صرف ایک کپڑے کو لپیٹ کر نماز پڑھنے کا بیان
عبیداللہ بن موسیٰ ہشام بن عروہ، عروہ(بن زبیر)، سیدناعمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی، اس کے دونوں سروں کے درمیان میں تفریق کردی کہ ایک سرا ایک شانہ پر اور دوسرا دوسرے شانہ پر ڈال لیا۔
Narrated `Umar bin Abi Salama: The Prophet prayed in one garment and crossed its ends.
معانی الکلمات:
| ثَوْبٍ | کپڑا |
| خَالَفَ | تفریق، جدائی |
| بَيْنَ طَرَفَيْهِ | دونوں کندھوں (شانوں) کے مابین |
تراجم الرواۃ:
1نام ونسب:عبید اللہ بن موسیٰ، اس راوی کا ترجمہ حدیث نمبر 1 میںملاحظہ فرمائیں۔
2نام ونسب:ھشام بن عروۃ، اس راوی کا ترجمہ حدیث نمبر6 میں ملاحظہ فرمائیں۔
3نام ونسب: عروة بن الزبیر بن العوام بن خویلد بن عبد العزی بن قصی بن کلاب القرشی الأسدی
کنیت: ابو عبد اللہ المدنی
ولادت: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے ابتدائی ایام میں پیدا ہوئے۔
محدثین کے ہاں مقام و مرتبہ: امام ابن حجر رحمہ اللہ کے ہاں ثقہ تھے۔اور امام ذہبی ابن سعد کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عروہ فقیہ، عالم اور بہت ساری احادیث روایت کرنے والے ثبت اور مامون تھے۔
وفات: راجح قول کے مطابق 94ہجری
4نام ونسب:عمر بن أبي سلمة بن عبد الأسد القرشي المخزومي
کنیت: ابو حفص المدنی
ولادت: 2 ہجری حبشہ میں پیدا ہوئے۔اور نبی کریم ﷺ کے سوتیلے بیٹے تھے۔
وفات: 83 ہجری
تشریح
امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کی تین روایات ذکر کی ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے حکمت ان الفاظ میں ذکر کی ہے: پہلی روایت کی سند عالی ہے، کیونکہ اس میں امام بخاری رحمہ اللہ اورراوی حدیث سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کے درمیان تین واسطے ہیں، اگرچہ علومطلق نہیں بلکہ نسبی ہے، کیونکہ دوسری اور تیسری روایت کے مقابلے میں علو پایا جاتا ہے۔ تاہم سند گو عالی ہے لیکن اس میں ر اوی حدیث نے اپنے مشاہدے کی صراحت نہیں کی۔ اس کے علاوہ اس میں بصیغہ «عن» روایت کی گئی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے دوسری نازل سند ذکر کرکے راوی کے مشاہدے کی تصریح نقل کردی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ راوی نے جو رسول اللہ ﷺ سے روایت نقل کی ہے وہ مشاہدے کے بعد کی ہے۔ لیکن اس روایت میں یہ سقم تھا کہ اگرچہ اس میں ہشام نے ا پنے باپ عروہ سے تصریح سماع کردی ہے۔ تاہم امام عروہ نے سیدنا عمر بن ابی سلمہ سے بصیغہ«عن»روایت کی ہے۔ تیسری روایت بیان کرکے امام بخاری رحمہ اللہ نے (عَنْعَنَه) کی بجائے سماع کی تصریح نقل کردی ہے، کیونکہ عنعنہ میں احتمال كی حدتک انقطاع کا شائبہ رہ جاتا ہے۔ نیز آخری دوروایات میں اس جگہ کی بھی تعیين کردی گئی ہے جہاں راوی حدیث نے اس عمل کامشاہدہ کیاتھا اور وہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا گھر ہے اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ان کی والدہ ماجدہ ہیں، نیز ان روایات سے یہ بھی معلوم ہواکہ مخالفت طرفین (ایک سرا ایک شانہ پر اور دوسرا دوسرے شانہ پرڈالنا)اوراشتمال دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے۔ واللہ أعلم۔ (فتح الباري:608/1)
علامہ ابن بطال رحمہ اللہ نے مصنف عبدالرزاق (356/1) کے حوالے سے سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ اور سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق مناظرہ نقل کیاہے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا موقف تھا کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھی جاسکتی ہےکیونکہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے، اس لیے آج بھی اس پر عمل کیا جاسکتا ہے جبکہ سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا موقف تھا کہ ایساکرنا اضطراری حالات کے پیش نظر تھا، جب لوگوں کے ہاں کشادگی اوروسعت نہ تھی۔ آج جب حالات غربت والے نہیں ہیں تو نماز کے لیے مکمل لباس پہننا ہوگا۔ سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے منبر پر کھڑے ہوکر فیصلہ فرمایاکہ بات تو سیدنااُبی رضی اللہ عنہ کی صحیح ہے، البتہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی اجتہاد کرنے میں کوتاہی نہیں کی۔ (شرح البخاري:21/2)
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…