مولانا ضیاء الرحمن مدنی رحمہ اللہ کی شہادت

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

وہ ملت دینہ کی عظیم شخصیت سارےشہر کو ویران کرگئی

عظیم عالم دین داعی اسلام مہتمم جامعہ ابی بکر الاسلامیہ فضیلۃ الشیخ ضیاءالرحمن مدنی شہید  رحمہ اللہ  زندگی کے آخری وقت تک اقامت دین کے لیے مصروف عمل تھے اپنے شب روز کو علم نبوی کے لیےوقف کردیا تھا 12ستمبر منگل کی رات انتہائی افسوس اور حزن و ملال کے ساتھ یہ خبر موصول هوئی کہ مولانا ضیاءالرحمن مدنی  رحمہ اللہ جام شہادت پی کر اپنے رب العزت کے حضور پیش ہوگئے(انا للہ وانا الیہ راجعون)مولانا ضیاءالرحمن مدنی نے اپنے والد محترم فضیلۃ الشیخ مفکر اسلام پروفیسر ظفراللہ  رحمہ اللہ  کی اچانک حادثاتی وفات کے بعد جس طرح جامعہ ابوبکر الاسلامیہ کراچی کی آبیاری کی اور والد محترم کے نقش قدم پر چلتے هوئے اس کی خدمت کو شعار زندگی بنایا وہ اپنی مثال آپ ہے،مولانا مدنی شہید والد کی طرح نہایت سادہ طبیعت اور محنت کے عادی تھے وہ ایک صالح نیک سیرت، اللہ سے ڈرنے والے انسان تھے انکی جدائی کاابھی تک یقین نہیں آتا گذشتہ دنوں علماء کرام کے ایک وفدنے محترم علامہ ڈاکٹر عامر عبداللہ محمدی صاحب کی قیادت میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری صاحب سے ملاقات کی تھی اس وفد میں مولانا ضیاالرحمن مدنی صاحب بھی شامل تھے اس موقع پر میں نے حضرت کی خدمت میں کئی بار عرض کیا کہ ناشتہ میں سے کچھ لیجیے لیکن وہ مسکراہٹ سے کام لیتے رہے بعد میں پتہ چلاکہ روزے سے ہیں اور عموماً سنت کی پیروی کرتے ہوئے پیر اور جمعرات کو روزے کا اہتمام کرتےتھے۔

اللہ انکے اعمال صالحہ اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور درجات بلند فرمائے نماز عصر کاوقت ہواتو ہم سب نے انکی امامت میں گورنرہاوس میں نماز عصر ادا کی ابھی گذشتہ تین جمعہ قبل مولانا مدنی شہید نے خطبہ جمعہ جامع مسجد رحمان ناظم آباد میں ارشاد فرمایا میرے لیے کچھ باتیں بہت اہم تھیں انکی گفتگو کو سب لوگ بہت غور سے سماعت کررہے تھے انہوں نے کہا جب تم اللہ کی راہ میں کچھ دیتے ہو تو پھر اس کا بدل اجر صرف اور صرف اللہ سے رکھو بندے سے کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔

یہاں تک کہا امام ابن تیمیہ  رحمہ اللہ  فرماتے ہیں اتنی احتیاط کرنی چاہیے کہ جس کے ساتھ آپ احسان کریں بدل میں اس کو دعا کے لیے بھی نہیں کہیں بلکہ اپنے رب سے تعلق کو قائم رکھیں شیخ محترم رب سے تعلق پر بیان فرماتے رہے لوگوں کی آنکھیں نم ہو گئیں،اللہ انکی مغفرت فرمائے اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے ۔آمین

مولانا کا تعلق درس و تدریس کے ساتھ بہت گہرا تھا اس کا اندازہ مجھے جامعہ کے طلباء اور اساتذہ کے تعلق سے ہوا وہ بہت محبوب شخصیت تھے ان پر اپنے والد کی تربیت کا بہت زیادہ اثر تھا جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی عظیم الشان عمارت علم نبوی کی عظیم درسگاہ کا درجہ رکھتی ہے جس کے پیچھے جہد مسلسل کی ایک داستان ہے۔

مولانا مدنی شہید  رحمہ اللہ  کے والد مذہبی اسکالر پروفیسر ظفراللہ صاحب  رحمہ اللہ نے دینی تعلیم مکمل مدرسہ اوڈانوالہ پھر جامعہ تعلیم الاسلام مامونکانجن میں امیر المجاہدین ابو المساکین حضرت صوفی محمد عبداللہ  رحمہ اللہ  کی سرپرستی میں کبارمشائخ و مدرسین سے علوم دین حاصل کیااس وقت شیخ الحدیث مولانا محمد یعقوب ملہوی،مولانا محمد صادق،مولانا عبدالصمد، مولانا عبدالرشید ہزاروی رحمهم الله اور دیگر اساتذہ منصب تدریس دینیہ پر فائز تھے محترم پروفیسر ظفراللہ  رحمہ اللہ  کراچی یونیورسٹی میں بحیثیت پروفیسر ہونے کے باوجود حضرت صوفی صاحب سمیت جامعہ تعلیم الاسلام سے وابستہ اپنی یادوں کو تازہ کرنے اور وفاوں کو نبھانے کے لیے ضرور تشریف لےجاتے،1997ء روڈ ایکسیڈنٹ میں ان کا انتقال ہوگیا تھا ( اللہ تعالیٰ کی اُن پر کروڑوں رحمتیں نازل ہوں۔

والد محترم مولانا ظفراللہ  رحمہ اللہ کی وفات کے بعد ان کے جانشین فرزند مولانا ضیاءالرحمن مدنی شہید  رحمہ اللہ نے بھی اسی تسلسل کو قائم رکھا مولانا کی پیدائش کراچی کی تھی انہوں نے عصری تعلیم کراچی سے حاصل کی اور عالم درس نظامی جامعہ ابی بکرالاسلامیہ سے جبکہ شرعی لاء کی ڈگری سعودی عرب کی عظیم اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ سے حاصل کی جامعہ ابی بکر اسلامیہ کے وکیل الجامعہ مقرر ہوئے اور گذشتہ 8سال سے مدیر الجامعہ کے فرائض انجام دے رہے تھے،اپنے والد کا طریقہ انداز، وہی سادگی،جہد مسلسل،اخلاق کی بلندی،تواضع،خدمت دین کا جذبہ اور اخلاص جس کا وہ چلتا پھرتا نمونہ تھے،زندگی کا سفر تو کہیں نہ کہیں تمام ہونا ہی ہے ہم اللہ کی رضا میں راضی اللہ انکی شہادت کو قبول فرمائے جنت میں بلند مقام عطا کرےآمین

وہ لوگ بہت خوش نصیب ہیں جو اپنے پیچھے ایسے قابل رشک نقوش چھوڑ گئے جن سے دنیا راہنمائی حاصل کرتی رہتی ہے، مولانا ضیاءالرحمن مدنی شہید بھی ان شاءاللہ اسی قافلہ جاوداں کے راہرو تھے، مسلسل دین اسلام کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کی ترویج و اشاعت میں مصروف عمل رہتے ہوئے اس دنیا فانی میں انمٹ نقوش چھوڑ کر زندگی کی 46 بہاریں مکمل ہوئیں اور اپنے سفر آخرت پر روانہ ہوگئے،اللہ تعالی ان کو شہدائے اسلام کے ساتھ اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے۔اللہ کی رحمتیں برکتیں نازل ہوں اللہ انکی دین اسلام کے لیے خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطافرمائے۔

مولانا ضیاالرحمن مدنی شہید  رحمہ اللہ  کی نماز جنازہ گول گراونڈ ماڈل کالونی میں 14ستمبر بروز جمعرات کو ممتاز بزرگ عالم دین فضیلۃ الشیخ العلامہ الحافظ مسعود عالم صاحب  حفظہ اللہ کی امامت میں ادا کی گئی نماز جنازہ میں کثیر تعداد علما کرام مشائخ واساتذہ مختلف مدارس کے طلبا سیاسی و مذہبی اہم شخصیات نے شرکت کی اس موقع پر علماءاہلحدیث جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے ذمہ داران اور ورثاء سے تعزیت کرنے والوں میں ایک کثیر فہرست ہے لیکن انتہائی مختصر کا ذکر ہے صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیرآعظم انوارالحق کاکڑ،گورنر سندھ کامران ٹیسوری،حضرت مولانا عبداالرحمن سلفی،محدث العصر حضرت شیخ الاسلام مولاناعبداللہ ناصر رحمانی، سینٹر مولاناپروفیسر ساجد میر، مولانا عبدالعزیز نورستانی، مولانا شیخ شجاع الدین،علامہ ابتسام الہی ظہیر،علامہ ڈاکٹر عامر عبداللہ محمدی، وفاقی وزیر مذہبی امور انیق احمد، حافظ نعیم الرحمن، علامہ زبیراحمد ظہیر،علامہ عبدالخالق آفریدی،مولانا عبدالغفار روپڑی، سینٹرمولاناحافظ عبدالکریم،جمیل احمد خان صدر کراچی مسلم لیگ ق، ڈاکٹر فاروق ستار، علامہ ضیااللہ شاہ بخاری،مولاناپروفیسر حافظ محمدسلفی،شیخ الحدیث مولانامحموداحمدحسن، ممتاز عالم دین مولانا تنویر الحق تھانوی، مولانا قاری خلیل الرحمن جاوید، مولانا مفتی انس مدنی،مولانا ڈاکٹر مفتی منور ذکی، مولانا مفتی عبدالحنان سامرودی، مولانا حماد چاولہ،مولانا مفتی یوسف کشمیری، راقم الحروف، مولانا مفتی یوسف قصوری،حشمت اللہ صدیقی،مولانا سید پیر یاسین شاہ راشدی،مولانا عبدالوحید، محمد حسین محنتی،مولانا ابراہیم طارق، مولاناپروفیسر عبدالحی مدنی،مولانا ڈاکٹر فیض الا ابرارصدیقی، مولانا ڈاکٹر مقبول احمد مکی،مولانا ابراہیم جونا گڑھی، مولانا جنید ذکی،مولانا داود شاکر، شیخ عبدالحق سعید آگرے والے، عرفان شیخ، مولانا افضل سردار، مولانامفتی عبدالوکیل ناصر، مولانا جمیل اظہر وتھرا،مولانا ڈاکٹر خلیل الرحمن لکھوی، مولانا ارشد علی، مولانا امیر عبداللہ فاروقی، حاجی عبدالحنان بندہانی، علامہ زاہد ہاشمی الازہری،مولانا مفتی رفیق سلفی، کاشف نسیم دلکشا،مولاناحافظ امجد اسلام،مولانا شیخ عبدالرحمن آگرے والے،پروفیسر حکیم عبدالرحمن عثمانی،مولاناسید عبدالرحیم شاہ، مولانا فضل ربی،علامہ نور محمد،حافظ اویس مدنی، مولاناسید عبدالرحمن شاہ، مولانا شریف حصاروی،مولانا عبدالوہاب سیٹھار، مولانا عبدالحمید گوندل، مولاناعبداللہ علوی،مولانا حافظ سفیان سیف،مولاناقاری مصدق الامین،مولانا قاری طلحہ، مولانا قاری حسنین چشتی، حکیم مطیع الرحمن مکی، مولانا احسن سلفی، قاری انیس الرحمن، مولانا ابو بکر ارشد وزیرآبادی،مولانا ناصر یامین،انیس الرحمن انصاری، اختر علی محمدی،شرافت حسین اثری، عامر نجیب،مولانا عصمت اللہ، مولانا یوسف کاظم،مولانا محب اللہ، و دیگر علماکرام شامل ہیں۔

admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago