شہیدا بن شہید رحمہما اللہ

آج تقریبا دو ماہ مکمل ہونے کو ہیں اور مدیر مجلہ ڈاکٹر مقبول احمد مکی حفظہ اللہ حسب معمول اپنے نرم سے لہجے میں یاد دھانی کرواتے ہوئے کہ شیخ صاحب ضیاء الرحمن رحمہ اللہ کے حوالے سے کچھ لکھ دیں ۔میں پچھلے دو ماہ سے لکھ لکھ کر ڈیلیٹ کر رہا ہوں ایک مضمون تقریبا سات صفحات کا لکھا جانے کس کیفیت میں وہ مضمون مکمل ہی ڈیلیٹ کر دیا۔ کبھی کچھ لکھتا ہوں تو کبھی کچھ لکھتا ہوں زندگی میں دو سری مرتبہ کسی کے لیے لکھنے میں اتنی مشکل پیش آ رہی ہے الفاظ گویا کہ ختم ہو گئے ہیں جملے بن نہیں رہے۔پہلی مرتبہ ابی جی رحمہ اللہ کی وفات پر اور دوسری مرتبہ ضیاء الرحمن رحمہ اللہ ۔آج تو ڈاکٹر مقبول احمد مکی صاحب سے آنکھیں چرا رہا تھا کہ انہیں کیا بتاوں کہ مضمون مکمل کر کے ڈیلیٹ کر دیا ہے اور اب دوبارہ کتنا مشکل ہے لکھنا۔ اچھا کوشش کرتا ہوں بے ربط تحریر پر اپنے قارئین سے معذرت۔

ضیاء الرحمن رحمک الله تمہاری باتیں کہاں سے شروع کروں کچھ سمجھ نہیں آ رہی ایسا کرتا ہوں کہ تمہاری داستاں ماں جی حفظہا اللہ سے کرتا ہوں شاید کچھ قلم چل پڑے۔ ماں جی کے عنوان سے لکھنا جانے کیوں آسان لگا ہمیشہ سے ۔

بھئی تمہاری دنیاوی زندگی تمہاری ماں جی سے ہی تو شروع ہوئی تھی نا ۔

اُمِ سلیم بنتِ ملحان رضی اللہ عنہا کی ایک روحانی بیٹی ام ضیاء الرحمن حفظہا اللہ( زوجہ شیخ محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ )

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی عظیم والدہ اپنی کنیت اُمّ ِ سلیم سے معروف ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا صبر و استقلال کے ساتھ مضبوط عزائم اور قوّتِ ارادی کی مالک تھیں۔ ان کا دوسرا نکاح زید بن سہل رضی اللہ عنہ (جو ابوطلحہ کے نام سے مشہور تھے) سے ہوا۔انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ’’ میری والدہ اُمّ سلیم کے ہاں ابو طلحہ سے ایک بیٹا ہوا، جس سے ہم سب بہت پیار کرتے تھے۔ ایک دن وہ بچّہ فوت ہوگیا۔ والدہ کو بچّے سے اُن کی انسیت کا اندازہ تھا۔ لہٰذا، اُنہوں نے بیٹے کے جسدِ خاکی کو غسل وغیرہ دے کر تیار کیا اور کمرے میں لِٹا کر چادر ڈال دی۔ خود بھی بنائو سنگھار کرکے تیار ہو گئیں۔رات کو جب ابوطلحہ رضی اللہ عنہ گھر واپس لَوٹے، تو اُنہوں نے آتے ہی بچّے کے بارے میں پوچھا، جواب ملا کہ’’ آرام و سکون میں ہے۔‘‘ اِس پر وہ مطمئن ہوگئے۔ کھانا وغیرہ کھا کر فارغ ہوئے اور بستر پر سونے کے لیے لیٹے، تو صابر و شاکر اہلیہ نے ایک عجیب سا سوال کردیا’’ بولیں، اگر کوئی آپ کے پاس اپنی امانت رکھوائے اور کچھ دن بعد واپس مانگے، تو کیا کریں گے؟‘‘ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا’’ اُسے فوراً واپس کردینا چاہیے۔‘‘ بولیں’’ اللہ نے ہمیں جو بچّہ دیا تھا، وہ ہم سے واپس لے لیا ہے۔‘‘ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بچّے کی تدفین کی اور خدمتِ اقدس ﷺ میں حاضر ہو کر اکلوتے بیٹے کی وفات کا بتایا۔ رسول اللہﷺ نے دُعا فرمائی کہ’’ اللہ بہت جلد تمھیں اولاد عطا فرمائے گا۔‘‘ چنانچہ عبداللہ پیدا ہوئے، تو والد اُنھیں رسول اللہﷺ کی خدمت میں لے گئے۔ آپ ﷺنے عجوہ کھجور چبا کر بچّے کے منہ میں ڈالی، تو وہ اُسے چوسنے لگا۔ آپﷺ نے فرمایا’’ دیکھو! انصار کو کھجور سے کیسی محبّت ہے۔‘‘ (صحیح مسلم 6322)

یہ ہے ام سلیم رضی اللہ عنہا کے صبر و تحمل کی کہانی جو امام مسلم رحمہ اللہ کی زبانی آپ نے سن لی۔ممکن ہے آپ کہیں کہ بات تو ضیاء الرحمن رحمہ اللہ کی والدہ حفظہا اللہ کی ہو رہی تھی تو ام سلیم رضی اللہ عنہا کا ذکر خیر کہاں سے آ گیا ۔ اب آئیے میں آپ کو ان کی ایک روحانی بیٹی کی کہانی سناتا ہوں۔

ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی اس روحانی بیٹی کے مابین زمانی و مکانی دونوں ہی فاصلے تھے ام سلیم رضی اللہ عنہا ساڑھے چودہ سو سال قبل مدینہ منورہ کی باسی تھیں اور ان کی روحانی بیٹی تو آج بھی کراچی میں بقید حیات ہیں حفظہا اللہ ۔

1997 میں ایک ایکسڈینٹ میں شوہر، دو لاڈلے چھوٹے بیٹے، ماں جیسی خالہ اور بہت ہی پیارا بھانجا سب ایک ہی وقت میں اللہ اللہ کر گئے۔

وہاں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بیٹے کو غسل دے کر چادر اوڑھاکر پوری رات شوہر کے ساتھ گزاری اور یہاں ان کی روحانی بیٹی کے سامنے محبوب شوہر، دو بیٹے، بھانجے اور خالہ کے جسد خاکی سامنے تھے اور لوگوں کو صبر کی تلقین کر رہی تھیں۔

واللہ العظیم مجھے ابتداء میں اس بات کی قطعا سمجھ نہیں آئی تھی کہ میرے محبوب شیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ اتنی کم عمر میں اتنے بڑے بڑے عظیم کام کیسے کر گئے جس دن یہ واقعہ سنا تھا اس دن سمجھ آئی تھی کہ ہمارے محبوب وجود مزکی ﷺ کی مکی دور میں دعوت دین کے حوالے سے جو بھی کامیابیاں تھیں ان میں ان کی محبوبہ بیوی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا بہت بڑا کردار تھا تو میں یہ کہتا ہوں کہ پروفیسر محمد ظفر اللہ کی کامیابیوں کے پیچھے ام سلیم رضی اللہ عنہا کی اس روحانی بیٹی کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔اس امر کی سمجھ میں نہیں آئی تھی کہ ضیاء الرحمن حفظہ اللہ کی گفتگو میں جو تقوی اور للہیت اور معاملہ فہمی نظر آتی ہے اس کا سبب کیا ہے تو معلوم ہوا کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی روحانی بیٹی کی تربیت ایسی ہی باکمال تھی۔

 بیٹے کو جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی ادارت اس لیے نہیں ملی کہ وہ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ کے بیٹے ہیں بلکہ اس لیے کہ ان کی تربیت ام سلیم رضی اللہ عنہا کی اس روحانی بیٹی نے کی تھی جامعہ ابی بکر کو ایک عام استاد کی حیثیت سے جوائن کیا اور مختلف ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے اللہ نے اتنی بڑی ذمہ داری ان کے کاندھوں پر ڈال دی اور انہی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ کہہ دیا۔

تو بات بہت دور نکل جائے گی لیکن مجھے کہنے دیں کہ عورت کا صبر و تحمل بہت ہی کمال کا ہوتا ہےاور بالخصوص وہ عورت اگر ماں ہو تو پھر قرآن مجید بھی اس کی مثالیں دیتا ہے۔ابراہیم علیہ السلام بیوی اور شیر خوار بچے کو وادی غير ذي زرعمیں چھوڑ آئے تھے ۔کیا یہ صرف ابراھیم علیہ السلام کا امتحان تھا ھاجرہ علیہا السلام کےصبر و تحمل کا امتحان نہ تھا۔تو ھاجرہ علیہا السلام سے جس سفر کا آغاز ہوا تھا اس کی ایک کڑی ام سلیم رضی اللہ عنہا کی صورت میں تھی بہت ساری کڑیاں درمیان میں آتی گئیں اور اسی کی ایک کڑی پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ کی اھلیہ اور شیخ ضیاء الرحمن المدنی حفظہ اللہ کی والدہ محترمہ کی صورت میں ہے۔ اس طرح کے خوبصورت و خوب سیرت وجود آپ لوگوں کو بھی اپنے ارد گرد مل جائیں گے، ایسی ماؤں کے حالات جمع کیجیے نسل نو کو بہت ضرورت ہے۔

ضیاء الرحمن رحمہ اللہ کی وفات پر ان کی اہلیہ اور والدہ کا اولین پیغام یہی ملا کہ جامعہ کے اساتذہ و علماء جو کہیں گے وہی ہو گا۔ میں اپنی اس روحانی ماں کے قصے لکھنا شروع کروں تو شاید جگہ کم پڑ جائے لیکن حافظ عبیداللہ جمعہ کے خطبہ میں بیان کر رہے تھے کہ امی جی نے آج کہا ہے کہ بیٹے صدمہ بہت بڑا ہے بس یہ واحد جملہ تھا جو ان کے منہ سے ادا ہوا باقی وہ اپنی تینوں بیٹیوں پوتیوں کو ہی سنبھال رہی ہیں ان سب کو حوصلہ دے رہی ہیں تسلی دے رہی ہیں جبکہ ان کی عمر تقریبا اسی (80)سال کے قریب ہو چکی ہے۔میری روحانی ماں آپ کو میرے ہزاروں سلام اور مسلسل دعائیں، جامعہ کے ہزاروں طلباء آپ کے بیٹے آپ کے لیے دعاگو ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ایک تربیت یافتہ ماں ایک کامیاب نسل۔بس یہی پیغام دینا تھا۔

مسلمان کی زندگی کا آغاز دعا سےہوتا ہے اور دعا پر ہی ختم ہوتا ہے بلکہ مسلمان کا وجوداس کے ماں باپ کی دعاوں کی قبولیت کا مظہر ہوتا ہے ۔

بِاسْمِ اللهِ، اَللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا [مسلم3533]

ہمارے والد پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ کی حادثاتی وفات پر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے اساتذہ طلباء و علماء نے ایک دعا کثرت سے مانگی تھی

إِنّا للهِ وَإِنَا إِلَيْهِ راجِعون،اَللَّهُمَّ اْجُرْني في مُصيبَتي،وَاخْلُفْ لي خَيْراً مِنْها [مسلم 623]

اللہ رب العزت نے ہماری دعاوں کو قبولیت کاشرف بخشتے ہوئے ہمیں چوہدری عبدالحفیظ رحمہ اللہ ، ڈاکٹر راشد رندھاوا رحمہ اللہ اور پھر محمد عائش رحمہ اللہ عطا کیے اور اس دعا کا سب سے بہترین اور خوبصورت مظہر ہمارے دوست محبوب شیخ ضیاء الرحمن رحمہ اللہ تھے جنہوں نے اپنی انتھک محنت سے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کو ہر اعتبار سے مثالی بنا دیا۔

تو شیخ ضیاء الرحمن رحمہ اللہ خود ایک دعا کے نتیجے میں جامعہ کو عطا کیے گئے تھےہم نے شیخ ضیاء الرحمن رحمہ اللہ کی مظلومانہ وفات پر صبر و استقامت کے ساتھ یہی دعا پھر مانگنا شروع کر دی کہ

اللہ بس تو ہی ہے تیرے علاوہ کوئی نہیں، پہلے بھی تو تھا آج بھی تو ہی ہے اور کل بھی تو ہی ہو گا، باقی سب کا مقدر فنا ہونا ہے۔

كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ

رسول اللہﷺکی وفات سے بڑھ کو ئی سانحہ نہیں ہو سکتا، جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے روحانی بانی سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر جس عزیمت کا مظاہرہ کیا تھا وہ اپنی مثال آپ تھاذرا سنیے تو سہی

أَلا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَيٌّ لاَ يَمُوتُ(صحیح البخاری:3668)

دیکھو اگر کوئی محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ محمدﷺ کی وفات ہوچکی ہے اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے اسے موت کبھی نہیں آئے گی ۔

 بس یہ بات عقیدے کی ہے وگرنہ سچ کہوں تو آج تک جامعہ کے طلباء واساتذہ شیخ محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ کی حادثاتی وفات کا صدمہ نہیں برداشت کر پائےاوپر سے شیخ ضیاء الرحمن رحمہ اللہ کی مظلومانہ شہادت کا صدمہ۔۔۔

شہادتوں کا اس سلسلہ کا آغاز تو خانوادہ نبوت سے ہوا تھا اسلام کے پہلے شہید رسول اللہﷺ کے بھانجے حارث رضی اللہ عنہ تھے پھر اس مظلومانہ شہادتوں کی اس خوبصورت لڑی میں سید نا حمزہ رضی اللہ عنہ، سید نا عمر فاروق رضی اللہ عنہ، سید نا عثمان رضی اللہ عنہ، سید نا علی رضی اللہ عنہ، سید نا حسین رضی اللہ عنہ اور چلتے چلتے ضیاء الرحمن رحمہ اللہ بھی اسی خوبصورت کڑی کا جزو لا ینفک بن گئے، کیا اعزاز اور شرف کی بات ہے، اللہ نے وہ مقام عطا کیا جس مقام کی فضیلت کے لیے یہی کافی ہے کہ خود رسول اللہ ﷺاس کے لیے دعا کرتے تھے۔

میرے خاندان نےبھی دو شہید اس راہ میں پیش کیے ہیں الحمدللہ دادا ابو حکیم فیض عالم صدیقی رحمہ اللہ اور چھوٹا بھائی اسرار فیض رحمہ اللہ ۔ اس لیے میں شہادت کے معنوی اور حسی اثرات کا ذاتی مشاھد ہوں جانتا ہوں اس لیے پورے یقین کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ میرا بھائی ضیاء الرحمن رحمہ اللہ اپنی خلوت اور جلوت دونوں میں راہ حق کا شہید تھا۔ ان شاء اللہ العزیز۔

میرے ساتھ اس کی زندگی کے تقریبا پینتیس سال گزرے ہیں میں اس کے شب و روز کا گواہ ہوں عجیب انسان تھا بہت بدل گیا تھا اپنی زندگی کے آخری سالوں میں مکمل تبدیل ہو گیا تھا اسکی زندگی کا صرف ایک مقصد تھا کہ دین کےلیے استعمال ہونا اور اس حوالے سے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ اس کی تمام تر جہود و کاوشوں کا مرکز تھی۔

اتنے واقعات ہیں اس کے ساتھ لیکن جانے کیوں لکھنے بیٹھتا ہوں تو دماغ بالکل سفید سلیٹ کی مانند ہو جاتا ہے بالخصوص جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے حوالے سے میرا اوراس کا ساتھ دو ہزار پندرہ سے جو شروع ہوا اس میں بہت کچھ امانت ہے اسے ان کہی ہی رہنا چاہیے لیکن کچھ باتیں ضرور کہوں گا کسی سے انتقام لینے میں وہ کمال اخلاق کا مالک تھا۔ اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کی بھی تو فورا معافی کا طلب گار ہو گیا کہتا تھا کہ بس میرے لیے پہلی مرتبہ جب ابا جی رحمہ اللہ نے ایک ناکردہ غلطی کے نتیجے میں کسی کے پاس معافی کے لیے بھیجا تھا وہ معافی مانگنا میرے لیے مشکل تھی بس اس کے بعد معافی مانگنا میرے لیے کبھی بھی مشکل نہ ہوئی۔ایک مرتبہ جامعہ کے کسی معاملے میں میری اس کی کچھ تلخ کلامی ہو گئی اور بات ختم ہو گئی رات گیارہ بجے اس کا فون آیا فیض کہا ں ہو میں نے کہا ایک شریف آدمی اس وقت اپنے گھر میں ہی ہو سکتا ہے تو کہنے لگا اس شریف آدمی سے کہو کہ جامعہ آ جائے۔میں جامعہ پہنچا تو اس وقت ضیاء الرحمن اپنے آفس میں اکیلا تھا بلکہ آس پاس کے دفاتر میں بھی کوئی نہ تھا ۔ میں اس وقت حیران رہ گیا جب اس نے کہا کہ فیض اس وقت صرف معافی مانگنے آیا ہوں دوپہر تم سے تلخی ہو گئی تھی تمہاری بات ٹھیک تھی بس تمہارا انداز مجھے اچھا نہ لگا میرے اندر کا جٹ جاگ گیا تھا ۔ رحمہ اللہ وغفر اللہ لہ و نور اللہ قبرہ ۔ اس کی باتیں ایسی ہی کھلم کھلا ہوتی تھی۔کہنے لگا فیض، اللہ سے وعدہ کیا ہے کہ رات سونے سے قبل کسی کے خلاف ناراضی یا کینہ یا بغض دل میں رکھ کر نہیں سونا پتا نہیں صبح اٹھ سکوں یا نہیں تو بس اسی لیے تمہیں زحمت دی ہے حالانکہ مجھے تمہارے گھر آنا چاہیے تھا بس اس لیے نہیں آیا کہ پتا نہیں تمہارے گھر والے سو گئے ہوں گے وہ یہ ساری باتیں کہہ رہا تھا اور میں اس کی شکل دیکھ رہا تھا اور اس وقت میری آنکھ میں آنسو تھے۔ اور آج جب لکھ رہا ہوں تو پھر آنکھوں میں آنسو ہیں ۔

پتا ہے کیا ؟ اس کی ڈیڈ باڈی کو میں ہسپتال سے جامعہ لے کر آیا تھا اس کو غسل دینے میں شریک رہا اسے اپنی آنکھوں کے سامنے قبر میں اترتے ہوئے دیکھا لیکن دل ہے کہ مان نہیں رہا۔ یوں لگتا ہے جیسے ابھی اس کا فون آ جائے گا فیض یار کہاں ہو یہ کام کر دو فیض اس میں تمہاری کیا رائے ہے واٹس اپ کر دینا سوچ سمجھ کر۔ فیض جامعہ کا یہ کام ہے کر دینا یہ فائل تیار کر دینا اور جامعہ میں ہوتا ہوں تو یوں لگتا ہے ابھی اس کمرے سے نکلے گا یہاں ہو گا ابھی وہاں بیٹھا ہو گا ۔ابھی بھی اس کا نمبر سپیڈ ڈائل پر ہی موجود ہے کئی مرتبہ بے دھیانی میں اس کا نمبر ڈائل کر چکا ہوں ۔ضیاء بہت مشکل میں ڈال گئے ہو یار تم ۔ آج پھر سارا واٹس اپ شروع سے لے کر آخری رابطے تک، عصر سے مغرب ہو گئی، تمہیں سناتا رہا اور تمہاری سنتا رہا۔

ضیاء الرحمن رحمہ اللہ چھوٹی عمر میں بہت بڑے بڑے کام کر گیا وقت کا صحیح استعمال اور اس حوالےسے وہ اسلاف رحمہم اللہ کا حقیقی مقتدی تھا کبار محدثین اور فقہاء کی عمریں دیکھیں اور ان کے علمی کارنامے و جہود دیکھیں عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کیا واقعی اتنے کم وقت میں یہ ممکن بھی ہے ؟

لیکن شیخ محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ بھی بوقت وفات پچپن سال کے تھے تو بیٹا بھی چھیالیس سال میں نوے سال کی زندگی گزار گیا۔ بھئی [شہید بن شہید] ایسا ہی ہو سکتا ہے۔

ضیاء الرحمن میں حفظ مراتب کمال کا تھا بڑے کا احترام تو کرتا ہی تھا چھوٹے کا احترام بھی کمال کا تھا شاید چھوٹوں کا احترام اسے گھٹی میں ملا تھا شیخ محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ بھی اپنے طلباء کو شیخ صاحب کہہ کر پکارتے تھے۔یعنی وہ [شہید بن شہید] تھا۔

فیض الابرار مجھے تمہاری نمایاں کامیابی چاہیے پھر اس کے بعد شیخ محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ میرے کاغذات خود مدینہ لے کر گئے اور جامعہ اسلامیہ میں جمع کروائے اور جاتے ہوئے کہہ کر گئے تھے کہ بیٹا جی تیار رہنا جانے کے لیے ۔ پھر میں وسائل کی دنیا میں شاید نہ جا سکتا تھا لیکن مدینہ مکہ پہنچ گیا ۔یہ باپ کا احسان تھا مجھ پر۔

فیض جامعہ اسلامیہ میں تقدیر کیا بنی ہے تمہاری،بس اپنی سند کی اور دیگر کاغذات کی فوٹو کاپی مجھے دو اور پھر بیٹے نے میرا نام اپنے ہاتھوں سے اس درخواست پر لکھا جسے کمیپوٹر سے لکھا گیا تھا اور فائنل کر لیا گیا تھا ۔ پھر مجھ پر رزق کے دروازے کھل گئے تھے ۔ یہ بیٹے کا احسان تھا مجھ پر، واقعی وہ [شہید بن شہید]تھا۔

شیخ محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ سوچ کی رفتار سے کام کرتے تھے یہی وجہ تھی کہ وطن عزیز میں ایسا تعلیمی ادارہ بنا گئے جس کی مثال وطن عزیز میں نہ پہلے تھی اور نہ بعد میں نظر آئی۔ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ عربی زبان میں تدریس کا پاکستان میں اولین ادارہ تھا جسے بین الاقوامی جامعات میں ایک خاص اہمیت حاصل تھی بیٹے نے اس کام کو اس سے بھی زیادہ برق رفتاری سے آگے بڑھایا جس کی تفصیلات سر دست قبل از وقت ہوں گی پھر کبھی سہی لیکن پھر ثابت ہوا وہ [شہید بن شہید] تھا۔

شیخ محمد ظفر اللہ جامعہ کراچی سے ملنے والی اپنی تنخواہ کا آدھا حصہ جامعہ کو دیا کرتے تھے تو بیٹے نے بھی اپنی آمدنی کا ایک معقول حصہ جامعہ کے لیے وقف کیا ہوا تھا وہ واقعی شہید بن شہید تھا۔

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے حوالے سے وہ بہت کھلے دل کا مالک تھا کئی مرتبہ اس سے اختلاف ہوا لیکن پھر اس کی بات کا قائل ہونا پڑا کہ اس کی رائے بہتر اور انسب تھی۔جب کسی نے اس سے کہا کہ کوئی پروگرام کرنا ہے سیمینار کرنا ہے اجلاس کرنا ہے کبھی انکار نہیں کیا ۔ پوری بات کہنے سے قبل ہی اوکے کر دیتا تھا۔میں اس سے کہتا تھا یار سن تو لو پھر اوکے کرنا تو بس ایک جملہ ہوتا تھا تم راضی ہو نا بس میری طرف سے بھی اوکے ہے۔ کراچی میں اھل حدیث جماعتوں، اداروں اور علماء کے اتحادو یگانگت کا مظہر اھل حدیث ایکشن کمیٹی کے ابتدائی کچھ عرصے تک میں اکیلاجامعہ ابی بکر کی نمائندگی کرتا رہاجس میں بعد میں ڈاکٹر مقبول احمدمکی صاحب بھی شامل ہوئے۔

احباب ایکشن کمیٹی نے جب مجھ سے کسی پروگرام کا کہا میں نے ضیاء الرحمن سے پوچھے بغیر اوکے کر دیا اس نے اپنے ساتھیوں کو اتنا اعتماد دیا ہوا تھا کہ خیر کے کام میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے اور خیر کے کام میں کوئی بھی مجھے یا جامعہ ابی بکر کو استعمال کرنا چاہے شوق سے کرے۔

12 ستمبر 2023 رات ساڑھے دس بجے ایک میسج نے ہی دنیا ہلا دی تھی۔

شیخ فیض شیخ ضیاء کو گولی لگی ہے۔ ادھر فون ادھر فون کہیں بات نہیں ہوئی خالد گورایا صاحب کو فون کیا ایک جملہ ان سے سنا اور وہیں کھڑے قدموں بیٹھ گیا آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا کہ ضیاء الرحمن ۔۔۔جانے کیسے ہسپتال پہنچا فیس بک تمہارے جانے کے پیغامات سے بھر گیا تھا لیکن میں اور میرا دل ایک ہی بات کہہ رہا تھا اللہ کرے یہ خبر جھوٹی ہو ایسا ممکن ہی نہیں ہے تم نہیں جا سکتے۔ تمہیں پتا ہے کہ اسرار رحمہ اللہ کے قتل نے بھی ایسا ہی کچھ میرے ساتھ کیا تھا اور پھر تم نےبھی جانے کی اتنی جلدی کی ۔

إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَكَ وَارْحَمْ عَلَيْكَ، اللَّهُمَّ أَجِرْكَ مِنَ النَّارِ، وأَدْخِلْكَ فِي الْجَنَّةِ الْفِرْدَوسِ، اللَّهُمَّ زِدْ فِي حَسَنَاتِكَ وَكَفِّرْ عَنْ سَيِّئَاتِكَ، اللَّهُمَّ نَوِّرْ قَبْرَكَ وَوَسِّعْ مُدْخَلَكَ، اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ …

تمہیں بے جان دیکھنا میری بہت بڑی آزمائش تھی تمہیں غسل دینا اس سے بڑی آزمائش تھی پھر تمہیں قبر میں اترتے دیکھنا تو ۔۔۔

10ستمبر آخری ملاقات [جامعہ ستاریہ ائمہ کنونشن]

ضیاء الرحمن کہاں ہو یار سب انتظار کر رہے ہیں، بس یار پہنچ گیا بچیوں کو گھر ڈراپ کرنا ہے بس آ رہا ہوں۔آیا حسب معمول کھلی کھلی باتیں جس میں سب سے زیادہ تنقید اپنے اوپر کی تھی اور پھر کھانا اور سلام دعا ہوئی اور کہانی ختم ہو گئی۔

میٹرک ماڈل کالونی ایک پرائیویٹ سکول سے کیا اس کے بعد آئی کام کیا پھر بی کام کیا اور اس کے ساتھ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں دینی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہا جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے شعبہ معہد العلمی الثانوی سے 1995 میں فراغت ہوئی اور جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے کلیۃ الحدیث سے 2000 میں فراغت حاصل کی۔

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے شعبہ معہد العلمی الثانوی کا جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے معادلہ کی بنیاد پر ہماری 37 طلباء کی جماعت میں سے دو یا تین کے علاوہ تقریبا سب ہی ایک یا دو سال کے فرق سے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ پہنچ گئے لیکن حیران کن امر یہ تھا کہ اس فہرست میں ضیاء الرحمن حفظہ اللہ کا نام نہ تھا اور وجہ یہ تھی کہ اس نے داخلہ ہی نہیں بھجوایا تھا ۔کہ مجھے اپنی دینی تعلیم یہیں جامعہ ابی بکر میں ہی پوری کرنی ہے۔لیکن پھر بعض مشائخ اور ڈاکٹر راشد رندھاوا رحمہ اللہ کے کہنے پر جامعہ اسلامیہ داخلہ بھجوا دیا اور اس طرح 2005 میں کلیۃ الشریعۃ سے فراغت حاصل کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر جامعہ ابی بکر اپنی محبتوں کا مرکز و محور بنا لیا۔اس سے پہلے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ سے تعلق بطور طالب علم تھا اور اب بطور استاد اپنے فرائض کا اغاز کیا۔اور 2009 میں وکیل جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کا منصب سنبھالا اور پھر اس کے بعد نائب مدیر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے عہدے پر فائز ہوئے اور پھر غیر رسمی طور پر 2015 میں مدیر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں ۔ ممکن ہے میری بیان کردہ تاریخوں میں کچھ تقدیم تاخیر ہو محض اپنی یاد داشت کے سہارے لکھ رہا ہوں کیوں کہ کبھی ضیاء الرحمن نے ان ذمہ داریوں پر فائز ہونے کی تشہیر نہیں کی۔اس لیے مجھے حتمی تاریخوں کا علم نہیں ہے۔لیکن ایک بات ضرور کہہ سکتا ہوں کہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ اس کی رگوں میں خون کی طرح رواں دواں تھی، اس کی سوچیں اس کی فکریں اس کا کھانا پینا سونا جاگنا سب جامعہ ابی بکر الاسلامیہ ہی تھا۔

بالخصوص آخری پانچ سال مجھے یاد نہیں کہ ہماری ملاقات میں جامعہ ابی بکر کا ذکر نہ ہوا ہو،اپنے کسی ذاتی مسئلہ کے لیے یا مشورے کے لیے بھی ملاقات ہوتی تھی تو کہیں نہ کہیں سے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کا ذکر خیر نکل آتا تھا۔

آئیں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں ضیاء الرحمن کے اندر تقوی، للہیت کی وجہ کیا تھی ایک وجہ تو میں نے اپنی تحریر کے شروع میں بیان کر دی کہ وہ ایک عظیم ماں کا بیٹا تھا۔ دوسری وجہ اس کا مسلسل روزے رکھنا تھا ۔سینکڑوں علماء کے ساتھ ساتھ روابط ہیں ملنا ملانا رہتا ہے ۔اپنی معلومات کی حد تک نفلی روزوں کا اس قدر اہتمام کسی اور کے پاس نہیں پایا ہر پیر اور جمعرات کا روزہ تو معمول تھا ۔ ایام بیض کے روزے اس کے علاوہ ۔ذرا سوچیں تو سہی کہ نفلی روزوں نے اس کے داخل کو کتنا خوبصورت بنا دیا تھا ۔وہ فرشتہ نہ تھا معصوم نہ تھا لیکن اس کا باطن بہت خوبصورت تھا اور اس کی اصل وجہ جانتے ہیں کیا ہے آئیں بتاتا ہوں۔

شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ نے اپنی اولاد کے دل و دماغ میں ایک بات راسخ کر دی تھی کہ یہ جامعہ کی چیز ہے اس میں ہمارا کوئی حق نہیں لہذا جس چیز کے بارے میں یہ کہہ دیا جاتا تھا کہ یہ جامعہ کی ہے تو وہ چیز اس پورے گھرانے پر اختیاری کیفیت میں ممنوع ہو جاتی تھی ۔یہاں تک کہ شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ کے سب سے چھوٹے صاحبزادے عمیر رحمہ اللہ جس کی عمر شاید بوقت شہادت سات سال یا نو سال تھی اس کے واقعات تو ضیاء الرحمن ہمیں سناتا تھا ۔ ضیاء الرحمن ایک دن کہنے لگے کہ میں نے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں داخلہ لیا تو ابتدائی دو سال تک مجھے یہی نہیں پتا تھا کہ میرے والد یہاں کے مدیر ہیں۔ اور پتا چلنے کے بعد بھی شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ کی طرف سے ممانعت تھی کہ تم مجھ سے جامعہ میں نہیں ملو گے۔

امتحانات کے دنوں میں جب ہم اجتماعی مطالعہ کر رہے ہوتے تھے تو ہمیشہ کھانا اپنی جیب سے باہر سے کھاتا تھا جامعہ سے کھانا نہیں کھاتا تھا ۔

2005 تا 2011 تک جب وہ ایک عام استاد کی حیثیت سے جامعہ ابی بکر میں تدریسی فرائض انجام دے رہے تھے تو ایک عام استاد کی تنخواہ ہی لے رہے تھے پھر 2011 میں جب رزق کا دروازہ اس پر کھلا تو اس نے سب سے پہلے جامعہ سے لی گئی چھ سال کی تنخواہیں واپس کی اور اس کے بعد 2011 تا شہادت تک اس نے جامعہ سے کبھی کوئی مالی منفعت نہیں لی۔ بلکہ اپنی جیب سے جامعہ میں خرچ کیا کرتا تھا۔ نہ صرف وہ بلکہ اس کی والدہ اور بہنیں بھی سب کا جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے ساتھ مالی تعاون جاری رہتا تھا۔ میں نے اس خاندان کو کبھی جامعہ سے کوئی مالی منفعت حاصل کرتے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ جامعہ پر خرچ کرتے ہوئے ہی سنا اور دیکھا۔اگر میں بھول نہیں رہا ضیاء الرحمن رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ایک واقعہ سنایا کہ بہنوں نے ابو سے فرمائش کی ہمیں کہیں گھومنے جانا ہے شاید ساحل سمندر کا کوئی پروگرام بن گیا اور شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ نے کہا کہ عصر کے بعد آوں گا تو پھر چلیں گے۔اس دوران بچیوں کی تیاری دیکھ کر شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ کے والد مرحوم نے بچیوں سے پوچھا کیا بات ہے تیاریاں ہو رہی ہیں کسی ایک نے بتایا کہ آج ابو جی کے ساتھ گھومنے جانا ہے ۔بات ختم ہو گئی، نہیں جی بات ختم نہیں ہوئی بلکہ اصل بات تو اب شروع ہوئی ہے۔ضیاء الرحمن کے اندر حلال و حرام اور مشکوک اشیاء سے اجتناب کی انتہا درجے تک کیفیت موجود تھی۔ آپ یہ واقعہ پڑھیں گے تو آپ کو سمجھ آ جائے گی ۔شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ ماڈل کالونی حسب وعدہ عصر کے بعد جامعہ کی گاڑی میں گھر پہنچتے ہیں اور تینوں بہنیں بڑے جوش و خروش سے گاڑی میں بیٹھنے کے لیے نکلتی ہیں تو شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ کے والد مرحوم نے پوچھا ظفر اللہ کہاں کے ارادے ہیں اور بچیوں کو کیسے لے کر جاو گے؟

شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ نے بتایا ساحل سمندر جانا ہے اور گاڑی جامعہ کی ہے تو شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ کے والد مرحوم چوہدری عطاء اللہ رحمہ اللہ نے غصے سے کہا کہ ظفر اللہ کیا یہ گاڑی تمہارے باپ کی ہے جو اسے ذاتی استعمال میں لا رہے ہو۔فرمانبردار بیٹے نے بغیر چوں چراں کیے سر جھکایا اور جامعہ کی گاڑی کو وہی چھوڑا اور کرایہ کی گاڑی لے کر ساحل سمندر پر جایا گیا۔

یہ تھا حلال و حرام میں فرق، اب بتائیں مالی طور پر حلال و حرام میں اس قدر احتیاط سے بھرپور ماحول میں جس ضیاء الرحمن کی تربیت ہوئی ہو اس کے اندر تقوی و للہیت کیوں نہ ہو۔وگرنہ عمومی طور پر علماء بھی بعض اوقات ان باتوں کی طرف توجہ نہیں کرتے ۔

چونکہ جامعہ کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ سکول اور پھر بعد میں کالج میں بھی تعلیم کا سلسلہ جاری تھا لہذا امتحانات کی تیاری میں اس کا انداز دیکھ کر میں حیران رہ جاتا تھا ۔پورے سال کی تیاری اس کی اس طرح ہوتی تھی کہ اجتماعی تیاری میں بیٹھا رہتا اور سنتا رہتا تھا کہیں کہیں سوال کر لیتا تھا اور مجھ سے میرے تیار کردہ نوٹس لے لیتا تھا اور امتحان میں اس کا نتیجہ ہمیں حیران کر دیتا تھا اور میں اس سے ہمیشہ پوچھتا تھا کہ اللہ کے بندے پڑھتے کس وقت ہواور کیسے پڑھتے ہو۔ہم پورا سال پڑھ پڑھ کر تھک جاتے ہیں اور تم چند گھنٹوں میں سب کچھ ۔۔۔۔۔

اللہ تعالی نے اسے لاجواب حافظہ عطا کیا تھا۔ اس کے دروس میں نصوص کا کثرت سے استحضار اللہ کی جانب سے ایک خاص انعام تھا۔

حالات حاظرہ کے تناظر میں نصوص سے قوت استشہاد اور قوت استنباط میں وہ اپنی مثال آپ تھا بلکہ روز مرہ کی گفتگو میں بھی نصوص کا حوالہ ایسے دیا کرتا تھا جیسے یہ نصوص اس واقعہ کے ساتھ خاص ہو۔

ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ

ضیاء الرحمن تمہیں رحمہ اللہ کہتے ہوئے دل یوں ہے جیسے کسی نے مٹھی میں لے کر بھینچ دیا ہو لیکن ہم یہی کہتے ہیں کہ اللہ خوبصورت ہے اس کے فیصلے بھی خوبصورت ہیں۔دو ماہ ہو گئے ہیں میں اپنے آپ کو سمجھانے کی بہت کوشش کر رہا ہوں لیکن پتا نہیں سمجھاتا ہوں سمجھ جاتا ہوں پھر اس کا خون میں لت پت چہرہ سامنے آ جاتا ہے، سوچیں تو سہی جس چہرے کو مشکل سے مشکل حالات میں بھی مسکراتے ہوئے دیکھا ہو حوصلہ دینے والا دیکھا ہو وہ چہرہ بے جان اپنے ہی خون میں لت پت دیکھنا شاید نہیں دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔اپنی تحریر کے آخر میں ضیاء الرحمن رحمہ اللہ کے چاہنے والوں کے لیے کچھ گذارشات عرض کر دوں ہو سکتا ہے یہ گذارشات پرانی ہو گئیں ہوں لیکن میں ابھی بھی جہاں کہیں جاتا ہوں تو مجھ سے مسلسل سب سے زیادہ ضیاء الرحمن رحمہ اللہ کے حوالے سے ہی سوالات کیے جاتےہیں۔تو سوچا کہ کچھ گذارشات اس حوالے سے پیش کردوں امید ہے مفید ثابت ہوں گی۔

اول: ہم الحمدللہ مسلمان ہیں ہماری زندگی لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ کے مصداق ہونی چاہیے یعنی ہماری خوشیاں اور ہمارے غم سب کچھ دین کے تابع ہونی چاہیے۔ لہذا شہادت ضیاء الرحمن رحمہ اللہ کے حوالے سے ہمارا مجموعی رد عمل بھی دین کے تابع ہونا چاہیے۔

دوم: ہم مجموعی طور پر بسا اوقات ایسے بے حس رویوں کے حامل ہو جاتے ہیں کہ ہمیں نہ تو شرم آتی ہے نہ حیا کہ کسی کی موت فوت پر بھی اپنی سیاست چمکانے سے بعض نہیں آتے جہاں دل کیا اپنے ساتھ ایک ویڈیو کیمرے کو لیا اور ویڈیو بیان بازیاں شروع ہو گئیں نہ صورت حال کی نزاکت نہ جنازہ کی حرمت بس ویڈیو بیان ضرور آنا چاہیے۔ استغفر اللہ گھر والوں سے اجازت لیے بغیر آپ اپنے ویڈیو کیمرے لے کر کسی کے گھر گھس جائیں اور وہاں ویڈیو شوٹنگ شروع کر دیں۔ اخلاقی بلکہ شرعی و قانونی اعتبار سے ہم اجازت لینے کے پابند ہیں لیکن افسوس در افسوس دیندار طبقہ بھی ان آداب سے محروم نظر آتا ہے۔ میں یہاں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا کہ کچھ بڑے بڑے نام آتے ہیں۔

سوم: خدارا ضیاء الرحمن رحمہ اللہ کی شہادت کے حوالے سے اپنی من مانی قیاس آرائیاں نہ کریں کہ وہ اس وجہ سے شہید ہوئے یا اس وجہ سے شہید ہوئے کوئی تین سال پرانی دفاع صحابہ ریلی پر کی گئی تقریر کے ساتھ اس کی شہادت کو جوڑ رہا کوئی دو دن قبل جامعہ ستاریہ میں کی گئی تقریر کے ساتھ جوڑ رہا ہے اور پتا نہیں کیا کیا قیاس آرائیاں۔۔۔۔۔ ہم سب ذہنی طور پر بہت زرخیز ہیں اوپر سے لے کر نیچے تک کوئی ڈکیتی بنا رہا ہے کوئی موبائل چھیننے کی واردات بیان کر رہا ہے تو کوئی را کا کارنامہ بیان کر رہا ہے تو کوئی فرقہ وارانہ بنیاد پر۔۔۔۔ الغرض جتنے منہ اتنی باتیں۔

میں پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ التماس پیش کرنا چاہتا ہوں کہ خدارا ہمارا دین قیاس آرائیاں کرنے اور تکّے لگانے سے منع کرتا ہے ابھی تک قتل کے محرکات واضح نہیں ہوئے، جامعہ کی انتظامی کمیٹی تحقیقاتی اداروں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے ابھی تک قتل کے اصل محرکات کے حوالے سے صورت حال غیر واضح ہے،قاتل گرفتار ہو چکے ہیں اور تحقیقاتی ٹیم کی محنت پر ہمیں اعتماد بھی ہے او ر ان کے شکر گذار بھی ہیں۔ہم نے اپنے تحفظات ان کے سامنے پیش کر دیے ہیں ۔اس سب کے باوجود ہم روز اول سے اللہ تعالی کی بارگاہ میں بدست دعا گو ہیں اللہ قاتلوں کو عبرت کا نشانہ بنا۔

چہارم: اپنے تحقیقاتی اداروں جیسے پولیس اور دیگر اداروں کی بھرپور دل چسپی اور اس حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات سے مجھ سمیت جامعہ کی انتظامیہ مکمل طور پر مطمئن ہیں۔

پنجم: ہم سب وطن عزیز میں عدل و انصاف کی صورت حال سے بخوبی واقف ہیں لہذا زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے میں یہ کہنا چاہتا ہوں سوشل میڈیا پر جج پولیس بننے کی کوششوں سے اجتناب کریں۔

ششم: بے شمار احباب جو لازمی بات ہے مخلص ہیں ضیاء الرحمن رحمہ اللہ کے چاہنے والے ہیں انہوں نے قاتل کی گرفتاری تک بھرپور احتجاج کا مشورہ دے رہے تھے کہ گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کریں شاہراہ فیصل بند کر دیں وغیرہ وغیرہ

تو عرض ہے کہ ہمارے مسلک کا نمائندہ موقف یہی ہے کہ کسی کی موت فوت پر یا کسی بھی ظلم پر لوگوں کو تکلیف یا اذیت کا سبب نہ بنیں یہ رویے ہماری سوچ کے مطابق غیر شرعی ہیں کہ جنازے اٹھا کر سڑکوں پر بیٹھ جائیں یہ تو بذات خود شرعی تعلیمات کی مخالفت کے ساتھ ساتھ میت کی بھی توہین اور بے حرمتی ہے۔ آپ کا سب سے بڑا تعاون یہ ہو گا کہ آپ کے پاس اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی معلومات ہیں تو وہ ہم سے شیئر کریں۔

ہفتم: انتظامیہ تک اپنی آواز پہنچانے کے حوالے سے بھرپور پریس کانفرنس کی گئی جس میں مرکزی جمعیت اھل حدیث، جمعیت اھل حدیث، غرباء اھل حدیث، جمعیت اھل حدیث پاکستان، جامعہ الاحسان، جامعہ ستاریہ، معہد القران، معہد السلفی وغیرھا تمام جماعتیں و ادارے شامل ہیں، جسے میڈیا نے بھرپور کوریج کے ساتھ پیش کیا اور پولیس کی اعلی سطحی تشکیل کردہ کمیٹی بھرپور کام کر رہی ہے، سوشل میڈیا پر مثبت انداز میں آواز بلند کی اور احباب مسلسل یہ کام کر رہے ہیں ۔الحمدللہ

ہشتم: سب سے پہلے کسی کی موت و شہادت پر شرعی رد عمل سمجھنا چاہیے اور سب سے پہلا رد عمل صبر اور اللہ کے فیصلے پر راضی ہونا ہے کوئی شک نہیں کہ لیاقت علی خان سے بے نظیر بھٹو تک کے قتل کیسز جو بین الاقوامی توجہ کا مرکز ٹھہرے کچھ نہ ہوا تو دنیاوی اعتبار سے ضیاء الرحمن۔ رحمہ اللہ ان سے بڑا نہ تھا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ صبر کے ساتھ اللہ کے فیصلے پر راضی ہوں اور اللہ سے بھرپور مدد مانگیں۔

نہم: یہ دعا کریں کہ ضیاء الرحمن رحمہ اللہ کے قاتلین کے مقدر میں اگر اللہ نے ہدایت لکھی ہوئی ہے تو اللہ انہیں ہدایت دے وگرنہ انہیں دنیا میں ہی عبرت کا نشان بنا دے۔ اور ان شاء اللہ ایسا ہو گا مجھے یقین ہے۔ کسی کی مظلومانہ جان لینے والا سکون سے نہیں رہ سکتا۔

دہم: جامعہ کی انتظامیہ سے ہٹ کر کسی کے ردعمل یا موقف سے ہمارا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ہم اس کے ذمہ دار ہیں یہاں تک کہ جامعہ کے طلباء یا اساتذہ بھی ذاتی طور پر کچھ کہتے ہیں تو اس کی ذمہ داری جامعہ پر نہ ہو گی۔

اور آخر میں تمام مشائخ و احباب جو اس آزمائش میں ہمارے ساتھ تھے ہمیں حوصلہ دیتے رہے یقین کریں ہمیں تنہائی محسوس نہیں ہوئی یہاں میں سب کے نام نہیں لکھ سکتا کہ اعلی سطحی حکومتی شخصیات کے رابطے اور سب سے بڑھ کر علماء کی بھرپور سپورٹ سب پر یہی دعا کرتے ہیں کہ اللہ آپ کو جزائے خیر دے کہ آپ سب نے ہمارے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا۔ یقین ہے ایمان ہے کہ اللہ ہمارے ساتھ تھا ابھی بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا اور وہ بہترین اسباب پیدا کرنے والا ہے۔

الشیخ شاہ فیض الابرار صدیقی

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago