رفقاء کے تأثرات اور یادیں

الشیخ عصمت اللہ سالم حفظہ اللہ (کوئٹہ) کے تاثرات:

«الشیخ ضیاء الرحمن المدنی رحمہ اللہ سے میری پہلی ملاقات ان کے گھر کراچی میں اگست 1994 میں ہوئی۔ جمعہ کا روز تھا۔ کوئٹہ سے مولانا ڈاکٹر علی محمد ابوتراب میرے بڑے بھائی مولوی عبدالسلام اور میں کسی کام کے سلسلے میں کراچی گئے تھے ۔ جامعہ ابی بکر میں الشیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ (مدیر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ )سے ملاقات ہو ئی۔ انہوں نے ہمیں اگلے روز جمعہ کے دن اپنے گھر پر دوپہر کے کھانے کی دعوت دی ۔جب ہم وہاں پہنچے تو اس وقت الشیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ نے ہمارا تعارف اپنے نوجوان بیٹے ضیاءالرحمن سے کروایا۔غالبا اس وقت وہ انٹرمیڈیٹ میں تھے۔یہ ہماری پہلی ملاقات تھی۔

پھر 1999ءجب میرا داخلہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ہوا،اسی برس ضیاءالرحمن بھائی کابھی داخلہ ہوا۔ تو ہم کراچی سے ایک ہی فلائٹ میں مدینہ گئے ۔وہاں جامعہ کے سکن (ہوسٹل) میں ہم دونوں کی ایک ہی کمرے میں رہائش تھی ۔ یہ وحدہ سادسہ ( ہاسٹل بلاک 6) میں دوسری منزل پرکمرہ نمبر بیس تھا۔ جس میں تیسرے رہائشی کمبوڈین طالب علم مصلح الدین تھے۔ اگلے دن عمادة القبول والتسجیل (شعبہ داخلہ جات) میں جب ہمارا مقابلہ شخصیہ (انٹرویو)ہوا تو مجھے معہد اللغہ العربیہ میں داخلہ ملا۔ جب کہ ضیاءالرحمن بھائی کو کلیہ الشریعہ میں داخلہ ملا۔ہم اس کمرے میں تقریبا اڑھائی سال روم میٹ رہے۔ ضیاءالرحمن بھائی نہایت شریف الطبع،ملنسار،مہمان نواز تھے۔ تعلیم میں نہایت محنتی تھے۔ ہمیشہ ممتاز مرتفع (95 فی صد سے زائد) نمبر حاصل کرتے۔ ان کی ایک خصوصی عادت تھی کہ ماہ ڈیڑھ ماہ میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے ضرور جایا کرتے تھے۔ مکہ میں ان کے تایا چوہدری نور اللہ صاحب رہتے تھے۔ یہ مکہ میں ان کے ہاں ٹھہرتے تھے۔

جامعہ اسلامیہ میں ان کی خاص دوستی میرے علاوہ الشیخ شاھد نجیب حفظہ اللہ کے ساتھ ( حالیا استاذ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ ) سے تھی۔ الشیخ شاھد نجیب اس سے پہلے کراچی میں سعودی قونصلیٹ میں ویزہ سیکشن میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ لیکن ضیاءالرحمن بھائی کی اصرار پر انہوں نے قونصلیٹ میں کام چھوڑ دیا اور بحیثیت استاذ جامعہ میں پڑھانے لگے۔ ضیاءالرحمن بھائی کے والد کاسایہ ان کے سر سے نوجوانی میں ہی اٹھ گیاتھا۔ ان کی والدہ اور تین بہنیں تھیں۔ وہ ہمیشہ اپنی والدہ کی خیر خیریت پوچھنے ہر ہفتہ مدینہ سے باقاعدگی سے ان کو فون کرتےتھے۔شؤون حرمین کے سابقہ رئیس (ڈائریکٹر) الشیخ صالح الحصین رحمہ اللہ ، ضیاءالرحمن بھائی کی بہت قدر کرتے تھے۔ کیونکہ الشیخ صالح کے ضیاءالرحمن بھائی کے والد ( الشیخ ظفراللہ رحمہ اللہ ) سے خاص دوستی تھی۔ الشیخ ظفراللہ رحمہ اللہ کی دعوت پر الشیخ صالح کئی مرتبہ پاکستان تشریف لائے ۔ الشیخ صالح غالبا 1986۔ 1987ء میں ایک مرتبہ جامعہ سلفیہ کوئٹہ بھی تشریف لائے تھے۔ اگر مجھے کراچی آنے میں کہیں تأخیر ہوجاتی تو ضیاءالرحمن بھائی فون کرکے پوچھتے تھے کہ کیوں بھائی کراچی کا چکر نہیں لگا یا اتنے عرصہ سے ؟کوئی ناراضگی ہے، آپ کی ہم سے؟ بھائی ضیاءالرحمن میرے بھائیوں جیسے دوست تھے ۔جب بھی ان کو کوئی پریشانی ہوتی تھی، تو اکثر مجھ سے مشورہ ضرور کرتے تھے۔

جب وہ جامعہ اسلامیہ مدینہ سے فراغت کے بعد واپس کراچی آئے اور جامعہ ابی بکر اسلامیہ کے حالات اور جامعہ کے پراپرٹیز پر قبضہ کے بارے میں پتہ چلا تو ان کا دل خون کے آنسو رویا۔ وہ اکیلے تھے، لیکن قبضہ مافیا کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے ۔ الحمد اللہ جامعہ ابی بکر اسلامیہ کی ساری پراپرٹیز(جائیداد) اور اثاثے قابضین سے واگزار کروانے کی بھرپور کوشش کرتے رہے۔ بہادر، نڈر اور خاکسارانسان تھے۔

رحمة الله رحمة واسعة- اللهم اغفر له وارحمه- وتجاوز عن سيئاته وأدخله الفردوس الأعلى- وألهم ذويه وأسرته الكريمة الصبر والسلوان- لله ما أخذ وله ما أعطى وكل شيئ عنده بأجل مسمى فلتصبروا ولتحتسبوا- أحسن الله عزائنا وعزائكم فى الشيخ ضياء الرحمن وأعظم أجرنا وأجركم وغفر لشيخ ضياء مغفرة واسعة. إنا لله وإنا إليه راجعون»

الشیخ ڈاکٹر مسعود احمد سندی حفظہ اللہ کے تاثرات:

«وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
أخ العزيز الغالي! أنا عندما سمعت الخبر وأنا في خارج باكستان ما قدرت أن أنام من شدة الألم وتذكرت جميع لمحات حياة الأخ الغالي المخلص ومحب للدين وأهله، لم يكن ينتصر لشخصيته قط منذ ما عرفته، ولم أر في حياته ( وقد سافرت معه في مختلف أدوار حياته رحمه الله) أي تصنع ولا تكبر، أحسن الله عزاءكم

(ڈاکٹر مسعود احمد سندی)»

الشیخ یحیی المدنی حفظہ اللہ کے تاثرات:

«جی اعجاز بھائی !کیا حال ہے ؟ خیریت سے ہیں؟ اعجا ز بھائی! کل عصرکی نماز پڑھا کر میں اپنے مرکز میں بیٹھا ہو ا تھا، اچانک ذہن میں آیا کہ الشیخ ضیاء الرحمٰن صاحب ( رحمہ اللہ ) سے بات کئےکافی روز ہوچکے۔ میں نے فون کیا ۔الشیخ شاید کسی مجلس میں بیٹھے تھے اور ہنس رہے تھے۔ اُسی وقت انہوں نے میرا فون اٹھایا اورہنستے ہوئے پوچھا:کیا حال ہے؟ میں نے سلام کے تبادلےکے بعد کہا کہ الشیخ مجھے دکھ ہے کہ عرصہ ہوگیا آپ فیصل آباد تشریف نہیں لائے ۔تو بارہا معذرت کی۔ کہنے لگے کہ اسلام آباد جانا رہتا تھا، لیکن اب کافی عرصہ گزر گیا ۔ان شاء اللہ جونہی اسلام آباد آؤں گا آپ کے پاس ہو کر جاؤں گا۔ان کی یادوں میں کیا کیا ذکر کروں۔

الشیخ اعجاز! مدینہ یونیورسٹی میں الشیخ ضیاء الرحمٰن رحمہ اللہ کے ساتھ 4سال رفاقت رہی۔ وہ انتہائی صادق اور امین تھے ۔ان کے بارے میں میرے پاس الفاظ نہیں ہیں ۔ میں نے ان کی مجلس اور تنہائی دونوں دیکھی ۔میں نے ان کو تنہائی میں اللہ کے خوف سے روتے دیکھا۔ تہجد گزار تھے۔ شاید کہ کوئی ایسادن ہو کہ انہوں نے تہجد چھوڑی ہو،کیونکہ میں اور وہ ایک کمرے میں رہتے تھے ۔پھر ہاسٹل کا کمره بدل گیا لیکن رابطہ باقی رہا۔وہ بعض اوقات ہم دوستوں کے ساتھ ساری رات مجلس کرتے، لیکن جونہی تہجد کا وقت ہوتا تو وہ ہماری مجلس سے اُٹھ کر چل دیتے۔

الشیخ ضیاء الرحمٰن رحمہ اللہ با وفا شخص تھے، ماشاء اللہ ۔ ذکر اللہ کو بہت اہمیت دیتے تھے ۔ہم سب نماز پڑھنے کے بعد باب الرحمہ (مسجد نبوی کا دروازہ) پر آجاتے تھے ۔لیکن دیر تک الشیخ ضیاء الرحمٰن رحمہ اللہ کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ کب آئیں اور کب ہم ہاسٹل پہنچیں اور مل کر کھانا کھائیں ۔ وہ ذکر اللہ میں مشغول ہو جاتے تو بعض اوقات ہمیں بھی وقت نہیں دیتے تھے ۔اللہ ان کی شہادت کو قبول فرمائے ۔ بڑے دکھ اور کرب کی کیفیت میں یہ میسج کر رہا ہوں ۔لکھنا تو بہت چاہتا ہوں،ان شاءاللہ وقت ملا تو ان کے واقعات جو ہمارے ساتھ گزرے ہیں، وہ لکھوں گا ان شاءاللہ ۔لیکن اس وقت ان کی جدائی کےصدمے کی بہت تکلیف ہے ۔اللہ شہید کے درجات بلند فرمائے۔

دوران گفتگو، یحیی بھائی کی آواز بھرا گئی، ہچکی بندھ گئی۔

الشیخ ضیاء الرحمٰن رحمہ اللہ پچھلی سردیوں میں میرے پاس تشریف لائے ۔شہر میں ہم نے کھانا تناول کیا۔ میرے بھائی فیصل آبادشہر میں ہوتے ہیں۔میں نے ان سے ایک کمرہ خالی کروایا ۔ الشیخ ضیاء الرحمٰن رحمہ اللہ کو کہا کہ ہم رات یہاں ٹھہریں گے ۔گاؤں نہیں جائیں گے اور گاؤں میں خاطر خواہ انتظام نہیں ہے۔ میری لائبر یری بھی غبار آلود ہے۔انہوں نے کہا کہ نہیں گاؤں ہی میں رات ٹھہریں گے۔ میرے اصرار پر ان کا اصرار غالب آیا ۔ ہم گاؤں آئے۔گھر پہنچے اور وہیں آرام کیا ۔پھروہ جب بھی آتے گاؤں ہی میں آرام کرتے۔ الحمدللہ،دوستوں کے ساتھ ان کا بہت پیار تھا۔ اللہ تعالی نے ان کو عاجزی اور انکسار ی کی نعمت سے نوازا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں شاید کبھی اتنا عاجز اور منکسر المزاج ساتھی نہیں دیکھا۔

الشیخ اعجاز ! مجھے یاد ہے کہ ہم بعض اوقات حرم (مسجد نبوی) سے رات کو پیدل جامعہ آیا کرتے تھے ۔میں،الشیخ ضیاء الرحمٰن، قاری شعیب،ڈاکٹر فیض (جہلم ) اور دیگر ساتھی۔ تو ہم نے کبھی وقت گزاری کےلئےچٹکلا یا قصہ سنا دینا۔ الشیخ سے کہنا کہ آپ بھی کوئی دلچسپ بات سنائیں۔جب ان کی باری آتی تو وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شجاعت کے واقعات بیان کرتے ۔ اللہ ان کی آخرت بہتر کرے ۔

الشیخ قاری شعیب حفظہ اللہ کے تاثرات:

«السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔جی اعجاز صاحب! اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔آپ نے الشیخ (الشیخ ضیاء الرحمن المدنی رحمہ اللہ ) کی یادیں تازہ کرنے کا موقع دیا ہے ۔ الشیخ ضیاء الرحمن المدنی رحمہ اللہ زیادہ وقت مکہ میں گزارتے تھے ۔تاکہ وہاں اللہ کے گھرمیں عمرے کا موقع مل سکے ۔اور وہ زیادہ سے زیادہ نمازیں مسجد الحرام میں ادا کر سکیں ۔تو ہم انہیں کہتے تھے کہ آپ تومکہ میں رہتے ہیں،اور تعلیم کے لئے آپ مدینہ آجاتے ہیں ۔

فرضی روزے کے علاوہ نفلی روزے کا اہتمام کرتے۔ خاص طورپر سوموار اور جمعرات کے روزے کا بہت زیادہ اہتمام کرتے تھے۔ذکر و اذکار کا بہت ذوق وشوق تھا ۔نہایت متواضع اور ملنسار تھے۔ علم کے حوالے سے بھی فائق تھے۔ میں نے جس مسئلے سے بھی ان کے ساتھ بات کی تو اُن کی معلومات کو بڑھ کر پایا ۔مشکلات میں ساتھیوں سے بہت زیادہ تعاون کرنے والے تھے ۔کسی کا بھی کوئی مسئلہ ہوتا تو اس کو حل کرنے میں سبقت کرتے تھے ۔ ان کے بارے میں یہ چند باتیں ہیں جو فوری طور پر ذہن میں آئیں۔میں نے آپ کے گوش گزار کر دیں ۔اللہ تعالیٰ الشیخ کے درجات بلند فرمائے ۔جزاک اللہ خیرا ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔»

محترم عبدالغفار بھائی (اوکاڑہ) کے تاثرات:

«السلام علیکم ورحمة الله وبركاته۔ الشیخ ضیاء الرحمن رحمہ اللہ کی اندوہ ناک شہادت عالم اسلام کے لئے عظیم سانحہ ہے۔ بہت عظیم انسان تھے۔ صالح اور باعمل عالم دین تھے ۔جامعہ ابی بکر اسلامیہ ایک بار پھر یتیم ہو گیا۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔لواحقین کو صبر عظیم عطا فرمائے ۔آمین یا رب الرحیم۔

إنا لله وإنا إليه راجعون، إن لله ما أخذ وله ما أعطى وكل شيء عنده لأجل مسمى فالتصبر ولتحتسب، اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وارفع درجته فى المهديين واخلفه في عقبه فى الغابرين. آمين اللهم آمين»

الشیخ قاری ضیاء الاسلام حفظہ اللہ کے تاثرات:

الشیخ ضیاء الرحمٰن رحمہ اللہ پراعتماد شخصیت کے مالک تھے۔ ہمارے دوست بھی تھے۔ جامعہ ابی بکر میں ہمارے سینئر تھے۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ کے بھی ساتھی تھے۔ اللہ نے بہت صلاحیت دی تھی اور انہوں نے جامعہ کے نظام کو بہتر انداز میں چلایا۔ان کے والد (الشیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ ) کی وفات کے بعد جامعہ کے معاملات کچھ مدت اتار چڑھاؤ کا شکار رہے۔ الشیخ ضیاء الرحمٰن نے جب سے جامعہ کے امور کو سنبھالا تھا۔ تو معاملات میں سلجھاؤ اورٹھہراؤ آ گیا تھا۔ انھوں نے اپنے والد کے خلا کو پر کر دیا تھا۔ قائدانہ صلاحیتیوں کے مالک تھے۔ان کی موت جامعہ کا لیے بہت بڑا نقصان تھا۔ بلکہ دین کے طلبہ کے لیے بھی بہت بڑا نقصان اور صدمہ ہے۔

مؤسس الجامعہ نمبر

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ (کراچی)سے شائع ہونے والے مجلہ اسوۂ حسنہ کا جولائی 2012ء (شعبان، رمضان 1433ھ) کا شمارہ میرے سامنے کھلا ہے۔ میرے مکتبہ کی زینت ہے۔یہ مؤسس الجامعہ نمبر ہے۔ اس کے سرورق پر لکھا ہے:»جناب فضیلۃ الشیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ شہید رحمۃ اللہ علیہ۔ حیات، خدمات، تاثرات» ۔ اس مجلہ میں الشیخ ضیاء الرحمٰن رحمہ اللہ کی اپنے والد کے بارے میں ایک تحریر ہے۔ جس سے اقتباس پیش خدمت ہے:

«میرے والد ! میرے مربّی!

الشیخ ضیاء الرحمن حفظہ اللہ

میری پیدائش ۲۹ اپریل ۱۹۷۷ کو ماڈل کالونی کراچی میں ہوئی۔ بچپن کے حسین ایام اسی عمل میں گزرے ناظرہ کی تعلیم میں نے قاری ثناء اللہ حفظہ اللہ سے حاصل کی ۔ گورنمنٹ فریال ہائی سکول میں داخلہ لیا اور اسی اسکول میں تقریباً ۳ سال تک زیرِ تعلیم رہا ۔اس کے بعد والد صاحب نے ماڈل کالونی میں ہی شاہ اسماعیل شہید اسکول بنایا تھا۔ پرائمری کا امتحان میں نے ممتاز نمبروں کے ساتھ اسی اسکول سے پاس کیا۔ بچپن میں تقریباً ۸ ماہ سعودیہ میں قیام رہا ۔

والد صاحب ایک عظیم مربی ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مدبر مصلح تھے۔ وہ لاشعوری طور پر اصلاح کیا کرتے تھے۔ میں جامعہ ابی بکر میں زیرِ تعلیم تھا، دورانِ امتحان میں جامعہ میں ہی ٹھہرجاتا تھا تاکہ یکسوئی سے امتحان کی تیاری ہوسکے۔ ایک بار امتحانات کے دنوں میں اچانک ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ آج ناریل کھائے جائیں۔ میں نے کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر جامعہ سے خوب سیر ہوکر ناریل توڑے۔ سوئے حظی والد صاحب کو کسی ذریعہ سے ہماری اس حرکت کا علم ہوگیا، والد صاحب کی سزا بہت سخت ہوا کرتی تھی، اس لئے میں بہت زیادہ پریشان ہوگیا۔

انہوں نے مجھے اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھایا اور ماڈل کالونی سے آگے لےجاکر گاڑی روکی، اور مجھ سے پوچھا کہ ضیاء الرحمن ! ایک ناریل کتنے کا ہے؟ میں نے مروجہ قیمت بتلائی، تو کہنے لگے تم صرف اتنی معمولی سی قیمت کے عوض اپنے باپ کی عزت نیلام کرنا چاہتے ہو؟ ان کے یہ درد بھرے کلمات آج بھی مجھے غلط کام سے روک لیتے ہیں۔ جزاہ اللہ خیراً

راقم الحروف کو میٹرک پاس کرنے کے بعد والد صاحب نے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں داخلہ دلوایا، تاکہ میری تربیت اسلامی خطوط پر ہوسکے انہوں نے کبھی بھی جامعہ میں باپ بیٹے کے رشتے کو ظاہر نہیں کیا۔ حقیقی بات تو یہ ہے کہ مجھے تقریبا دو سال کے بعد علم ہوا کہ میرے والد اس جامعہ کے مدیر ہیں۔

الشیخ ضیاء الرحمٰن رحمہ اللہ کے رقم کردہ تاثرات پڑھ کر اچھا لگا۔ کیا معلوم تھا کہ خود ان کے بارے میں بھی تاثرات رقم کرنے کا وقت آئے گا۔

حسن انتخاب

اس عنوان سے الشیخ ڈاکٹر مقبول احمد مکی نے مؤسس الجامعہ نمبر میں «گلدستہ مدرسین» مرتب کیا ہے۔ اس سے اقتباس دیکھئے۔ یہ اقتباس اس لیے درج کر رہا ہوں کہ یہ اقتباس جامعہ کے تعارف کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔

«الشیخ (ظفر اللہ) رحمہ اللہ کی حیات سعیدہ میں جن شیوخ الکرام کے دمِ فیض سے جامعہ کو شرف ملا اُن میں سے چیدہ چیدہ کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں:

1۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ

2۔فضیلۃ الشیخ حافظ عبد الغفار اعوان (المدني) حفظہ اللہ

3۔ فضیلۃ الشیخ عطا ء اللہ ساجد حفظہ اللہ

4۔ فضیلۃا لشیخ علامہ عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ

5۔ فضیلۃ الشیخ علامہ شیخ الحدیث حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ

6۔فضیلۃ الشیخ حافظ شیخ الحدیث محمد شریف حفظہ اللہ

7۔فضیلۃ الشیخ عطاء اللہ الجدانی حفظہ اللہ

8۔فضیلۃ الشیخ شبیر احمد نورانی حفظہ اللہ

9۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر نصیر احمد اختر حفظہ اللہ

10۔فضیلۃ الشیخ علامہ محمد یعقوب طاہر رحمه الله

11۔شیخ الحدیث علامہ عمر فاروق السعیدی حفظہ اللہ

12۔فضیلۃ الشیخ ابو عبد المجید محمد حسین بلتستانی حفظہ اللہ

13۔فضیلۃ الشیخ قاري محمد ادريس رحمه الله

14۔فضیلۃ الشیخ قاری عبد الرحیم طور حفظہ اللہ

15۔فضیلۃ الشیخ محمد ابراہیم طارق حفظہ اللہ

admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago