ضیاء الرحمن ۔۔۔۔رحمان کی روشنی

پہلی بات دلی وابستگی رکھنے والی فوت شدہ ہستیوں سے متعلق لکھنا کافی مشکل امر ہوتا ہے مبادہ کہیں جذبات میں قلم راہ اعتدال سے ہٹ ہی نہ جائے مگر بفحوائے حدیث  رسول

اَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ (صحیح البخاری)

مرحوم کی شخصی امتیازات کا تذکرہ کرنا ضروری بھی ہوتا ہے۔

دوسری بات اگر فوت شدہ ہستی کی وفات ناگہانی اور مظلومانہ ہو تو اس سے متعلق جذبات کوسپرد قلم کرنا اس لیے بھی باعث صعوبت ہوتا ہے کہ ذہن ان کی جدائی کو تسلیم نہیں کر رہا ہوتا جس بنا پر واقعات کی ترتیب سے متعلق ذہن الجھاؤ کا شکار رہتا ہے اور جس وجہ سے جملوں اور واقعات میں بے ربطگی در آتی ہے درج ذیل تحریر میں یہ چیز مذکورہ بالا دونوں امور کی بنا پر موجود رہے گی جس پر قارئین  سے پیشگی معذرت۔

تیسری بات اس تحریر کا اغلب حصہ ذاتی واقعات اور مشاہدات پہ مشتمل ہے اس لئے  جا بجا صیغہ متکلم(میں \مجھے\میں نے‎\‎میری) استعمال ہوگا امید ہے کہ قارئین اس «میں» کو برداشت کریں گے۔

پہلی ملاقات :

راقم  کی مکتبی تعلیم کا آغاز جامعہ تعلیم الاسلام مامونکانجن میں ہوا ایک دن غالبا عصر کی نماز کے لیے وضو کرتے ہوئے مجھے مولانا ابوبکر بن عائش  حفظہ اللہ   جو کہ جامعہ میں ہی بڑی کلاس میں زیر تعلیم تھے بتایا کہ ابھی آپ کے پاس جو لڑکا وضو کر کے گیا ہے اسے جانتے ہو میں نے نفی میں جواب دیا تو گویا ہوئے یہ شیخ ظفر اللہ  رحمہ اللہ مدیر جامعہ ابی بکر کراچی کے صاحبزادے ضیاء الرحمن بھائی ہیں میں نے پلٹ کر پیچھے دیکھا تو آپ  رحمہ اللہ جوتا پہننے میں مصروف تھے۔ یاد رہے کہ جامعہ تعلیم الاسلام میں زیر تعلیم ہر طالب علم کو جامعہ ابی بکر اور شیخ ظفر اللہ سے غائبانہ  تعارف حاصل تھا اور ان کی المناک شہادت کی سسک محسوس بھی کرتے تھے اسی بنا پر میں نے شیخ ضیاء الرحمن  رحمہ اللہ کو مترحم نگاہوں سے دیکھا نماز کے بعد محترم ابوبکر بن عائش  حفظہ اللہ  نےمجھے شیخ ضیاء الرحمن سے ملوایا اس وقت غالبا آپ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں زیر تعلیم تھے بہرحال شیخ سے علیک سلیک اور باہمی تعارف کے بعد میں اپنے کمرے میں آگیا ۔پہلی ملاقات میں  مجھے شیخ ضیاء الرحمن کی سادگی اور بے تکلفی نے متاثر کیا میں سوچ رہا تھا کہ جامعہ ابی بکر جیسے بڑے ادارے کے مدیر کا اکلوتا فرزنداور کراچی جیسے بڑے شہر کا رہائشی کافی سوٹڈ بوٹڈ شخصیت کا مالک ہوگا لیکن شیخ  رحمہ اللہ سفید رنگ کا معمولی لباس اور پاؤں میں عام سی چپل پہنےہوئے تھے۔

زندگی کے معاملات چلتے رہے میں جامعہ تعلیم الاسلام مامونکانجن سے جامعہ ابی بکر میں بغرض تعلیم منتقل ہو گیا راقم کا جامعہ ابی بکر میں آخری سال تھا اور اس میں ہمیں شیخ محترم سے علم المیراث پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔

علم المیراث مشکل مگر اہم مضمون تھا جبکہ  ان کی تدریس کا آغاز تھا،ہم مکتب ساتھیوں میں اس حوالے سے کافی فکرمند ی پائی جاتی تھی ہم نے ناظم تعلیمات سے اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو انہوں نے ہمیں صبر اور شیخ کو وقت دینے کی تلقین کی کہ آپ انہیں کچھ مدت تک برداشت کریں  رفتہ رفتہ ان کے طریقہ تدریس سے آپ مطمئن ہو جائیں گے۔ بہرحال وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے انداز تدریس میں کافی تبدیلی آئی اورکلاس کے تمام طلبہ اس ‏سے مکمل طورپہ  مطمئن ہوگئے انہوں نے ہمیں علم میراث میں الشیخ صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان کی ‏معروف کتاب  التحقيقات المرضية في المباحث الفرضية پڑھائی۔  اس دوران ناظم تعلیمات نے دو دفعہ کلاس میں بیٹھ کر ان کے طریقۂ تدریس کو مکمل طور پر جانچا اس واقعے سے شیخ  رحمہ اللہ کی عاجزی اور انکساری بھی واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنانسبی اور ذاتی تعلقات سے ناظم تعلیمات پہ دباؤنہیں ڈالا ۔

اندازِ تدریس:

آپ  رحمہ اللہ کا انداز تدریس انتہائی آسان اور سادہ ہوتا تھا۔ آپ رحمہ اللہ نے کلاس میں کبھی بھی مشکل اسلوب کلام یا غریب الفاظ کا استعمال نہیں کیا۔ علم میراث میں مسائل کی تفہیم کے لیے مثالیں بھی کلاس میں موجود طلبہ کو سامنے رکھ کر دیتے تھے۔ طلبہ کی حاضری فردا فردا سب کا نام لیکر خود لگاتے تھے اور  حاضری شیٹ پر آخر میں دستخط کرتے۔

آپ  رحمہ اللہ سب سے پہلے سبق کا خلاصہ بطرز تقریر بیان کرتے اس کے بعد سبق سے متعلق اہم نکات وائٹ بورڈ پر لکھتے اور طلبہ سے اس سے متعلق استفسار کرتے جب سبق ذہن نشین ہو جاتا تو کتاب کی عبارت کی تفہیم وتشریح کرتے جس سے سبق میں مزید پختگی آجاتی۔

نوازشیں، عنایتیں :

۱۔ راقم اثیم نے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں 2009 ء رسمی تعلیمی مراحل سے فراغت حاصل کی اس کے متصل بعد فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر مقبول احمد مکی حفظہ اللہ  کی ترغیب وخواہش پر جامعہ کے ساتھ  مستقل وابستگی اختیار کی اس سلسلے  میں جب آپ  رحمہ اللہ کے پاس اپنی درخواست لے کر حاضر ہوا تو انہوں نے فوراً اس پر دستخط ثبت کر دیئے۔

۲۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد راقم اثیم نے حق خدمت میں اضافے سے متعلق گزارش کی انہوں نے چند دن بعد ملاقات کا کہا حسب وعدہ دوبارہ حاضر ہوا تو انہوں نے میری تنخواہ سے متعلق پوچھا اور پھر میری خواہش کے عین مطابق اس میں اضافے کی منظوری کر دی۔ یہ اضافہ ماہ اکتوبر کے آخر میں کیا گیا چونکہ جامعہ  ابی بکرمیں بلامطالبہ مشاہرے بحمد اللہ ہر سال ماہ دسمبر دس فیصد اضافہ کر دیا جاتاہے  اسلئے دسمبر میں میری تنخواہ میں اضافہ پرانی تنخواہ کے مطابق کیا گیا تھا میں  نے الشیخ  رحمہ اللہ  سے گزارش کی کہ میری تنخواہ میں اضافہ دوماہ قبل ہونے والے اضافے کے تناسب سے کیا جائے (حالانکہ یہ مطالبہ غیرمناسب تھالیکن) شیخ  رحمہ اللہ  نے  میری موجودگی میں ناظم مالیات کو فون کر کے نئے اضافے کے متعلق آگاہ کیا اور پھر مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوئے

یار توں بہت تنگ کر ہیا ایں

۳۔ راقم اثیم جب رشتہ ازدواج میں منسلک ہوا تو یہ خبر دینے کے لیے حضرۃ الشیخ کے دفتر حاضری دی انہوں نے مسنون الفاظ میں خیر مبارک دی اور نئے سفر کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا تحفہ دیا اور مفید مشوروں سے نوازنے کے ساتھ ساتھ تلقین کی کہ جتنا جلد ممکن ہو اپنی اہلیہ کو اپنے ساتھ کراچی میں رکھنے کا بندوبست کریں اور پھر دیکھتے دیکھتے ہی جامعہ میں رہائشی سہولت اور حق خدمت میں مناسب اضافہ کر دیا بلکہ پنجاب آنے جانے کے لیے معقول  رقم (بلا طلب )اپنی جیب خاص سے دیتے ہوئے گویا ہوئے ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔

یاد رہے کہ رہائشی سہولت کے لیے استاذیم ڈاکٹر شاہ فیض الابرار  حفظہ اللہ  نے بھی خصوصی معاونت کی۔ جزاہ اللہ خیرا

فضیلۃ الشیخ کی راقم پر نوازشات کا سلسلہ وقتا فوقتا جاری رہتا تھا۔ میں نے جب بھی کسی کام کے سلسلے میں انہیں زحمت دی ان کا پہلا جواب یہی ہوتا کہ دعا کریں اللہ آسانی کرے گا اور پھر اس کام کو کرنے کا بندوبست فرمادیتے۔ جزاہ اللہ أحسن الجزاء

سادگی وانکساری :

شیخ محترم کی شخصی امتیازات میں سادگی اور انکساری نمایاں تھی، انہوں نےکسی بھی جگہ پر خود کو نمایاں کرنےمیں کبھی دلچسپی نہیں لی۔ ہمیشہ سفید لباس زیب تن کرتے، میں نے انہیں صرف دو دفعہ ہلکا آسمانی اور ایک دفعہ گہرا نیوی کلر کا لباس پہنے ہوئے دیکھا، ان کا لباس سادگی کے باوجود انتہائی صاف ستھرا ہوتا۔ دفتر بھی اک عرصہ تک انتہائی سادہ رہا بعد میں کسی مناسبت کی وجہ سے دفتر میں ضروری تزئین وآرائش کروائی لیکن اس پر بھی جامعہ سے کوئی خرچ نہیں لیا۔ (میری معلومات کی حد تک) اسی طرح جوتے بھی سادہ مگر صاف ستھرے زیب پا ہوتے تھے۔

شیخ محترم بحیثیت داعی:

ہمارے ممدوح  رحمہ اللہ   پوری حیات مستعارمیں  اسلامی تعلیمات  کی قولا وعملا  تبلیغ میں مصروف عمل رہے

 آپ  رحمہ اللہ  کی گفتگو انتہائی سادہ مگر ذہن کو اپیل کرنے والی ہوتی تھی۔ آپ  رحمہ اللہ  سامعین کے مزاج اور حالات وظروف کو مدنظر رکھتے ہوئے مفوضہ موضوع پر بہترین، معلومات افزاءبیان فرماتے تھے۔

بارہا دفعہ جامعہ میں ان کے خطبات  جمعہ سننے کا شرف حاصل ہوا، ہر دفعہ قرآن وحدیث کے دلائل وبراہین سے قیمتی نکات وفوائد کشید کرتے جس سے سامعین خوب حظ اٹھاتے۔ آپ  رحمہ اللہ  نے اپنے بیان میں کبھی بھی سطحی موقف یا بازاری الفاظ استعمال نہیں کیے، ان کا طرز استنباط واستدلال انوکھا اور انداز بیان انتہائی  ناصحانہ ہوتا تھا، ان کی بات دل سے نکل سامعین کے دل پر ثبت ہوجایا کرتی تھی۔ آپ کے موضوعات سخن میں تنوع ہوتا اور اکثر اصلاحِ معاشرہ بیان کرتےتھے ان کے مشہور موضوعات کی اجمالی فہرست درج ذیل ہے :

عظمت صحابہ

نئے سال کی حقیقت

شرعی دم

حلال و حرام کی تفصیل

حصول علم

اخلاص کی اہمیت

علم کی فضیلت

عمل میں اخلاص کی اہمیت

رحم کرنے والے بنیں۔ وغیرہ

افکارِ ضیاء:

فضیلۃ الشیخ  رحمہ اللہ  مفوضہ موضوع پر مکمل گرفت رکھتے تھے۔ اصلاح معاشرے پر دوران گفتگو اکثر ان کی آواز میں رقت در آتی تھی۔ ان کے خطبات عطربیزہوا کرتے تھے،  یہاں ضروری ترمیم وترتیب کے وقتا فوقتا مجلہ کے صفحات کی زینت بنتے رہیں گے۔ إن شاء اللہ

ذیل میں ان کے بیانات سے کشید کردہ چند ایک فکر انگیز اقتباسات پیش کیے جارہے ہیں مشتے نمونہ ازخروارے

(1)تمام تعریفات،تسبیحات،تحمیدات،تمجیدات،تکبیرات، توصیفات،صلوات اور اچھے کلمات اللہ تبارک و تعالی کے لیے ہیں، درود و سلام رسول ﷺ کی ذات کے لیے جو ہمارے آقا، رہنما، اسوہ،قدوہ اور مثال ہیں نبی اکرم ﷺ کی ‏پیروی میں ہی ہماری نجات ہے۔

‏(2)نبی ﷺ صرف صورت کے لحاظ سے حسین نہیں تھے بلکہ اخلاق کے لحاظ سے بھی بڑے ‏خوبصورت تھے ان کا خلق عظیم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم ﷺ سراپاقرآن تھے اور قرآن سے ‏خوبصورت کوئی چیز ہو نہیں سکتی ہر خطبے میں یہ کلمات دہرائے جاتے ہیں ۔

أَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتَابُ الله

رب خوبصورت ہے اس کا کلام بھی ‏خوبصورت ہے ۔

إِنَّ اللهَ جَمِيْلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ

ہم سے جو تقاضا کیا گیا ہے وہ بھی عمل حسن «أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا»(خوبصورت)کا ہے ہمیں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا کہا گیا ہے،حسنِ گفتار کا کہا گیا ہے اور رسول ﷺ کی سنت كو حسن کہا گیا

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

اللہ نے جمال کو محمد عربی کے اوپر ختم کر ‏دیا ہے نبی کا ہر ہر کام اللہ رب العزت نے بڑا خوبصورت بنا دیا ہے۔

‏(3)پورے کا پورا قرآن معتبر ہے لیکن اس قرآن کے اندر وہ آیتیں جو توحید پر دلالت کرتی ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ تبارک و تعالی کے ‏ہاں اس کا اعتبار ہے جیسا کہ (سورت اخلاص) ایک چھوٹی سی سورت اور اس میں صرف چار آیتیں ہیں (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ۰۰۱)جسے قرآن پاک کا ایک تہائی کہا گیا ہے۔

‏(4)دل کی دھڑکنوں پر اللہ تبارک و تعالی کی نظر ہوتی ہے جب یہ صحیح ہوتا ہے تو اللہ تعالی کے ہاں سب کچھ صحیح ہے جب یہ خراب ہو جاتا ‏ہے تو اللہ تعالی کے ہاں کوئی اعتبار نہیں اس دل کا درست ہونا بہت ضروری ہے ۔

يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَ اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ

اس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے کام آئیں گے اس دن تو ‏صرف اور صرف یہ قلب سلیم کام آئے گا۔

‏(5)نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں ارحم امتی بأمتی ابوبکر میری امت میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہے نبی مکرم‏ﷺ سے عادتوں میں ملتے ہیں نبی اکرم سیدنا عیسی سے ملتے ہیں عیسی،ابراہیم علیہما السلام سے ملتے ہیں یہ اللہ نے طبیعتیں بنائی ہیں سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ عادتوں میں مشابت رکھتے تھے سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ کے فیصلے نبی اکرم کے فیصلوں کے ‏مطابق ہوا کرتے تھے نبی اکرم ﷺکی جو چاہت ہوا کرتی تھی وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی چاہت ہوا کرتی تھی کبھی ابوبکر کی رائے میں رسول اللہ کی رائے میں ‏تصادم نہیں آیا اس لیے کہ اللہ کے رسول ﷺ رحمت اللعالمین ہیں اور ابوبکر اس امت کے لیے سب سے زیادہ رحم کرنے ‏والے ہیں۔

‏(6)نبی اکرم ﷺ حسن و حسین کو سونگھا کرتے تھے چومنے کے ساتھ ساتھ سونگھ کرتے تھے یہ انداز محبت میں نے آج تک ‏نہیں دیکھا کہ کوئی اپنی اولاد کو سونگھ رہا ہو۔

‏(7)الحمدللہ اہل حدیثوں آپ کو مبارک ہو کہ آپ نے ثابت کیا ہے اور اہل کراچی نے ثابت کیا ہے کہ حب صحابہ میں اہل حدیث کسی ‏سے پیچھے نہیں ہیں آج الحمدللہ اللہ تبارک و تعالی آپ کے اوپر فخر کر رہے ہوں گے ۔‏فرشتوں کے درمیان میں

مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ

جو اللہ تبارک و تعالی کے کے اہلیہ کی جنگ ہے وہ اللہ تبارک و تعالی کی جنگ ہے اور آپ اس جنگ کا حصہ ہیں ہم بالکل برداشت نہیں کریں گے کہ امن پاکستان کے اوپر کوئی سمجھوتہ کریں پاکستان کی ‏بنیادوں میں ہمارا خون ہے علامہ اقبال  رحمہ اللہ  کا فرمان ہے ۔دراصل شہیدائے بالاکوٹ کا مقدس لہو قرارداد پاکستان ہے ‏ہم پاکستان کی بنیادوں میں ہیں ہم اسے کبھی بھی عراق بننے نہیں دیں گے ہم اسے شام نہیں بننے دیں گے ہم اسے یمن نہیں بننے دیں گے ‏ہم اپنی اخلاقی اقداروں پر ضرب نہیں لگنے دیں گے ہم صحابہ کرام پر طعن نہیں ہونے دیں گے صحابہ کرام پر طعن کرنا دراصل ‏اہل بیت پر طعن کرنا ہے ہم اہل بیت پر طعن نہیں کرنے دیں گے جس طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ داماد ہے نبی اکرم ﷺ کے اسی طرح عمر رضی اللہ عنہ داماد ہیں ‏علی کرم اللہ وجہہ کے جس طرح نبی اکرم ﷺ نانا ہیں حسنین کریمین کے اسی طرح امام جعفر صادق کے نانا ہیں ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ ہمیں دھوکہ دیتے ہو،اہل بیت کو الگ کرتے ہو نبی اکرم ﷺ کے ساتھیوں کو الگ کرتے ہو یہ فراڈ ‏کے علاوہ کوئی نہیں ہے اور یہ دراصل پاکستان کے بھی دشمن ہیں یہ دراصل اسلام کے بھی دشمن ہیں یہ صحابہ کے بھی دشمن ہیں یہ وحی کے ‏بھی دشمن ہیں اور جو وحی کا دشمن ہے وہ جبرائیل کا بھی دشمن ہے اور یہ دشمنی اللہ تبارک و تعالی تک پہنچتی ہے اس دشمنی کو ہم بالکل ‏برداشت نہیں کریں گے۔

‏(8)حلال و حرام کا جو کانسپٹ ہے وہ علی الاطلاق اللہ رب العزت کی مرضی کا نام ہے وہ جب چاہے کسی چیز کو حلال کر دیتے ہیں جب چاہے ‏کسی چیز کو حرام کر دیتے ہیں یہ اللہ تبارک و تعالی کی اپنی مرضی کا نام ہے۔

‏(9)کتاب اللہ کے اندر علم کے متعلق سینکڑوں آیات ہیں بلکہ بعض لوگوں نے علم اور علم کے مشتقات کے بارے میں آیتیں گنی تو یہ ‏‏700 سے زیادہ آیتیں کتاب اللہ کے اندر موجود ہیں۔

‏(10)مشہوری کے بغیر ہماری زندگی نہیں والد گرامی  رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ دو آدمی جب بات کرتے ہیں تو پھر میں اپنا دماغ بند کر دیتا ہوں اور ‏میں اپنے دماغ کے اوپر تالے لگا لیتا ہوں پھر میں سوچتا نہیں ہوں جو ان کی طرف سے بات آتی ہے اسے میں قبول کرتا ہوں ایک شیخ صالح ‏حصین اور دوسرا غازی عبدالکریم  رحمہ اللہ ۔غازی عبدالکریم صاحب کی یہ بات ہے کہ مجھے پاخانہ اور پیشاب سے اس قدر نفرت نہیں ‏ہے جس قدر مجھے مشہوری سے نفرت ہے اللہ کی قسم !یہ جو ادارہ ہے یہ ادارہ بھی صوفی عبداللہ  رحمہ اللہ کے اخلاص ہی کا تسلسل ہے۔

شعلہ مستعجلہ:

جس طرح چراغِ سحری کا شعلہ ٹمٹاٹااور بجھنے سے پہلے اس کی پھڑپھڑاہٹ میں تیزی آجاتی ہے اور یکدم ‏بجھ جاتا ہے، آپ  رحمہ اللہ  کی زندگی کا اختتام  بھی بالکل اسی انداز میں ہوا۔حضرۃ الشیخ ضیاء الرحمن  رحمہ اللہ  نے حقیقی معنوں میں اپنا تن،من اوردھن جامعہ کی تعمیر وترقی کے لیے وقف کیا ہواتھا۔ بالخصوص اپنی حیات مستعار کے اخری سالوں میں تو میں انہوں نے جامعہ میں بڑے تعمیراتی کام مکمل کروائے اور کئی ایک تعمیر ی پروجیکٹ کا آغاز کیا جبکہ مستقبل میں اس حوالے سے بہت سے اقدامات کی منصوبہ بندی کر چکے تھے۔

راہ عدَم کا مسافر:

مؤرخہ 12 ستمبر 2023ء نماز عشاء کے بعد راقم گھر میں تھا  کہ موبائل پہ اطلاعی پیغام موصول ہوا کہ شیخ ضیاء الرحمن کو گولی لگی ہے اور انہیں زخمی حالت میں جناح ہسپتال منتقل کیا گیا ہے یہ میسیج سنتے ہی فوراً جامعہ پہنچا جہاں پر فضیلۃ الشیخ مقبول احمد مکی، الشیخ ظفر الدین اوردیگر اساتذہ کی معیت میں ہسپتال کی جانب روانہ ہوا، راستے میں یہ قیامت خیز خبر ملی کہ حضرۃ المدیر شہادت کی خلعت کو زیب تن کر چکے ہیں، مگراس خبر پہ دل یقین کرنے کو تیار نہ ہوا ہسپتال کی ایمرجنسی میں جیسے ہی شیخ محترم کے جسد خاکی کو خون میں لت پت دیکھا تو ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے مگر کس کو گلے لگاکرغم ہلکا کیا جائے کہ سبھی تو ایک جیسے صدمے سے دوچار تھے۔

باری تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حضرۃ المدیر کی جملہ دعوتی واصلاحی، تعلیمی وتربیتی سرگرمیوں کو ان کے لیےصدقہ جاریہ بناکر انہیں انبیاء وصدیقین وشہداء اورصالحین کا رفیق بنا دے اور جن ظالموں نے اس گلشن کو ویران کیا انہیں دنیا میں نشان عبرت اور آخرت میں ذلت ورسوائی کا مزہ چکھائے۔ آمین

آخری گزارش:

حضرۃ الشیخ  رحمہ اللہ کی زندگی سے ہمیں جو اہم سبق ملتاہے وہ

نفلی روزوںاور دعا کا اہتمام

ہمہ وقت عاجزی وانکساری

رہائش، لباس اور خوردونوش میں سادگی کو شعار بنانا۔

الشیخ محمد طیب معاذ

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago