فریب آزادی! نسل نو کا المیہ

آزاد معاشرہ یا اخلاقی زوال؟

پاکستانی معاشرہ اس وقت ایک نظریاتی کشمکش سے گزر رہا ہے۔

ایک طرف وہ اسلامی اور مشرقی اقدار ہیں جن پر یہ ملک قائم ہوا۔

پردہ، حیا، خاندانی نظام، ماں باپ کی اطاعت، اور عورت کی عزت۔

دوسری طرف وہ مغرب زدہ فکری یلغار ہے جس میں عورت کو آزادی کا غلط تصور دے کر اسے گھریلو وقار سے نکال کر معاشرتی مشہوری اور جذباتی فریب میں دھکیل دیا گیا ہے۔

آج پاکستانی خواتین کی ایک بڑی تعداد اسلامی تربیت کو قید سمجھتی ہے،ماں باپ کی نصیحت کو رکاوٹ،شوہر کی سربراہی کو ظلم اور مغربی ماڈل کو قابل تقلید سمجھتی ہے۔یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی، بلکہ میڈیا، ڈرامہ، فلم اور سوشل میڈیا کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔اور اس کا سب سے بڑا ذریعہ بنا ہے۔

بھارت کے ڈراموں اور فلموں کا زہریلا اثرگزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان میں بھارتی میڈیا کی یلغار نے معاشرتی اقدار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

بھارتی ڈراموں نے: ساس بہو کی چالاکیاں،بیویوں کی سازشیں، شوہروں کی بے وفائی،ناجائز محبتوں کو جائز دکھانا،عورت کو انتقام اور غصے کی علامت بنانا۔کو عام کیا،یہاں تک کہ پاکستانی خواتین نے بھی اپنے لباس، زبان، رویے، حتیٰ کہ خاندانی ڈھانچے کو بھارتی طرز پر ڈھالنا شروع کر دیا۔

بھارتی فلموں نے:عشق و محبت کو زندگی کا واحد مقصد بنا دیا،ماں باپ کو دشمن اور عاشق کو مسیحا دکھایا،رقص، شراب، پارٹیاں اور فیشن کو کامیابی کا معیار بنایا،بیوی کی بے حیائی کو آزادی اور شوہروں کی بے غیرتی کو جدت قرار دیا۔یہ سب کچھ پاکستانی معاشرے میں دھیرے دھیرے ایک دیمک کی طرح پھیل چکا ہے۔

شہرت، تنہائی اور انجام – آپا عائشہ کا المیہ اور ہماری بیٹیوں کے لیے نصیحت

دنیا کی چکاچوند، شہرت کی بے تابیاں، اور اسٹیج کی روشنیاں انسان کی آنکھیں خیرہ تو کر سکتی ہیں، مگر روح کو کبھی قرار نہیں دے سکتیں۔ جنہیں ہم اسکرین پر دیکھ کر واہ واہ کرتے ہیں، ان کی نجی زندگی کی تاریکیاں اور تنہائی کے داغ ہم نہیں دیکھتے۔ پاکستان کی ایک معروف، سینیئر ٹی وی اداکارہ عائشہ خان کی حالیہ وفات اسی تلخ حقیقت کا بےرحم اظہار ہے۔

جون 2025ء میں کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں ان کی لاش ایک ہفتے بعد بدبو کی صورت میں دریافت ہوئی۔ دروازہ توڑا گیا، تب پتہ چلا کہ وہ تنہائی، خاموشی اور بے کسی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں۔ ان کی عمر 84 برس تھی۔ بظاہر ان کے تین بچے تھے — ایک بیٹی پاکستان میں اور دو بیٹے بیرون ملک — لیکن زندگی کے آخری لمحے انہوں نے اکیلا پن، خاموشی اور تنہائی میں گزارے۔یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ یہ پورے معاشرے، خاص طور پر ان نوجوان لڑکیوں اور عورتوں کے لیے ایک دردناک سبق ہے جو اسٹیج، ٹی وی اور فلم کو کامیابی کا زینہ سمجھتی ہیں۔ عائشہ خان بھی زندگی بھر اسکرین پر نمودار ہوتی رہیں، شہرت سمیٹی، چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں، مگر آخری وقت میں کوئی پرسان حال نہ تھا۔ نہ بچے، نہ دوست، نہ شو بز کی چمکتی دنیا ،کچھ بھی باقی نہ رہا۔

ہمیں کھل کر کہنا ہوگا: ٹی وی، فلم اور ڈرامے کی دنیا نے ہمیشہ حیا، پاکدامنی اور اسلامی اقدار کو پامال کیا ہے۔ یہ شعبہ عورت کی نسوانیت کو سرمایۂ تجارت بنا کر پیش کرتا ہے، اور اس کے وجود کو سامانِ نمائش بنا دیتا ہے۔ جو آوازیں، چہرے، بدن اس اسکرین کی زینت بنتے ہیں، وہ عموماً عبرت بن کر تاریخ کا حصہ بنتے ہیں۔

قرآن و سنت کی روشنی میں:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ (آل عمران: 185)

’’دنیا کی زندگی تو صرف ایک دھوکے کا سامان ہے۔‘‘

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ» (صحیح مسلم)

’’دنیا مؤمن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے۔‘‘

خواتین کے لیے خصوصی پیغام:

اے مسلمانو کی بیٹیو! تمہاری عزت، تمہارا حسن، تمہاری وقار — یہ کسی کیمرے کے لیے نہیں، یہ اللہ کی امانت ہے۔ اس امانت کو صرف اس راہ میں خرچ کرو جو قرآن و سنت کی راہ ہے۔ دنیا کی وقتی شہرت، چند لمحوں کی داد اور چند اسکرین شاٹس تمہیں عارضی مسرت تو دے سکتے ہیں، مگر تمہیں آخرت کی شرمندگی سے نہیں بچا سکتے۔

اگر عائشہ خان جیسے لوگ، جن کے لاکھوں مداح تھے، زندگی کے آخر میں تنہا، بےبس اور لاوارث ہو سکتے ہیں، تو ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اصل کامیابی کیا ہے؟ کیا وہ شہرت جو قبر میں ساتھ نہ جائے؟ یا وہ نیکی جس پر رب کی رضا ملے؟

ہماری ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کو ایسی دنیا سے بچانا ہمارا دینی اور معاشرتی فریضہ ہے۔ انہیں پردے، حیا، دین اور کردار کی روشنی دو، نہ کہ اسٹیج کی جھوٹی چمک۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دے کہ ہم اپنی زندگی کو اس کی رضا کے مطابق گزاریں، اور ایسی موت عطا فرمائے جس میں سکون، ایمان اور قربِ الٰہی ہو۔ آمین۔

شہرت کا خنجر — حمیرا اصغر کی کہانی

کسی نے کہا تھا: ’’جو ستارے آسمان پر چمکتے ہیں، ان کے پیچھے کئی بجھے چراغ ہوتے ہیں۔‘‘

حمیرا اصغر پاکستان کے سوشل میڈیا پر ایک جانی پہچانی شخصیت تھی۔ ہزاروں لوگ اس کی ویڈیوز دیکھتے، لائک کرتے، تبصرے کرتے۔ لیکن یہ سب تب تک تھا جب تک وہ زندہ تھی۔

پھر ایک دن خبر آئی کہ وہ کراچی کے ایک فلیٹ میں وفات پا چکی ہیں — اور یہ وفات کوئی ایک دن یا ہفتہ پہلے نہیں، بلکہ نو ماہ پہلے ہو چکی تھی۔ پڑوسیوں کو بدبو آئی، دروازہ توڑا گیا، اور اندر سے ایک لاش ملی جو مکمل طور پر گل سڑ چکی تھی۔

خاندان کا ردعمل

پولیس نے جب اہل خانہ سے رابطہ کیا تو والدین نے لاش لینے سے انکار کر دیا، بھائی نے صاف کہہ دیا:’’ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں!‘‘

یہ جملہ کسی کے لیے سب سے بڑا صدمہ ہو سکتا ہے۔ ایک وقت تھا جب وہ اسی گھر کی بیٹی تھی، اور آج وہ تنہا تھی — یہاں تک کہ مرنے کے بعد بھی۔

سوشل میڈیا کا سچ

زندگی میں اس کے پاس سب کچھ تھا: انسٹاگرام فالوورز، یوٹیوب سبسکرائبرز، لائکس، کمنٹس… لیکن مرنے کے بعد کوئی ایک بھی ایسا نہ تھا جو اس کی لاش کے قریب آتا، کفن دیتا یا جنازہ پڑھتا۔

یہی ہے سوشل میڈیا کی حقیقت:

زندہ ہو تو سب بات کرتے ہیں، مر جاؤ تو کوئی نہیں پوچھتا۔

اصل سوال

یہ واقعہ ہم سب کے لیے سوال چھوڑ جاتا ہے:

کیا صرف تعلیم، آزادی اور کامیابی دینا تربیت ہے؟

کیا ہم نے اپنی بیٹیوں کو قرآن، حیا اور عزت کا شعور دیا ہے؟

کیا ہم نے انہیں محفوظ اور مضبوط بنایا یا بس شو کیس کا ماڈل بنا دیا؟

اسلام کا پیغام

قرآن کہتا ہے:

وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى (الاحزاب: 33)

’’اور اپنے آپ کو اس طرح ظاہر نہ کرو جیسے زمانۂ جاہلیت میں عورتیں ظاہر کیا کرتی تھیں۔‘‘

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الحياء لا يأتي إلا بخير

’’حیا صرف خیر ہی لاتی ہے۔‘‘(صحیح البخاری)

سبق: بیٹی کو وقار دو، محض آزادی نہیں

بیٹی کو موبائل دینے سے پہلے دین سکھاؤ۔

تعلیم کے ساتھ تربیت دو۔

فیشن اور نمائش سے پہلے عزت اور غیرت سکھاؤ۔

موت کا اصل پیغام

موت ہر ایک کو آتی ہے — چاہے وہ مشہور ہو یا گمنام۔

لیکن ہم نے ایک دوسرے کی موت کو تبصرے اور فتویٰ بنانے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔

کسی کا ظاہری انجام اس کی آخرت کا فیصلہ نہیں۔ فیصلہ صرف اللہ کا ہے، جو دلوں کے حال جانتا ہے۔

ہم کیا کریں؟

موت پر خاموشی اور عبرت اختیار کریں،دوسروں کے بجائے اپنے انجام پر سوچیں،بیٹی کو دنیا کے ساتھ دین کا زیور بھی دیں،سوشل میڈیا کی عارضی تعریف کو اصل کامیابی نہ سمجھیں۔

دعا

اے اللہ! ہماری بیٹیوں کو حیا اور دین کا زیور دے۔ماں باپ کو تربیت کی توفیق دے۔ہم سب کو موت سے سبق لینے والا بنا، نہ کہ دوسروں کے انجام پر فیصلہ کرنے والا۔

اسلام کا تصورِ آزادی:

شوہر کی وفا میں ہے، نہ کہ فیشن کی نمائش میں،ماں بننے کے شرف میں ہے، نہ کہ ماڈل بننے کے سحر میں،قرآن کی روشنی میں جینا ہے، نہ کہ ریمپ پر چمکنا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جس عورت نے خوشبو لگا کر غیر مردوں کے سامنے گزری تاکہ وہ اسے محسوس کریں، وہ زانیہ ہے۔‘‘(سنن نسائی)

پیغام: اب فیصلہ ہمارے معاشرے نے کرنا ہے۔

ہم اپنی بیٹی کو پردے کی شہزادی بنانا چاہتے ہیں؟یااسکرین کی تنہائی کا کردار؟اگر شہرت ہی سب کچھ ہے تو یاد رکھو:عائشہ خان، حمیرا اصغر، قندیل بلوچ… سبھی مشہور تھیں،مگر آج کسی کی قبر پر بھی کوئی پھول رکھنے والا نہیں۔

راہ نجات — بیٹی، والدین اور معاشرے کے لیے پیغام

جب ایک کے بعد ایک بیٹی تنہائی میں مر جائے،جب شہرت کے مینار قبر کی خاموشی میں ڈھیر ہو جائیں،جب فالوورز، میڈیا، اور اسکرین کچھ بھی نہ بچا سکیںتو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے:

کہیں ہم اپنی بیٹیوں کو دنیا تو دے رہے ہیں، مگر دین نہیں چھین رہے؟کہیں ہم آزادی کے نام پر انہیں قبر کے سناٹے کا راستہ تو نہیں دکھا رہے؟

آیئے! ہم غور کریں، سنبھلیں، اور بچائیں…اپنی بیٹی کو، اپنے خاندان کو، اپنے معاشرے کو۔

بیٹیوں کے لیے پیغام:

اے پیاری بیٹی!تمہارا لباس اگر قرآن سے دور ہے،تمہاری آزادی اگر ماں باپ کی نافرمانی سے جڑی ہے،تمہاری خودمختاری اگر نکاح سے فرار ہے،اور تمہاری شہرت اگر پردے کے بغیر ہےتو یہ سب تمہیں فخر نہیں، فتنہ دے گا۔

یاد رکھو: ’’عورت کا حسن اس کے پردے میں ہے‘‘

’’تمہاری عزت کا محافظ باپ، شوہر اور بھائی ہیں، انسٹاگرام نہیں!‘‘

دنیا فالو کرے یا نہیں، تم رب کی رضا کی پیروکار بنو!

والدین کے لیے نصیحت:

اے ماں باپ!بیٹی کو موبائل دینا ہو تو قرآن بھی ساتھ دیں،اسے تعلیم دیں، مگر تربیت پہلے دیں،فیشن سکھانے سے پہلے غیرت سکھائیںاگر آپ نے اپنی بچی کو صرف آزادی دی، دین نہیںتو کل وہ آپ کا جنازہ بھی دیکھنے نہ آئے گی!

عائشہ، حمیرا، قندیل — سبھی کبھی کسی ماں باپ کی بیٹی تھیںمگر وہ ماں باپ کب اور کہاں پیچھے رہ گئے؟

ریاست ومیڈیا کے لیے تجاویز:

1. ریٹنگ کے نام پر فحاشی بند کی جائے۔

2. ڈراموں میں اسلامی روایات کو پروان چڑھایا جائے۔

3. ٹاک شوز میں رومانس، معاشقوں اور گندے مزاح پر پابندی ہو۔

4. یوٹیوبرز اور ماڈلز کے لیے اخلاقی ضابطے بنائے جائیں۔

5. اسلامی نظریاتی کونسل کو کردار سازی کے لیے مضبوط کردار دیا جائے۔

معاشرے کے لیے: علماء، خطباء اور اساتذہ: یہ آپ کی جنگ ہے — اپنی بیٹی کو شوبز سے نکال کر دین کی صف میں لانا اب لازم ہے۔سوشل میڈیا صارفین: جو فالو کرتے ہو، اس کے انجام سے بھی واقف ہو جاؤ۔

تعلیمی ادارے: صرف سی جی پی اے نہ دو — اسلامی شعور دو!

اختتامی دعا

اے اللہ!ہماری بیٹیوں کو حیا، پردہ اور دین کا زیور دے،ماں باپ کو اولاد کی اسلامی تربیت کی توفیق دے،ہمارے معاشرے کو فحاشی، عریانی اور میڈیا کی گمراہی سے بچااور ہمیں ایسی زندگی عطا کر جس پر موت مسکرا کر آئے، اور قبر میں روشنی ہو، نہ کہ تنہائی، تعفن اور بےبسی۔ آمین یا رب العالمین

موت: عبرت کا پیغام، نہ کہ فتوے کا موقع

1۔ موت: ایک خاموش مگر بلیغ واعظ

انسانی تاریخ کا واحد، اٹل اور غیر متنازعہ سچ موت ہے۔ ہر ذی روح کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ مگر افسوس کہ آج کے مسلمان کا رویہ موت جیسے سنجیدہ موقع پر بھی فتوی سازی اور فیصلہ سنانے کا بن چکا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: «کفى بالموت واعظا» ’’موت ہی کافی ہے ایک واعظ کے طور پر۔‘‘

مگر ہم میں سے اکثر نے موت کے اس فطری وعظ کو تعصب، قیاس آرائی، اور جذباتی انتقام کا ذریعہ بنا دیا ہے۔کسی کی موت پر ہمارے تبصرے، تجزیے اور سوشل میڈیا پر چلنے والی مہمات گویا ہمیں یہ یقین دلا رہی ہیں کہ ہم قیامت سے پہلے جنت و جہنم کا فیصلہ سنا سکتے ہیں۔

کیا موت کا لمحہ خود احتسابی کا وقت نہیں؟ کیا یہ وقت نہیں کہ ہم اپنے گناہوں کو یاد کریں، توبہ کا دروازہ کھٹکھٹائیں، اور اللہ کے سامنے سر بسجود ہوں؟

2۔ ظاہری انجام اور اخروی حقیقت: ایک گہرا فاصلہ

بسا اوقات ہمیں کسی کی موت عبرتناک دکھائی دیتی ہے — کوئی جل کر، ڈوب کر، یا سڑک کے حادثے میں لقمۂ اجل بن جاتا ہے — ہم فوراً یہ کہہ بیٹھتے ہیں: ’’برا انجام ہوا!‘‘لیکن شریعت ہمیں سکھاتی ہے کہ ظاہری انجام اخروی انجام کا حتمی ثبوت نہیں ہوتا۔

بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ صحابہ کرام نے ایک شخص کو شہید سمجھا جو غزوہ میں زخمی ہوا، مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ جہنمی ہے!‘‘

اس کی وجہ صرف ایک چادر تھی جو اس نے مال غنیمت سے چرائی تھی۔

دوسری طرف وہ عورت جس کی پوری زندگی گناہوں میں گزری، صرف ایک نیکی — پیاسے کتے کو پانی پلانے — کی بنیاد پر جنت کی حقدار بن گئی۔

اسی طرح ایک شخص نے ایک کانٹے دار شاخ راہ سے ہٹا دی تھی، تاکہ راہگیروں کو تکلیف نہ ہو، تو اللہ نے اسے جنت میں داخل کر دیا۔

ان واقعات سے ہمیں سیکھنا چاہیے کہ کسی کا حلیہ، شعبہ، یا موت کا انداز، اس کے اخروی انجام کی کوئی یقینی گواہی نہیں بن سکتا۔ فیصلہ صرف اللہ کا ہے، جو دلوں کے حال جانتا ہے۔

3۔ ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ موت کو تماشہ بنانے کا رویہ

سوشل میڈیا کا دور ہے۔ آج کوئی مشہور شخص دنیا سے رخصت ہوتا ہے، تو فوراً ’’جہنم واصل‘‘ یا ’’جنتی شخصیت‘‘ جیسے تبصرے شروع ہو جاتے ہیں۔

نہ مرحوم کی نیت کا ہمیں علم، نہ اس کے اعمال کا، نہ اس کی توبہ کا۔

پھر بھی ہم خود ساختہ قاضی بن کر اس کی آخرت پر مہریں لگا رہے ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف غیر شرعی عمل ہے، بلکہ بے ادبی، فکری فقر، اور روحانی اندھے پن کی علامت ہے۔

جو لوگ موت پر فوری رائے زنی کرتے ہیں، وہ دراصل اپنے دل کی مردنی ظاہر کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر موت ہمیں جھنجھوڑنے، بیدار کرنے، اور اللہ سے تعلق جوڑنے کا ذریعہ نہیں بن رہی، تو سمجھ لیں کہ ہم زندگی کی اصل حقیقت سے محروم ہو چکے ہیں۔

4۔ موت کا سبق: ہر انسان کے لیے، ہر طبقے کے لیے

موت نہ صرف ایک حقیقت ہے، بلکہ یہ سب سے بڑا اصلاحی موقع بھی ہے۔

بادشاہ ہو یا فقیر، ولی ہو یا فاحشہ، مفتی ہو یا گلوکار، موت کا لمحہ سب کو ایک ہی سطح پر لے آتا ہے — مٹی کی برابر قبر میں۔

یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جس جسم کو ہم لباس، خوشبو، میک اپ، یا جبہ و عمامہ سے آراستہ کرتے ہیں، وہ کل مٹی میں گلنے والا ہے۔

ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ نبیوں، صحابہ، تابعین، اولیاء اور مجاہدین سب کے سب موت سے گزرے؟

اگر وہ نجات پا گئے، تو وہ ان کی نیت، اخلاص اور اعمال کے سبب۔ ہم کیوں اپنے تعصبات کے عینک سے کسی کی موت کو تولتے ہیں؟

قرآن ہمیں سکھاتا ہے:

فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى

’’اپنے آپ کو پاک مت جتاؤ، اللہ بہتر جانتا ہے کون متقی ہے۔‘‘

5۔ موت سے پہلے خود کو سنوارنے کا وقت ہے، دوسروں پر تبصرے کا نہیں

آج اگر کسی کے جنازے پر ہزاروں لوگ شریک ہو جائیں، یا کوئی بے گمنام گوشے میں اکیلا دفن ہو، یہ معیار نجات نہیں۔نہ شہرت کا شوروغل جنت کی ضمانت ہے، نہ خاموشی و تنہائی جہنم کا اعلان۔

ہم سب کے پاس ابھی وقت ہے خود احتسابی کا، توبہ کا، اصلاح کا، دل صاف کرنے کا۔

آج کسی کی لاش دیکھ کر اگر ہمارے دل میں اللہ کا خوف پیدا نہیں ہوتا، اگر ہم سوچنے پر مجبور نہیں ہوتے کہ کل ہماری باری بھی آنے والی ہے، تو یہ ہماری روحانی موت کی علامت ہے۔

ہمیں چاہیے کہ موت پر خاموشی اختیار کریں، عبرت لیں، اور اس لمحے کو خود اپنی اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔کیونکہ موت کا سب سے بڑا سبق یہی ہے: ’’کل تم بھی اسی منزل کی طرف روانہ ہو گے۔‘‘

اے اللہ! ہمیں تعصب، تکبر اور فیصلہ سنانے سے بچا۔ ہمیں موت سے سبق لینے والا، عاجز اور نیک عمل کرنے والا بندہ بنا۔

ہماری زبان کو دوسروں کے انجام پر بند اور اپنے انجام پر گویا فرما۔ آمین۔

حمید اﷲ خان عزیز

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago