دنیا کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ یہاں کوئی بھی ہمیشہ کے لیے نہیں آتا، چاہے کوئی بادشاہ ہو یا کوئی نبی، ولی یا عالم ہو، اسی لیے شاعر نے کہا تھا کہ:
لو كانت الدنيا تدوم لأهلها
لكان رسول الله حيا مخلدا
لیکن کامیاب تو وہ ہے جو اپنی زندگی میں اس رب کے دین کی خاطر کچھ کام کر گیا جس نے اسے زندگی بخشنے سے پہلے ہی اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ کا وعدہ لے لیا تھا۔۔۔۔
اور یقینا صنفِ انبیاء علیہم السلام کے بعد ان کے وارثین ہی وہ عظیم لوگ ہیں جو اپنی زندگی کے ہر ہر پل کو رب العالمین کے دین کی خاطر صرف کر دیتے ہیں، ان کی انہی خدماتِ دینیہ کی برکتیں ہوتی ہیں کہ رب العالمین بعد از وفات بھی ان کے لیے نیکیوں کے دروازے کھولے رکھتا ہے اور، «عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ» کے سلسلے کو زندہ رکھ کر ان عظیم شخصیات کو دوام بخش دیتا ہے۔۔۔۔۔جیسا کہ شاعر نے کہا تھا کہ:
استاد محترم شیخ ضیاء الرحمن المدنی بھی «العلماء ورثة الأنبیاء» کی عظیم لڑی کے در نایاب تھے، آج سیکڑوں کی تعداد میں آپ کے روحانی بیٹوں کی ایک کھیپ موجود ہے جو ہمہ وقت آپ کے لیے دعا گو رہتی ہے، یہ وہی طلبہ ہیں جنہوں نے جب کتبِ احادیث کی عظیم کتب کی طرف قدم بڑھائے تو اس سے پہلے ابتدائی درجوں میں انہیں مدیر الجامعہ سے شرفِ تلمذ حاصل ہو چکا ہوتا تھا، یقین کیجئے حدیث کا فہم طلبہ تک ایسے مکمل انداز سے پہنچاتے اور اتنے مطمئن ہو جاتے کہ پھر طلبہ کے کاندھوں پر استنباطات الحدیث کی ذمے داری ڈال دیتے اور ہر ہر طالب علم کے بتائے گئے نقطے اور استنباط کو شامل درس کر لیتے، کوئی اگر چوک جاتا تو اس طرح سے ٹوکتے کہ بجائے بات دل کو مجروح کرنے کے دل پر ہمیشہ کےلیے ثبت ہو جاتی اور طالب علم کےلیے مشعلِ راہ بن جاتی، یوں آپ «فقہ الحدیث» کا ایسا خوبصورت تحفہ دے جاتے کہ طلبہ کےلیے بہت سی مشاکل آسان ہو جاتیں، یہی حال میراث کا تھا کہ جو سبق ایک بار پڑھاتے اتنی مہارت سے پڑھاتے کہ ایک ایک شق سمجھ آ جاتی، سمجھانے کا طریقہ ہی ایسا تھا کہ جب تک پہلا نقطہ مکمل نہ ہو جائے اگلے نقاط کی طرف التفات ہی نہ کرتے، بلکہ ہمارے ایک ساتھی نے میراث کی ابتدائی کلاسوں میں ہی کوئی سوال پوچھا تو فرمانے لگے «اس مسئلے کو کتنا عرصہ گزر گیا ہے؟» طالب علم نے کہا کہ «پانچ چھ سال» تو فرمانے لگے «پھر ایک دو مہینے اور انتظار کر لو، پھر جا کر خود مسئلہ حل کر لینا» یہی تو آپ کا وژن تھا کہ طالبِ علم اتنا قابل ہو کر جائے کہ پھر اس کے پاس تمام مسائل کا حل موجود ہو۔۔۔۔
یہ تو تھے آپ کے تدریسی فرائض، جن کی بدولت آج کئی طلبہ حدیث و مواریث میں آپ کی میراث ہیں ہی، لیکن آپ کی زندگی کے مقاصد بہت زیادہ بلند و بالا تھے، آپ فقط ایک مدرس نہیں تھے بلکہ آپ کا ایک بہت بڑا مشن تھا جس کو کبھی وہ اپنوں کے بیچ عیاں کرتے تو کبھی بیگانوں تک اس مشن کو پہنچا دیتے، جس کی دو ٹوک صدا جامعہ ستاریہ میں شہادت سے تین دن پہلی کی گئی اپنی آخری تقریر میں اس طرح موجود ہے جیسے آپ کی زندگی کا نچوڑ ہے اور وہ یہی کہ۔۔۔۔
«مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارا دشمن مل کر کام کر رہا ہے، مسئلہ تو یہ ہے کہ ہم متحد نہیں ہیں!»
یقین جانیے یہ دو سطریں اپنے اندر بہت بڑا مشن، بہت اونچی سوچ اور بہت زیادہ دور اندیشی کا سامان کئے ہوئے ہیں، یہی وہ دو سطور ہیں جس میں شیخِ محترم نے ہمیں ایک مشن سونپ دیا ہے کہ:
«تفرقے کو ختم کر دو، ایک ہو جاؤ، ایک ہو جاؤ!»
شیخ نے اپنی زندگی کو اسی کام میں صرف کر دیا تھا کہ کسی طرح اہلسنت ایک پلیٹ فارم پر آ جائیں، کسی طرح اہلِ پاکستان ایک راستے کو اپنا لیں اور آپ کی ان کاوشوں اور کوششوں کا دائرہ اتنا وسیع تھا کہ احاطہ کرنا مشکل ہے، جس کا منہ بولتا ثبوت پیغامِ پاکستان کی دستاویز پر استاذِ محترم کے دستخط ہیں۔۔۔۔۔۔
آج ہم شیخ کو یاد کرتے ہیں تو عش عش کر اٹھتے ہیں کہ کتنی کم زندگی میں کتنا کام کر گئے، لیکن ہم شیخ کا مشن بھول جاتے ہیں، در حقیقت ضرورت اس امر کی ہے کہ شیخ کی شہادت کے بعد سے ٹھنڈے پڑ جانے والے ہمارے، جذبے اور ولولے دوبارہ جاگ جانے چاہئیں کیونکہ زندہ وہی رہتا ہے جو کسی جذبے اور ولولے سے اپنے مشن میں لگا رہے، اور شاید ہم سب سے زیادہ مقروض ہیں اپنے استاذ کے کہ ان کی سوچ و فکر امت مسلمہ کے ہر ہر فرد تک پہنچائیں، اور «ایک ہو جاؤ» کی صدا کو ہر سو پھیلا دیں، کیونکہ جانے والے تو اسی آس پر جاتے ہیں کہ:
چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گے
چمن میں آئے گی فصل بہاراں ہم نہیں ہوں گے
جوانو اب تمہارے ہاتھ میں تقدیر عالم ہے
تمہی ہوگے فروغ بزم امکاں ہم نہیں ہوں گے
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…