حافظ محمد عبداللہ شیخوپوری رحمہ اللہ کی تبلیغی سرگرمیوں سے متعلق ایک ایمان افروز واقعہ اس سے پہلے قارئین کی نذر کیا تھا۔
آج ایک دوسرا واقعہ جو اس سے بھی زیادہ دلپذیر ہے پیش خدمت کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں یہ واقعہ پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور بے ساختہ دل سے حضرت حافظ صاحب کے لیے دعائیں نکلتی ہیں کہ کس طرح کٹھن حالات میں ہمارے اسلاف نے محنت کر کے دنیاوی حرص اور لالچ سے بے نیاز ہو کر، لومۃ لائم کی پرواہ کیے بغیر، اپنی جان کو داؤ پر لگا کرقرآن و حدیث کا پیغام دور دراز کی بستیوں تک پہنچایا۔
آئیے !حافظ صاحب رحمہ اللہ کی زبانی بیان کیا ہوا ایمان افروز واقعہ پڑھیں اور اپنے ایمان کو تازگی بخشیں اور اگرکوشش اچھی لگے تو حافظ صاحب رحمہ اللہ اور بندۂ ناچیز کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیے۔
یہ 1994ء کی بات ہے ہے کہ وہاڑی میں ایک دوست حکیم عمران ارشد رحمہ اللہ کے ہمراہ قاری ادریس صاحب کی رہائش پر حافظ محمد عبداللہ رحمہ اللہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا قاری محمد حنیف ربانی صاحب حافظ محمد عبداللہ صاحب کے ساتھ تھے اور وہ میدان خطابت میں ابھی نئے نئے داخل ہوئے تھے حضرت علامہ شہید اور یزدانی شہید رحمہ اللہ کی شہادت کے بعد جماعت کی تبلیغی سرگرمیوں کا تذکرہ چل نکلا تو باتوں باتوں میں حافظ صاحب فرمانے لگے کہ’’ ایک مرتبہ ایک متوسط درجہ کا دیہاتی نماز جمعہ کے بعد میرے پاس آیا اور بڑے لجاجت دار لہجے میں اپنی جانگلی سی بولی میں کہنے لگا کہ حافظ صاحب میں اپنے گاؤں میں آپ کا وعظ کروانا چاہتا ہوں میں نے اس کی محبت اور آنکھوں کی چمک دیکھ کر حامی بھر لی اور ڈائری دیکھ کر اسے تاریخ لکھ کر دے دی۔
مقررہ تاریخ کے دن وہ خود مجھے لینے شیخوپورہ آگیا میں بھی تیار تھا چائے کے بعد ہم شیخوپورہ سے روانہ ہوگئے کافی سفر کے بعد اس کے گاؤں میں پہنچے۔اپنے گاؤں میں اس نے میرے وعظ کے متعلق مشہور کر رکھا تھا ہم گاؤں میں داخل ہوئے تو میں نے محسوس کیا کہ گاؤں کے لوگ عجیب سی نگاہوں سے مجھے دیکھ رہے ہیں کوئی جوش و جذبہ سرگرمی اور سلام دعا کی چیز نہیں ہے۔ اس کے گھر جو درمیانہ قسم کا تھا کھانا کھاتے وقت میں نے پوچھا:’’ بھائی صاحب کوئی جماعتی ساتھی وغیرہ نظر نہیں آرہا کیا وجہ ہے‘‘؟ اپنے مخصوص دیہاتی لہجے میں بولا: حافظ جی میں معذرت خواہ ہوں کہ پہلے آپ کے گوش گزار نہ کر سکا اس ڈر سے کہ شاید آپ میرے ساتھ آنے کو تیار نہ ہوں۔میں نے تجسس آمیز لہجہ میں پوچھا بھائی صاحب بات کیا ہے کہنے لگا حافظ جی دراصل بات یہ ہے کہ اس گاؤں میں میرے علاوہ کوئی اور فرد اہل حدیث نہیں ہے میں نے کہا تو پھر اردگرد کے دیہات میں تو اہل حدیث ہوں گے ان کو اپنے پروگرام کے متعلق بتانا تھا۔ کہنے لگا اردگرد کے دیہاتوں میں مجھے اچھی طرح معلوم نہیں کہ کون کون سے لوگ اہل حدیث ہیں اور شاید وہ نہ آتے۔تو میں نے پوچھا کہ وہ کیوں نہ آتے اور پھر مجھے یہاں کس مقصد کے لیے بلایا ہے؟ وہ کہنے لگا کہ اس گاؤں کے لوگ بڑے جاھل، اکھڑ اور پیر پرست ہیں اور آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ آپ میرے بال بچوں کو ہی اپنا وعظ سنا کر اہل حدیث بنا دیں۔
حافظ صاحب فرمانے لگے میں نے اس سے کہا کہ اور بات ہو تو وہ بھی بتا دے وہ کہنے لگا حافظ جی اور بات یہ ہے کہ گاؤں کے مولوی نے گاؤں کے لوگوں کو بھڑکایا ہوا ہے کہ آج گاؤں میں ایک وہابی آرہا ہے جو گستاخ رسول اور اولیاء کا بے ادب ہے اس وجہ سے شاید کوئی بات نہ ہو جائے لیکن آپ بالکل نہ گھبرائیں آپ کا وعظ اندر صحن میں ہوگا آواز بھی باہر نہ جائے گی اگر کوئی ایسی ویسی بات ہوئی بھی تو یہ میرے ہی گاؤں والے ہیں میں ان سے نپٹ لوں گا۔
حافظ صاحب فرمانے لگے میں چند لمحے سوچنے کے بعد اسے کہا ہاں بھائی صاحب آپ یہ بتائیں کہ آپ کے پاس ٹیپ ریکارڈر اور مائیک ہے جس میں میں بولوں تو میری آواز دور دور تک جائے وہ بولا حافظ جی!
ٹیپ ریکارڈر تو میرے پاس ہے مائیک نہیں ہے البتہ گاؤں میں ایک سائیکل پر سودا بیچنے والے سے چھوٹا سا سپیکر اور بیٹری عاریتاً مانگ کر لا سکتا ہوں۔میں نے کہا اس کا جلد بندوبست کرو اور اسے لا کر مکان کی چھت پر نصب کر دو میں وعظ صحن میں نہیں بلکہ مکان کی چھت پر کھڑے ہو کر کروں گا وہ آدمی بھی دلیر تھا میرے اس عزم بالجزم سے اور دلیر اور پُرجوش ہو گیا تھوڑی دیر بعد انتظام کر کے وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ حافظ جی عشاء کی نماز پڑھ لیں وقت ہوا چاہتا ہے میں نے اسے کہا کہ اوپر جاکر سپیکر میں اعلان کردیں کہ عشاء کی نماز کے فوری بعد جلسہ ہوگا تمام گاؤں والوں کو شان رسول ﷺاور شان اولیاء اللہ سننے کی دعوت دی جاتی ہے میرے کہنے کے مطابق اس نے سپیکر میں بڑی بے باکی سے اعلان کردیا نماز عشاء کے بعد گھر کی مستورات کو صحن میں بٹھایا اور اس کے چھوٹے بڑے بچوں کو لے کر ہم دونوں چھت پر آگئے میں نے مائک ہاتھ میں لیا اور خود دوبارہ جلسہ اور موضوع کا اعلان کر کے چھت کے اوپر مکان کی گلی کی طرف جو دیہاتی ماحول کے مطابق کافی کشادہ تھی کھڑے ہو کر وعظ کرنا شروع کر دیا۔میرے خطاب شروع کرنے کے ساتھ ہی چند سیدھے سادے دیہاتی اور چند کھلنڈرے چھت کے قریب گلی میں کھڑے ہو کر میرا وعظ سننے لگے آہستہ آہستہ اور لوگ بھی آنے شروع ہوگئے تھوڑی ہی دیر بعد تقریبا پندرہ آدمی اسلحہ بردار آگئے اور آ کر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کھڑے ہو گئے چاند کی چاندنی میں مکان کی چھت کا سٹیج اور نیچے گلی میں ہتھیاروں سے لیس سامعین عجیب سماں تھا۔
ایسا منظر دیکھ کر مجھ میں توحید کا مبلغانہ شوق عود کرآیا اور میرا میزبان جو گاؤں میں تنہا اہل حدیث تھا کچھ خوفزدہ سا ہو گیا میں نے توفیق الہی سے پرجوش آواز میں قرآن پڑھ کر ’’شان رسول ﷺ‘‘ بیان کرنا شروع کی کوئی آدھ گھنٹہ گذرا تو فضا میں لہراتے ہوئے اسلحہ کے منہ نیچے ہونے شروع ہو گئے پھر کیا تھا اللہ تعالی کے فضل سے میں بول بول کر قرآن و حدیث پڑھتا اور بڑے ادب و احترام سے پیارے رسول ﷺکا نام مبارک لے کر درود شریف پڑھتا تھوڑی دیر پہلے جو لوگ اس انتظار میں کھڑے تھے کہ کب اس وہابی کے منہ سے سے گستاخی کا کلمہ نکلے اور تڑاخ سے ہم فائر کھولیں وہ بڑے ہی ادب سے اب مؤدب ہو کر نیچے بیٹھنا شروع ہو گئے کوئی ایک گھنٹہ شان رسول ﷺبیان کرنے کے بعد میں نے کہا کہ آج آپ نے شان مصطفی ﷺکو سنا ہے اگر دوبارہ آپ نے کسی وقت دعوت دینا پسند کی تو پھر شان اولیاء اللہ آپ کو سناؤں گا اور آپ حضرات کے ایمان کو گرماؤں گا اور بتاؤں گا کہ سچے اولیاء کی شان کتنی بلند ہے اور جو اس کو نہ مانے اس کی اللہ کے رسول کے ساتھ جنگ ہے یہ سن کر وہی لوگ جو اسلحہ اٹھائے آئے تھے اپنی جھکی نگاہوں سے ملتجی ہوئے کہ حضرت صاحب! ہم کو غلط بتایا گیا تھا شانِ مصطفیٰ سنا کر آپ نے ہمارے سینوں میں ٹھنڈک پیدا کر دی ہے مہربانی فرما کر اپنے وعدہ کے مطابق شان اولیاء اللہ بھی آج ہی سنائیں۔
حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے ’’پھر ایک گھنٹہ میں نے اولیاء اللہ کی شان اور ان کے اوصاف خوب بیان کیے میں نے اپنا وعظ ختم کیا تو کئی لوگ بے ساختہ چھت پر چڑھ آئے اور آکر میرے ہاتھ چوم کر اپنی آنکھوں کو لگانے کی کوشش کرنے لگے اور اب اللہ کے فضل سے اس گاؤں میں اچھی خاصی تعداد اہل حدیث کی ہے‘‘
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
یہ مضمون اپنے بزرگ فضیلۃ الشیخ مولانا محمد ادریس ظفر حفظہ اللٌٰہ آف چوک اعظم کی شفقت سے انکی لائبریری سے ہفت روزہ اہلحدیث کی پرانی فائل میں سے نقل کیا گیا ہے۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…