ہم سفید سوزوکی کیری (بولان) میں سوار تھے۔ گاڑی، جامعہ ابی بکر الاسلامیہ (گلشن اقبال بلاک 5 )سے نکل کر مرکزی شاہراہ پر رواں دواں تھی۔ رش کے سبب رفتار زیادہ نہ تھی۔ صبح 11 بجے کے قریب کا وقت تھا۔ گفتگو جاری تھی۔ ضیاء الرحمٰن بھائی (الشیخ ضیاء الرحمٰن مدنی a) نے یہ آیت پڑھی:
وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ١ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ
مومن مرد اور مومن عورتیں، ان کے بعض بعض کے دوست ہیں، وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں ۔۔۔(سورۃ التوبہ، آیت:71)
پھر کہنے لگے: «مؤمن ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ مؤمن ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے، تو ساتھ دینے اور ساتھ ملنے سے ہی دین کا کام ہو گا۔» ان کے درد دل، ان کی آواز میں تڑپ پیدا کر دی تھی۔ شاید یہ اس تڑپ ہی کا ثمر ہے کہ ان کی یہ بات آج بھی دل سے چپکی ہے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب راقم مدینہ یونیورسٹی سے پاکستان لوٹ چکا تھا۔ کسی کام کے سبب کراچی میں تھا۔ مادر علمی کی یاد اور ساتھیوں سے ملاقات کی چاہت جامعہ ابی بکر الاسلامیہ لے آئی۔ دوران ملاقات اسلامک سکولز پر بات چل نکلی۔ خیال سے حقیقت تک کی بات ہونے لگی۔ ضیاء الرحمن بھائی اسلامک سکول کے منصوبے میں بھی دل چسپی رکھتے تھے۔ ایک اسلامک سکول کا نام لیا اور کہا کہ چلیں اس کو وزٹ کرتے ہیں۔ سو چل پڑے۔ غالبا ڈاکٹر مسعود احمد سندی d (مسعود بھائی )بھی ہمراہ تھے۔ کم و بیش گھنٹہ بھر کا سفر تھا۔ کورنگی کے علاقے میں سکول تھا۔ دیدہ زیب اور purpose built building تھی۔ تعلیم میں انگریزی اور عربی زبان پر خصوصی فوکس تھا۔ الشیخ جنید d بھی ان دنوں اس سکول میں کلاس لیتے تھے۔ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ اور اس کے ذیلی اداروں کا نظام تو بخوبی چل رہا تھا، اور اس پر ضیاء الرحمن بھائی مطمئن تھے۔ لیکن ساتھ ساتھ، ضیاء الرحمن بھائی اسلامک سکولز کے ضمن میں کام کرنے میں دل چسپی رکھتے تھے اور اس میدان میں موجود خلا کو پر کرنا چاہتے تھے۔ مصروفیت کے باعث شاید عملی کام نہ کر پائے۔خیر اس سکول کا وزٹ اچھا رہا۔ پرنسپل نے دوران تعارف بتلایا کہ وہ بھی ابناء الجامعہ میں سے ہیں۔
کراچی ہی میں کسی وقت ان سے ایک ملاقات مسعود بھائی کے ہاں رات کے کھانے پر ہوئی تھی۔ ان دنوں مسعود بھائی جامعہ ابی بکرالاسلامیہ سے منسلک تھے ۔ تحقیق و تصنیف اور نشر و اشاعت کا کام بھی جاری تھا۔ ان کا دفتر معہد القرآن الکریم بالمقابل NEDیونیورسٹی کراچی سے متصل تھا۔ «اعجاز بھائی، کراچی قیام کے دوران آپ جامعہ میں ٹھہریں۔ جو ماحضر ہے، اس سے خدمت کی جائے گی۔» ضیاء الرحمٰن بھائی نے سادہ اور صریح الفاظ میں تکلفات سے بے نیاز دعوت دی۔ مجھے اچھا لگا۔ لیکن مصروفیات کے سبب جامعہ میں قیام ممکن نہ تھا سو معذرت کر لی۔
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ہمارا داخلہ ایک ہی برس میں ہوا۔ سو جامعہ میں کبھی کبھار ملاقات ہو جاتی تھی۔ ایک بار مدینہ یونیورسٹی کے پاکستانی طلبہ کا پروگرام تھا۔ مطعم پر کھانے کا آرڈر دیا تھا۔ گاڑی تھی لیکن ڈرائیور دستیاب نہ تھا۔ ضیاء الرحمٰن بھائی کو راستہ معلوم تھا اور میرے پاس ڈرائیونگ لائسنس (رخصة قیادة خاصة) تھا اور گوگل لوکیشن آپشن نے اس وقت تک جنم نہ لیا تھا۔ سو میں نے گاڑی ڈرائیو کی اور ضیاء الرحمٰن بھائی فرنٹ سیٹ پر راستہ بتاتے رہے۔ پاکستان میں گاڑیاں رائٹ ہینڈ ڈرائیو ہیں جبکہ سعودی عرب میں left hand drive ہیں۔ جس کی وجہ کبھی کبھار مشکل ہوتی تھی۔ خیر ہلکی پھلکی باتیں کرتے رہے اور کھانا لے کر لوٹے۔ ضیاء الرحمٰن بھائی سے بہت قربت اور دوستی نہ تھی ۔ایک اچھا تعلق تھا، لیکن ان کی مجلس میں اجنبیت کا احساس نہ ہوتا تھا۔ مجھے ایک برس 1999-2000 میں جامعہ ابی ابکر الاسلامیہ میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ ان ایام میں ضیاء الرحمٰن بھائی (الشیخ ضیاء الرحمٰن مدنی a) سے تعارف نہیں تھا۔
اللہ رب العالمین الشیخ ڈاکٹر مقبول احمد مکی کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ جن کی مہربانی سے مجلہ مجھ تک پہنچتا رہا۔ الشیخ ضیاء الرحمن المدنی a کی نماز جنازہ بروز جمعرات مورخہ 14 ستمبر صبح 9 بجے گول گراؤنڈ ماڈل کالونی میں اداکی گئی۔ اللہ رب العالمین ان کی مغفرت فرمائیں اور ان کی قبر کو جنت کا باغ بنا دیں۔ آمین یا رب العالمین۔
میڈیا نے الشیخ ضیاء الرحمٰن مدنی a کے الم ناک واقعہ کو یوں رپورٹ کیا:
گلستان جوہر میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے مولانا ضیاء الرحمن جاں بحق، مقدمہ درج کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں فائرنگ سے معروف عالم دین مولانا ضیاء الرحمان جاں بحق ہوگئے، پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے دوران واقعہ میں بھارتی خفیہ ایجنسی را اور ملک دشمن عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔
مولانا ضیاء الرحمن کے قتل کا مقدمہ مقتول کے چچا زاد بھائی محمد عبداللہ کی مدعیت میں قتل کی دفعہ کے تحت شارع فیصل تھانے میں درج کرلیا گیا ہے۔مقدمے کے متن میں کہا کہ بیٹے نے اطلاع دی مولانا ضیاء الرحمن کو گولیاں لگیں ہیں، وہ واک کرنے پارک آئے ہوئے تھے۔
اے ایس ایس پی ایسٹ عرفان علی بہادر کے مطابق شاہراہ فیصل تھانے کی حدود گلستان جوہر بلاک 15 میں نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے جامعہ ابوبکر اسلامیہ کے مہتمم مولانا ضیاء الرحمن کو قتل کردیا۔ایس ایس پی کا مزید کہنا تھا کہ ایک موٹرسائیکل پر دو حملہ آور تھے جنہوں مولانا ضیاء الرحمان کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ گلستان جوہر میں چہل قدمی کررہے تھے جس سے وہ موقع پر جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق مقتول سے کوئی چیز چھینی نہیں گئی تاہم جائے وقوعہ سے دو مختلف ہتھیاروں کے گیارہ خول ملے ہیں جس میں چار خول نائن ایم ایم اور سات تیس بور کے ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی خادم حسین رند کا گلستان جوہر میں ضیاء الرحمن کی ٹارگٹ کلنگ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ایسٹ زون غلام اظفر مہیر سے واقعہ کی مکمل تفصیلی انکوائری رپورٹ طلب کرلی۔کراچی پولیس چیف نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے۔
پولیس کے مطابق یہ ٹارگٹ کلنگ دہشتگردی کا واقعہ ہے جس کا مقصد ربیع الاول کے موقع پر امن و امان کی صورتحال خراب کرنا ہے۔پولیس چیف نے واقعہ کی تفتیش کے لیے ٹیم تشکیل دینے کیلئے ہدایت جاری کردی۔سی ٹی ڈی نے واقعہ کے شواہد اکھٹے کرلیے، اس کے علاوہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے مہتمم مولانا ضیاء الرحمن کے قتل کا مقدمہ مقتول کے کزن عبداللہ کی مدعیت میں شارع فیصل تھانے میں درج کرلیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ قتل کی دفعہ کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق بیٹے نے اطلاع دی مولانا ضیاء الرحمن واک کرنے گئے تھے کہ اس دوران انہیں گولیاں لگیں۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…