فیلڈ مارشل آرمی چیف سید عاصم منیر صاحب کی واشنگٹن میں اوورسیز پاکستانیوں کی تقریب میں عجز و انکساری علمی روحانی اور عسکری قابلیت و صلاحیتوں نے پوری قوم کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ سپہ سالار امت مسلمہ اس غازی و مجاھد کے خطاب کا ایک ایک لفظ موتیوں میں پرونے کے لائق ہے ۔ کاش ایک گھنٹہ کایہ خطاب لایئو نشر کیا جاتا ۔ میں اپنے کالموں میں لفظوں کے یہ موتی سمیٹنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر صاحب نے کہا کہ بھارت پر یہ بھی واضح کیا گیا کہ پہلگام حملے سے متعلق چار افراد کا الزام پاکستان پر لگایا جارہا ہے تو مقبوضہ وادی میں تعینات لاکھوں بھارتی فوجی اس وقت کیا کررہے تھے؟ ہر 10 کلومیٹر پر بھارتی چیک پوسٹ میں موجود اہلکار کیا کررہے تھے جو چار افراد 250 کلومیٹر چل کر پہلگام گئے، لوگوں کو قتل کیا اور واپس چلے گئے، کیا وہ چار لوگ سُپرمین تھے اور کیا بھارتی فوج کی ناکامی پر اس فوج کی چُھٹی نہیں کردینی چاہیے۔ وزیراعظم شہباز شریف سے جب صورتحال پر بات کی تو وزیراعظم نے دریافت کیا کہ لڑائی بڑی جنگ میں تبدیل ہونے کے کس قدر امکانات ہیں، ہماری طاقت کس قدر ہے، اس پر انہیں بتایا کہ ففٹی ففٹی چانسز ہیں کہ یہ لڑائی کسی بڑی جنگ میں بدل سکتی ہے، شہبازشریف نے بلاتامل کہا کہ آپ بسم اللہ کریں، اللہ ہمارے ساتھ ہے، یہ ایک سیاسی لیڈر کا فنٹاسٹک (زبردست) ردعمل تھا۔ فیلڈ مارشل نے بھارت کے خلاف کارروائی کو آپریشن بنیان مرصوص نام دیے جانےکی وجہ بتاتےہوئے کہا کہ وہ ائیر مارشل ظہیراحمد بابر سدھو کے ساتھ بیٹھے تھے اور ائیرچیف انہیں بتا رہے تھے کہ دفاع پاکستان کے لیے فضائیہ کیسے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئی اور جوانوں کاجذبہ کس قدر بلند تھا، اسی جذبہ، ہمت اور الفاظ کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے بھارت کیخلاف آپریشن کو قرآن کی آیت بنیان مرصوص یعنی سیسہ پلائی دیوار کا نام دیا۔ بھارت کے خلاف جنگ میں چین کی مدد سے متعلق بات کرتے ہوئے فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ اس میں دو رائے نہیں کہ پاکستان نے چین کا کچھ ایکیوپمنٹ استعمال کیا مگر اس میں بھی شک نہیں کہ جس قدر عُمدگی سے یہ کام افواج پاکستان نے انجام دیا، اسی طرح اسے استعمال کرنا چین کےلیے بھی چیلنج ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح بھارت کے نظام کو ہیک کیا گیا،سسٹم کریش کرکے بجلی غائب کردی گئی، ڈیمز کے اسپل وے کھول دیے، بی جے پی کی ویب سائٹ پر پاکستانی پرچم لہرائے، گجرات اور دہلی تک ڈرونز نے راج کیا، میزائل دفاعی نظام کو جکڑ لیا گیا اور فوجی اہداف کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔ دلچسپ واقعہ بتاتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ ایک جوان نے میزائل کی رینج کچھ بڑھادی تو اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ وہ بھی فوجی ہدف ہی پر جا کرلگا جب کہ پاکستان نے صرف ان 6 بھارتی طیاروں کو نشانہ بنایا جنہوں نے پاکستان پر میزائل فائرکیے تھے،لاک کیے جانے کے سبب اگر چاہتے تو 20 بھارتی طیارے مار گراتے مگر جنگ کےدوران اخلاقیات کا خیال رکھ کر مثال قائم کی گئی، یہ پانچ محاذوں پر جنگ تھی جن میں ہر محاذ پر ایک ساتھ اور مربوط انداز سے دشمن کو شکست دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کو توقع نہیں تھی کہ دہشتگردی اور عسکریت پسندی کا شکار پاکستان کچھ کرسکےگا، بھارت کے نزدیک ہماری فوج مختلف محاذوں پر پھنسی ہوئی تھی لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ ہمارا نظام کس قدر مربوط ہے اور ہم شہادت کو مومن کی معراج سمجھتے ہیں، مجھے ماردیا جائے تو میرا بیٹا محاذ پر کھڑا ہو کر وطن کے دفاع کے لیے آگے بڑھے گا، جنگ میں اللہ کا خاص کرم ہوا اور اس نے پاکستان کو اقوام عالم میں شناخت دی۔ فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ پاکستانی افواج کی اصل طاقت عوام ہیں جس نے اپنی فوج کا پوری طرح ساتھ دیا، جنگ کے موقع پر ہرطبقے کا ردعمل اس قدر منظم اور پرفیکٹ تھا کہ جیسے یہ اسکرپٹڈ رسپانس ہو۔آرمی چیف نے بھارت کے خلاف فتح کا کریڈٹ لینے سے گریز کیا اور فتح مکہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بنیان مرصوص کی کامیابی کو معجزہ قرار دیا۔
مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں امریکی صدر کے کردار پر بات کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 13 بار کشمیر پر بات کی ہےاور جلد دنیا دیکھے گی کہ کئی اہم چیزیں رونما ہوں گی، بھارت سے دہشتگردی پر بات ہوگی تو پھر 1971 کا بھی حوالہ سامنےآئے گا کہ کس طرح بھارت نے مکتی باہنی بناکر دہشتگردی کی تھی۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ امریکا، یوکرین سے محض 400 سے 500 ارب ڈالر کے معدنی دھاتوں کا معاہدہ کرنا چاہتا ہے، پاکستان نے کہا ہے کہ ہمارے پاس ایک کھرب ڈالر کے ایسے ذخائر موجود ہیں، امریکا اگر سرمایہ کاری کرے تو ہر سال 10 سے 15 ارب ڈالر کا فائدہ حاصل کرسکتا ہے اور یہ سلسلہ 100 سال تک جاری رہے گا،پاکستان چاہتا ہے کہ دھاتوں کی پراسسینگ پاکستان میں ہو تاکہ روزگار کے مواقع بڑھیں۔
انہوں نے کہا کہ اگلے 5 برسوں میں پاکستان تیزی سے ترقی کرے گا اور قیام پاکستان کے صد سالہ جشن یعنی 2047 میں اللہ نے چاہا تو یہ ملک جی 10 کا حصہ بن چکا ہوگا۔ انہوں نے اس دور کا حوالہ دیا کہ جب مال روڈ پر اہل تشیع کا جلوس نکلتا تھا تو اہل سنت سبیلیں لگاتے تھے، وہ دور بھی تھا کہ جب لاہور میں ہپی ڈانس کیا کرتے تھے۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ ہمیں نیا یا پرانا نہیں، ہمیں ہمارا پاکستان چاہیے۔
پاکستان زندہ باد پاک فوج پائندہ باد
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…