنا عمر فاروق جو عدل و انصاف قائم کرنے میں اپنی مثال آپ تھے، اپنے متعلق یہ الزام سن کر بہت غصہ میں آئے۔ اسے سزا دینے کے لیے آگے بڑھے ہی تھے کہ سیدنا حر بن قیس رضی اللہ عنہ ، جو یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے، آگے بڑھے اور کہا: اے امیر المومنین! اﷲ تعالیٰ نے اپنے نبی محمدﷺ کو فرمایا:

خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ [الأعراف: ۱۹۹]

’’درگزر کرو اور نیکی کا حکم کرو اور جاہلوں سے اعراض کرو۔‘‘

اس روایت کے راوی سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں۔ فرماتے ہیں: اﷲ کی قسم! قرآنِ مجید کا پیام سنتے ہی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ٹھنڈے ہوگئے اور اس کی گستاخی سے اعراض فرما لیا۔

وَكَانَ وَقَّافًا عِنْدَ كِتَابُ اللهِِ

’’اور کتاب اﷲ (کے احکامات) کے سامنے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی یہی حالت ہوتی تھی۔‘‘(صحیح البخاري، کتاب التفسیر، باب خذ العفو: ۲/ ۶۶۹، رقم الحدیث: ۴۶۴۶)

حاملِ قرآن۔۔۔ قرآن کے سائے میں:

قرآنِ مجید پر عمل کرنے والا قیامت کے دن قرآن کے سایے میں ہو گا۔ سیدنا نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

یُؤْتَی بِالْقُرْآنِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَأَهْلِهِ الَّذِینَ كَانُوا یَعْمَلُونَ بِهِ تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَآلُ عِمْرَانَ وَضَرَبَ لَهُمَا رَسُولُ اللهِﷺ ثَلَاثَةَ أَمْثَالٍ مَا نَسِیتُهُنَّ

’’قیامت کے دن قرآنِ مجید اور اس پر عمل کرنے والوں کو لایا جائے گا تو سورة البقرہ اور آلِ عمران آگے آگے ہوں گی۔ آپﷺ نے ان کی تین مثالیں بیان فرمائیں۔ میں آپ کے بیان کے بعد ان کو بھولا نہیں۔‘‘

بَعْدُ قَالَ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ بَیْنَهُمَا شَرْقٌ أَوْ كَأَنَّهُمَا حِزْقَانِ مِنْ طَیْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا

’’دو بادلوں کے ٹکڑے ہیں۔ یا دو سیاہ سائبان جن میں روشنی ہو۔ یا وہ اڑنے والے پرندوں کے دو جھنڈ ہیں۔ اپنے صاحب یعنی پڑھنے والے کی وکالت کریں گے۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب فضائل القرآن، باب فضل قراءة القرآن وسورة البقرة: ۱/ ۲۷۰، رقم الحدیث: ۸۰۵)

حاملِ قرآن کے لیے سفارش:

سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

اقْرَئُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ یَأْتِی یَوْمَ الْقِیَامَةِ شَفِیعًا لِأَصْحَابِهِ

’’قرآنِ مجید کو پڑھو، کیوںکہ یہ قیامت کے دن اپنے صاحبوں (حاملینِ قرآن) کی سفارش کرے گا۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب فضائل القرآن، باب فضل قراءة القرآن وسورة البقرة: ۱/ ۲۷۰، رقم الحدیث: ۸۰۴)

قیامت کے دن حاملِ قرآن کی تاج پوشی:

قیامت کے روز صاحبِ قرآن کو تاج پہنایا جائے گا۔ اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

یَجِيْءُ الْقُرْآنُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ فَیَقُولُ یَا رَبِّ حَلِّهِ فَیُلْبَسُ تَاجَ الْكَرَامَةِ ثُمَّ یَقُولُ یَا رَبِّ زِدْهُ فَیُلْبَسُ حُلَّةَ الْكَرَامَةِ ثُمَّ یَقُولُ یَا رَبِّ ارْضَ عَنْهُ فَیَرْضَی عَنْهُ فَیُقَالُ لَهُ اقْرَأْ وَارْقَ وَتُزَادُ بِكُلِّ آیَةٍ حَسَنَةً (ترمذي، كتاب فضائل القرآن، باب من قرأ حرفاً من القرآن، رقم الحدیث: ۲۹۱۰ سنده حسن، مستدرك حاكم: ۱/ ۵۵۲)

’’قیامت کے دن صاحبِ قرآن آئے گا تو قرآن پاک کہے گا: اے میرے رب! اسے زیور سے مزین کر تو اﷲ تعالیٰ اسے معزز تاج پہنائے گا۔ قرآن پھر کہے گا: اے رب! اسے اور زیادہ دے، تو اسے باعزت لباس پہنایا جائے گا۔ قرآن پھر کہے گا: اے رب! اس سے راضی ہو جا تو اﷲ تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے گا۔ پھر صاحبِ قرآن کو کہا جائے گا: اسے پڑھ اور درجات پر چڑھ اور ہر آیت کے بدلے ایک نیکی زیادہ کی جائے گی۔‘‘

صاحبِ قرآن جنت میں:

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

الْقُرْآن شَافِع مُشَفع وَمَاحِل مُصَدَّقٌ مَنْ جَعَلَهُ إِمَامَهُ قَادَهُ إِلَی الْجَنَّةِ وَمَنْ جَعَلَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ سَاقَهُ إِلَی النَّارِ (صحیح ابن حبان: ۱/ ۲۷۶، حدیث: ۱۲۴، وطبرانی كبیر: ۱۰/ ۱۹۸، و مجمع الزوائد: ۱/ ۱۱۷۱۔ إسناده جید)

’’قرآن مجید ایسا سفارشی ہے کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی، اپنے پڑھنے والے کی طرف سے ایسا جھگڑنے والا ہے کہ اس کی تصدیق کی جائے گی، جس نے اس کو اپنا امام (پیشوا) بنایا، یہ اسے جنت میں لے جائے گا اور جس نے اسے پسِ پشت ڈالا تو اسے جہنم میں لے جائے گا۔‘‘

صاحبِ قرآن کے والدین کے لیے قیمتی جوڑوں کا انعام:

سیدنا بُریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا:

مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَتَعَلَّمَهُ وَعَمِلَ بِهِ أُلْبِسَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ تَاجًا مِنْ نُورٍ ضَوْءُهُ مِثْلُ ضَوْءِ الشَّمْسِ، وَیُكْسَی وَالِدَیْهِ حُلَّتَانِ لاَ یَقُومُ بِهِمَا الدُّنْیَا فَیَقُولانِ: بِمَا كُسِینَا؟ فَیُقَالُ: بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ(مستدرك حاكم: ۱/ ۵۶۸ و مسنده أحمد: ۵/ ۳۴۸۔ سنده حسن)

’’جو آدمی قرآنِ مجید کو پڑھے اور اس کو سیکھے اور اس پر عمل کرے، قیامت کے دن اس کو ایک منور تاج پہنایا جائے گا، جس کی روشنی سورج کی روشنی کی طرح ہوگی۔ اس کے والدین کو کپڑوں کے ایسے دو جوڑے پہنائے جائیں گے جو دنیا میں نہیں پہنائے گئے تھے۔ صاحبِ قرآن کے والدین پوچھیں گے: یہ کس عمل کی بدولت ہے؟ تو کہا جائے گا: تمھارے بیٹے کی قرآن دوستی کے سبب۔‘‘

قرآن مجید کی عظمت و فضیلت:

اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ قرآنِ مجید میں اﷲ تعالیٰ نے اولین و آخرین کے تمام علوم جمع کر دیے ہیں، قرآن مقدس کی شان و عظمت اور جامعیت و کاملیت کا اظہار ان الفاظ میں فرمایا گیا ہے:

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا [الكھف: ۱۰۹]

’’فرما دیجیے کہ اگر میرے پروردگار کی باتوں کو قلمبند کرنے کے لیے سمندر سیاہی بن جائے، تو قبل اس کے کہ میرے پروردگار کی باتیں تمام ہوں، سمندر ختم ہو جائے گا، چاہے اس سمندر کی مدد کو ایسا ہی ایک اور سمندر لے آئیں۔‘‘

پیامِ الٰہی یہ قرآن! معروف قومی شاعر جناب محسن فارانی اپنے مخصوص ادبی انداز میں قرآنِ مجید کی معجزانہ حیثیت کو یوں پیش کرتے ہیں:

اک کتاب مقدس سمجھنے کی ہے اک پیامِ الٰہی یہ قرآن ہے

حق و باطل کا معیار اور خیر و شر کی کسوٹی ہے یہ اور فرقان ہے

لایا جبریل اسے، خاتم الانبیاء کو سنا، یہ قرآن ذی شان ہے

ہے مکمل وحی اور لَا رَیبَ فيه ہر مسلمان کا اس پہ ایمان ہے

یہ کتاب الٰہی اک اعجاز ہے، امتوں کو اسی سے ہدایت ملی

مومنوں کے لیے علم و حکمت سے بھرپور کیا ہی یہ سوغاتِ رحمن ہے!

اس میں توحیدِ خالص کا پرچار ہے، وعظ و تذکیر ہے اور انداز ہے

زندگی کے قرینے سکھاتا ہے یہ، اس میں جھوٹے خداؤں کا بطلان ہے

مومنو! تم ہدایت لو قرآن سے کہ نبی مکرم کا ارشاد ہے

سیکھ لے اور سکھائے جو قرآن کو تم میں سے بہتریں وہ مسلمان ہے

کیا ہی قرآن کی سورتیں ہیں حسیں، وعظ و حکمت کی دولت سے معمور ہیں

ان میں اَحزاب ہے اور انفال ہے، ان میں یٰسین ہے، آلِ عمران ہے

امتیں ہیں جہاں میں بہت سی مگر وہ کتابِ ہدایت سے محروم ہیں

دے کے قرآں ہدایت ہمیں دی گئی، رب تعالیٰ کا ہم پہ یہ احسان ہے

مومنو! کفر کے جال سے تم بچو اور احکامِ قرآں پہ قائم رہو

سنتِ نبی اکرم کی طاعت کرو، ان میں اَبدی رہائی کا سامان ہے

محسنِ بے نوا کی دعا ہے یہی، یا الٰہی تو ہم کو یہ توفیق دے

تیرے اور صرف تیرے ہی بندے بنیں، راہنما ہے نبی اور قرآن ہے

اولین و آخرین کے علوم و معارف:

آپ قرآنِ مجید کا مطالعہ کریں بے شمار آیات ایسی ملیں گی جن سے صاف پتا چلتا ہے کہ قرآن مقدس بے شمار علوم و معارف کا خزینہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

وَ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ [النحل: ۸۹]

’’اور ہم نے آپ (ﷺ) پر یہ کتاب نازل فرمائی کہ جس میں ہر چیز کی وضاحت موجود ہے۔‘‘

نبی کریم ﷺ کی حدیث میں آتا ہے:

فِیْهِ نَبَأَ مَا قَبْلَكُمْ وَخَبْر مَا بَعْدُكُمْ وَحُكْمُ مَا بَیْنَكُمْ

’’اس کتاب میں تم سے پہلوں اور بعد میں آنے والوں کے احوال ہیں اور وہ معاملات جو تمھیں پیش آئیں ان کا فیصلہ بھی مذکور ہے۔‘‘

علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ اپنی تفسیر ’’الاتقان‘‘ (حصہ دوم) میں سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں:

’’جس شخص کو جو علم مطلوب ہو اسے چاہیے کہ وہ اسے قرآنِ کریم میں تلاش کرے، کیوںکہ اس میں اولین و آخرین کے علوم و معارف مذکور ہیں۔‘‘ (الاتقان: جلد ۲)

قرآنِ مجید انبیائے سابقین کے کمالات نبوت کی جامع ہے:

امام بیہقی رحمہ اللہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ایک سو چار کتابیں نازل فرمائیں، جن کے تمام علوم تورات و انجیل اور زبور میں جمع کر دیے۔ پھر اﷲ نے ان کے علوم کو قرآنِ کریم میں ودیعت فرما دیا، جس طرح رسول اﷲﷺ کی رسالت تمام انبیائے سابقین کے کمالاتِ نبوت کی جامع ہے، اسی طرح آپﷺ پر نازل کردہ قرآنِ حکیم تمام کتبِ الٰہیہ کے علوم پر مشتمل ہے۔

امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ فقہائے امت کے جملہ اقوال سنت کی شرح ہیں اور سنت قرآنِ کریم کی شرح ہے۔ رسول اکرمﷺ نے جو کچھ بھی فرمایا، وہ قرآنِ کریم ہی سے ماخوذ ہے۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

إِنِّيْ لا أُحِلُّ إِلا مَا أَحَلَّ اللهُ، وَلا أُحَرِّمُ إِلا مَا حَرَّمَ اللهُ

یعنی میں اسی چیز کو حلال قرار دیتا ہوں جس کو اﷲ تعالیٰ نے حلال کیا اور اسی چیز کو حرام ٹھہراتا ہوں جس کو اﷲ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔اس لیے کہ آپﷺ کا ارشادِ گرامی دراصل اﷲ تعالیٰ کا فرمان اور حکم ہے۔ قرآنِ مجید میں ہے:

وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى [النجم: ۳۔ ۴]

’’ہمارا بھیجا ہوا رسول اپنی مرضی سے نہیں بولتا، بلکہ وہ تو وحی ہے جو کی جاتی ہے۔‘‘ سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ رسول کریمﷺ کی جو حدیث مجھے ملی، میں نے اس کی اصل قرآنِ مجید میں تلاش کر لی۔ (الاتقان، بحوالہ ابن أبي حاتم)

حمید اﷲ خان عزیز

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago