قابل صد احترام حضرات! جب کوئی قوم ذہنی طور پر اپاہج اور حرکت وعمل کی قوت سے محروم ہو جائے تو وہ روشن مستقبل، اپنی عظمت رفتہ اور خواہشات کے حصول کے لیے ٹامک ٹوئیاں مارتی ہے ایسی قوم یا افراد اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی بجائے صرف دعائوں اور وظائف پر زور دیتے ہیں۔ بلکہ بداعتقادی اور فکری پستی کی وجہ سے وہ حقیقی وظائف پر بھی مطمئن نہیں ہوتے۔ جس وجہ سے ہر قسم کے ٹونے‘ ٹوٹکے‘ تعویذات‘ حتی کہ جادو جیسی کفریہ حرکات کرنے پراُتر آتے ہیں اور ان کے ساتھ اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے ان کا شرعی جواز تلاش کرتے ہیں۔ جس طرح یہودیوں نے اپنی بداعتقادی اور بد عملی کو چھپانے کے لیے جادو کے دھندے کو اللہ کے عظیم پیغمبر سیدنا سلیمان علیہ السلام کی طرف منسوب کیا جس کی اللہ تعالیٰ نے تردیدفرماتے ہوئے جادو کی حقیقت واضح فرمائی کہ جادو تو سراسر کفر ہے اور سلیمان علیہ السلام جادو نہیں کرتے تھے۔
’’ اور یہودی تورات کی بجائے اُن جنتروں منتروں کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان علیہ السلام کے دور حکومت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے، جبکہ سلیمان علیہ السلام نے کفر نہیں کیا بلکہ کفر تو وہ شیطان کرتے تھے جو لوگوں کو جادو سکھلاتے تھے، نیز یہودی اس چیز کے بھی پیچھے پڑگئے جو بابل شہر میں ہاروت اور ماروت دو فرشتوں پر اتاراگیا تھا، وہ فرشتے بھی کسی کو کچھ نہیں سکھلاتے تھے کہ جب تک وہ یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو آزمائش میں ہیں تو کفر نہ کر پھر بھی لوگ ان سے ایسی باتیں سیکھتے کہ جس سے وہ میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال سکیں۔ حالانکہ وہ اللہ کے حکم کے بغیر کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے اور وہ ایسی باتیں سیکھتے تھے جو انہیں فائدہ کی بجائے نقصان دیا کرتی تھیں اور یہ بات وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ جو ایسی باتوں کا خریدار بنے گا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا، کتنی بری چیز تھی جسے انھوں نے اپنے بدلے میں خریدا، کاش وہ اس بات کی حقیقت کو جانتے ۔‘‘
یاد رہے کہ دنیا میں رونما ہونے والے واقعات اور حادثات کے بارے میں لوگوں کی تین قسم کی رائے ہوا کرتی ہے۔
1۔ یہ وہ طبقہ ہے جو تمام مسائل کا حل دنیاکے اسباب میں سمجھتا ہے یہاں تک کہ موت کے بارے میں بھی ان کا یہ خیال ہے کہ موت وحیات پر کسی ہستی کا اختیار نہیں یہ تو محض گردشِ ایام اور انسان کے وجود کی تبدیلی کا نتیجہ ہوتی ہے ۔
’’وہ کہتے ہیں کہ بس ہماری زندگی دنیا ہی کی زندگی ہے ۔ یہاں ہم مرتے اور جیتے ہیں اور زمانے کی گردش ہمیں ہلاک کرتی ہے۔ حالانکہ ان باتوں کی حقیقت کا انہیں علم نہیں وہ یہ باتیں محض اپنے گمان سے کرتے ہیں۔ ‘‘
2۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو مشکلات کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے اور اس کے حل کی بجائے تو ہّم پرستی (Superstition) کا شکار ہے اور یہ لوگ اس قدر وہم کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اگر کوئی پرندہ ان کے مکان پر بیٹھ کر اڑتے ہوئے بائیں جانب رخ کرلے تو وہ اس سے سارے دن کے کاموں کا منفی اثر لیتے ہیں، توہّم پرستی کی بیماری صرف ان پڑھ لوگوں میں ہی نہیں پائی جاتی بلکہ اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ اس مرض کے اس حد تک مریض ہوتے ہیں کہ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ گاڑی کی نمبر پلیٹ میں بھی نحوست خیال کرتے ہیں۔ اس کے لیے وہ علماء اور دیگر لوگوں کے پاس جا کر پوچھتے پھرتے ہیں کہ فلاں نمبر پلیٹ میں کوئی نحوست تو نہیں؟ قرآن مجید نے اس غلط سوچ کی یوں ترجمانی کی ہے۔
’’کفار نے کہا کہ ہم تجھے اور تیرے ساتھیوں کو منحوس سمجھتے ہیں۔ صالح علیہ السلام نے فرمایا: تمہاری نحوست تو اللہ کے اختیار میں ہے بلکہ تم آزمائش میں ڈال دیے گئے ہو۔‘‘
’’رسولوں نے فرمایا: تمہاری نحوست تو تمہاری وجہ سے ہے کیا یہ باتیں تم اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی جاتی ہے؟حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو۔‘‘
3۔ تیسرے وہ خوش نصیب لوگ ہیں جن کا یہ عقیدہ ہے کہ دنیا میں رونما ہونے والے حالات وواقعات خالقِ کائنات کی طرف سے رونما ہوتے ہیں۔ لیکن انسان کو پہنچنے والے مصائب اور مشکلات اس کے اپنے کردار کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔
’’ جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اللہ کے حکم سے آتی ہے اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے تو اسکے دل کو اللہ ہدایت بخشتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ ‘‘
’’اور تمھیں جو بھی مصیبت آتی ہے وہ تمہارے اپنے ہی اعمال کے سبب آتی ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے بہت سے گناہوں سے درگزر کر تا ہے اور تم اسے زمین میں عاجز نہیں کر سکتے کہ وہ تمھیں سزانہ دے سکے او ر اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا نہ کوئی کا رساز ہے اور نہ کوئی مدد گار۔‘‘ (الشوریٰ: ۳۰، ۳۱)
’’ لوگوں کے اپنے ہاتھوں کے کیے کی وجہ سے خشکی اور سمندر میں فساد برپا ہو گیا ہے تاکہ اُن کو اُن کے بعض اعمال کا مزا چکھایاجائے شاید کہ وہ باز آجائیں۔‘‘
بدقسمتی سے اس طبقے کے لوگوں کی اکثریت بھی ایسی ہے کہ وہ ہر بات کو ایک خاص زاویے سے دیکھتے ہیں اگر یہ بیمار ہوں یا انہیں کاروبار میں نقصان ہو جائے۔ یہاں تک کہ میاں بیوی کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو جائے تو معاملات کے پس منظر اور اس کے اسباب پر غور کرنے اور اپنی کمزوریوں کی اصلاح کرنے کی بجائے مسئلے کا ناطہ جادو، ٹونے اور تعویذات کے ساتھ جوڑتے ہیں اور اس کے تدارک کے لیے پیروں ، فقیر وں اور علماء کے پاس جاتے ہیں۔ بد قسمتی سے یہ کام کرنے والے پیر، فقیر اور علماء کی اکثریت پیشہ ور افراد پرمشتمل ہے۔ اگر ان میں کوئی مفاد پرستی اور اخلاقی کمزوریوں سے پاک ہے تو ان میں بھی اکثر خود پرستی کا شکار ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے سائل کو حقیقت حال سے آگاہ کرنے میں اپنی علمی کمزوری اور حلقہ عقیدت میں کمی کے خوف کی وجہ سے فوراً تعویذ لکھنا لازم خیال کرتے ہیں اور آنے والے کو یہ کہنا اپنی گفتگو کا جزو لاینفک بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم پر بڑا بھاری جادو ہوا ہے یا تجھ پر کسی چیز کا پرانا اور گہرا سایہ ہے۔ میں اس کے حل کے لیے تجھے خصوصی تعویذ اور وظیفہ بتلا رہا ہوں۔
اہل لغت، مفسرین اور محدثین نے تحریر فرمایا ہے کہ جادو ایسا عجیب علم اور فن ہے کہ جس سے سب سے پہلے لوگوں کی فکر ونظر کو متاثر کیا جاتا ہے۔
عربی ڈکشنری کے حوالے سے اہل لغت نے سحر کے کئی معانی بیان کیے ہیں۔جن کا خلاصہ یہ ہے:
سحر ایسا عمل ہے کہ جس کے ذریعے شیطان کی قربت یا اس کی مدد حاصل کی جائے ۔
شریعت کے حوالے سے علماء نے جادو کی مختلف تشریحات کی ہیں جن کاخلاصہ یہ ہے۔
’’جادو! گرہیں، دم اور ایسی تحریر یا حرکات پر مشتمل ہوتا ہے۔ جس کے ذریعے دوسرے کے وجود اور دل و دماغ پر اثر انداز ہوا جاتا ہے۔‘‘
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ جادو کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’جادو خبیث جنات کے ذریعے کیا جاتا ہے جس سے لوگوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ‘‘
حقیقت یہ ہے کہ جادو کوئی مستقل اور مستند علم نہیں کہ جس کو کرنے کے لیے کوئی خاص طریقہ متعین کیا گیا ہو کیونکہ جادو تصنّع بازی کا نام ہے اس لیے ہر دور میں اس کی کرشمہ سازی اور اثر انگیزی میںاضافہ کرنے کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد کیے گئے ہیں تاہم جدید وقدیم جادو کا خلاصہ یہ ہے :
1۔ کفر یہ، شرکیہ الفاظ کے ہیر پھیر کے ذریعے جادو کرنا۔
2۔بُرے لوگوں، خبیث جنّات اور شیاطین کے ذریعے کسی پر اثر انداز ہونا ۔
3۔ علم نجوم کے ذریعے غیب کی خبریں دینااور دوسرے کو متاثر کرنا۔
4۔ توجہ،مسمریز کی مخصوص حرکات، (ہیپناٹیزم )کیساتھ حواسِ خمسہ کو قابو کرنا۔
جادو کے انگلش میں نام :
کالا جادو:Black Magic
سفید جادو:White Magic
قوت ارادی:Will Power
توجہ مرکوز کرنا: Concentrate Pay heed, Pay attention
مسمریزم: Spell pound
جادو کا علم سیکھناکفر ہے:
جادو کفر یہ، شرکیہ، اوٹ پٹانگ الفاظ یا جس طریقے سے بھی کیا جائے کفر ہے۔
’’سلیمان علیہ السلام نے کفر کبھی نہیں کیا بلکہ کفر تو وہ شیطان کرتے تھے جو لوگوں کو جادو سکھلاتے تھے۔‘‘
نبی ﷺ کا فرمان ہے:
’’جو شخص فال نکالے یااس کے لیے فال نکالی جائے، کوئی غیب کی خبریں دے یا اس کے لیے کوئی دوسرا ایسی خبر دے ، کوئی خود جادوگر ہو یا دوسرا شخص اس کے لیے جادو کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو ایسے شخص کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کرے، اس نے ہر اس بات کا انکار کیا جو محمدﷺ پر نازل ہوئی ہے۔‘‘
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کفریہ، شرکیہ و ظائف، بھرپور شعبدہ بازی اور فنی مہارت کے باوجود جادوگر اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اللہ کی کسی حلال چیز کو اپنے لیے حرام قرار نہ دے۔ اس کے ساتھ ہی اسے خاص قسم کی غلاظت اختیار کرنا اور بدترین قسم کا گناہ کرنا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے جادوگرمرد ہو یا عورت اس سے خاص قسم کی بدبو آیا کرتی ہے۔ یہ لوگ جسمانی طور پر جس قدر گندے ہوں گے، اسی رفتار سے دوسروں پر ان کے شیطانی عمل اثرانداز ہوں گے، یہی وجہ ہے کہ ایک جادوگر اپنے شاگرد کو اپنا پیشاب پینے کا سبق دیتا ہے اور دوسرا پاخانہ کھانے کا حکم دیتا ہے اورکوئی غسل واجب سے منع کرتا ہے۔ گویا کہ کوئی نہ کوئی غلاظت اختیار کرنا جادوگر کے لیے ضروری ہے۔البتہ آج کل لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے یہ لوگ اس قسم کی باتیں چھپاتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ غلیظ رہنے اور شیطان کی مدد کے بغیر جادو اثراندازنہیں ہوتا ۔
بعض جادوگر عورتوں کو قرآن مجید کے اوپر بیٹھ کر نہانے اور مزید ذلیل حرکات کرنے کا حکم دیتے ہیں اور کئی یہ دھندا کرنے والے عشق و عاشقی کی راہ ہموار کرنے یا خاوند کو بیوی کا تابع بنانے کے لیے عورتوں کے حیض کی غلاظت سے آلودہ کپڑوں کو نچوڑ کر اور اس کو سیاہی میں ملاکر قرآن مجید کے الفاظ کو الٹ پلٹ کر کے تعویذ لکھتے ہیں جس پر ابلیس لعین خوش ہو کر فوری طور پر اس قسم کے لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ بالخصوص خواتین ایسے شخص کی طرف اندھا دھند بھاگتی چلی جاتیں ہیں۔
بعض درندہ صفت پیر بے اولاد عورتوں کو دوسرے کے اکلوتے بیٹے کو قتل کر کے اس کے خون سے تعویذ لکھتے ہیں اور اس کی لاش پر غسل کرنے کاحکم دیتے ہیں۔ یہ کوئی الزام نہیںبلکہ جنرل یحییٰ خان کے دور میں ضلع قصورکی مشہور سیر گاہ چھانگا مانگا میں یہ المناک واقعہ رونما ہوا جس کو تمام اخبارات نے شہّ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا تھا۔ اس طرح ہی 1998ء میں آزاد کشمیر میں ایک شخص نے اپنے مرشد کے کہنے پر اپنے تین بچوں کو قتل کر کے ان کی لاشوںپر غسل کیا جس کی تفصیلات اخبارات میں نمایاں طور پر شائع ہوئیں۔ ان کے بارے میں قرآن مجید نے فرمایا:
’’یہ مشرکین اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو پکارتے ہیں حقیقت میں وہ سرکش شیطان ہی کو پکار رہے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جس پر لعنت کی ہے اور جس نے اللہ سے کہا تھا کہ: میں تیرے بندوں میں سے ایک مقررہ حصّہ لے کر رہوں گا اور میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا ۔‘‘
سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں یہ وضاحت کر دی ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ جادوگر حقیقی طور پر کامیاب نہیں ہوتے۔
’’جو انہوں نے کیا وہ جادو کا کرشمہ ہے اور جادوگر جس طرح بھی آئے کامیاب نہیں ہو تا۔‘‘
جادو کی تعریف میںیہ وضاحت ہو چکی ہے کہ جادو کرنے میں کفریہ اورشرکیہ الفاظ کے ذریعے شیطان سے مدد مانگی جاتی ہے اور یہ بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ ایسی حرکات کرنے والا شخص جس حد تک کفر یا شرک اور شیطانی حرکات کرے گا۔ شیطان اتنی ہی تیز رفتاری کے ساتھ اس کی مدد کرتا ہے۔ اکثر اوقات شیطانِ اکبر جادو کرنے والے کی امدا د کے لیے مستقل طور پر ایک یا زیادہ شیاطین کی ڈیوٹی لگا دیتا ہے۔ جس کو ایسے لوگ یہ کہہ کر مشہور کرتے ہیں کہ میں نے ہمزاد، موکل اور جنات کو قابو کر رکھا ہے۔ جبکہ حقیقتاً یہ شیاطین ہوتے ہیں جو ایسا دھنداکرنے والوں کو جھوٹ اور سچ ملا کر باتیں بتاتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں۔ قرآن مجید اس کذب گوئی کا ان الفاظ میں انکشاف کرتا ہے۔
’’لوگو! میں تمہیں بتائوں کہ شیاطین کن پراتراکرتے ہیں؟وہ ہر جعل ساز اور بدکار پر اترا کرتے ہیں اور سنی سنائی باتیں ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں اور ان میں سے اکثرجھوٹے ہوتے ہیں۔‘‘
’’اور اسی طرح ہم نے جنوں اور انسانوںمیں سے شیاطین کو ہرنبی کا دشمن بنایا جو لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے خفیہ طریقے سے ایک دوسرے کو جھوٹی باتیں بتلاتے ہیں اور اگرآپ کا رب چاہتا تو وہ ایسانہ کرتے، انہیں اور ان کے جھوٹ کو چھوڑ دیجیے۔‘‘
’’ جب جادوگر فرعون کے پاس آکر کہنے لگے اگر ہم غالب آگئے تو ہمیں کیا صلہ ملے گا؟ فرعون نے کہا ہاں تم میرے مقربین میں شامل ہو جائو گے۔ اس کے بعد جادو گر موسیٰ سے کہنے لگے کہ تم پھینکتے ہو یا ہم پھینکیں؟ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: تم پھینکو۔ پھر انہوں نے اپنی رسیاں وغیرہ پھینکیں تو انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا اور لوگ ان سے خوف زدہ ہو گئے کیونکہ وہ زبردست جادو لے کر آئے تھے۔‘‘
’’فرعون نے جادوگروں کو حکم دیا کہ اپنی سب تدبیریں جمع کرو اور متحد ہوکر مقابلہ کے لیے آئو اور سمجھ لو کہ جو آج کامیاب ہوا وہ جیت گیا۔ جادوگر کہنے لگے موسیٰ تم ڈالتے ہو یا پہلے ہم ڈالیں؟ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: تم ہی ڈالو ان کے جادو کے اثرسے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کی رسیاں اور لاٹھیاں دوڑنے لگی ہیں۔ یہ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام اپنے دل میں خوف زدہ ہو گئے ہم نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا: ڈرو نہیں یقیناً تم ہی غالب رہو گے۔ ‘‘
رسول کریم ﷺ پر جادو کے اثرات ،اس کا علاج اور جواب:
آپﷺکی عمر مبارک تقریباً ۶۰ سال کی ہو چکی تھی اور جب یہود و نصاریٰ اوراہل مکہ ہر طرف سے ناکام اور نامراد ہو گئے تو اہل یہود نے آپ کی ذات مبارکہ پر جادو کے ذریعے اثر انداز ہونے کی کوشش کی جس کے لیے اعصم بن لبید نے اپنی بہنوں یا بیٹیوں سے مل کر کسی طریقے سے آپ کے سر مبارک کے بال حاصل کیے اور ان میں گرہیں ڈالتے ہوئے موم وغیرہ کا ایک پتلا بنا کر ہر گرہ میں ایک ایک سوئی ڈال دی اس جادو کی وجہ سے آپ کی طبیعت ایک مہینہ تک مضمحل رہی۔ اس تکلیف کے آخری ایّام میں آپ رات کو بھی بے سکونی محسوس کر نے لگے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس کیفیت کو اس طرح بیان کرتی ہیں کہ جب آپ ﷺ صلح حدیبیہ سے واپس لوٹے تو آپ پر جادو کا شدید ترین حملہ کیا گیا جس کا آپ کے ذہن پر اس قدر اثرہواکہ آپ سمجھتے کہ فلاں کام میں کر چکا ہوں جبکہ کیا نہیں ہوتا تھا۔ اس صورت حال میں آپ اللہ کے حضور اٹھتے بیٹھتے دعائیں کرتے، بالآخر آپﷺ کو وحی کے ذریعے اس کربناک صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا چنانچہ آپﷺ نے فرمایا:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا! اللہ تعالیٰ نے مجھے اس تکلیف سے نکلنے کی تدبیر بتا دی ہےاور اب میں اس سے شفایاب ہو جائوں گا کیونکہ خواب میں میرے پاس دو فرشتے آئے ان میںایک میرے سرہانے کی طرف اور دوسرا پائوں کی طرف کھڑا ہوا ایک نے میری تکلیف کے بارے میں دوسرے سے پوچھا:اس نے کہا:آپﷺکو جادو ہو گیا ہے۔
پہلے نے پوچھا کس نے جادو کیا؟ دوسرے نے کہا اعصم بن لبید یہودی نے ۔
وہ پوچھتا ہے کہ کس چیز سے جادو کیا گیا ہے؟
دوسرے نے کہا آپ ﷺ کے بالوں اور نرکھجور کے خوشے میں کیا گیا ہے۔یہ کہاں رکھا گیا ہے؟فلاں ویران کنویں میں رکھا ہوا ہے۔
اس خواب کے بعد آپ ﷺ چند صحابہ کے ساتھ اس کنویں پر تشریف لے گئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کافرمان ہے کہ اس کنویں کے درختوں سے بھی خوف محسوس ہوتا تھا۔ جب وہ پتلا وہاں سے نکالا گیا تو جبرائیل امین تشریف لائے اور انہوں نے بالوں کی گرہیں کھولنے اور جادو کے اثرات ختم کرنے کے لیے بتایا کہ آپﷺ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی ایک ایک آیت پڑھتے جائیں یہ گیارہ آیات ہیں اس طرح گیارہ گرہیں کھول کر اور ان سے سوئیاں نکال دی جائیں۔ آپ کی نگرانی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایسا کیا تو آپ ﷺ کی طبیعت اس طرح ہشاش بشاش ہو گئی جس طرح کسی جکڑے ہوئے انسان کو کھول دیا جاتا ہے اس کے بعدآپ ﷺکا معمول تھا کہ رات سوتے وقت ان سورتوں کی تلاوت کر کے جہاں تک آپ ﷺکے ہاتھ پہنچتے اپنے آپ کو دم کیا کرتے تھے ۔(صحیح البخاری: كتاب الطب، باب السحر)
اس واقعہ پر ہونے والے اعتراضات اور ان کے جواب:
غیرمسلم اورمنکرین حدیث اس واقعہ پر اعتراضات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگرآپ ﷺ پر جادو کے اثرات تسلیم کر لیے جائیں تو کفار کا یہ اعتراض صحیح ثابت ہو جائے گا۔
’’اور ظالموں نے کہا کہ تم صرف جادو کے مارے ہوئے آدمی کی پیروی کرتے ہو۔‘‘
1۔ اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ اہل مکہ نے آپ پر جادو ہونے کا الزام نبوت کے ابتدائی دور یعنی مکہ میں لگایا تھا۔ جب کہ یہ واقعہ مدینہ طیبہ میں اور صلح حدیبیہ کے بعد اور نبوت کے بیسویں سال پیش آیا یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی شخص نے اس واقعہ کو اپنی تائید میں پیش نہیں کیا ۔
2۔نبی کریم ﷺ پر جادو ہونا ناممکن نہیں کیونکہ آپ زندگی میں بیمار بھی ہوئے اور غزوہ احد میں زخمی بھی ہوئے تھے بحیثیت انسان زندگی میں آپ کو متعدد بار روحانی پریشانیاں اور جسمانی تکالیف بھی اٹھانا پڑیں تھیں۔لہٰذا آپ پر جادو کا اثر انداز ہونا خلاف عقل نہیں ہے۔
3۔ جادو کے اثرات نبوت کے امور پر اثر انداز نہیں ہوئے تھے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کے امور کی ادائیگی کا ذمّہ لیا ہوا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس تکلیف کے دوران کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپﷺ نے کوئی مسئلہ الٹ بیان کر دیا ہو۔( القیامہ: ۱۶ تا ۱۹)
پاکستان میں پہلی مرتبہ عاملوں اور جادوگروں کے خلاف آپریشن:
حکومت پاکستان نے عاملوںکے خلاف بھرپور ایکشن لیا یہاں تک کہ نجومی اپنے اڈے چھوڑ کر بھاگ گئے۔ یاد رہے کہ اس ایکشن کی بڑی وجہ سانحہ مغل پورہ تھا کہ نجومیوں نے الیاس نامی شخص کے گھر میں ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ الیاس اور اہل خانہ کو بہت ہی زیادہ تنگ کیا گیا۔ جس پر حکومت نے زبردست ایکشن لیا جس سے نجومیوں کو بڑی ذلّت اٹھانا پڑی اور خدائی دعوے کرنے والے اپنی گیدڑ بھبکیوں سمیت بھاگ نکلے۔(نوائے وقت ۱۸ جولائی 2002ء)
جب جادو اور جنات کے اثرات کسی گھر یا شخص پر اثر انداز ہو جائیں۔ تو اس کا علاج دیرپا ہوا کرتا ہے، بسااوقات کئی کئی مہینے او رسال لگ جاتے ہیں۔ تب جا کر اس کے اثرات کلی طور پر ختم ہو تے ہیں تاہم مسنون وظائف کرنے سے فوری یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اثرات بڑھنے سے رک جاتے ہیں۔ ہاں! بسااوقات شیاطین کے ساتھ مقابلے کی صورت بھی پیش آجاتی ہے جس کی وجہ سے اچانک تکلیف اور نقصان میںاضافہ ہو جاتا۔ اس صورت حال میں اپنے سامنے قبضہ گروپ کی مثال رکھنی چاہیے کہ جس طرح بدمعاش کسی شریف آدمی کی جائیداد پر قبضہ کر لیں تو قبضہ واپس لینے کے لیے مقدمات، لڑائی جھگڑا اورکسی کو کہنے کہلانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایسی ہی کیفیت کبھی جادو اور جنات کے مریض کو بھی پیش آ جاتی ہے لہٰذا مایوس ہونے کی بجائے مستقل مزاجی اور کثرت کے ساتھ وظائف اور دعا ئیں کرنی چاہئیں۔ ان شاء اللہ! اللہ کے کلام کے سامنے شیاطین کا ٹھہرنا ممکن نہیں ہے لیکن شرط یہ ہے کہ علاج اللہ پر بھروسہ اور رسول کریم ﷺ کے طریقہ کے مطابق پوری ثابت قدمی کے ساتھ جاری رکھا جائے۔
جس طرح بعض لوگ فنکاری کے ذریعے اپنے وجو د کو کئی زاویوں میں ڈھالتے او ر اپنے چہرے کی مختلف صورتیں بنالیتے ہیں۔ ایسے ہی جنات بھی اپنے آپ کو مختلف شکلوں میں ڈھال لیتے ہیں۔ وہ اللہ کی دی ہوئی قوت سے اپنے وجود کو یکسر طور پر کسی دوسرے روپ میں بدل لیتے ہیں۔ نیک جنات اچھی شکل میں اور خبیث جِنّ سانپ، بچھو اور ڈرائونی شکلوں میں ظاہر ہو کرلوگوں کو تکلیف دیتے ہیں۔ احادیث کی دستاویزات میں اس قسم کے کئی واقعات موجود ہیں۔ آپ کی دلچسپی کے لیے صرف دو واقعات حدیث کے الفاظ میں پیش کیے جاتے ہیں۔ تاکہ آپ جنات کے وجود اورانکی اصلیت کو سمجھ سکیں۔
سیدنا ابو قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات شدید اندھیرا اور بہت بارش تھی۔ میں نے سوچا کہ آج رات میں عشاء کی نماز نبی ﷺ کے ساتھ پڑھوں۔تو میں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی، نبی اکرمﷺ جب نماز سے فارغ ہوئے توآپ ﷺ نے مجھے دیکھا ، اُس وقت آپﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اور آپ اس کے ساتھ چل رہے تھے۔ مجھے فرمایا کہ ابو قتادہ یہاں اس وقت کیا کررہے ہو؟ میں نے کہا کہ اللہ کے نبی ﷺ! میںنے آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کوغنیمت سمجھا۔ آپ ﷺ نے مجھے چھڑی عنایت کرتے ہوئے فرمایا۔ تمہارے گھر میں شیطان داخل ہو چکا ہے، یہ چھڑی لو اور اسے اس کے ساتھ نکال باہر کرو۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد سے نکلا تو وہ چھڑی شمع کی طرح روشن ہو گئی۔ میں اس کی روشنی میں اپنے گھر پہنچا تو گھر والے سوئے ہوئے تھے۔ میں نے گھر کے ایک کونے میں قنفذ (سہہ) دیکھی تو میں نے اسے مار، مار کر بھگا دیا۔ جو حقیقت میں ایک جن تھا۔ (سلسلة الأحادیث الصحيحة للألباني)
’’سیدنا ابو السائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ہم نے ان کی چارپائی کے نیچے سے ایک آہٹ سنی۔ ہم نے دیکھا تو وہاں ایک سانپ تھا۔ میں اسے مارنے کے لیے اٹھا۔ اس وقت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے مجھے بیٹھ جانے کا اشارہ کیا اور میں بیٹھ گیا۔ وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے محلّے کے ایک گھر کی جانب اشارہ کر کے فرمایا: کیا وہ گھر تمہیں نظر آرہا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس میں ہمارا ایک نوجوان رہتاتھا جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور ہم رسول اکرم ﷺ کے ساتھ خندق کھودنے کے لیے گئے تو یہ نوجوان آپﷺ سے اجازت لے کر دوپہر کے وقت اپنے گھر آجاتا تھا۔ ایک دن اس نے اجازت لی تو آپ نے اسے اجازت دیتے ہوئے، فرمایا: اپنے ہتھیار ساتھ لے جائو کیونکہ میں آپ کے بارے میں بنو قریظہ سے خطرہ محسوس کرتا ہوں۔ اس نے ہتھیار لیے اور اپنے گھر کی جانب چل دیا۔ گھر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی باہر دروازے میں کھڑی ہے۔ اس نے غیرت میں آ کر اپنی بیوی کو مارنے کے لیے نیزہ آگے کیا، اس کی بیوی نے کہا: اپنا نیزہ روکیں جب آپ گھر میں داخل ہوں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ مجھے کس چیز نے گھر سے نکلنے پر مجبور کیا ہے۔ وہ اپنے گھر میں داخل ہوا تو اچانک اس کی نظر ایک سانپ پرپڑی جو اس کے بستر پر کنڈلی مارے ہوئے بیٹھا تھا۔ اس نے سانپ کو نیزہ مارا اور اسے نیزے میں پرو لیا اور کمرے سے باہر نکل کر نیزے کو صحن میں گاڑھ دیا۔ اس پر سانپ پیچ وتاب کھانے لگا لیکن یہ پتا نہ چل سکا کہ سانپ اور اس نوجوان میں سے پہلے کون فوت ہوا؟ راوی کہتا ہے ہم رسول کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پورا واقعہ آپ کے گوش گزار کیا اور ہم نے عرض کی اللہ کے رسولﷺ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اسے زندہ کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بس اپنے ساتھی کے لیے استغفار کرو۔ اس کے بعد فرمایا: ((ثُمَّ قَالَ اِنَّ لِهٰذِهِ الْبُیُوْتِ عَوَامِرَ فَاِذَا رَاَیْتُمْ مِّنْهَا شَیْئًا فَحَرِّجُوْا عَلَیْهَا ثَلٰثاً فَاِنْ ذَهَبَ وَاِلَّا فَاقْتُلُوْهُ فَاِنَّهٗ كَافِرٌوَقَالَ لَهُمُ اذْهَبُوْا فَادْفِنُوْا صَاحِبَكُمْ)) ’’پھر آپﷺ نے فرمایا: بلاشبہ گھروں میں جنات رہتے ہیں۔ جب اپنے گھرمیں کسی سانپ کو دیکھوتو اسے تین دن تک چلے جانے کے لیے کہو۔ اگر وہ چلا جائے تو بہتر ورنہ اسے مارڈالو کیونکہ وہ سرکش جن ہو گا۔‘‘ (رواه مسلم:باب قتل الحیاة وغیرها)
دوسری روایت میں ہے کہ مدینہ میں کچھ جِنّ مسلمان ہو چکے ہیں اگر تم کوئی ایسی چیز دیکھو تو اسے تین دن کی مہلت دو اگر اس کے بعد نظر آئے تو اسے قتل کر دو کیونکہ وہ شیطان ہو گا۔(رواہ مسلم:باب قتل الحیاة وغیرھا)
کیا جنات کو قابو کیا جا سکتا ہے؟
کچھ لوگ دوسروں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ ہم نے ہمزاد، موکل، اور جنات کو قابو کر رکھا ہے۔ حالانکہ خبیث جنات اور شیاطین کسی کے تابع نہیں ہوتے۔ البتہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ایسے لوگوں اور جنات کا آپس میں میل جول ہوتا ہے۔ جونہی سرکش جنات اس آدمی کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کر لیتے ہیں تو پھر اسی کو نقصان پہنچانے کے در پے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دھندا کرنے والے اکثر لوگ جنات کے ہاتھوں پریشان رہتے ہیں۔ جب کہ جنات کے بارے میں نبیﷺ کا فرمان اور ایک واقعہ بھی موجود ہے جو بیان ہوا۔ ایک دفعہ صبح کی جماعت کروا رہے تھے تو اچانک ایک ذلیل جن نے آگ کا شعلہ لے کر آپﷺکے چہرہ مبارک کے قریب کیا۔ آپ یک دم پیچھے ہٹے پھر آگے بڑھ کر اسے پکڑ لیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو صحابہ نے آپ سے عرض کیا کہ آپ کے نماز میں آگے پیچھے ہونے کی کیا وجہ تھی؟ آپﷺ نے پورا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ کہ میں نے اس جن کو پکڑ لیا تھا۔ لیکن اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا کا احترام کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا۔ (مشكوة، باب ما لا یجوز من العمل فی الصلاة)
’’سلیمان علیہ السلام نے دعا کی کہ میرے پروردگار: مجھے معاف کردے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو نہ مل سکے۔ یقیناً تو سب کچھ عطا کرنے والا ہے ، ہم نے ہوا کو اس کے تابع کر دیا، اس نے جہاں پہنچنا ہوتا وہ اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی اور شیطان بھی اس کے لیے مسخر کر دئیے تھے جو معمار اور غوطہ زن تھے اور کچھ دوسرے تھے جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔‘‘
جو شخص جادو یا جنات کے اثرات محسوس کرے اسے درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں۔
طہارت کا اہتمام: جسم اور لباس کی پاکیزگی اور صفائی کا خاص اہتمام کیا جائے ، ہر وقت باوضو رہنا سنّت بھی ہے اور مفید بھی ۔
سنت سمجھ کر خوشبو لگائیں گے اس سے بھی فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ جادوگر اور خبیث جنات گندگی پسند کرتے ہیں۔
قرآن مجید کی تلاوت اور کثرت کے ساتھ ذکر:
ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہنا چاہیے خاص کر گھر میں قرآن مجید کی تلاوت اور نوافل پڑھنے چاہئیں۔ یاد رکھیے کہ قرآن مجید کی تلاوت کم از کم اتنی آواز میں ہونی چاہیے کہ پڑھنے والے کو قرآن مجید کے الفاظ سنائی دیں۔
سورۃ البقرۃ پوری یا اس کا کچھ حصہ آیت الکرسی یعنی سورۃ اخلاص اور معوذتین کے ساتھ صبح ‘شام تین تین مرتبہ پڑھ کر اپنے آپ کو دم کرنا سنت ہے۔ یہ سورتیں علاج کے طور پر زیادہ مرتبہ پڑھی جا سکتی ہیں۔
مسلسل دُعا : رسول کریم ﷺ پر جب جادو ہوا توآپ اٹھتے، بیٹھتے چلتے، پھرتے دعا کرتے تھے۔
اذان : اثرات زدہ گھر میں اذان کہنی چاہیے کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ اذان سن کر شیطان دُو ر بھاگ جاتا ہے۔
لعنت بھیجنا: جادو کرنے ،کروانے والے اور شیاطین کو ذہن میںرکھتے ہوئے کثرت کے ساتھ یہ ذیل الفاظ پڑھنے چاہئیں کیونکہ جب نمازکی حالت میں ایک جن نے آگ کا بگولہ آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کے قریب کیا تھا تو آپ نے اس پر لعنت کی تھی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں جو مختلف قسم کی صلاحیتیں پیدا فرمائی ہیں۔ ان میں نظر کے اثرات بھی ہیں جن سے کوئی عقلمند انکار نہیں کر سکتا کیونکہ یہ اچھی طرح دیکھی اور محسوس کی جاتی ہے۔ اسے سمجھنے کیلئے ذرا غور فرمائیں کہ جب ماں باپ اپنے بیٹے یا بیٹی کو توجہ کے ساتھ دیکھتے ہیں تو شرم کے مارے اس کا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی جب کوئی بڑا کسی چھوٹے کو گہری نظر سے دیکھے تو چھوٹے کا رنگ زرد ہو جاتا ہے۔ آپ کسی کو پیار اور محبت کے ساتھ دیکھیں تو وہ دیکھنے والے سے الفت اور قربت محسوس کرتاہے ۔ یہ نظر کی تاثیر کا نتیجہ نہیں تو اور کیا ہے؟ اور یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ زبان کے بعدآدمی کی ترجمان اس کی نظر ہوتی ہے۔ گویا کہ دیکھنے والا جس جذبے کے ساتھ دیکھے گا دوسرے پر اسی قسم کے اثرات مرتب ہونگے۔ لہٰذا جس شخص میں جس قدر حسد یا منفی قوت ہو گی اسی قدر اس کے منفی اثرات نظر کے ذریعے دوسرے شخص یا چیز پر اثر انداز ہوں گے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بسا اوقات ایسے شخص سے یہ چیز غیر ارادی طور پر ظاہر ہوتی ہے اور دوسرے پر فوراً اثرانداز ہو جاتی ہے۔
’’سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں۔ کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: نظر کا لگنا برحق ہے۔ اگر کوئی چیز تقدیر پر غالب ہونا ہوتی تو وہ نظر ہی ہو سکتی تھی۔ جب نظر کے علاج کے لیے تم سے غسل کا تقاضا کیا جائے تو اسے غسل کا پانی دیا کرو۔‘‘(رواه مسلم: باب رقیة العین)
’’نبی کریم ﷺ نے اپنی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک لڑکی دیکھی، جس کے چہرے پر زردی کے نشان تھے آپ ﷺ نے فرمایا: اسے نظر لگ گئی ہے اس لیے اسے دَم کرو۔‘‘(رواہ البخاری: بَابُ رُقْيَةِ العَيْنِ)
’’سیدنا جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سانپ کے کاٹنے پر حزم قبیلہ کے لوگوں کو دَم کرنے کی اجازت دی اور آپﷺ نے اسماء بنت عمیس سے فرمایا کیا بات ہے کہ میں اپنے بھتیجوں کو کمزور دیکھ رہا ہوں؟ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ انہیں نظر لگ جاتی ہے۔ فرمایا کہ انہیں دَم کیا کرو ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ میں نے آپ ﷺ کو دَم سنایا تو آپ ﷺنے فرمایا کہ انہی الفاظ کے ساتھ دَم کرو۔‘‘(رواه مسلم : باب استحباب الرقیة من العین)
نیک آدمی کی نظر نیک کو لگنا اس کا عجب واقعہ اور اس کا علاج:
کسی نیک آدمی کی دوسرے کو نظر لگنا ضروری نہیں حسد کی وجہ سے ہو۔ کیونکہ یہ انسان کے اندر کی ایک طبعی منفی قوت ہے۔ جو اکثر دفعہ آدمی کے بس میں نہیں رہتی اور اچانک دوسرے پر اثر انداز ہو جاتی ہے۔ دیکھنے والے کو اس کا پتہ بھی نہیں چلتا مگر دوسرے کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔ تاہم ایسے شخص کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کسی عجب چیز کو دیکھے تو اپنے آپ پر کنٹرول کرتے ہوئے اس کے لیے برکت کی دعا کرے اس طرح اس کی نظر کے شر سے دوسرا محفوظ رہے گا۔
’’ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے غسل کرنے کے لیے قمیص اتاری تو ان پر عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کی نظر پڑی اور انہوں نے میرے والد کا خوبصورت جسم دیکھ کر کہا کہ آج تک میںنے اتنے خوبصورت وجود والی کوئی عورت بھی نہیں دیکھی اس سے میرے والد کو شدید بخار ہو گیا اللہ کے رسولﷺ اب تو وہ اپنا سر بھی نہیںاٹھا سکتے۔ آپﷺ نے فرمایا: آپ کس پر شک کرتے ہیں؟ بتایا گیا کہ ان کو عامر بن ربیعہ کی نظرلگی ہے۔ آپ ﷺ نے اسے بلا کر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ تم کیوں اپنے بھائی کے قتل کے درپے ہوئے ہو؟ تجھے بارک اللہ کہنا چاہیے تھا۔ فرمایا: اب غسل کرو چنانچہ عامر رضی اللہ عنہ نے کہنیوں تک اپنے ہاتھ، چہرہ ، گھٹنے، پائوں اور اپنی چادر کے اندر کا حصہ دھو کر پانی دیا۔ اس پانی کو نبی ﷺ نے سہل کی پشت پر بہایا تو وہ ٹھیک ہو گئے۔‘‘ (السنن الکبری للنسائی: باب وَضُوءُ الْعَائِنِ [صحیح])
’’ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کو ان الفاظ کے ساتھ دم کیا کرتے تھے۔) میں شیطان‘‘ کیڑے مکوڑے اور ہر تکلیف دینے والی آنکھ سے اللہ کے کلمات کے ساتھ اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔ آپ ﷺنے مزید فرمایا کہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام انہی الفاظ کے ساتھ اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام کو دم کیا کرتے تھے ۔‘‘
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…