اگر لغوی اعتبار سے دیکھا جائے تو ہر چیز کی معرفت کا نام علم ہے اور اس کو جاننے والا عالِم کہلاتا ہے لیکن اصطلاح میں دینی امور کے جاننے والے کو عالِم کہتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ضروری ہے کہ عالم میں خشیت الٰہی کی صفت بھی موجود ہو جیسا کہ تفسیر ابن کثیر میں ہے:
امام حسن بصری a فرماتے ہیں:عالم کہتے ہی اسے ہیں جو در پردہ بھی اللہ سے ڈرتا رہے اور اللہ کی رضا اور پسند کی رغبت رکھے اور اس کی ناراضگی کے کاموں سے نفرت رکھے، پھر آپ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:
بے شک اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں، بے شک اللہ بخشنے والا عزت والا ہے۔( تفسیر ابن کثیر،فاطر: ۲۸)
اگر بات کی جائے علماء کرام کی صحبت کی تو بقول شاعر:
نیک لوگوں کی صحبت نیک بنا دیتی ہے برے لوگوں کی صحبت برا بنا دیتی ہے ۔
جیسا کہ حدیث مبارک میں آتا ہے کہ ایک شخص نے عرض کی یارسول اللہ ﷺاس کے متعلق کیا ارشاد ہے جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہے اور ان کے ساتھ ملا نہیں یعنی ان کی صحبت حاصل نہیں ہوئی یا اُس نے اِن جیسے اعمال نہیں کیے تو ارشاد فرمایا آدمی اس کے ساتھ ہے جس سے اسے محبت ہے۔(صحیح البخاری)
اس حدیث معلوم یہ ہوا کہ اچھوں سے محبت اچھا بنا دیتی ہے اور اس کا حشر بھی اچھوں کے ساتھ ہی ہوگا اور بروں کی محبت برا بنا دیتی ہے اور اس کا حشر ان کے ساتھ ہی ہوگا۔
اسی لیے اگر حقیقت کو تسلیم کیا جائے تو ایک عالم کی صحبت کے بڑے فوائد ہیں کہ انسان اس سے بہت کچھ دینی معلومات کے حوالے سے سیکھ کر نہ صرف اسے خود اختیار کر سکتا ہے بلکہ دوسروں کی نجات کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔
بارگاہ رب العالمین میں دعا ہے کہ ہمیں علماء اکرام کی صحبت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
اب اگر بات کی جائے عالم کی فضیلت یا اس سے علم حاصل کرنے کی فضیلت کے بارے میں تو پھر دیکھیے مالک کائنات نے کیا ارشاد فرمایا:
’’سو تم اہلِ ذکر سے پوچھ لیا کرو اگر تمہیں خود (کچھ) معلوم نہ ہو۔‘‘
اور ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
’’تو دونوں نے (وہاں) ہمارے بندوں میں سے ایک (خاص) بندے (خضر علیہ السلام ) کو پا لیا جسے ہم نے اپنی بارگاہ سے (خصوصی) رحمت عطا کی تھی اور ہم نے اسے اپنا علم لدّنی (یعنی اسرار و معارف کا الہامی علم) سکھایا تھا۔ اس سے موسيٰ( علیہ السلام ) نے کہا: کیا میں آپ کے ساتھ اس (شرط) پر رہ سکتا ہوں کہ آپ مجھے (بھی) اس علم میں سے کچھ سکھائیں گے جو آپ کو بغرضِ ارشاد سکھایا گیا ہے۔‘‘
اور تیسری جگہ تو ارشاد فرمایا :
اور آپ کتاب (قرآن مجید) میں ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کیجیے، بے شک وہ بڑے صاحبِ صدق نبی تھے۔ جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا: اے میرے باپ! تم ان (بتوں) کی پرستش کیوں کرتے ہو جو نہ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ تم سے کوئی (تکلیف دہ) چیز دور کرسکتے ہیں۔ اے ابّا! بیشک میرے پاس (بارگاہِ رب العالمین سے) وہ علم آ چکا ہے جو تمہارے پاس نہیں آیا تم میری پیروی کرو میں تمہیں سیدھی راہ دکھاؤں گا۔
یہ تو فضیلت قرآن میں آئی ہے ابھی میرے ذہن میں چند ایک احادیث بھی ہیں جنہیں ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔۔۔۔تو دیکھیے:
سیدنا ابو امامہ tبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو (نصیحت کرتے ہوئے) کہا: میرے بیٹے! علماء کے پاس لازمی بیٹھنا اورحکماء کی گفتگو غور سے سننا کیونکہ اللہ تعاليٰ مردہ دل کو نورِ حکمت سے زندہ فرما دیتا ہے جس طرح کہ وہ مردہ زمین کو موسلادھار بارش سے زندہ کر دیتا ہے۔۔۔۔اسے امام مالک اور طبرانی نے روایت کیا ہے اور الفاظ بھی انہی کے ہیں۔۔۔۔۔
ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ سیدنا عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے فرمایا: (زندگی میں پیش آنے والے) معاملات تین ہی ہیں: ایک معاملہ وہ ہے جس کی ہدایت تمہارے لیے واضح ہے پس تم اس کی اتباع کرو۔ دوسرا معاملہ وہ ہے جس کی گمراہی تمہارے لیے واضح ہے، پس تم اس سے بچو۔ تیسرا معاملہ وہ ہے جس میں اختلاف ہے (یعنی جو متشابہ ہے) پس تم اسے اس معاملہ کو راسخ عالم کے پاس لے جاؤ۔اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔
ان تمام قرآنی آیات اور احادیث سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اس معاشرے میں راسخ علماء کی کتنی ضرورت ہے۔لیکن دکھ اور تأسف کا مقام یہ ہے کہ ہم میں سے جو عالم بھی اس دنیا سے رخصت ہو رہا ہے اس کے بعد اس کی مسند پر اس کا کوئی جانشین نہیں ۔۔۔۔ کہاں ہم نے اپنے اسلاف کا خون بہتے دیکھا۔۔۔۔کہاں ہم نے اپنے راسخ علماء کو اس دنیا سے جاتے دیکھا لیکن ہم ہیں کے غفلت کی نیند سو رہے ہیں۔۔۔۔۔آج بھی حافظ محمد گوندلوی a، مولانا سلطان محمود محدث جلالپوری a، شیخ الحدیث مولانا رفیق اثری a، مفسرِ قرآن مولانا اللّٰہ یار جلال پوری a، مفسرِ قرآن مولانا صلاح الدین یوسف a، مفسرِ قرآن عبدالرحمن کیلانی a، محققِ اسلام مولانا زبیر علی زئی a، شیخ القرآن والحدیث عبدالسلام بن محمد بھٹوی a کی مسندیں ویران پڑی ہیں اور ہمیں پکار رہی ہے کہ ہمیں بھی کوئی سنبھالے۔۔۔۔۔میں یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہوں کہ۔۔۔۔۔کہاں ہے مسند شیخ بدیع الدین راشدی رحمۃ اللہ علیہ کی۔۔۔۔۔کہاں گم گئی مسند مولانا عبد المنان نورپوری a کی۔۔۔۔۔۔کہاں گیا قلم علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید a کا۔۔۔۔۔کہاں گئی للکار علامہ حبیب الرحمن یزدانی شہید a کی۔۔۔۔مجھے خود سے اور وقت کے علماء اور طلباء سے سوال ہے کہاں گئیں ان اساتذہ کی مسندیں اور کہاں گئے خشیت الٰہی کو اور اساتذہ کی محبت کو دل میں جگہ دینے والے طالب علم۔۔۔۔۔۔ہاں کبھی سوچا ہے آپ نے؟؟؟؟
ابھی بھی جاگ جائیے حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں مولانا عبدالمنان وزیرآبادیa، مولانا عبد الوکیل صدیقی a، مولانا عبداللہ بہاولپوری aجیسا بننا تھا۔۔۔۔ہمیں شیخوپوری ذیشان، یزدانی اور احسان بننا تھا۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔افسوس در افسوس اور بے حد افسوس کہ ہمارا تقوی تو فیس بک نے چھین لیا، ہماری حیا یوٹیوب نے چھین لی، ہمارے علم سے برکت ہمارے گناہوں نے چھین لی۔۔۔۔۔ہمارا عمل ہم سے ہماری صحبتوں نے چھین لیا۔۔۔۔۔۔۔اور پھر یوں ہوا کہ ہم میں صلاحیت تو رہی مگر صالحیت کھو چکے۔۔۔۔۔۔
«جو سچ کہوں تو برا لگے،جودلیل دوں تو ذلیل ہوں،
یہ «قوم» جہل کی زد میں ہے یہاں بات کرنا فضول ہے»
کچھ عرصہ سے ہر دو دن بعد کسی عالم دین کی شہادت اور کسی کی وفات کی خبر سننے کو ملتی ہے اور ہم مردہ ضمیر ہو چکے ہیں۔۔۔۔۔ حالانکہ جس وقت کوئی عالم دین اس دارفانی کو الوداع کہے تو ہماری روح کانپ جانی چاہیے۔۔۔۔۔۔ہماری نیند حرام ہو جانی چاہیے۔۔۔۔
جیسا کہ امام ایوب سختیانی رحمه الله فرماتے ہیں »جب مجھے اہلِ سُنت کے کِسی فرد کی خبرِ وفات ملتی ہے، تو یوں لگتا ہے؛ جیسے میرے جسم کا ایک ٹکڑا ختم ہو گیا!»۔(حلية الأولياء : 9/3)
لیکن ہماری کیفیت کچھ اور ہی ہے ہمیں علماء کی پہچان ہی نہیں ۔۔۔۔ ہمیں علماء کی قدر ہی نہیں ۔۔۔۔۔ چند ماہ قبل بارہویں جماعت کے امتحانات دینے کے لیے گھر میں موجود تھا کہ اچانک ایک ساتھی کا فون آیا کہ عبدالسلام بھٹوی a وفات پا گئے ۔۔۔۔۔ یہ سنتے ہی روح کانپ گئی حالانکہ ان سے صرف ایک ملاقات ہوئی تھی تین سے چار منٹ کی لیکن پھر بھی ان کی وفات کی خبر سنتے ہی وہ اشعار ذہن میں آئے جو شورش کاشمیری نے مولانا ابوالکلام آزاد a کی وفات پر پڑھے تھے۔
عجب قیامت کا حادثہ ہے،آستیں نہیں ہے
زمین کی رونق چلی گئی ہے،اُفق پہ مہر مبین نہیں
تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے
مگر تری مرگ ناگہاں کا اب تک یقین نہیں ہے
اللّٰہ تعالیٰ تمام علماء اہل سنت کی مغفرت فرمائے آمین ۔
ابھی بھٹوی صاحب اور کئی شیوخ کی جدائی کا زخم تازہ تھا کہ چند روز قبل خبر آئی مولانا ضیاء الرحمن مدنی کو شہید کر دیا گیا ۔
ضیاء الرحمن مدنی a بہت ہی متقی اور پرہیز گار تھے اور اپنے والد گرامی مولانا ظفر اللہ aکی واقعتاً جانشینی کر رہے تھے۔۔ لیکن۔۔۔کچھ شر پسندوں کو یہ گوارا نہیں تھا تو انہوں نے ضیاء الرحمن مدنی a پر قاتلانہ حملہ کیا اور انہیں داغ مفارقت دینے پر مجبور کیا ۔
اور آج عشاء کی نماز کے بعد جیسے ہی موبائل دیکھا سر فہرست حافظ شاہد رفیق d کی پوسٹ سامنے آئی کہ «گوجرانوالہ کے ممتاز عالم دین شیخ الحدیث حافظ عباس انجم گوندلوی a وفات پا گئے ہیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون»۔
عباس انجم a سے میری ملاقات بھی نہیں اور ان کی شاگردی بھی حاصل نہیں لیکن ناجانے کیوں دل پر چوٹ لگی کہ ایک اور عالم دین چلے گئے!!!تو اچانک ذہن میں نبی اکرم ﷺکا فرمان آیا: نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا:’’(قیامت کے قریب) وقت مختصر ہو جائے گا، علم اٹھا لیا جائے گا، لوگوں میں بخل عام ہوگا، فتنے رونما ہوں گے اور ہرج بکثرت ہوگا۔‘‘صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہرج سے کیا مراد ہے؟آپ ﷺنے فرمایا: ’’قتل و غارت‘‘ (صحیح بخاری،صحیح مسلم)
اور ایک روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص tسے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا:
«اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے لوگوں (کے سینوں) سے کھینچ لے لیکن وہ علم کو اہل علم کی وفات کے ذریعے سے اٹھائے گا حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے۔ جب ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے، لہٰذا وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے»۔(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
تو آج یہی ہوا کہ لوگوں نے جہلم کے مرزے کو عالم سمجھ لیا۔۔۔۔۔اس کے علاوہ عوام کی جہالت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ مائیک پر بیٹھے ہر انسان کو عالم سمجھ لیا گیا۔۔۔۔۔۔اور مولانا ارشاد الحق اثری d کے بارے نوجوان سے پوچھ لیا جائے تو شاید ہی کوئی ان کے بارے کچھ بتا سکے۔۔۔لیکن اگر کسی موٹیویشنل سپیکر کے بارے میں پوچھیں تو آپ کو اس کا مکمل پتا بھی بتایا جائے گا، اس کی ویڈیو پر کتنے ویوز آتے ہیں یہ بھی بتایا جائے گا، اس کے پاس کار کونسی ہے اور اس کا ماڈل کونسا ہے یہاں تک بتا سکتے ہیں نوجوان لیکن علماء کی پہچان سے عاری ہیں ۔۔۔۔
عمار بن ابی عمار بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا زید بن ثابت tفوت ہوئے تو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
علم کا اٹھنا اس طرح ہے۔ آج (زید tکے ساتھ) بہت زیادہ علم دفن کر دیا گیا۔(المعرفہ والتاریخ للفسوی 1/ 261 وسندہ حسن)
معلوم ہوا کہ علم اٹھنے سے مراد علماء کا فوت ہو جانا ہے۔ جوں جوں اہل علم اس دنیا سے جارہے ہیں تو معاشرے میں بدامنی، فتنہ و فساد، معصیت و نافرمانی اور قتل و غارت، زنا اور فحاشی کی بھی کثرت ہو رہی ہے جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ علمائے حق ملک و ملت کے لئے باعث رحمت و برکت ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔
میں سلام پیش کرتا ہوں آج کے حقیقی علماء کو کہ جو سیاست اور سیاحت میں ملوث ہوئے بغیر۔۔۔۔اخلاص کے ساتھ رب کے دین کی سربلندی کا کام کر رہے ہیں جن میں سر فہرست مولانا ارشاد الحق اثری d، مولانا عبد اللہ ناصر رحمانی d، ڈاکٹر فضل الٰہی d، حافظ مسعود عالم d، حافظ محمد شریف d، شیخ عمر فاروق سعیدی d، شیخ نجیب اللہ طارق d، شیخ عبد الستار حماد d، حافظ شاہد رفیق d، شیخ سعید مجتبیٰ سعیدی صاحب حفظہ اور ابو نعمان بشیر d اور ان کے علاوہ جتنے بھی ہیں۔
نام ذکر کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ طلباء یا نوجوان سوشل میڈیا پر غامدی، ساحل عدیم اور مرزا جہلمی جیسے کم فہم اور گمراہ لوگوں کو سننے کی بجائے اوپر جن کا نام ذکر کیا گیا ہے انہیں سنیں اور اپنے ایمان کو ضائع ہونے سے اور خود کو گمراہی سے بچائیں ۔۔۔۔۔۔
اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اے میرے رب علماء حق کی حفاظت فرما، جو بیمار ہیں ان کو صحت کاملہ عطا فرما اور جو اس دنیا سے جا چکے ان کی مغفرت فرما اور ہمیں ان کی مسند ویران کو آباد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…