انیس سالہ نو جوان، سامنے پانچ جنازے رکھے ہوئے ہیں، لوگوں کا ایک جمِ غفیر ہے، ہر آنکھ اشکبار ہے، بڑے بڑوں کا حوصلہ ٹوٹ چکا ہے، لیکن وہ نوجوان ہے کہ کمال ضبط، حوصلے اور ہمت کے ساتھ جنازے لحد میں اتارے جا رہا ہے اور یوں وہ «مِنْهَا نُخْرِجُکُم تَارَةً أُخْرَی»کی امید کے ساتھ اپنے والد،دو بھائیوں اور رشتے داروں کو سپرد خاک کر دیتا ہے۔۔۔۔۔
یہ نوجوان کوئی اور نہیں بلکہ میرا بھائی، دوست، ہم سفر، ہم جولی اور عزیز ضیاء الرحمن ( رحمہ اللہ ) تھے، جن کے والد اپنے دو بیٹوں ابو بکر، عمير، خالہ اور بھانجے سعید عالم( رحمہم اللہ )کے ساتھ روڈ حادثے کا شکار ہو کر داعی اجل کو لبیک کہہ گئے تھے اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کی ذمہ داری اپنے فرزند ارجمند کے کاندھوں پر چھوڑ گئے تھے، اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ شیخ محمد ظفر اللہ ( رحمہ اللہ ) کی شہادت میرے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلےکے تقریبا بیس دن بعد ماہ جون ۱۹۹۷ءہوئی تھی، اس دن سے لے کر ضیاء الرحمن رحمہ اللہ کی شہادت تک میں نے کبھی بھی اپنے بھائی کو حوصلہ ہارتے نہیں دیکھا، پھر چاہے وہ ابتدائی طور پر گھر کی ذمہ داریاں اٹھانے کی بات ہو، غم زدہ ماں کو سنبھالا دینے کی بات ہو یا یتیم بہنوں کو پالنا ہو، یا پھر اس کے بعد معاون نائب مدیر الجامعہ اس کے بعد وکیل الجامعہ پھر نائب مدیر الجامعہ اور آخر میں مدیر الجامعہ جیسی بڑی ذمے داریاں سنبھالنے کی بات ہو۔۔۔۔
میری پہلی ملاقات ضیاء الرحمن ( رحمہ اللہ )سن ۱۹۸۸ءمیں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے ابتدائی تعلیمی مرحلے متوسطہ کے پہلے سال ہی میں ہوئی جب ضیاء الرحمن کی عمر ۱۱ سال اور میری عمر ۱۵ سال تھی، کہنے کو تو ہم ایک ہی جماعت میں زیر تعلیم تھے لیکن ہم دونوں میں کچھ فرق ضرور تھا، میں ایک عام سا پختون لڑکا تھا جو ضیاء الرحمن سے چار سال بڑا تھا اور آپ مدیر الجامعہ کے بیٹے تھے اور مجھ سے چھوٹے بھی تھے، لیکن مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کبھی اس فرق کی بنا پر کوئی لکیر کھچی ہو، جہاں تک میرے بڑے ہونے کی بات ہے تو اس فرق کو ضیاء الرحمن( رحمہ اللہ ) نے مجھے بڑا بھائی بنا کر ختم کر دیا اور جو بات ہے مدیر الجامعہ کے بیٹا ہونے کی تو یہ بات ہی ایسی تھی جس کا اظہار نہ کبھی مدیر الجامعہ شیخ محمد ظفر اللہ کرتے نہ ان کا بیٹا ضیاء الرحمن ( رحمہما اللہ ) بلکہ اس وجہ سے الٹا آپ پر ہی کچھ قدغنیں عائد تھیں جیسے مدیر کے دفتر تک رسائی نہ ملنا، جامعہ میں مدیر الجامعہ سے ملاقات کی اجازت نہ ہونا اور جامعہ کا کھانا منع ہونا وغیرہ، یعنی وہ روزانہ اپنے لئے گھر سے ہی کھانا لاتے، اور اوپر سے میں اپنے بڑے ہونے اور آپ کی شرافت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ ضرور کرتا کہ جو چپاتی میں رکھ کر اچار یا دال سبزی وغیرہ ضیاء الرحمن گھر سے لاتے تھے وہ میں کھا لیتا اوروہ تھے کہ کچھ نہ کہتے۔۔۔۔۔ویسے یہ بات تو غالباً آپ کی گھٹى میں بٹھا دی گئی تھی کہ آپ کے ساتھ کوئی کچھ بھی رويہ ركھتا يا سلوك كرتاآپ برا نہ مناتے اور اپنے ذاتی مسائل میں ہمیشہ ہی اپنے حق سے دستبردار ہو جاتے، یہاں تک کہ ایک دفعہ ایک ولیمے میں جانا ہوا جہاں آپ کو بہت زور دے کر بلایا گیا تھا، لیکن وہاں کچھ لوگ آپ سے اختلاف رکھتے تھے اور مسئلہ بھی ان لوگوں ہی کی طرف سے تھا لیکن جب انہیں شیخ کے آنے کا پتا چلا تو ناراض ہوئے، ان کی ناراضگی کا سن کر شیخ جانے لگے تو ہم نے کہا آپ جائیں گے تو پھر ہم بھی چلے جائیں گے لیکن آپ نے یہ کہہ کر ہمیں منع کر دیا کہ ’’جب انہیں مسئلہ مجھ سے ہے تو میں جاؤں گا آپ سب بیٹھے رہیں۔‘‘
میرا متوسطہ سے شروع ہونے والا ضیاء الرحمن رحمہ اللہ کے ساتھ یکجائی کا سفر نو سال تک مسلسل جاری رہا، جس میں اس وقت انقطاع آیا جب میں نے سنا کہ مدینہ یونیورسٹی سے اساتذہ کرام کا وفد کوئٹہ آیا ہوا ہے جو ایک روز کیلئے کراچی آئے گا، میں نے ضیاء الرحمن کو کال کر کے وفد کی واپسی کا پوچھا تو کہنے لگے اگلے ہی دن ہے، میں نے جلدی جلدی وفد سے رابطہ کیا بمشکل تمام اپنا انٹرویو دے سکا کیونکہ میرے پاس دستاویزات بھی تیار نہ تھے، لیکن ٹیسٹ میں کامیاب ہوا اور یوں اللہ تعالى کے فضل وکرم سے اور پھر ضیاء الرحمن کی فوری اطلاع کی بدولت جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں میرا داخلہ ہو گیا، جس طرح اس مبارک سفر میں میرے لئے ضیاء الرحمن مبارک ہستی ثابت ہوئے اسی طرح اور ان گنت مقامات پر بھی یہ شخصیت میرے لئے باعث برکت و رحمت ثابت ہوئی، مثال کے طور پر تحدیث نعمت کیلئے ایک دو ذکر کر دیتا ہوں کہ جوں ہی میں تعلیم مکمل کر کے جامعہ اسلامیہ سے لوٹا تو پتا چلا سعودی قونصل خانه کراچی میں کوئی آسامی آئی تھی جس کو خالی پا کر میرے کہے بغیر ہی ضیاء الرحمن نے میرا نام بھیج دیا اور کچھ ہی دنوں میں ڈاکٹر طاہر آصف حفظہ اللہ (موجودہ نائب مدیر الجامعہ) نے مجھے وہاں بلا لیا، اسی طرح جب ابتعاث کےحوالے سے وفد آیا تو بھی مجھے کچھ علم نہیں تھا اور میرا نام ان کی لسٹ میں بھی ضیاء الرحمن صاحب بھیج چکے تھے، در اصل وہ شخصیت ہی ایسی تھی کہ ان کے ساتھ جڑے ہر ہر شخص کو ایسا لگتا کہ وہ ان کا بھر پور خیال کرتے ہیں، کوئی بھی غمی خوشی کا موقع ہو یا کوئی بھی ذاتی، مالی یا کسی بھی طرح کا مسئلہ ہو ضیاء الرحمن نہ دن دیکھتے نہ رات دیکھتے، اپنے سے جڑے لوگوں کیلئے وہ اپنی تمام تر کوششیں کرتے، پھر مجھ سے تو رشتہ ہی کچھ اور تھا کہ جب میرا مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ ہو گیا اور آپ کا نہیں ہوا، اور وہ اس لئے نہیں ہوا کہ آپ کے والدِ گرامی آپ کا نام کبھی آگے دیتے ہی نہ تھے کہ لوگوں کو یہ شائبہ نہ ہو جائے کہ اپنے بیٹے کی سفارش کی ہے، اسی لئے آپ شیخ محمد ظفر اللہ( رحمہ اللہ ) کی شہادت کے کے تین سال بعد ہی جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ آ سکے، خیر میں ذکر کر رہا تھا کہ جب میرا جامعہ اسلامیہ میں داخلہ ہوا تو اس کے کچھ دنوں بعد ہی شیخ محمد ظفر اللہ کی شہادت ہو گئی، تو اس کے بعد سے ضیاء الرحمن نے مجھے بڑے بھائی کا درجہ دے دیا، اسی لئے آخری ایام تک آپ میرے گھر آتے، جب بھی ملاقات ہوتی والدہ کی طبیعت دریافت کرتے اور یہی حال ہمارا بھی تھا کہ کوئی محفل آپ کے بغیر مکمل نہ ہو پاتی، آپ جب بھی ہمارےہاں آتے والدہ سر پر ہاتھ پھیرا کرتیں، اسی طرح وہ بھی میرے ساتھ ہر وقت ایسے رہتے جیسے حقیقی بھائی ہوں، یہاں تک کہ آپ مجھے شروع سے ہی «شاہدا» (پشتو بولنے والوں کی طرح) پکارا کرتے تھے جس سے اپنائیت کا احساس مزید بڑھ جاتا اور اگر کبھی میں شیخ یا مدیر وغیرہ کہنا چاہتا بھی تو منع کر دیتے اور فرماتے «تم تو اس طرح نہ کہو»!
ہم ساتھی جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں بھی خوب مل جل کر رہتے اگرچہ کمرے اور کلاسز الگ الگ تھیں لیکن کھانا وغیرہ اکثر ساتھ ہی ہوتا، آپ کے ساتھ میرا قریبی تعلق رہا، تعلیمی، سفری، مالی اور ہمہ جہتی تعلق تھا، جن کی بنا پر میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ ایک مخلص، کم گو، شریف النفس اور سادہ مزاج آدمی تھے، غناءِ قلبی اور قناعت پسندی آپ کا شعار تھا، تحمل، برد باری، حقیقت پسندی، سچ گوئی، معاملہ فہمی اور خود اعتمادی میں آپ اپنی مثال آپ تھے، ساتھ ہی قوتِ حافظہ، وسعتِ مطالعہ، فہمِ دقیق اور استنباطِ قوی جیسی عظیم صفات آپ کو ربّ العالمین کی طرف سے ودیعت و عنایت کی گئی تھیں۔۔۔۔
حفظ کا حال یہ تھا کہ جو موضوع ایک بار پڑھ لیتے وہ حفظ ہو جاتا، مطالعہ اتنا وسیع تھا کہ کسی بھی موضوع پر کبھی بھی، کہیں بھی قرآن و حدیث کے دلائل و براہین اور صحابہ کرام اور سلف صالحين کی تعلیمات کی روشنی میں سیر حاصل اور با معنی گفتگو فرما لیتے، فہمِ دقیق ایسا تھا کہ چاہے علوم دینی ہوں یا دنیاوی آپ کسی بھی موضوع کواپنے سینئر سے بھی بہتر طور پرسمجھتے تھے یہاں تک کہ جب میں بی-کام کر رہا تھا تو شیخ انٹر کامرس کے پہلے سال میں تھے لیکن مجھے آپ ہی نے معاشیات کی تیاری کروائی تھی، اور جہاں تک بات ہو قوتِ استنباط و استدلال کی تو سچ پوچھئے تو حال یہ ہے کہ جب کبھی میں آپ کے مواعظ سنتا تو حیران رہ جاتا کہ کیا ہی خوبصورت استنباط کیا ہے، کیا ہی شاندار استدلال ہے اور دل سے بے اختیار نکل پڑتا کہ:
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
قوتِ استنباط کے علاوہ کوئی ایسی خاص بات تھی اور وہ یقینا اخلاص ہی تھا کہ آپ کی بات سیدھی دل میں اترتی، اصلاح پر ابھارتی اور عمل کیلئے طبیعت مچلنے لگتی، آخر آپ کے مواعظ حسنہ ہوتے بھی تو تعلیم و تربیت، شخصیت سازی، احساسِ ذمہ داری، خشیتِ الہی، اطاعت رسول ﷺ، حب صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تعظیم سلف صالحين رحمہم اللہ جیسے عظیم موضوعات پر تھے جن کو آپ ہر بار ایک منفرد انداز میں اور خوبصورت پیرائے میں سمجھاتے۔۔۔۔
آپ نہ صرف صاحب الرائے تھے بلکہ ساتھ آپ صائب الرائے بھی تھے، آپ کے فیصلے بر وقت، بر محل اور اٹل ہوتے، ساتھ ساتھ آپ نڈر، با ہمت، با رعب اور بے باکی و حق پسندی کی صفات سے بھی متصف تھے،یہی وجہ تھی کہ آپ جامعہ اور اس کے دیگر اداروں اور شاخوں کی حفاظت کی خاطر کئی ایک میدانوں میں کھڑے ہوئے، کئی کئی دن عدالتی کاروائیوں کے نذر کئے، آخری چار پانچ برسوںمیں تو حال یہ ہو گیا تھا کہ ہفتے میں چار سے پانچ دن کہیں نا کہیں ان کی عدالت ميں پیشی ہوتی تھی کبھی سپر ہائی وے والی زمین کا مسئلہ چل رہا ہے، کبھی جامعہ کے معاملات دیکھ رہے ہیں، کبھی جامع مسجد عمر بن عبدالعزیز( رحمہ اللہ ) كے متعلق عدالتى كاروائى، کبھی نیو کراچی والی پراپرٹی کا مسئلہ چل رہا ہے، یقین جانیں آپ جامعہ کیلئے ون مین آرمی (One m رحمہ اللہ n رحمہ اللہ rmy)کی مانند تھے، آپ نے اکیلے ہی کئی کئی معاملات کا سامنا کیا اور آخری کوشش یہی رہی کہ امت مسلمہ کی تفویض کى گئى مساجد، تعلیمی ادارے، املاك اور جملہ اثاثے کو امانت سمجھتے ہوئے اس کی حفاظت کا حق ادا کریں اسی لئے آپ جامعہ کی پراپرٹی پر کبھی بھی، کہیں بھی سمجھوتا نہ کرتے تھے، ایک دفعہ ماڈل کالونی میں جامعہ کے فلیٹ پر کسی نےقبضہ کر لیا تو آپ اس کی خاطر کورٹ تک گئے اور قبضہ چھڑوایا، حالانکہ یہ کام بڑا کوفت والا تھا لیکن جہاں آپ نے اپنی حمیت کو نہ چھوڑا وہیں آپ نے دامن اخلاق كو ہاتھ سے نہ جانے ديا اور ذرا برابر بھی انتقام والا رویہ نہ رکھا،یہاں تک کہ لوگوں نے دیکھا کہ جس شخص نے قبضہ کیا تھا وہ اور اس کے گھر والے گھر خالی کرتے وقت انتہائی زیادہ بد تمیزانہ رویے پر اتر آئے، مغلظات اس قدر بکیں کہ وہاں موجود طلبہ غصے میں آ گئے لیکن شیخ محترم نے کسی کو بھی کسی طرح کی جوابی کارروائی کرنے یا بد تمیزی کا جواب بد تمیزی سے دینے سے باز رکھا، بلکہ اس سے بڑھ کر پڑوس میں گوشت بھیجا کہ جن لوگوں کو نکالاجا رہا ہے ان کیلئے کھانا تیار کر کے ان تک پہنچا دیں۔
ان تمام صفات کے ساتھ جو دو بڑی صفات آپ میں تھیں وہ واقعتا قابل ذکر اور قابل تقلید ہیں۔۔۔۔
ان میں پہلی صفت تعلق باللہ کی صفت ہے، آپ نہ صرف خود بلکہ طلبہ، علماء اور دوست احباب کو بھی تعلق باللہ مضبوط کرنے کی نصیحت کرتے، نفلی روزوں کا نا صرف خود اہتمام کرتے بلکہ دوسروں کو بھی اس کا کہا کرتے، کوئی بھی پریشانی، مسئلہ، مشکل آپ کے سامنےذکر کی جاتی تو آپ تعلق باللہ مضبوط کرنے کی تلقین کرتے۔۔۔۔
اور دوسری عظیم صفت تھی حقوق العباد کی ادائیگی کی فکر، جس میں آپ اپنے اوپر سب سے بڑا حق و فرض طلبہ کا سمجھتے، طلبہ آپ کی ترجیحات میں گویا اولین ترجیح تھے، طلبہ آپ کی زندگی کا حصہ تھے بلکہ آپ تو یہاں تک فرمایا کرتے کہ «یہ جامعہ کی عمارت، یہ اساتذہ، یہ بجلی پانی اور طرح طرح کی سہولیات اگر ہیں تو صرف طلبہ کی بدولت ہیں، ورنہ اگر طلبہ نہ ہوں تو یہ عمارتیں بے مقصد ہو جائیں، اساتذہ پڑھا نہ پائیں اور سہولیات کسی کام کی نہ رہیں» اسی لئے آپ کے پاس طلبہ کیلئے ہمیشہ وقت رہتا، آپ طلبہ کی خاطر کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے، بلکہ ہمیشہ ہی آپ طلبہ کو ترجیح دیتے یہاں تک کہ اگر کوئی تحفہ آپ کو ذاتی طور پر بھی ملتا تو بجائے اسے اپنے گھر لے جانے کے طلبہ کی سوچتے، ایک دفعہ کسی نے آپ کیلئے کچھ سامان دیا تو آپ وہ لے کر سیدھا جامعہ آئے اور اس کو مستحق طلبہ اور دیگر ایسے مستحقین جو جامعہ سے ہی تعلق رکھتے تھے ان میں تقسیم فرما دیا، اسی طرح جب ایک معصوم بلوچ طالب علم مجیب الرحمن کو گولی لگی اور وہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی نذر ہو کر شہید ہو گیا تو شیخ خود گاڑی چلا کر اس کا جنازہ لے کر بلوچستان کے دور دراز علاقے سوراپ میں پہنچے جو ایک شورش زدہ، پہاڑوں کے دامن میں واقع علاقہ تھا آپ نے وہاں جا کر جنازہ پڑھایا، گھر والوں سے تعزیت کی اور اس انداز سے کی کہ آخر وہ کہنے لگے کہ ہمیں اپنے بیٹے کی شہادت کے غم سے زیادہ آپ کی آمد کی خوشی ہے ۔
جس طرح آپ کے دل میں طلبہ کیلئے درد تھا اسی طرح آپ جامعہ کے اساتذہ کا بھی خوب خیال رکھتے، اور اس کے پیچھے بھی حکمت یہی ہوتی کہ جتنی آسانیاں اساتذہ کو دی جائیں گی اتنی ہی زیادہ طلبہ کی تعلیم و تربیت بہتر ہو سکے گی اسی لئے آپ نے اپنی زندگی میں ہی جامعہ میں اساتذہ کی رہائش کیلئے دو عمارتیں بھی تعمیر کروائیں، اور یہی کوشش کی تمام اساتذہ جامعہ میں ہی آ جائیں تاکہ طلبہ ان کی نگرانی میں منازل طے کر سکیں، سچ پوچھئے تومیں نے آپ سا آدمی نہیں دیکھا جو واقعی قوم کا بڑا محسن تھا۔
لیکن ہمارے ہاں لوگ بڑے ظالم ہیں، ہمارے ہاں قوم کے محسنین کو لوگ زندہ نہیں رہنے دیتے اور ایسا ہی میرے بھائی کے ساتھ بھی ہوا، جب ۱۲ ستمبرسن ۲۰۲۳ عيسوى کی شب ساڑھے دس بجے کے قریب میری نظر ایک واٹس ایپ پر چلائے جانے والے پیغام پر پڑی کہ شیخِ محترم کے گولی لگ گئی ہے، میرا دل دہل گیا، سکتہ طاری ہو گیا، میں نے جامعہ میں رابطہ کر کے خیریت و حال احوال دریافت کئے تو بتایا گیا سب خیریت ہے، کچھ سکھ کا سانس لیا ہی تھا کہ جامعہ کی طرف سے ادارتی طور اعلان ہو گیا کہ شیخ کو گولی ماری گئی ہے، میں جناح ہسپتال کیلئے نکل پڑا، سارے راستے خبر کو جھٹلاتا رہا، اگر کبھی یقین آ بھی جاتا تو بس اتنا کہ پاؤں میں لگی ہوگی، شاید ہلکے پھلکے زخم ہوں گے، لیکن جب ہسپتال پہنچا تو پتا چلا کہ زخم تو بہت گہرے ہیں، بلکہ اب یہ غم تو اب مستقل ہو گئے ہیں، میرے اوپر سکتہ طاری ہو گیا، پاؤں تلے سے زمین نكل گئى، کچھ سجھائی نہ دیتاتها کہ کیا کروں، کیا کہوں، کس سے کہوں، کیسے کہوں، کہ الفاظ میرے پاس نہ تھے، زبان میں قوت نہ تھی، آنکھوں میں اپنے بھائی کے چہرہ دیکھنے تک کی ہمت نہ تھی، اور اس حال میں ہم اپنے رب کی رضا پر یہ کہہ کر راضی ہو گئے کہ : «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ»
اور ان الفاظ کے ساتھ ہم نے ایک ایسی حقیقت کو تسلیم کر لیا جس کو آج بھی دل نہیں مانتا، ہر وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی شیخ ضیاء الرحمن تشریف لے آئیں گے لیکن، رضینا بقضاء الله وقدره۔
آخر میں یہ بات ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ شیخ کی فراخ دلی، ملنساری، خدمت خلق اور ہر کسی کے کام آنے کے جذبے نے شیخ کو قبولیت عام بخش دی تھی اسی لئے آپ کا سانحہ ارتحال صرف اساتذہ و طلبہ جامعہ ابی بکر کیلئے نہیں بلکہ ہر اس شخص کیلئے باعث افسوس و صدمہ تھا جو کبھی بھی کہیں بھی شیخ سے ملا ہو، یا جس کا کسی بھی طور پر شیخ سے رابطہ رہا ہو کیونکہ جو بھی آپ سے ایک بار مل لیتا اسے اتنی اپنائیت سے گلے لگاتے اور اس کے ساتھ اس طرح گھل مل جاتے کہ وہ شیخ کا گرویدہ ہو جاتا، پاکستان کے دور دراز علاقوں میں تربیتی و دعوتی سفر بھی آپ کی زندگی کا ایک ایسا حصہ ہیں جن سے صرفِ نظر کرنا نا ممکن ہے، آپ ایسے ایسے علاقوں تک جاتے جہاں تک جانا علاقائی اور مقامی لوگوں کیلئے بھی مشکل ہوتا، اور کوشش کرتے کہ دینِ حنیف کیلئے ملنے والی کسی گھڑی، کسی موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں، کتنی بار آپ نے لوگوں کے اداروں اور مسجدوں کیلئے مالی تعاون وغیرہ کا اہتمام کیا لیکن کبھی کسی کو یہ نہ کہا کہ ادارے کا الحاق جامعہ سے کريں، یا جامعہ سے اساتذہ کو وہاں پر متعین کریں بلکہ جوں ہی ان کا کام نمٹ جاتا آپ خاموشی سے پیچھے ہٹ جاتے، البتہ اگر کوئی کسی اور خدمت کا کہتا، اساتذہ کا وقت مانگتا، طلباء کو امامت کیلئے بلاتا تو آپ بھیج دیتے اور یہ سب آپ بے لوث خدمت کے طور پر کرتے کیونکہ آپ کی زندگی کا مقصد ہی یہ تھا کہ:
میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی
میں اسی لئے مسلماں، میں اسی لئے نمازی
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…