Categories: مارچ 2009

بیت المقدس کس کا حق ہے؟

معمار حرم باز نہ تعمیر جہاں خیز

دل رو رہا ہے دیکھ کے خیر الامم کا حال

بے دست وپاغریب عجیب بے بسی میں ہے

پروردگار کرکوئی تائید غیب سے

امت ترے نبی کی بڑی بے بسی میں ہے

اس امت مسلمہ کے لئے ۶ ، جون ۱۹۶۷ء؁ سے زیادہ تاریک اور تیرگی سے معمور اور کوئی دن نہ تھا کہ جب یہود کے ناپاک قدموں نے اللہ کی ملعون زدہ قوم نے ارض انبیاء مہبط رسالات فلسطین کے قلب مملکت اور مسلمانوں کے قبلہ اول پر اپنے ناپاک وغلیظ عزائم کی تکمیل کے لئے قبضہ کیا۔ جب یروشلم کی فضا پر اداسی طاری ہوگئی ، جب اللہ کے نام لیواؤں پر اس کی مقدس سرزمین تنگ کردی گئی اور جب وہ ہاتھ جنہوں نے علم اسلام کو تھام رکھا تھااور وہ سر جو اللہ کے سوا کسی کے سامنے جھکنا نہ جانتے تھے قلم کردیئے گئے۔

آہ ! اس دن کی یاد بھی کس قدر سوزودرد سے معمور ہے ، ہر روز سورج کا طلوع ہونا اور ہر شب تاریکی کا غلبہ پانا اسی غم واندوہ کی یاد تازہ کرتاہے۔

بدقسمتی تو یہ رہی کہ ۱۹۶۷ء؁ میں فلسطین کے محاذ پر لڑنے والے عرب قائدین یہ باور کراتے رہے کہ یہ عرب واسرائیل کی جنگ ہے ، وہ بیگانہ عقل وخرد کیا جانیں یہ عرب واسرائیل کی نہیں اسلام وکفر کی جنگ ہے اور اس جنگ کا آغاز آج سے چودہ صدی قبل بعثت نبوی  ﷺ کے ساتھ ہی شروع ہوگیا تھا، جن کے نزول اجلال سے ایوان کفر وضلالت سراسیمہ ہوگئے تھے اور ہنگامہ طغیان وسرکشی کی رفتار دھیمی پڑگئی تھی۔ آج ابلیس کی وہی ذرّیت اللہ کے نام لیواؤں اور محمد رسول اللہ  ﷺ کی امت سے معرکہ آرا ہے۔

بیت المقدس کی فضا حزن وملال سے مغلوب ہے اور اس سانحہ دل پذیر پر ۳۴ برس بیت چکے ہیں، کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ علم اسلام کامل یکجائی کے ساتھ ان خطرات سے نبرد آزماہو، کیا غفلت وسرکشی اوراعراض ومساہلت کا دورہ اس قدر طویل ہوچکاہے کہ اللہ کا یہ فرمان بھی نگاہوں سے اوجھل ہورہاہے۔

{وَمَا لَکُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللّہِ وَالْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء وَالْوِلْدَانِ الَّذِینَ یَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ ہَذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ أَہْلُہَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ وَلِیًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ نَصِیرًا}(النساء :۷۵)

’’اور کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں ، عورتوں اور بچوں کی نجات کیلئے جہاد نہ کرو ؟ جو (بارگاہ الٰہی میں) کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بلدئہ ظلم سے نجات دیجئے ، ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی غمگسار مقرر کردیجئے اور ہمارے لئے اپنے پاس سے مددگار بنائیے۔ ‘‘

اے غفلت کیش مسلمان ! آج القدس کی فضائیں بارگاہ الٰہی میں التجا کر رہی ہیں کہ ’’میری خوں آشامیوں سے ساری دنیا آگاہ ہے، مگر تیرے یہ نام لیوا اپنی مست خرام نگاہوں کووا کرنے کیلئے تیار نہیں۔‘‘ آج القدس کے کوچے کوچے کہہ رہے ہیں کہ ’’اے الہ العالمین ! میری گلیوں میں مسلمان کے خون سے زیادہ ارزاں اور کوئی چیز اور آہ کی سسکاری کے سوا اور کوئی گونج نہیں رہی مگر تیرے محبوب نبی  ﷺ کی یہ امت اپنے گھروں میںمحواستراحت ہے۔‘‘ بیت المقدس کا وہ چپہ چپہ جہاں تمام انبیاء ومرسلین علیہم السلام نے یک بیک اپنی جبینوں کو خالق کائنات کی بارگاہ میں جھکایا تھا، گونج گونج کرکہہ رہاہے کہ ’’میرے تقدس پامال ہورہے ہیں ، مگر میری محبت کا دم بھرنے والوں کی محفلیں عیش ونشاط سے معمور ہیں ایوان کفروضلالت زمیں بوس کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں مگر آج کا یہ مسلمان زن، زمین وزر کی محبت سے مسحو رہورہاہے۔‘‘

