آہ! ایک اور میر کارواں چل بسا!

بنا کردند خوش رسمے بخون و خاک غلطیدن

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

آہ! یوں لگتاہے کہ جیسے اب ہم اپنے علماء واکابرین دوست واحباب کو صرف کندھا دینے کے لیے ہی زندہ ہیں۔ عجب’’تو چل میں آیا‘‘ کی کیفیت بنا رکھی ہے۔ ستم بالائے ستم ایک ایک کرکے علماء حق کا خون ناحق بہایا جارہا ہے…. اور علماء کرام باشعور دانش ور طبقہ رخصت کیے جارہے ہیں۔بلاشبہ موت برحق ہے۔ اور ہر ذی روح کو ایک نہ ایک دن موت کا ذائقہ ضرور چکھنا ہے۔ مگر یہ بلائے ناگہانی تو ٹالی بھی جاسکتی ہے، قانون کی بالادستی بھی کوئی چیز ہے، جن کے ابھی جانے کے دن نہ تھے، انھیں عہد شباب میں جس طرح ’’سوئے عدم‘‘ روانہ کرنے کی رسم چل نکلی ہے۔ وہ راستہ کسی بھی طرح لائق ستائش نہیں، آخر انتظامیہ کے بھی تو فرائض ہوتے ہیں، خلیفۃ المسلمین سیدنا عمر بن خطاب tتو فرماتے تھے کہ میری حق حکمرانی میں کتے کے بھوکا مرنے کا بھی میں ذمہ دار ہوں، پھر کیا ہمارے حکمران صرف باریاں لگا کر غریبوں کا خون جونک کی طرح چوس کر دیار غیر میں جاکر بسیرا کرنے کو ہی آتے ہیں، ان کا کوئی فریضہ نہیں بنتا، پھر آج کے مہذب’’گلوبل ولیج‘‘ کے عہد کے حکمراں کسی معصوم، بے گناہ انسان کے قتل ناحق ہوجانے کے ذمہ دار تک نہیں ہوسکتے؟ یہ کیسا حق حکمرانی ہے؟

عمر اتنی تو عطاء کر میرے فن کے خالق

میرا دشمن میرے مرنے کی خبر کو ترسے

آخر ملک کے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی بے پناہ قربانیوں، صعوبتوں سے قائم کردہ مملکت خداداد پاکستان میں اب حکومت نامی کوئی چیز باقی نہیں؟

حذَر اے چِیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں۔

آہ! مجلہ اسوۂ حسنہ کے مدیر مسؤول، جامعہ ابی بکر کے روح رواں، جوان رعنا، اپنی ذات میں ایک انجمن،خطابت کے آبرو، سحر انگیز شخصیت کے مالک، ضیاء الرحمن مدنی بھی ایک خونی حملہ میں جام شہادت نوش فرماگئے، جس کے اچانک اٹھ جانے سے ہر ادارہ سے ایک ہی صدا اٹھی۔

متاعِ دین و دانش لُٹ گئی اللہ والوں کی

یہ کس کافر ادا کا غمزۂ خُوں ریز ہے ساقی

بلاشبہ شہادت اپنی اہمیت کی حامل ہے، جسے شقی القلب قاتلوں نے بڑی بے دردی سے چھلنی کردیا۔ وہ صلح جو، انسانیت کا درد دل رکھنے والا، ایک جید عالم دین تھا۔ وہ بظاہر تو انسانوں کے ہجوم میں یکہ وتنہا بے یارومددگار جان جان آفریں کے حوالہ کر گیا۔ مگر عروس البلاد کراچی کے لوگوں کو باور کراگیا کہ

قاتل میرا نشان مٹانے پہ ہے بضد

میں بھی سناں کی نوک پہ سر چھوڑ جاؤں گا

حیات ابدی پانے والے شہید مولانا ضیاء الرحمن مدنی کی نماز جنازہ نہ صرف ایک جم غفیر نے کراچی میں ادا کی بلکہ وطن عزیز کے طول وعرض میں جگہ جگہ ادا کرکے انہیں دعاؤں کاارمغان عطا کیا گیا

جس کو طوفان سے الجھنے کی ہو عادت محسن

ایسی کشتی کو سمندر بھی دعا دیتا ہے

بلاشبہ علم وادب، حکمت ودانائی کی دنیا میں ایک کوہ گراں ٹوٹ پڑا، جس پر حروف سینہ زن ہیں، لفظ نوحہ کناں ہیں باقی بنی بشر ہونے کے تعلق سے سچ بات منہ سے نکل ہی جاتی ہے۔ ہمارا ایک ہی معصومانہ سوال ہے کہ

تیرے لہو کا حساب کس عدالت سے طلب کریں؟؟؟

چونکہ آج محبتوں کا امین، صداقتوں کا پرستار، حیات کی توانائیوں پر اعتماد واعتبار رکھنے والا رجل رشید آج ہم میں نہیں۔

ادھر آ پیارے ہنر آزمائیں

تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں

افسوس کے زندگی اتنی مختصر ہے کہ اس میں جی بھر کر تو محبت کرنے کی بھی فرصت نہیں ملتی ایسے میں خدا جانے لوگوں کو نفرت کرنے کا وقت کیسے ملتاہے؟ ہماری قوم جس طرح شعور سے بے شعور ہوکر جس تباہی، بردباری، گمراہی کے طرف تیزی سے دوراں دواں ہے اورملک کو بڑی سنگدلی سے جس خوفناک نہج پر لاکھڑا کیاگیاہے۔ اُسے دیکھتے ہوئے اب تو کسی خوش گمانی کی گنجائش تک نہیں، ایسے اَنارکی کے ماحول میں ایک درویش صفت، مرد حق، بے ضرر انسان کو راہ سے ہٹانا، کتنا ظلم عظیم ہے۔ بس صرف یہ الفاظ زبان پر آتے ہیں ۔

جب ہوس چار سُو بکھر جائے

آدمی امن کو ترستا ہے

جب زمین تیرگی سے اٹ جائے

آسمان سے ’’لہو‘‘ برستاہے۔

ایسے ایک علمی ادبی باوقار شاندار خانوادہ کے معزز عالم دین کو اس طرح سے ہٹانے والی قوم فوزوفلاح کی توقع نہ رکھے، چشم فلک نے دیکھا کہ زندگی کے صحراء میں اپنے نگار پاؤں کے آبلوں سے پھوٹتے لہو کے گلاب کھلانے والا اپنے جسم پر صدیوں کی تھکن اوڑھے، مجروح اعصاب پر مسافتوں کی رداء تانے اس دشت بیکراں میں ہمیں تنہا چھوڑ گیا۔

تم کیا گئے روٹھ گئے دن بہار کے

جس معاشرہ میں مذہبی منافرت، طبقاتی کشمکش، گروہی ذاتی اور لسانی نفرتیں، اخوت اسلامی کے ذہنی ارتقاء میں دراڑیں ڈالیں، وہ معاشرہ ایسے بلند قامت علماء کرام کا کیا احترام کرے گا؟؟ زمانے کی حاسد نگاہوں نے اب تک کسی کو برداشت کیا ہے؟ لیکن یادرکھیں تاریخ کی بینائی بھی اتنی کمزور نہیں، اور نہ ہی اس کا حافظہ اتنا نحیف وکمزور ہے۔ نادانی سے ہم اپنی تاریخ کے اوراق پارینہ جلا تو سکتے ہیں لیکن اس کے معصوم سینے میں چھپی ہوئی سچائیوں کو کبھی بھی بھلا نہیں سکتے۔ میرے قلم میں کیا تاب کہ ایک ایسے تابناک ستارہ کی قدروقامت کا احاطہ کر سکوں بس۔

توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے

آساں نہیں مٹانا نام ونشان ہمارا

اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو۔

انجمن سے وہ کیا گئے کیفی

رونق لے گئے ہیں محفل کی

admin

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

5 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

5 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago