جامعہ ابی بکر الاسلامیہ ملک عزیز کے دینی مدارس و جامعات میں ممتاز حیثیت رکھنے والا ادارہ ہے ۔ وللہ الحمد جس کا فیض علمی چہار دانگ عالم میں پھیلا ہوا ہے اور اس سےجلا پانے والے خوش نصیب چراغ معاشرے میں پھیلی ظلمت کو دور کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ كثر الله أمثالهم انہی فیض یافتگان کے ساتھ چوتھے سالانہ اجتماع کا شاندار انعقاد کیا گیا جس میں 1980 تا 1995 کے دورانیہ میں زیر تعلیم رہنے والے طلبہ شریک ہوئے پروگرام کے کامیاب انعقاداور مہمانوں کے شایان شان استقبال کے لیے مدیر الجامعہ حافظ عبید اللہ حفظہ اللہ کی ہدایت پر ایک اعلی سطحی انتظامی کمیٹی کی تشکیل کی گئی جن میں ڈاکٹر مقبول احمد مکی، ڈاکٹر محمد حسین لکھوی،ڈاکٹر افتخار احمد شاہد، ڈاکٹر فضل الرحمن اور خالد حسین گورایااور جس کی سربراہی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر محمدطاہر آصف نائب مدیر الجامعہ کے سپرد کی گئی انتظامی کمیٹی نے متعدد مشاورتی اجلاس منعقد کر کے پروگرام کی جزئیات پہ مشاورت کی اور متفقہ معاملات کو حتمی شکل دی گئی تاکہ اس پروگرام کو یادگار بنایا جا سکے۔پروگرام کا باقاعدہ آغاز مورخہ ۲۴ اکتوبر بروز جمعہ بعد از نماز عشاء ہوا جس میں حضرت الشیخ الحافظ مسعود عالم حفظہ اللہ نے حاضرین کو مختصر نصائح سےنوازا اور قدیم طلبہ کی پروگرام میں دورد راز کے سفر طے کر کے پہنچنے پہ تحسین فرمائی اور جملہ حاضرین کو شرعی علم کی ضرورت و اہمیت اور اس سے وابستگی پہ استقامت کی تلقین کی انہوں نے قرآنی آیات اور احادیث شریفہ کی روشنی میں علم شرعی میں تفقہَ ،گہری بصیرت اور زمانے کی نبض شناسی پہ سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ جزاہ اللہ خیرا
25اکتوبر2025ء بروز ہفتہ
بروز ہفتہ جملہ حاضرین کے لیے جامعہ کے مطعم میں پرتکلف ناشتے کا اہتمام کیا گیا جس میں تمام سابقہ طلباء کرام نے روایتی طریقہ میں لائن میں لگ کر اپنا اپنا ناشتہ وصول کیا دوران ناشتہ حضرۃالشیخ الحافظ عبید اللہ مدیر الجامعہ بطور خاص لندن سے رخت سفر باندھ کر اس پروگرام میں شریک ہوئے پروگرام کا اگلا سیشن الحرمین کمپلیکس واقع سپر ہائی وے کراچی میں ہونا تھا اس لیے شرکاء کرام نظم و ضبط کے ساتھ بسوں میں سوار ہو کر الحرمین کمپلیکس کے وسیع اور شاندار مسجد جو کہ ’’النور‘‘ کے نام سے موسوم ہے کی پُرشکوہ، دیدہزیب، خوشنما اور جمالیاتی ذوق کو تسکین بخشتی عمارت میں کشاں کشاں چلے آئے،یہاں پر منعقد سیشن کی نظامت کے فرائض جامعہ ابی بکر کے سینئر اساتذہ کرام محترم الشیخ ابو زبیر محمد حسین رشید اور فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر شاہ فیض الابرار نے بخوبی سرانجام دئیے جبکہ اس خصوصی نشست کی صدارت فضیلۃالشیخ الحافظ مسعود عالم (رئیس جامعہ ابی بکر) نے فرمائی دیگر مہمان علماء کرام میں الشیخ ڈاکٹر خلیل الرحمن لکھوی صاحب (سابقہ مدیرالتعلیم )،الشیخ ڈاکٹر حماد لکھوی (پنجاب یونیورسٹی لاہور)، الشیخ عمر فاروق السعیدی (سابقہ مدیرالتعلیم) نمایاں تھے۔
پروگرام کا باقاعدہ آغاز کلام الہی کی تلاوت سے ہوا جس کی سعادت حافظ عبید اللہ حفظہ اللہ مدیر الجامعہ کے حصے میں آئی انہوں نے فضیلۃ شیخ عمر فاروق السعیدی حفظ اللہ کے ایماء پہ سورہ نور کی آیات تلاوت فرمائیںجس کے مفاہیم میں پروگرام سے گہری مناسبت پنہاں تھی تلاوت قرآن مجید کے بعد نظم کے لیے محترم جناب نوید ظفر صاحب (فنانس سیکرٹری جامعہ ابی بکر) کو دی گئی انہوں نے معروف حدیث
کو منظوم کلام میں پیش کیا ان کی آواز کے زیرو بم اور حسن ادائیگی سے اس محفل میں سماں بندھ گیا۔
نظم کے بعد خطبہ استقبالیہ کے لیے فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر محمدطاہرٓاصف حفظہ اللہ نائب مدیر الجامعہ کو دعوت سخن دی گئی انہوں نے اپنی معروضات کی ابتداء سیدنا معاذ بن جبل tسے مروی معروف قدسی حدیث
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالی فرماتا ہے: میری عظمت وجلال کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت رکھنے والوں کے لیے (روزِ قیامت) نور سے بنے منبر پہ ہوں گے ۔
انہوں نے ایمان کی بنیاد پہ وجود میں آنے والے تعلق کی اہمیت و فضیلت بیان کی اور جملہ حاضرین کا تہہ دل سے شکر ادا کرتے ہوئے میر کارواں الشیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمه الله کی مساعی جمیلہ اور جامعہ کے شاندار ماضی کو زیر بحث لاتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح کراچی منی پاکستان کہلاتا ہے اسی طرح شیخ ظفراللہ رحمہ اللہ کے دور میں جامعہ منی ورلڈ کا منظر پیش کیا کرتا تھا کہ اس چشمہ صافی سے اپنی علمی پیاس کو بجھانے کے لیے طلاب علم اطرافِ عالم سے وفور شوق سے امنڈے چلے آتے تھے اور بانی جامعہ نے ان اصحاب صفہ کےروحانی ورثا ءکی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا تھا اسی دوران ڈاکٹر صاحب نے جامعہ ابی بکر کے معمار ثانی اَلْوَلَدُ سِرُّ أَبِيْهِ کی حقیقی مصداق شخصیت الشیخ ضیاء الرحمان المدنی رحمه الله شہید کی تگ ودو کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور فرمایا کہ ہمارے شیخ خلیل الرحمن لکھوی حفظ اللہ بارہا اس حقیقت کا اظہار کر چکے ہیں کہ شیخ ضیا ءنے اپنے والد کے بعد جامعہ کی خدمت میں کمی نہیں آنے دی اسی دوران انہوں نے اسٹیج پہ تشریف لانے والے معزز مہمان حاجی محمد سلیم حفظه الله آف گجرانوالہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پیرانہ سالی کے باوجود اتنا طویل سفر اختیار کر کے اس پروگرام کو رونق بخشی سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے شرکائے مجلس کو اپنے روحانی مرکز سے تعلق کو استوار رکھنے کے ساتھ ساتھ اس میں مضبوطی لانے کی استدعا کی اور اس پروگرام کی غرض و غایت اور اہداف و مقاصد سے آگاہ کیا۔
خطبہ استقبالیہ کے بعد فضیلۃ الشیخ محمد شریف (مفتی الجامعہ) نے عربی زبان میں منظوم سپاس نامہ پیش کیا اس کے بعد فضیلۃ الشیخ عمر فاروق السعیدی حفظ اللہ نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے حاضرین کو جملہ اعمال میں اخلاص کو پیش نظر رکھنے اور دنیاوی آلائشوں سے بچاؤ کی تلقین کی اور قصہ ہاروت و ماروت کے تذکرے میں کہا کہ دنیا کی مثال اس نہر جیسی ہے جس سے پانی پینے سے روکا گیا تھا لیکن اکثریت نے اس ممنوعہ نہر سے سیراب ہو کر پی لیا دنیا کی رونق اور اس کی مستیاں بھی اس نہر جیسی ہیں ان سے اپنے آپ کو بچا کر رکھیں آخر میں انہوں نے اپنے سابقہ طلبہ سے دوران تدریس سرزد ہونے والی غلطیوں پہ معافی مانگی اور روز قیامت اسی طرح جنتوں میں اکٹھے ہونے کی دعا کے ساتھ اپنی گفتگو کو ختم کیا ۔
حافظ عبدالستار عاصم حفظه الله آف برطانیہ
الشیخ عبدالستار عاصم حفظہ اللہ اس اجتماع کے کوارڈینیٹر اور روح رواں تھے ان کی تحریک سے ہی گزشتہ تین پروگرام کامیابی کے ساتھ انعقاد پذیر ہوئے انہوں نے اپنی گفتگو میں اس گلدستہ کے تمام پھولوں کو ہدیہ سلام پیش کیا گزشتہ ہونے والے پروگرامز کا پس منظر اور اس کے ابتدائی اجلاس کی کارروائی سے حاضرین کو آگاہ کیا انہوں نے مشارکین کو اپنی مادری علمی کے ساتھ بھرپور مالی تعاون کی تلقین کی اور جامعہ کے جو اخلاقی حقوق ہیں ان کی ادائیگی کی طرف بھرپور طریقے سے توجہ دلائی۔
پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی حفظہ اللہ
ڈاکٹر حماد لکھوی خانوادہ لکھویہ کی عظیم الشان شخصیت ہیں وہ ابتدائی دور میں مختصر عرصہ کے لیے جامعہ میں زیر تعلیم رہے ہیں انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے حاضرین کو ہر حال میں اخلاص کی فکر کرنے کی تلقین کی ،اس پروگرام کو تجدیدِ عہد اور عزم نو کے لیے معاون قرار دیا کہ اس پروگرام سے یقینا سابقہ طلبہ اپنے مادر علمی کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کریں گے انہوں نے حاضرین کو ہر دینی کاوش کا کریڈٹ لینے والے منفی جذبات سے اپنے آپ کو دور رکھنے کی نصیحت کی کہ ہر کام کے دوران ’’میں میں‘‘ کی رٹ لگانا ریاکاری ہے اس سے بچنے کی انتہائی ضرورت ہے۔
مرنے سے پہلے اپنی ا نانیت کو دفن کرنا سیکھیں اس سے دینی خدمات میں وسعت اور برکت پیدا ہوگی انہوں نے حاضرین مجلس کو جدید دور کے چیلنجز کا ادراک رکھنے اور ان سے نبٹنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو وقف کرنے پر زور دیا اور فرمایا کہ معاشرے کی نبض پہ ہاتھ رکھ کر اس کے تقاضوں کے مطابق دعوت دین کا کام کریں ۔
حافظ عبدالوحید صاحب حفظہ اللہ ( آف ریاض)
حافظ عبدالوحیدحفظہ اللہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں ٓاپ تدریس کے ساتھ ساتھ جامعہ میں جہری نمازوں کی امامت کی ذمہ داری بھی بطریق احسن ادا کیا کرتےتھے وہ اس پروگرام میں شرکت کے لیے ریاض سے تشریف لائے اپنی معروضات پیش کرتے انہوں نے اس امر کا اظہار کیا کہ اسٹیج پہ موجود اساطین علم کی موجودگی میں کچھ کہنے کی دعوت دینا باعث تعجب ہے بہرحال رب تعالی سے امید ہے کہ بفحوائے حدیث
وہ اپنی محبت اور رحمت سے ہمیں نواز دے ۔آج کے پروگرام میں طلبہ کی دوردراز سے سفر کی صعوبتوں کو برداشت کر کے شریک ہونا بانی جامعہ شیخ ظفراللہ کے اخلاص کی بیّن دلیل ہے باری تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس گلشن کو تا قیامت سرسبز و شاداب رکھے اور موجودہ قیادت کو بھی توفیق الٰہی حاصل ہو کہ وہ اس کی آبیاری کا حق ادا کرتے رہیں۔
الشیخ ابراہیم طارق حفظہ اللہ
شیر سندھ فضیلۃ الشیخ محمد ابراہیم طارق (ناظم اعلی مرکزی جمعیت صوبہ سندھ )نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں آج پرانے ساتھیوں سے ملاقات کی خوشی ہے وہاں پر فضیلۃ الشیخ ضیاء الرحمان رحمہ اللہ کے نہ ہونے کا غم بھی کھائے جا رہا ہے انہوں نے بانی جامعہ کے ساتھ اپنی وابستہ یادوں کا تذکرہ کیا اور حاضرین کو منہج اہل حدیث کی تبلیغ میں لفظ اہل حدیث کو زیادہ نمایاں کرنے کے پر زور دیا اور آخر میں انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں جمالِ مصطفی سے متعلق منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا۔
ا لشیخ ڈاکٹر محمد خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ
خاندان لکھویہ کی علمی روایات کے امین اور جامعہ ابی بکر کے اولین مدیر تعلیم فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر خلیل الرحمان لکھوی نے شرکاءمجلس کو نبوی فرامین کی روشنی میں درج ذیل امور سے متعلق خصوصیت نصیحت ارشاد فرمائی
کسی کو گالی مت دیں۔
کسی بھی نیکی کو حقیر ومعمولی نہ سمجھیں ۔
شلوار یا تہبند کو ہمیشہ آدھی پنڈیوں تک اونچا رکھنے کی کوشش کریں۔
کسی کی ذاتیات پہ حرف گیری سے اجتناب کریں ۔
یقینا ان امور کی پابندی آپ کی دعوتی سرگرمیوں میں انتہائی معاون ثابت ہوگی
ہمیں ہمیشہ جامعہ کے ساتھ تعاون کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے اس جامعہ کی تعمیر و ترقی ا لشیخ ظفراللہ کے خاندان کا ہم پر قرض ہے ہمیں اس قرض کی ادائیگی میں سستی سے اجتناب کرنا ہوگا ۔
الشیخ خلیل الرحمن کی گفتگوکے بعد فضیلۃ الشیخ یوسف ضیا ء حفظہ اللہ آف صادق آباد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا جس کے ساتھ ہی نماز ظہر کا وقفہ کیا گیا نماز کی ادائیگی کے بعد اگلی نشست کا باقاعدہ آغاز کلام حمید سے کیا گیا جناب حافظ عبدالوحید صاحب نے سورت بنی اسرائیل کی آیات تلاوت فرمائی جبکہ نظم کے لیے محترم نوید ظفر حفظہ اللہ (فنانس سیکرٹری جامعہ ابی بکر )کو دعوت سخن دی گئی انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں
یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گر مادے جو روح کو تڑپا دے
پیش کی جسے حاضرین نے از حد پسند کیا نظم کے بعد شرکا ءسے نظام جامعہ میں بہتری کے حوالے سے تجاویز و آراء طلب کی گئی جس میں حاضرین نے خصوصی دلچسپی لے کر گراں قدر آراء کا اظہار کیا اور فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر محمد طاہر آصف حفظہ اللہ نے ان تجاویز کو نوٹ کرکے عمل پیراہونے کی یقین دہانی کروائی۔
الشیخ مسعود عالم حفظہ اللہ
اس کے بعد مجلس کے صدر نشیں فضیلۃ الشیخ الحافظ مسعود عالم حفظہ اللہ کو کلیدی خطاب کے لیے دعوت سخن دی گئی انہوں نے حاضرین مجلس کو ہدایت ربانیہ اور فرامین محمدیہ کی روشنی میں انتہائی قیمتی پندونصائح سے نوازا جن میں سے چند ایک اہم امور حاضر خدمت ہیں ۔
رئیس جامعہ کی بصیرت افروز اور پر حکمت گفتگو کے بعد مدیر الجامعہ فضیلۃ الشیخ عبید اللہ کو کلمات تشکر کی دعوت دی گئی جنہوں نے اس پروگرام کو رونق بخشنے والے جملہ مشارکین کا عموما اور مشائخ عظام کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور جامعہ کے احوال حاضرین کے سامنے رکھے اور فضیلۃ الشیخ ضیاالرحمن المدنی رحمہ اللہ کی ظالمانہ شہادت کے بعد پیدا ہونے والی مشکلات اور مسائل کا تفصیلی تذکرہ کرنے کے ساتھ ساتھ آئندہ کے اہداف سے بھی آگاہی دی انہوں نے الحرمین کمپلیکس میں گزشتہ چھ ماہ میں ہونے والی تعمیراتی سرگرمیوں سے متعلق سیر حاصل گفتگو فرمائی اور مستقبل قریب میں الحرمین کمپلیکس میں شروع ہونے والے تعلیمی اور تربیتی منصوبہ جات کا اعلان کیا ہے جس سے حاضرین میں مسرت و شادمانی کی لہر دوڑ گئی ۔مدیر الجامعہ کے کلمات تشکر کے ساتھ ہی حاضرین کے لیے پُرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا گیا تھا حاضرین کو باوقار طریقے سے انواع واقسام کے کھانے پیش کیے گئےظہرانے کے بعد شام ساڑھے چار بجے تک آرام کا وقفہ تھا وہ وقفہ کے فورا بعد اگلی نشست کا آغاز اجتماع گاہ میں ہوا جس میں تلاوت قرآن مجید کی سعادت حافظ عبدالوحید قصوری حفظہ اللہ کے حصے میں آئی تلاوت کے بعد جملہ مشارکین کرام، اساتذہ جامعہ اور حرمین کمپلیکس میں مصروف کار احباب کے لیے تحائف کی تقسیم فضیلۃ الشیخ مسعود عالم حفظ اللہ کے دست مبارک سے عمل میں لائی گئی اس دوران نماز مغرب کا وقفہ ہوا نماز مغرب کے بعد مسجد النور سے متصل گراسی پلاٹ میں فرشی نشستوں کا انتظام کیا گیا تھا جہاں پر احباب کی خدمت میں مختلف قسم کے لذیذ پھل پیش کیے گئے اور اس کے ساتھ ساتھ حاضرین اپنی ماضی کی یادوں کو تازہ کرتے رہے جبکہ الشیخ ابراہیم طارق، الشیخ عبدالستار عاصم اور دیگر احباب اپنے مخصوص انداز میں توحید رب العالمین، سیرت مصطفی اور دیگر مذہبی موضوعات سے متعلق منظوم کلام سناتے رہے جس سے حاضرین نے خوب حظ اٹھایا اسی دوران عشائیے کے انتظامات مکمل ہو چکے تھے حاضرین کی تواضع کے لیے مختلف قسم کے مطعومات و مشروبات کا انتظام کیا گیا تھا مشارکین لَذّتِ کام و دَہَن کے بعد خوبصورت اور ان مٹ یادوں کے نقوش لیے اپنی اپنی منزلوں پہ روانہ ہوئے رب العزت اس پروگرام کے حاضرین ومنتظمین کو اپنی مرضیات سے نوازے آمین
یہ اجتماع فضلا ءکی پُرجوش، بھرپور اور وقار آفریں شرکت، اکابر کے نظریہ ساز، رہنما اور ولولہ انگیز بیانات، اور جامعہ کی انتظامیہ کے حسنِ انتظام، خوش سلیقگی اور دقّتِ تدبیر کے انمٹ نقوش چھوڑ گیا ۔ فالحمد لله ربّ العالمین!
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…