اے غفلت کیش مسلماں! کب تک تمہاری آنکھوں پر یہ خوابیدہ بوجھ گراں پڑا رہے گا، کب تک حیات انسانی کی تگ وتاز تمہیں غفلت وسرکشی پر اکساتی رہے گی، کب تک دنیا کی محبت تمہیں حق وباطل کی تمیز سے محروم رکھے گی ، کب تک تمہاری پامالی حسرت کی داستان خونچکاں سے سطح ارضی کا سینہ آہ کے نشتر سے گھر کئے رہے گا۔ کیا تم اس کے منتظر ہو کہ تم پر مہلت وقیام کی حجت ہی تمام کردی جائے۔

{ہَلْ یَنظُرُونَ إِلاَّ أَن یَأْتِیَہُمُ اللّہُ فِی ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلآئِکَۃُ وَقُضِیَ الأَمْرُ وَإِلَی اللّہِ تُرْجَعُ الأمُورُ} ( البقرۃ :۲۱۰)

’’کیا انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ خود اللہ ان کے پاس ابرکے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے بھی اور امور اپنی انتہا کو پہنچ جائیں۔‘‘

اللہ اپنے امور میں تمہارا محتاج نہیں ہے۔ یہ مراحل تو محض آزمائش حیات کا ذریعہ ہیں ورنہ اس رب واحد ومعبود یگانہ کیلئے کیامشکل ہے جبکہ وہ خود اپنی کتاب عظیم میں فرما چکاہے۔

{وَاللَّہُ الْغَنِیُّ وَأَنتُمُ الْفُقَرَاء وَإِن تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ثُمَّ لَا یَکُونُوا أَمْثَالَکُمْ}(سورۃ محمد:۳۸)

’’اور اللہ غنی ہے اور تم محتاج ہو اور یہ کہ تم روگرداں ہوجاؤ تو وہ تمہارے بدلے تمہاری جگہ دوسری قوم لے آئے گا جو تمہاری طرح نہ ہوگی۔‘‘

اب بہتر یہی ہے کہ ہم اولاد شیطان کے مکر وہ چہرے پہچانیں، اپنے پروردگار جلیل وعظیم کی بارگاہ میں سجدہ ریزہوں اور اپنے اعمال کی کوتاہیوں کا اعتراف کریں۔

لاریب کہ آج یہودی افق عالم پر چھائے ہوئے ہیں ، ایسا ایکدم نہیں ہوگیا، اس کے لئے انہوں نے صدیوں اپنی مکارانہ ذہنیت پر عمل کیا ہے، سیاسیات کو اخلاقیات کے مقابل لاکھڑا کیا، نئی اشرافیہ کی بنیاد ڈالی، فلسفہ وافکار کی دنیا میں نت نئے باطل ازم کو روشناس کرایا، مادیت پرستی کے رجحان کو فروغ دے کر عالمی معاشی بحران پیدا کیا، ممالک کے درمیان بالعموم اور اسلامی ممالک کے درمیان بالخصوص وسیع خلیج حائل کی ، دہشت وبربریت کی حوصلہ افزائی کی ، زردصحافت کو رواج دیا ، فحاشی اورعریانیت کی تشہیر وتبلیغ کی ، تفریحی مراکز قائم کرکے لہوو لعب کی محفلوں کو عام کیا، لادینیت کے ہتھیار سے دینی رجحان کی بیخ کنی کی ، جمہوریت کی نیلم پری کی اداؤں سے بڑے بڑے زعمائے ملت کو اسیر کیاتاکہ مقصدیت سے انحراف ممکن ہوسکے اور سب سے بڑھ کر اقوام متحدہ کے نام سے ’’سپر گورنمنٹ‘‘ تیار کی ، جس کے سامنے تمام اسلامی ممالک بالخصوص بے بس ہیں۔

’’صیہونی دانا بزرگوں‘‘ کی پہلی دستاویز میں لکھاہے۔

’’اتنی آسانی سے ہمارے کامیاب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہم جن افراد کو اپنی مطلب براری کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ان سے تعلقات استوار کرنے میں ان کے ذہن کے حساس ترین تاروں کو چھیڑتے ہیں مالدار ہونے کی خواہش ، عاشق مزاجی ، لامتناہی مادی خواہشات ، ان میں سے ہر ایک انسانی کمزوری انفرادی طور پر ان کی اختراعی قوتیں مفلوج کردینے کیلئے کافی ہے انسان اپنی قوت ارادی اس کے سپرد کردیتاہے جو اسے یہ چیزیں مہیا کرتاہے۔‘‘

یہودیوں نے اپنے سوادیگر اقوام وملل کو نابود کرنے کیلئے ہرہر حربہ استعمال کیا، انسان کی سفلی خواہشات کا سہارالے کر اسے عقل وفکر کی دولت سے محروم کرنے کی پوری سعی کی۔

یہودیوں نے دنیا کو ایسا کلچر Culture دیا ہے ، جس کی بنیاد مخلوط آزادی اور اخلاقی بے راہ روی ہے ، وہ لٹریچر اور صحافت مہیا کیاہے، جوشہواتی تسکین کے جذبے سے معمور ہے وہ فیشن Fasion دیا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں اپنی تذکیر وتانیث تک بھول گئے ہیں ، وہ رومان پرورادب تخلیق کیا ہے کہ جس میں حرص وہوس کو محبت کانام دے کر جذبہ محبت کی توہین کی ہے ، کجا جذبہ محبت اور اس کی پاکیزگی اورکجا جذبہ حرص وہوس اور اس کی پستی۔ دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کبھی تہذیب وتمدن اور ادب کے نام پر ایسی بدتہذیبی اور بداخلاقی کی تشہیر کی گئی ہوگی۔

آج پوری دنیا یہودیوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنی ہوئی ہے تمام مذاہب وملل اس کے زلہ رباہیں مگر وہ سر جوکبھی غیر کے آگے نہ جھکا تھا نہ جھکاہے ، وہ کیسے یہود کی بالادستی قبول کرسکتاہے، صرف مسلمان ہی ہیں جو یہود کے مدمقابل ہیں، خود یہود کی ناجائز ریاست اسرائیل نے علی الاعلان یہ کہاہے کہ ’’ہماری جنگ عالم اسلام سے ہے۔‘‘

اس وقت اسلامی دنیا میں ’’پاکستان‘‘ اپنی اہمیت ومنزلت کے اعتبار سے سرفہرست ہے اور اسرائیل کی نظر عنایت پاکستان پرروزِ اوّل ہی سے ہے۔ یہودیوں کے ’’بابائے قوم‘‘ بن گورین نے جون ۱۹۶۷ء؁ کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد پیرس (فرانس) میںیہودیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کیا تھا، یہ خطاب لندن سے شائع ہونے والے یہودی جریدے ’’جیوئش کرانیکل‘‘ Jewish Chronicleکی ۹ ، اگست ۱۹۶۷ء؁ کی اشاعت میں شائع ہوا تھا ، اپنے خطاب میں اس نے پاکستان سے متعلق اپنے بغض باطن کا اظہار بایں الفاظ میں کیاتھا۔

’’یہودی تحریک کو پاکستان سے جو خطرہ لاحق ہے اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور ہمارے (اسرائیل کے) وجود کیلئے ایک چیلنج اب ہمارا نشانہ پاکستان ہونا چاہیے۔ پاکستانی قوم یہودیوںسے نفرت اور عربوں سے محبت کرتی ہے ، عالمی یہودی تحریک کا یہ فرض ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف فوری اقدامات کرے ، ہندوستان کے باشندے ہندو ہیں ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ نفرت بھری رہی ہے۔ اس لئے پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے ہندوستان کارآمد اڈہ بن سکتاہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس اڈے سے فائدہ اٹھائیں اور یہودیت اور صیہونیت کے دشمن پاکستانیوں کوکاری ضرب لگا کر کچل دیں ، یہ کام نہایت راز داری اورخفیہ پلاننگ سے سرانجام دینا چاہیے۔ ‘‘ (فلسطین اور بین الاقوامی سیاست : ۵۱۶۔۵۱۷ ط۱۹۷۶ء کراچی)

اور سچ پوچھیئے توبن گورین کے پیروکاروں نے پاکستان کو اپنا نشانہ ستم بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ برگر فیملی اور اس کے ’’مہذبانہ‘‘طورواطوار، یہ ڈش کلچراوراس کی رنگینیاں اور یہ انٹرنیٹ کیفے اور اس کے ’’فوائد چند‘‘ ۔یہ سب اس کا کھلا مظہر ہیں۔

ہمیں بخوبی آگاہ ہوجانا چاہیے کہ شراب (Wine) کا ایک قطرہ ، نشہ لانے والی ایک ٹیبلٹ، تخریب اخلاق پر مبنی ایک بیہودہ فلم (Film)، جذبات میں ہیجان (Excitement) برپا کرنے والی ایک فحش وعریا تصویر، شہوت پرستانہ موسیقی کی ایک دھن اور اس دھن سے پیدا ہونے والے ارتعاش ہمارے لئے ’’اگنی‘‘ اور ’’پرتھوی‘‘میزائل سے زیادہ تباہ کن وضرررساں ہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے برائی کو برائی جانتے ہوئے قبول کیا ہے اور پھر اس برائی کے زہرنے انسانی اذہان وقلوب پربادسموم کے وہ جھونکے چلائے کہ اب نگاہیں دیکھنا چاہیں بھی تو دیکھ نہیں سکتیں۔ غفلت ومساہلت کی ایسی حالت ہم پر طاری ہی کیوں ہوئی؟ اس لئے کہ ہم نے اپنے دین کے مآخذ سے روگردانی کی، قرآن کے آفاقی پیغام اور رسول پاک  ﷺ کی سیرت مطہرہ سے اعراض کیا، نتیجہ ظاہر ہے ، اب کیا حق ہے کہ شکوہ کریں۔ قرآن اس لئے ہے کہ اس کے پیغام ربانی پر غور وفکر کی وادیاں قطع کی جاتیں، مگر یہاں جزدان حریر وریشم میں لپیٹ کرکنارے رکھ دیا گیا، امام الانبیاء  ﷺ کی پاکیزہ سیرت اسوئہ حسنہ بنائی گئی تھی مگر وہ صرف جھوٹی عقیدت ومحبت کی نسبت بن کررہ گئی۔

’’اسلام کے لئے جان تو دے سکتاہوں، مگر اس پر عمل نہیںکروں گا۔‘‘ یہی بیشتر مسلمانوں کا نقطہ نظر بن گیا۔

مگر اے بندئہ نفس !یہ سب تیرے ذہن وفکر کی گمراہیوں کی خوشنمائیاں ہیں ، جو شخص اپنے نفس کی ادنی لذتوں کی قربانی نہیںدے سکتا وہ اللہ کی راہ میں جان کیا قربان کر ے گا۔

اے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھنے والو! یہ تمہارے ایمان کی جاں کنی ہے کہ آج ہردل حسرت والم کامرکز اورہرصورت فسانہ یاس افزابن گئی۔ عروج وکامرانی کاسفر طے کرنے والے المیوں اور پستیوں کے گڑھے میں جاگرے۔ جبکہ آج سے ساڑھے چودہ سوبرس قبل خود خالق کائنات نے اپنے محبوب بندے کی زبان سے دنیا کو یہ پیغام دیاتھا کہ {إِنَّ الَّذِینَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُونَ}(الاحقاف :۱۳) اور {أَلاَ بِذِکْرِ اللّہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ} (الرعد:۲۸)

جب ایمان کادعوی ہے تو پھر دلوں میں یہ اضطراب کیسا اور یہ بھی واضح ہے کہ {بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیْکُمْ} (الشوری:۳۰) یہ سب تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے۔ کیونکہ {وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ} (البقرۃ:۱۴۳)

لا ریب کہ ایسا ایکدم نہیںہوگیا، اس میںاغیار کی سازشوں کاازحد دخل ہے۔ یہود ونصاری کی شاطر انہ ذہنیت نے سیاسی ، معاشرتی ، سماجی ، اقتصادی الغرض کوئی مرحلہ ایسانہ تھا جس میں مسلمانوں کے خلاف سازش کے جال نہ بنے ہوں ، صلیبی جنگوں میں شکست کے بعد عیسائی دنیا نے بخوبی اس امر کا اندازہ لگالیا کہ مسلمانوں کو محاذ جنگ میں مغلوب نہیں کیا جاسکتا۔

مشہورزمانہ مسیحی راہب ولیم آف ٹریپولی (Williams Bishop of Tripoli) نے (مسلمانوں کے ملک فتح کرنے کا طریقہ) میں اپنی قوم کو مشورہ دیا تھا کہ ’’مسلمان بزور شمشیر فتح نہ ہوں گے اس مقصد کے لئے دوسرے طریقے استعمال کئے جائیں۔ ‘‘ پھر یہی مشورہ ایک دوسرے عیسائی پادری پیٹر دی وینریبل (Peter the Venerable) (۱۱۵۷ء ۔۱۱۹۲ء ) نے دیا۔ پھر یہی ’’نسخہ کامرانی‘‘ ایک تیسرے عیسائی عالم ریمنڈلو لوس نے دہرایا اور پھر بصورت قرار داد ویانا کی مشہور کونسل ۱۳۱۱ء میں یہی چیز پیش ہوئی۔ (بنات الصلیب :۷)

چنانچہ مسلمانوں پر قوت وغلبہ پانے کیلئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھیڑوں نے دیگر ذرائع استعمال کئے۔

بایں ہمہ مسلمانوں کیلئے نسخہ سرفرازی اب بھی وہی ہے کہ جس کے اظہار پر لیل ونہار کی کتنی ہی گردشیں بیت چکی ہیں اور جسے عرب کے ایک اُمی کی زبان سے خود خالق کائنات نے اپنے بندوں کودیا ہے۔

{اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَلَہْوٌ وَزِینَۃٌ وَتَفَاخُرٌ بَیْنَکُمْ وَتَکَاثُرٌ فِی الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ کَمَثَلِ غَیْثٍ أَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَبَاتُہُ ثُمَّ یَہِیجُ فَتَرَاہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَکُونُ حُطَامًا وَفِی الْآخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیدٌ وَمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللَّہِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ٭ سَابِقُوا إِلَی مَغْفِرَۃٍ مِّن رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا کَعَرْضِ السَّمَاء وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِینَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَرُسُلِہِ ذَلِکَ فَضْلُ اللَّہِ یُؤْتِیہِ مَن یَشَاء وَاللَّہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ }(الحدید :۲۰۔۲۱)

’’خوب جان رکھو کہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل تماشہ زینت اور آپس میں تفاخر اور مال واولاد میں دوسروں سے خود کو زیادہ بتلانا ہے ، جیسے بارش کہ کاشتکار کو اس کی پیداوار بھلی لگتی ہے پھر وہ زور پکڑتی ہے، تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد اور پھر چور ا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب بھی ہے اور اللہ کی مغفرت اوراس کی رضا مندی بھی ،اور نہیںہے یہ دنیا کی زندگی مگر ایک سودائے غفلت وسرکشی ، اپنے رب کی مغفرت کی طرف سبقت کرو اور جنت کہ جسکی وسعت آسمانوں وزمین کی وسعت کے برابر ہے۔ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کیلئے جو اللہ اور رسولوں پر ایمان لائے یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہتاہے عطا کرتاہے اور اللہ فضل عظیم والا ہے۔‘‘

اور اسی قرآن میں اللہ نے اپنے صالح بندوں کو سطح ارضی کے شر الاشرار افرادانسانی سے متعلق یہ حکم دیا ہے کہ

{وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلّہ فَإِنِ انتَہَوْاْ فَإِنَّ اللّہَ بِمَا یَعْمَلُونَ بَصِیرٌ} (الانفال :۳۹)

’’اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین خالص اللہ کا ہو پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اللہ دیکھنے والا ہے جو وہ کرتے ہیں۔‘‘

حالات کا تقاضا ہوتو محبت خون کی ندیاں بھی بہا سکتی ہے ، جبکہ فطری طور پر محبت شکستہ دلوں کی مسیحائی اور انہیں استوار کرنے کا نام ہے۔ ہم طالب ہیں اور ہمارا مطلوب ومقصود اللہ ہے۔ آج اس کی بنائی ہوئی انسانیت سسک رہی ہے ، کیا اب بھی ہم خاموش تماشائی بنے رہیں گے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ ہمیں اپنے طالب اور اس کے مطلوب ہونے کا ادراک ہی نہ ہو۔ واحسرتا ! کہ اصل بات تو یہی ہے{وَمَا قَدَرُوْ ا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہِ}

شیرازہ ہوا ملت مرحوم کا ابتر

اب تو ہی بتا تیرا مسلماں کدھر جائے؟

وہ لذت آشوب نہیں بحر عرب میں

 پوشیدہ جو ہے مجھ میں وہ طوفان کدھر جائے؟

اس راز کو فاش کر اے روح محمد  ﷺ

آیات الٰہی کا نگہبان کدھر جائے ؟

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago