جامعہ عائشہ صدیقہ کے چشم و چراغ

استاد سارے ای عزیز ہوندے نے

شاگرد سارے اوناں دے مرید ہوندے نے

جہڑے کر دین اپنی زندگی دین تے قربان

اوہی اصل وچ جنتاں دے اسیر ہوندے نے

میری زندگی کے بیس سال بہت مختصر لیکن مجھے پر اثر مقصدحیات معلوم ہوجانے کے بعد سے بہت علم حاصل کرنے کے کا شوق رہا اور بچپن سے لے کر آج تک ہمیشہ بہتر سے بہترین اساتذہ کا ساتھ زندگی میں نصیب ہوا۔ دنیاوی علوم ہو یا دینوی ہر موڑ پر رب تعالی نے ایسے عظیم اساتذہ کا ساتھ نصیب کیا جنہوں نے ناصرف تعلیم سے آراستہ کیا بلکہ تربیتی اور عملی میدان میں بھی اپنی انمول نصیحتوں سے میری زندگی میں بہترین کردار ادا کیا جن کی بدولت آج میں یہ تحریر لکھنے کے قابل ہوئی الحمدللہ ۔ ساتھ ہی ساتھ ایسے شیخین سے پڑھنے کا شوق بھی رہا جو اب تک اک خواب ہے۔ دینی علوم حاصل کرنے کا جذبہ اور شوق میرے آباؤ اجداد کی طرف سے یوں سمجھیں کہ گھٹی میں شامل کر کے بطور وراثت ملا اور میں اس بات کو قابل فخر سمجھتی ہوں۔ اپنے رب تعالی کے فضل و کرم کے بعد اپنے والدین اور انہی اساتذہ کی بدولت یہ تحریر میں اپنے مدیر الجامعہ الشیخ ضیاء الرحمن مدنی  رحمہ اللہ  کے نام کرتی ہوں۔

شیخ محترم و مدیر الجامعہ جو ہمارے پیارے گلشن اور مادر علمی کے معمار تھے جب جامعہ الاسلامیہ سے فارغ التحصیل ہوئے تو پہلے وکیل جامعہ اور پھر مدیر بنے۔ شیخ المحترم نہایت حلیم الطبع، شفیق، مہربان،حسن اخلاق اور عجزوانکساری کا عظیم پیکر تھے۔ ابتدائی جماعت میں ہونے کی وجہ سے شیخ المحترم سے پڑھنے کا شرف تو حاصل نہ ہو سکا لیکن اپنے ہمسفر ساتھیوں اور اساتذہ کرام سے ان کے بارے میں بہت کچھ سنا اور جامعہ کے ہر جلسے میں ان کا درس و تدریس سماعت سے گزرا اور دلوں پر جذبہ و ایثار کے نقوش چھوڑ گیا۔ دین کی راہوں میں شیخ المحترم نے اپنی اس سینتالیس سالہ مختصر سی زندگی میں بے بہا خدمات سر انجام دیں جب کبھی جامعہ کو ان کی ضرورت پیش آئی توانہوں نے ہر پکار پر لبیک کہتے ہوئے اپنی گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔ ہماری اساتذہ اور ساتھی ہمیں بتاتی ہیں کہ شیخ المحترم کا پڑھانے کا انداز اس قدر پر اثر ہوتا کہ مشکل سے مشکل بات کی بھی اس قدر آسان تشریح فرماتے تھے کہ وہ سنتے ہی دل و دماغ میں محفوظ ہو جاتی اور شاید ہی کسی اور کا شیخ المحترم جیسا انداز ہو جب شیخ المحترم کے بارے میں اس قدر شفقت سے بھری باتیں سماعت سے گزرتی ہیں تو دل تڑپ کر کہتا ہے کاش ہم نے بھی ان سے یہ فیض حاصل کیا ہوتا۔

رب تعالی ان کی تمام کاوشوں کو قبول فرمائیں آمین یا ربی۔

شیخ المحترم علم کے جو نقوش چھوڑ گئے اور جن بےشمار طلبہ و طالبات نے ان سے علم حاصل کیا وہ قیامت تک کے لیے صدقہ جاریہ رہے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو قرآن کی نورانیت میں منور کیا اور اپنے آپ کو اس حدیث کا مصداق بنایا :

وَإِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ۔

جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک

ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل جاتے ہیں

کچھ لوگ طویل زندگی حاصل کرنے کے بعد بھی کچھ نہیں کر پاتے اور کچھ مختصر سی زندگی میں بھی اتنے بڑے کام کر جاتے ہیں کہ رہتی دنیا تک کے لیے ہی نہیں بلکہ آخرت کے لیے بھی اچھے انجام کے مستحق بن جاتے ہیں اور شیخ المحترم بھی انہی میں سے ایک ہیں۔

شیخ المحترم نے اپنی زندگی میں دین کو ترقی دینے کے لیے دن رات محنتیں کیں اورپورے ملک میں ایک نام پیدا کیا جن کے بارے میں تاریخ گواہ رہے گی ان شا اللہ شہید کے ایک خون کا قطرہ رائیگاں نہیں جاتا۔

اپنی زندگی کے حسین لمحات دین کی خاطر گزارتے ہوئے 12 ستمبر 2023 کی شب شیخ المحترم کو چہل قدمی کرتے ہوئے ظالموں نے گولیاں مار کر شہید کردیا ۔اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ ۔آپ کی شہادت کا دُکھ صرف آپ کے خاندان یا جامعہ کا دکھ نہیں بلکہ ہم سب کا ذاتی دکھ ہے ۔آہ، شیخ محترم آپ کے جانے سے ہمارا جامعہ یتیم ہوگیا۔

خاک میں ڈھونڈتے ہیں سونا لوگ

ہم نے سونا سپرد خاک کیا

آپ کا مسکراتا ہوا چہرہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گویا آپ کہہ رہے ہوں فُزْتُ وَ رَبِّ الْکَعْبَةِ ( کعبے کے رب کی قسم ! میں کامیاب ہوگیا۔

ستمبر 2023 کی شب ہم اپنے معمول کے مطابق کھانے سے فارغ ہوکر اپنی جماعت میں بیٹھے تھے کہ ایک ساتھی نے آکر بتایا کہ جامعہ کے مدیر شیخ ضیاء الرحمن کو ظالموں نے گولیاں مار کر شہید کردیا ہے تو گویا جامعہ میں ہر جانب عجیب سا سماں پھیل گیا ہر آنکھ کسی دوسری ساتھی کی منتظر تھی اور ہر دل یہ چاہ رہا تھا کہ کوئی اور آئے اور کہے کہ یہ خبر غلط ہے لیکن رب تعالی کو جو منظور ہوتا ہے اس کی رضا کی خاطر حقیقت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے اوران کی شہادت کی خبر سننے کے بعد جامعہ یک دم سنسان ہوگیا کیونکہ ہم سے ایک عظیم سرپرست چھن گیا تھاجامعہ کے در و دیوار چیخ چیخ کر یہ پکارتے رہے کہ ہم سے ہمارے چشم و چراغ بچھڑ گئے۔ آہ، شیخ محترم رب تعالی آپ کی شہادت کو قبول فرمائیں اور جنت الفردوس میں ہمارے پیارے نبی کریم ﷺکا پڑوس عطا فرمائیں اور رب تعالی ہمارے دلوں میں بھی آپ کے جیسا تقویٰ، اخلاق، جذبہ ایمانی، لگن، دین کی تڑپ اور عجزو انکساری راسخ فرمائیں آمین یا ربی۔

فضیلۃ الشیخ عزت مآب ہر دلعزیز استاذ العلماء مدیر جامعہ أبی بکر و جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات کراچی قابل احترام اثاثہ علم قرآن وحدیث ضیاء الرحمٰن حفظہ الله تعالیٰ فی ذمۃ اللہ

اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ
اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، آمِین یَا رَبَّ العَرشِ العَظِیمِ

آخر میں شیخ المحترم کے لیے ایک مزید ادنی سی کاوش پیش خدمت:

عظمتوں کے آسماں تھے شیخ ضیاء الرحمن

نگہتوں کے کہکشاں تھے شیخ ضیاء الرحمن

ہو سیاست یا امامت یا قیادت کا مقام

پیشوا تھے پاسباں تھے شیخ ضیاء الرحمن

حق کی خاطر حق کا راہی ہرگھڑی میدان میں

زندہ دل اک کارواں تھے شیخ ضیاء الرحمن

زندگی جس نے گزاری درس اور تدریس میں

وہ معلم خوش زباں تھے شیخ ضیاء الرحمن

آج بھی «جامعہ» کو یاد ہے

ہنستا چہرہ ضوفشاں تھے شیخ ضیاء الرحمن

جس نے للکارا ہمیشہ ہر عدوئے دين کو

مرد میداں مہرباں تھے شیخ ضیاء الرحمن

جس کی محنت سے جہاں میں فیضِ قرآں عام ہے

علماء کے ترجماں تھے شیخ ضیاء الرحمن

ہم نہ بھولیں ہیں نہ بھولیں گے کبھی «غالب» انہیں

فضیلۃ الشیخ ہر دلعزیز رونق جامعہ تھے شیخ ضیاء الرحمن

admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago