جان کر من جملۂ خاصانِ مے خانہ مجھے!
مدتوں رویا کریں گے جام وپیمانہ مجھے!
فی زمانہ ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں،ہر شخص خود کو غیر محفوظ تصور کرتا ہے۔ ملکی، معاشی، سیاسی حالات ودیگر مسائل وواقعات کی ابتری کے ساتھ ساتھ علمائے کرام کی ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے۔
12ستمبر 2023ء بروز منگل شب دس بجے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کے مدیر ومہتمم مولانا ضیاء الرحمن المدنی کو گولیاں برسا کر قتل کر دیا گیا۔ إنا للہ وإنا إلیه راجعون۔
یہ المناک واقعہ تھانہ شاہراہ فیصل کی حدود میں واقع گلستان جوہر بلاک 16، ایف بی آر کے دفتر کے قریب پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق چار مسلح موٹر سائیکل سوار ملزمان نے انھیں نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے بیک اپ میں مزید افراد بھی تھے۔ جائے وقوعہ سے دو مختلف ہتھیاروں کے گیارہ خول ملے۔ یہ ملزمان مولانا ضیاء الرحمن کو شدید زخمی کر کے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ انھیں قریبی ہسپتال دار الصحت پہنچایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی عمر صرف 46سال تھی۔
علماء کی شہادتوں کے غم میں یہی ایک زخم مندمل ہونے والا نہیں۔۔۔۔ شہادتوں کی یہ داستان بہت پرانی ہے۔
۱۹۸۷ء کو قلعہ لچھمن سنگھ لاہور میں سالانہ سیرت النبیﷺ کانفرنس میں بم پھٹنے سے اہلِ حدیث کا چمن اجڑ گیا۔ شہید ملت اسلامیہ مبلغ دین علامہ احسان الٰہی ظہیر، شیرِ ربانی مولانا حبیب الرحمن یزدانی، مورخ و محقق مولانا عبدالخالق قدوسی اور نوجوان قائد مولانا محمد خان نجیب سمیت متعدد لوگ اس حادثے میں شہید ہو کر حیاتِ جاودانی پا گئے۔رحمہم اﷲ تعالیٰ۔ قاتلوں کا سراغ آج تک نہ مل سکا۔ ۱۲؍ ستمبر ۱۹۹۹ء کو کراچی میں مولانا سعید احمد یوسف زئی رحمہ اللہ (ایڈیٹر: پندرہ روزہ ’’صحیفہ اہلِ حدیث‘‘) کو دن دیہاڑے گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔ مولانا محمد رفیق سلفی رحمہ اللہ (راہوالی) کے عالم فاضل بیٹے مولانا عتیق الرحمن رحمہ اللہ کو گوجرانوالہ میں شہید کیا گیا، قاتلوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ اسی طرح اوکاڑہ کے مولانا ثناء اللہ ڈوگر رحمہ اللہ کے قاتل کا آج تک پتا نہ چلایا جا سکا۔۔۔۔۔ ہم یہاں مسلک اہلِ حدیث کے کس کس شہید عالم دین کی مثال پیش کریں۔۔۔۔۔ لاہور میں مولانا محمد ابراہیم سلفی رحمہ اللہ کو دہشت گردوں نے ان کے گھر کی دہلیز پر شہید کر دیا۔ اسی لاہور میں حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید رحمہ اللہ کے سابق سیکرٹری اور نامور عربی عالم مولانا عطاء الرحمن ثاقب رحمہ اللہ پر گولیاں برسا کر شہید کر دیا گیا تھا، قاتل آج تک نامعلوم۔ ملتِ اسلامیہ کے عظیم سپوت ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ کو مہمانوں کے روپ میں آنے والے دو دہشت گردوں نے اسلام آباد گھر کے اندر گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔۔۔۔
شیخ الحدیث مولانا عبدالحمید رحمتی رحمہ اللہ پر پشاور میں ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی، قاتل آج تک گرفتار نہیں کیے گئے۔
یہ علمائے حق کی شہادتوں کے قصے ہیں،لکھا جائے تو جگر پھٹ جائے۔ یہ ایسی شاہکار شخصیات تھیں، جن سے لوگ اپنی علمی پیاس بجھایا کرتے تھے،جن کا فیضانِ حدیث اپنی نورنکہت بکھیرتا، جو منطق وفلسفہ کی گھتیاں سلجھاتے اور کتاب و سنت کی دعوت و تبلیغ کو عام کرتے تھے۔
قیامِ پاکستان سے لے کر تاحال درجنوں علمائے حدیث نامعلوم قاتلوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اقتدار کے مزے لوٹنے والے سیاسی بازی گروں نے کبھی اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کیں۔ علماء ہی وہ لوگ ہیں جن کے قاتل گرفتار نہیں ہوتے۔ اربابِ اقتدار سے تو امیدیں وابستہ کرنا ہی عبث اور بے کار ہے۔ کئی دفعہ یہ حقائق منظر عام پر آئے کہ راسخ الفکر علمائے کرام کے قتل میں ملوث وہ ممالک ہیں جو اصحابِ محمدe کے بارے میں بغض درونی رکھتے ہیں۔ اس طرح ریاست پاکستان کا ازلی دشمن بھارت بھی ملوث ہو سکتا ہے، کیونکہ پہلے بھی یہ شیعہ سنی فسادات میں ملوث رہا ہے۔ لیکن حکمرانوں نے علمائے حدیث کے قاتلوں کو تلاش کرنے اور انھیں انجام تک پہنچانے میں کبھی کوئی کردار ادا نہیں کیا، بلکہ ہر حکومت نے اسلام پسندوں کو دیوار سے لگانے کی پوری کوشش کی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ریاست کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے بجائے کسی بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اقتدار میں آتے ہیں۔ علمائے کرام کو تحفظ فراہم کرنا، کیا یہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری نہیں؟
مدتوں روتی رہیں گی بستیاں در بستیاں
روز کب پیدا ہوا کرتی ہیں ایسی ہستیاں
مولانا شہید رحمہ اللہ کا خاندانی پسِ منظر اور دینی خدمات:
سفینۂ برگِ گُل بنا لے گا قافلہ مُورِ ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہو گا
میں ظُلمتِ شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شررفشاں ہوگی آہ میری، نفَس مرا شعلہ بار ہو گا
مولانا ضیاء الرحمن شہید رحمہ اللہ ، ایک دینی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ ان کے والد، دادا اور پردادا مسلک اہلِ حدیث کے شیدائی اور فدائی تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ مولانا رحمہ اللہ کے دادا چوہدری عطاء اﷲ رحمہ اللہ کا اصلاحی وعلمی تعلق شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ (وفات: 1948ء) سے تھا۔ لیکن یہ تاریخی اعزاز کہیں رقم نہیں کیا گیا، مولانا ضیاء الرحمن شہید رحمہ اللہ کے والد گرامی پروفیسر ظفراللہ چوہدری رحمہ اللہ نے جامعہ محمدیہ اہلِ حدیث خان پور، ضلع رحیم یار خان کے ایک اجلاس میں اپنے خاندانی حالات سے پردہ اٹھاتے ہوئے اس تاریخی اعزاز کی نقاب کشائی فرمائی تھی۔ مولانا ضیاء مدنی رحمہ اللہ کے آباء کتاب وسنت کے سچے وارث، دین کی لگن واشاعت کا وافر جذبہ رکھتے تھے۔ اس کا اندازہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کے قیام و انصرام سے کیا جا سکتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جامعہ کا قیام اللہ تعالی کی مہربانی اور اس کے مخلص بندے حضرت مولانا صوفی محمد عبداللہ رحمہ اللہ کی پرخلوص دعاؤں اور پروفیسر صاحب رحمہ اللہ کی شب وروز کی جہود کے نتیجے میں وجود میں آیا۔
شیخ ضیاء الرحمن شہید رحمہ اللہ کے بزرگوں بالخصوص ان کے والد گرامی حضرت پروفیسر چوہدری ظفر اللہ رحمہ اللہ اور ان کے قائم کردہ ادارے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ اور ان کی چیدہ چیدہ خدمات کو جاننے کے لیے سطورِ ذیل کی یہ تحریر ملاحظہ فرمائیں:
’’متحدہ ہندوستان کے ضلع انبالہ اور اس کے گرد و نواح میں بہت سے مسلمان خاندان آباد تھے۔ اور اس علاقے سے بڑی بڑی مذہبی و سیاسی، علمی و ادبی اور نامور شخصیات نے جنم لیا۔ انبالہ کے ایک گائوں ملک پور میں چوہدری عطاء اللہ رحمہ اللہ سکونت پذیر تھے، وہ نہایت نیک اور دیندار انسان تھے، جماعت اہلِ حدیث سے ان کا تعلق تھا، مسلک اہلِ حدیث پر عمل پیرا تھے، ان کا شمار معروف اہلِ حدیث بزرگ حضرت صوفی محمد عبداللہ رحمہ اللہ کے ارادت مندوں میں ہوتا تھا۔
اگست ۱۹۴۷ء میں جب ملک تقسیم ہوا اور پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو جہاں دیگر بہت سے مسلمان خاندان مشرقی پنجاب کو چھوڑ کر پاکستان آئے ان میں چوہدری عطاء اللہ رحمہ اللہ بھی تھے۔ وہ پاکستان آکر سندھ کے ضلع نواب شاہ کے نواحی قصبے قاضی احمد میں قیام پذیر ہوئے۔
ان کے ایک صاحبزادے کا نام ظفراللہ تھا، جو ۲۰؍ مئی ۱۹۴۳ء کو موضع ملک پور تحصیل روپڑ ضلع انبالہ میں پیدا ہوئے۔ اس وقت ان کی عمر صرف چار سال تھی اور وہ عمر عزیز کی ابتدائی منزلوں سے گزر رہے تھے۔ چوہدری عطاء اللہ اپنے اس لخت جگر کو دینِ اسلام کی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرانا چاہتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے ظفر اللہ کو ابتدائی سکول کی تعلیم دلوانے کے بعد دینی تعلیم کے حصول کے لیے مکتب کی راہ دکھائی اور اپنے اس فرزند ارجمند کو لے کر حضرت صوفی عبداللہ رحمہ اللہ کی خدمت میں اوڈاں والا ماموں کانجن (ضلع فیصل آباد) حاضر ہوئے۔ صوفی عبداللہ رحمہ اللہ نے ۱۹۳۲ء میں اوڈاں والا میں ’’جامعہ تقویۃ الاسلام‘‘ کے نام سے دینی تعلیم کا ادارہ قائم کر رکھا تھا اور اس زمانے میں اس کی اچھی شہرت تھی۔ حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ نہایت تقوی شعار، نیک اور مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔ وہ طلبہ پر بڑی شفقت فرماتے اور ہر طرح سے ان کا خیال رکھتے تھے۔ انھوں نے چوہدری عطاء اللہ کے بیٹے کو بھی اپنے دارالعلوم میں داخل کر لیا۔ اب ظفر اللہ صاحب نے صوفی عبداللہ کے دارالعلوم میں رہ کر اساتذہ کرام سے حدیث و تفاسیر اور دیگر فنون کی کتب پڑھنا شروع کیں۔ پڑھائی میں بڑے ذہین تھے، ذہن ایسا پایا تھا جو پڑھتے ازبر ہو جاتا۔ صوفی عبداللہ صاحب رحمہ اللہ ان کا شوق، دینی تعلیم میں انہماک اور کامل توجہ دیکھ کر ان پر دستِ شفقت رکھتے اور سر پرستی فرماتے۔ جن دنوں ماموں کانجن میں جامعہ تعلیم الاسلام کی تعمیر شروع ہوئی، اس وقت چوہدری ظفراللہ دارالعلوم اوڈاں والا میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ پڑھائی کے اوقات سے فارغ ہو کر وہ دیگر طالب علموں کے ہمراہ ماموں کانجن آجاتے اور مزدوروں کے ساتھ مل کر سر پر گارا اٹھاتے، اینٹیں ڈھوتے اور جامعہ تعلیم الاسلام کی تعمیر میں اس طرح عملی طور پر حصہ لیتے۔ اس وقت ان کا شوق دیدنی تھا اور جذبہ بام عروج پر۔
چوہدری ظفر اللہ کے دینی جذبہ، تعلیمی شوق، خلوص، للہیت اور جامعہ تعلیم الاسلام کی تعمیر و ترقی کے لیے کارکردگی کو دیکھ کر ایک بار فرمایا تھا: ظفر اللہ! کیا میں تیرے لیے ایسی دعا نہ کروں کہ اللہ تعالیٰ دست غیب سے تیری ضرورت تجھے عطا فرماتا رہے۔
صوفی صاحب رحمہ اللہ کا فرمان سن کر ظفر اللہ نے عرض کی: حضرت! اس دعا کے بجائے میرے لیے ایسی دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی مجھے دین کی خدمت کا کوئی بہت بڑا موقع عطا فرمائے۔
چنانچہ صوفی صاحب رحمہ اللہ نے عجز و عاجزی کے ساتھ اللہ سے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے دعا اس طرح قبول فرمائی کہ انھوں نے ماموں کانجن سے دینیات کے علومِ متداولہ سے فراغت کے بعد بی اے کیا اور پھر کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات کا امتحان پاس کیا اور پھر اسی یونیورسٹی میں لیکچرار مقرر کر لیے گئے، یہاں تک کہ اسی یونیورسٹی کے صدر شعبہ اسلامیات ہو گئے۔‘‘ (صوفی محمد عبداللہ رحمہ اللہ ، از: مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ ، ص: ۲۹۲)
پروفیسر ظفر اللہ چوہدری نے دورانِ تعلیم حضرت صوفی عبداللہ صاحب رحمہ اللہ سے جس بڑی دینی خدمت کے لیے دعا کا کہا تھا، اب اسے انھوں نے عملی جامہ پہنانے کی ابتداء کی، حالات بھی ان کے حق میں ساز گار ثابت ہوئے۔ لہٰذا انہوں نے ۱۹۷۸ء میں کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے لیے جگہ خریدی اور پھر اس کی تعمیر و ترقی میں دن رات مشغول رہے۔ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں تعلیم وتدریس کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد پروفیسر ظفر اللہ چوہدری رحمہ اللہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی جامعہ امام محمد بن سعود رحمہ اللہ میں داخل ہو گئے۔ وہاں آپ تقریباً پانچ سال زیرِ تعلیم رہے اور عربی ادبیات میں تعلیم حاصل کی۔ جامعہ امام محمد بن سعود رحمہ اللہ میں رہ کر آپ نے وہاں کے نظام تعلیم کا بغور جائزہ لیا۔ اورپھر ریاض اور سعودی عرب کے بہت سے ماہرین تعلیم سے مشاورت کے بعد جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کو مثالی جامعہ بنانے کے لیے نہایت عمدہ نصاب تعلیم مرتب کیا۔ تاکہ جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کی انفرادیت قائم ہو۔ اس ضمن میں جامعہ ابی بکر میں ذریعہ تعلیم عربی قرار دیا گیا۔
تعلیم و تدریس کے لیے جامعہ ام القری مکہ مکرمہ، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، جامعہ امام محمد بن سعود ریاض، جامعہ ازہر مصر، جامعہ خرطوم سوڈان، جامعہ بغداد عراق اور جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی سے نہایت اعلی پائے کے استاد لیے گئے۔
جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں داخلے کے لیے ایک معیار مقرر کرکے نہایت ذکی و فطین طلبہ کو داخلہ دیا گیا۔ جامعہ ابی بکر میں ملکی اور غیر ملکی طلبہ نے تعلیم حاصل کی اور وہ دعوت دینے کے لیے اس وقت دنیا کے کئی ایک ممالک میں خدمت دین کا فریضہ ادا کر رہے ہیں۔
بلاشبہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی جماعت اہلِ حدیث پاکستان کے جامعات میں انفرادیت کا حامل دینی ادارہ ہے۔ پروفیسر ظفر اللہ چوہدری رحمہ اللہ نے خون جگر سے اس کی آبیاری کی اور آج ان کا لگایا ہوا یہ پودا تناور درخت بن چکا ہے۔ اس میں قرآن و حدیث کی تدریس کا اہتمام ہے۔ توحید و سنت کی تعلیم دی جاتی ہے، عقیدۂ سلف صالحین کا دفاع کیا جاتا ہے، محدثینِ عظام کے کارناموں کو اجاگر کیا جاتا ہے اور اسلامی اصولوں پر طلبہ کی تعلیم و تربیت کی جاتی ہے۔
پروفیسر ظفر اللہ مرحوم کا قائم کردہ یہ ادارہ بہت سی خصوصیات کا حامل ہے۔ پروفیسر ظفراللہ کی زندگی وفا کرتی تو وہ اپنے اس گلشن کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔ اللہ تعالی نے چوہدری ظفر اللہ مرحوم کو بہت سے اعزازات اور خو بیوں سے نوازا تھا۔ وہ بڑے نیک، متقی، تقوی شعار، طلبہ کے ہمدرد، غم گسار اور دینی تڑپ رکھنے والے انسان تھے۔ ان کی زندگی اسلام کی اشاعت، دینی تعلیم کے فروغ اور درس و تدریس میں بسر ہوئی۔
۳۰؍ جون ۱۹۹۷ء کو پروفیسر ظفراللہ چوہدری اپنی گاڑی سے بذریعہ روڈ لاہور سے کراچی جا رہے تھے۔ ان کے ہمراہ ان کے دو بیٹے ایک بھانجا اور خالہ تھیں۔ رحیم یار خان کے قریب ان کی کار کو حادثہ پیش آیا اور وہ پورے زور سے درخت سے جا ٹکرائی۔ حادثہ اس قدر شدید تھا کہ کار میں سوار پانچوں افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون۔
پروفیسر ظفراللہ چوہدری رحمہ اللہ نے ماہر تعلیم کی حیثیت سے جماعت اور دین کی بڑی خدمت کی۔ ان کی حسنات کی فہرست بڑی طویل ہے ہم اللہ کے حضور دعا گو ہیں کہ وہ اپنے اس بندے کی حسنات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما کر انھیں جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے۔ آمین‘‘ (دیکھیے: فیس بک پیج جامعہ ابی بکر الاسلامیہ۔ کراچی)
ہر گز نمیرد آں کہ دلش زندہ شد بہ عشق
ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما
’’زندہ دل، زندہ روح، زندہ سر اور نفس کشتہ لوگ جب راہِ عشق و وفا میں جان دیتے ہیں تو جریدۂ عالم، یعنی صفحاتِ جہان میں ان کا نام ثبت ہو جاتا ہے۔‘‘
مولانا ضیاء الرحمن شہید کے دو بھائی اپنے والد کے ساتھ رحیم یار خان کے قریب کار حادثہ میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔ پروفیسر ظفراللہ چوہدری رحمہ اللہ کی بطلِ حریت حضرت علامہ قاری عبدالوکیل صدیقی خان پوری رحمہ اللہ (وفات: یکم مارچ۲۰۱۳ء) سے گہری دوستی اور رفاقت تھی، پروفیسر صاحب رحمہ اللہ نے خان پور میں جامعہ محمدیہ اہلِ حدیث کے قیام کے لیے حضرت قاری صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ مل کر کافی جدوجہد کی۔ حتی کہ ۱۹۸۵ء کو جامعہ کے حجرِ اساسی کے سلسلے میں امام کعبہ فضیلۃالشیخ عبداللہ بن السبیل رحمہ اللہ کی خان پور میں تشریف آوری حضرت پروفیسر صاحب کی جہود کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
آج جب مولانا مدنی رحمہ اللہ پر مضمون لکھنے بیٹھا تو یاد آیا کہ مولانا خود بھی شہید ہو گئے اور ان سے پہلے ان کے دونوں برادران بھی شہید ہوگئے۔۔۔ رہے نام ﷲ کا۔
پروفیسر ظفراللہ چوہدری رحمہ اللہ اور ان کے تینوں شہید بیٹے، جماعت اور خاندان کی متاع جاں تھے اور اخلاص ومروت کی متاع گم گشتہ۔۔۔ آہ! اب ضیاء شہید کی والدہ، ان کی اہلیہ اور دو بیٹیوں کو دل کو آنسوؤں کی صورت میں ڈھال کر اور تفکرات کے سیلِ رواں میں تمام زندگی گزارنا ہو گی۔
اے شمع تجھ پر رات یہ بھاری ہے جس طرح
ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح
ہماری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پروفیسر صاحب مرحوم کے باقی ماندہ خاندان کو آئندہ کسی آزمائش ومصائب سے محفوظ فرمائے، انھیں صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ ان کا حامی وناصر اور نگہبان ہو اور اس ظاہری خسارے کو ان کے لیے جنتِ فردوس میں داخلے کا وسیلہ بنا دے۔آمین
مولانا ضیاء الرحمن مدنی شہید رحمہ اللہ اسم بامسمٰی، ذاتِ باری تعالی کا عاجز بندہ، حسن ظاہر وباطن کا مرقع، نام بھی دل پذیر، ضیاء الرحمن۔۔ کام بھی دل پذیر۔۔دعوت وتبلیغ اور تدریس۔۔اور انجام بھی دل پذیر۔۔ شہادت (ان شاء اللہ)
وہ آخری لمحات تک کتاب وسنت کی ترجمانی کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ مولانا مدنی رحمہ اللہ پروفیسر ظفراللہ چوہدری رحمہ اللہ کے باصلاحیت جانشین کی حیثیت سے جہاں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے مدیر ومہتمم تھے، وہاں وہ جماعتِ مجاہدین سلسلہ مبارکہ حضرت سید احمد شہید و حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمہما اللہ کے ترجمان اور خوشہ چیں بھی تھے۔ اس کے علاوہ مدارس و مساجد کمیٹی سندھ کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں نبھا رہے تھے۔
جامعہ ابی بکر الاسلامیہ، اکابر علمائے کرام اور مشائخ جماعت کے مشوروں کے موافق اور ان کی سوچ وفکر کی غمازی کرتا ہے، اس لیے مولانا مدنی رحمہ اللہ نے اس کے خد وخال بھی وہی رکھے جو ان کے والد گرامی رحمہ اللہ اور اکابر جماعت نے طے فرما دیے تھے، البتہ جدید دور کے تقاضوں کو ضرور پورا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حصولِ علم کے لیے پروانے جوق درجوق اس شمع کے گرد جمع ہونے لگے، جامعہ کے قبول عام کا یہ نظارہ بھی خلق اللہ نے دیکھا کہ اس کی علمی، عملی، تعمیری، تربیتی، تصنیفی اور رفاہی خدمات کا سلسلہ آئے دن پھیلتا ہی جا رہا ہے۔ بحمداللہ پاکستان کا ایک ایک چپہ اس سحابِ رحمت کی فیض رسانیوں سے مستفیض ہوا۔ مولانا شہید رحمہ اللہ کی خدمات اگرچہ ان کے عظیم والد گرامی حضرت پروفیسر ظفراللہ چوہدری رحمہ اللہ کی مرہونِ منت ہیں، لیکن مولانا مدنی شہید رحمہ اللہ نے اس گلشنِ علم ومعرفت کی جس انداز میں آبیاری فرمائی، وہ تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔
گفتار میں نرم، سراپا عجز و انکسار تھا وہ شخص
محبتوں کا امین، پیکرِ عزم و استقلال تھا وہ شخص
خادمِ دین و ملت، مجسم نور و بصیرت تھا وہ شخص
عزیز تم کیا جانو؟ ایک گوہر نایاب تھا وہ شخص
مولانا مرحوم سیرت و کردار اور اخلاقِ حسنہ میں پیکر جمیل تھے۔ آپ کی طبیعت میں ٹھہراؤ، اور انداز دلبرانہ تھا۔ شگفتگی، حلم و بردباری، وسعتِ نظری، محبت و شفقت کے مظہر اور دل کے سخی تھے۔ آپ کے اندر سخاوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ مدارس کے سفیر اعانت کے سلسلے میں ان کی خدمت میں آتے تو دل کھول کر خدمت کرتے اور کسی کو خالی نہ لوٹاتے۔ وہ حسنِ سیرت اور حسنِ صورت میں اپنے والد حضرت پروفیسر ظفر اﷲ چوہدری رحمہ اللہ کا پر تو تھے۔
ایک عظیم ادارے کے مہتمم اور ملک گیر تعارف ورفعت کے باوجود مولانا شہید کو اللہ تعالیٰ نے عاجزی وانکساری حد درجے کی عطا فرمائی تھی۔ان کی گفتگو اور چال ڈھال دیکھ کر حدیث رسولe: مَنْ تَواضَعَ لِلهِ رَفَعَهُ اللهُ ’’جو شخص اللہ کیلئےتواضع وعاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اسے رفعت عطا فرماتاہے۔‘‘زبان پر جاری ہو جاتی۔
مولانا مدنی شہید رحمہ اللہ جامعہ کے ہر طالب علم اور شاگرد سے انس ومحبت کا اظہار فرماتے۔ ان کا ہر شاگرد یہ دعوی کرتا ہے کہ مولانا مرحوم میرے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرتے تھے۔
یہاں ایک واقعہ ان کے شاگرد مولانا عبدالغفور جمالی کی زبانی سنیے، اس سے مولانا کی سادگی، اپنے سے چھوٹوں پر شفقت اور وسعت خیالی کی جھلک واضح دیکھی جا سکتی ہے۔
’’یہ غالباً ۲۰۱۹ء کی بات ہے کہ مدارس کےتعلیمی سال کے آخری ایام تھے، ہر مدرسہ اپنے ہاں درس بخاری کی تیاریوں میں مصروف تھا کہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں کراچی کے اہلِ حدیث مدارس کے فاضلین کو مدعو کیا گیا، ہم چوں کہ جامعہ میں بڑی کلاس کے طالب علم تھے تو ہمیں بھی شریک ہونے کی دعوت تھی۔ جامع مقاصد و اہداف کے تعین کا اعادہ کرتے ہوئے خوبصورت نصیحتوں کے بعد من جانب شیخ ضیاء الرحمن المدنی کلمات شکر کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہو جاتا ہے۔
پروگرام میں آئے ہوئے تمام مہمانوں کے لیے ضیافت کا بندوبست شیخ ظفراللہ سیمینارہال میں تھا، یوں تمام مہمانان کرام دسترخواں پر تشریف فرما تھے، جس میں بندہ ناچیز مدرسہ معہد السلفی کے فاضل ہونے والے ساتھی قاری حبیب اللہ کے ساتھ موجود تھا کہ کھانا لگانا شروع کر دیا گیا۔
ہم کھانا کھانے میں مصروف تھے کہ شیخ ضیاء الرحمن المدنی رحمہ اللہ ایک گرج دار آواز میں کسی سے پوچھتے ہیں کہ کھانا چاہیے؟ وہ کہتے ہیں کہ نہیں رائتہ چاہیے اور یوں انھیں رائتہ دیا جاتا ہے یہ آواز قاری حبیب اللہ سن لیتے ہیں اور مجھ سے پوچھتے ہیں کہ رائتہ مانگنے والا کون ہے؟
میں نے بتایا کہ یہ جامعہ کا ڈرائیور عبدالغفور راہیموں ہے۔
وہ سنتے ہی اللہ اکبر کی صدا بلند کرتے ہوئے رونا شروع کر دیتے ہیں اور واللہ تاللہ کہتے ہوئے خود ہی بیان کرتے ہیں کہ جمالی بھائی میں نے اپنی زندگی میں ایسا مدیر و مہتمم نہیں دیکھا، جس کا ملازم کھانا کھا رہا ہو اور وہ تقسیم کرتے ہوئے پرات لیے دستر خواں پر چکر لگا رہا ہو۔ اللہ کی قسم یہاں خلیفۂ عمرکی سنت کو ادا ہوتے دیکھ رہا ہوں، جس کا ملازم سواری پر تھا اور مہار ان کے ہاتھ میں۔‘‘
مولانا مدنی رحمہ اللہ روحانیت کی آخری منزل مقام ’’شہادت‘‘ پر متمکن ہو گئے۔
جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
مولانا مرحوم فاضل مدینہ یونیورسٹی تھے۔ تحقیق و مطالعہ سے گہرا شغف تھا۔ اس لیے تدریس میں بھی خاصی مہارت رکھتے تھے۔ حقیقتاً تدریس میں وہ علمائے سلف کی یادگار تھے۔ انھوں نے اچھے اور کامیاب مدرس کی حیثیت سے بلند مقام حاصل کیا۔ دورانِ درس وہ طالبانِ علومِ نبوت کے ساتھ انتہائی شفقت اور نرمی کا اظہار فرماتے۔ کوئی طالب علم اسباق سے غفلت برتتا تھا تو نہایت سنجیدگی سے اسے نصیحت فرماتے اور اس پر خصوصی توجہ کرتے۔ آپ کا اندازِ تدریس عام مدرسین اور معلمین سے جدا گانہ تھا۔ آپ کا مطالعہ اس قدر وسیع تھا کہ درسِ حدیث کے دوران حدیث کی عبارتیں اور علمی بحوث زبانی پڑھتے۔ اﷲ تعالیٰ نے انھیں علمی اشکالات کو سلجھانے کا بھی ملکہ عطا فرمایا تھا۔ وہ مشکل اور مغلق ابحاث کو نہایت سادہ انداز اور اسلوبِ سہل میں بیان فرماتے تھے، یہی وجہ ہے کہ آپ کی تدریس مربوط اور پُر مغز ہوتی تھی۔
بلاشبہ مولانا مرحوم مظلوم شہداء میں سے ہیں،ان سے تکلیف کن کو ہو سکتی ہے؟ وہ ایک علمی درسگاہ کے مدیر اور مدرس تھے۔ تعلیم وتعلّم ہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ انھوں نے مختلف مسالک کے مابین دیرینہ اختلافی مسائل کو کبھی اچھالا نہیں۔ وہ دلیل وبرہان سے مکالمہ کے قائل تھے۔ انھوں نے اپنے دروس اور خطبات میں فرقہ واریت اور تعصب کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی۔ اس لحاظ سے وہ غیر متنازع شخصیت تھے۔
اصل تو پاکستان سے باہر کی غیر مسلم طاقتیں ہیں جو دین اور اہلِ دین کے خلاف بھرپور سازشوں میں مصروف ہیں، ان کا پورا زور اسی بات پر ہے کہ علمائے دین پر سخت سے سخت دباؤ ڈالا جائے، انھیں بدنام کیا جائے۔۔۔ علماء کو کوہ ودمن سے نکال دو، اس کے لیے چاہے جو کرنا پڑے کر ڈالو، انھیں پکڑو، مارو،ختم کرو۔۔۔ ان کے بچوں کو اغواء کرو، گھر بار، والدین، عزیز واقارب سب کو رسوا کرو، بدنامی کی اخیر کر دو۔۔۔ کہ یہ معاشرے میں چل پھر نہ سکیں، واللہ! یہ سازشیں مخفی اور واضح انداز میں جاری ہیں۔
مولانا ضیاء الرحمن مدنی رحمہ اللہ کا ایک ہی ’’قصور‘‘ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ناموس صحابہ و اہلِ بیت عظامy کے پاسبان اور اتحاد بین المسلمین کے عَلم بردار تھے۔ شہادت سے صرف چند دن پہلے کراچی میں مسلک اہلِ حدیث سے وابستہ جماعتوں نے دفاعِ صحابہ واہلِ بیت کے حوالے سے ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد کی، ایک بڑے ادارے کے مہتمم کی حیثیت سے مولانا مدنی رحمہ اللہ نے بھی خطاب کیا، ان کا خطاب بھی یاد گار تھا۔ انھوں نے دشمنانِ صحابہ و اہلِ بیت کو واضح پیغام دیا کہ اہلِ حدیث اس مشن کے حقیقی وارث ہیں، ان کا یہ موقف بھی مبنی بر حقیقت تھا کہ حضرات صحابہ کرام و اہلِ بیت عظامy اور ائمہ کرامS پوری امتِ مسلمہ کا مشترکہ سرمایہ اور واجب الاحترام ہیں، ان کے ایمان وتقوی اور رشد وہدایت کی گواہیاں کتاب وسنت کے نصوص میں متعدد مقامات پر واضح موجود ہیں۔
مولانا مرحوم کے قاتل کون ہیں اور کیوں ہو سکتے ہیں؟ ہماری ناقص سوچ کے مطابق وہ ان وطن دشمن قوتوں کا شکار بنے ہیں، جو پاکستان کو سنی اسٹیٹ سمجھ کر اسے دین اور امن کا گہوارہ نہیں بننے دیتے اور آئے روز مذہبی اختلافات کی آڑ میں فرقہ وارانہ کشمکش اور نفرتوں کے بیج بوتے رہتے ہیں، افراتفری، ہیجان انگیزی اور مذہبی تعصبات، علاقائی ولسانی اور سیاسی واقتصادی تخریب کاری میں ان کے وجود کو تحفظ حاصل ہے۔
میں تمام اہلِ اسلام سے بالعموم اور اہلِ حدیث سے بطور خاص درخواست گزار ہوں کہ علمائے دین کے خلاف ان سازشوں کو سمجھیں، وہ چاہتے یہی ہیں کہ اس ملک میں دین کا نام ونشان نہ رہے۔ اس ملک میں اگر دین کی کوئی رمق باقی ہے تو وہ ان بوریا نشینوں کی محنت وکاوش کا نتیجہ ہے۔
علمائے دین کے ساتھ ہونے والے ان واقعات کو ہم اللہ کی طرف سے ایک آزمائش سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ اس نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے:
’’اور یقینا ہم تمھیں خوف اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی میں سے کسی نہ کسی چیز کے ساتھ ضرور آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دے۔‘‘(البقرۃ: ۱۵۵)
آہ! … اب نہ دنیا میں آئیں گے یہ لوگ
ڈھونڈنے سے بھی نہ پائیں گے یہ لوگ
شیخ ضیاء الرحمن المدنی شہید رحمہ اللہ کی نماز جنازہ بروز جمعرات 14 ستمبر 2023ء کو صبح 9 بجے ماڈل کالونی گول گراونڈ کراچی میں ادا کی گئی۔ جنازہ کی امامت شیخ الحدیث مولانا حافظ مسعودِ عالمd (فیصل آباد) نے کی اور پُرسوز لہجے میں مولانا شہید کے لیے دعائیں کیں، دورانِ جنازہ ان کی آواز رندھ گئیں، ان کے پیچھے صفیں باندھے علمائے حق کی بھی سسکیوں کی آوازیں تھیں۔
مولانا ضیاء الرحمن المدنی رحمہ اللہ کا حادثۂ وفات انتہائی حزن وملال کا باعث ہے، جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کے لیے ان کی رحلت ناقابلِ تلافی نقصان ہے، حضرت مولانا مرحوم نے علم و کردار کے جو چراغ روشن کیے ہیں۔ اﷲ کرے اس روشنی میں اور اضافہ ہو، کیونکہ آنے والا دور اس سے بھی کڑا معلوم ہو رہا ہے اور اس روشنی کی وہاں بہت ضرورت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی مغفرت فرمائے، قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ ملک کے امن کو داؤ پر لگانے والے ظالم حکمرانوں سے اللہ تعالیٰ ملک اور قوم کو نجات عطا فرمائے۔ آمین
کتاب سادہ رہے گی کب تک
کبھی تو آغاز باب ہوگا
جنہوں نے بستیاں اجاڑ ڈالیں
کبھی تو ان کا حساب ہو گا
مولانا کے قتل کے بعد سیکورٹی اداروں سے ہمارا مطالبہ ہے، اس ناحق قتل کی پوری تحقیقات ہونی چاہیں اور قاتلوں کو عبرتناک سزا ملنی چاہیے۔سوال ہمارے سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی اٹھتا ہے، ہماری ایجنسیاں کہاں سوئی پڑی ہیں جب کہ ملک دشمن لوگ اور ایجنسیاں محب وطن اور دین کے خادم قیمتی لوگوں کو آئے دن نشانہ بناکر انھیں قتل کر رہی ہے۔ سندھ میں گزشتہ تین عشروں کے دوران مولانا مدنی جیسے کئی محب دین و وطن علمائے کرام کا قتل کیا گیا، جن میں مولانا مفتی نظام الدین شامزئی، مولانا سعید احمد جلال پوری، مولانا محمد اسلم شیخوپوری، مولانا محمد یوسف لدھیانوی اور مفتی جمیل احمد، ڈاکٹر حبیب اﷲ مختار، مفتی عبدالسمیع، ڈاکٹر عادل خان، سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعیدS بھی شامل ہیں، یہ تمام عالی قدر حضرات حقیقی معنوں میں سندھ کے مصلح اور مسیحا تھے۔ لیکن آج تک ان کے قاتل گرفتار نہ ہوئے۔
ہمیں افسوس ہے کہ ہر حکومت نے اس سلسلے میں روایتی ملمع کاری سے کام لیا ہے۔ کراچی میں گزشتہ تین عشروں کے دوران قتل و غارت کے برپا سلسلے کو دیکھا جائے تو یہاں بڑی اور علم پرور شخصیات کے پے در پے قتل اور وارداتوں سے اس امر سے پردہ اٹھانا دشوار نہیں کہ ملکِ پاکستان بالخصوص کراچی کو اصحابِ علم و فضل اور ماہرینِ کتاب و سنت اور جراَت مند ولولہ انگیز قیادت و سیادت سے محروم کرنے کی ایک گھناؤنی اور منظم سازش ہو رہی ہے۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…