رحمت عالم ، ھادئ مجسم محمد رسول اللہ ﷺ نے بعثت کے بعد دعوتِ حق کا آغاز کیا تھا کہ قریش مکہ صادق اور امین کہنے والے جان کے دشمن اور خون کے پیاسے بن گئے ،جو بھی حمایت اسلام کا دعویٰ کرتا ظلم وستم کا نشان عبرت بن جاتا ، دن دیہاڑ ے ظلم وستم کی اندھیری رات اپنے خوفناک اندھیرے کیساتھ وارد ہوجاتی ۔
’’مشرکین مکہ کے ستم کا نشانہ بننے والی خاتون اسلام سمیہ بنت خباط کانام تاریخ اسلام میں جلی حروف سے محفوظ ہے ، جسکو تاریخ اسلام کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ حضرت سمیہ یاسر کی بیوی اور عمار کی والدہ تھیں، خانوادئہ یاسر تاریخ اسلام کا ایک ممتاز گھرانہ ہے۔ ماں باپ بیٹے سب دین حق کے شیدائی اور حامی تھے حضرت سمیہ کا شمار مسلمان ہونے والوں میں ساتواں نمبر ہے۔
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے باب میں امام بخاری رحمہ اللہ نے عماربن یاسر رضی اللہ عنہ کی روایت دی ہے کہ ایمان لانے کے بعد میں نے حضرت محمد ﷺ کو دیکھا ، آپ کے ساتھ ابوبکر ، دو عورتیں اور پانچ غلام تھے ، یہی روایت اسد الغابہ کی فہرست میں یحیی بن معین کے حوالے سے ملتی ہے مجاہد نے پہلے سات مسلمانوں کے نام اس ترتیب سے دئیے ہیں ۔ اللہ کے پیغمبر جناب محمد ﷺ صدیق اکبر وخباب ، صہیب ، عمار اور سمیہ اور اسد الغابہ کی اسی فہرست میں ام المومنین حضرت خدیجہ ، حضرت علی ، زید بن اثیر رضی اللہ عنہم اور ابن حجر نے بھی ان کا قبول اسلام ساتویں نمبر پر ہی لکھا ہے اور یہی راجح قول ہے۔
سمیہ بنت خباط مولاۃ ابی حذیفہ بن المغیرۃ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم وہی امّ عمار بن یاسر ۔( طبقات الکبری لابن سعد ص/۲۶۴۔)
حضرت سمیہ بن خباط ابو حذیفہ بن مغیرہ مخذومی کی لونڈی تھی۔ یاسر عنسی جب مکہ آئے تو یہاں ہی سکونت اختیار کرلی ابوحذیفہ نے اپنی کنیز یعنی سمیہ بنت خباط کا نکاح یاسر عنسی کے ساتھ کردیا عمار اورعبد اللہ پیدا ہوئے۔ ابو حذیفہ نے ولادتِ عمار پر ام عمار کو آزاد کردیا ۔ دین اسلام کی آواز خاندان یاسر نے بھی سن لی اوراعلان حق کیے بغیر نہ رہ سکے۔ قبولِ اسلام کے وقت سمیہ بنت خباط کمزور اور ضعیف ہوچکی تھی لیکن حمایتِ اسلام میںجوانوں جیساجذبہ رکھتی تھی۔ مشرکین مکہ نے دیکھا لوگ اسلام کی حمایت میں بڑھتے جارہے ہیں ۔ بت پرستی کو چھوڑ کر حق پرستی کو اپنا شعار بنا رہے ہیں۔ بس اسی بات پر ظلم وستم کا دور شروع ہوگیا۔ حامیان اسلام کی زندگی خطرے میں پڑگئی۔
جرم اسلام کی حمایت میں ایام امن ، تلخی وآلام میں تبدیل ہوگئے۔ جو بھی اسلام قبول کرتا مشرکین کی ضد میں آجاتا ، بوڑھی سمیہ بنت خباط رضی اللہ عنہا کو بھی سزائیں جھیلنا پڑی ۔ لوہے کی آہنی زرہ زیب تن صحرا کی تپتی دھوپ اور ریت کا ٹیلہ جاہِ قیام ، صابرہ وشاکرہ کی زبان سے ناشکری کے کلمات کبھی وارد نہ ہوئے۔ ابن سمیہ یعنی حضرت عماررضی اللہ عنہ کو بھی قبول اسلام کی وجہ سے سزائیں دی جاتی ۔ نبی کریم ﷺ نے دیکھا کہ عمار کی بوٹیاں نوچی ہوئی ہیں۔ پیٹھ جل کر سیاہ ہوچکی ہے اور جبل استقامت بنا کھڑا مسکرا رہاہے۔ نبی کریم ﷺ نے یدشفقت یاسر کے سر پر پھیرا اور فرمایا:
’’مولا آگ کو عمار پر ٹھنڈی کردے جس تو نے ابراہیم علیہ السلام پر کی تھی۔ ‘‘ (طبقات ابن سعد)
جواں بیٹا اور بوڑھے والدین یعنی سمیہ زوجہ یاسر پر بھی یہی گزرتی تھی دکھ وآلام کو برداشت کرتے ، متلاشیانِ جنت ، راہروانِ حق ، صبر واستقامت کے پھول دامن میں لئے مسکرا کر لا الہ الا اللہ کی صدائیں بلند کررہے تھے اور لات ومنات کانام لینا غیرت کے منافی تھا۔
’’یہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کی خوشنودی کیلئے تکلیفوں اور مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں۔‘‘
ایک دن ابوجہل ابو حذیفہ کے پاس آیا آنکھوں سے خون بہہ رہا تھا۔ غصہ سے لال پیلا ہورہا تھا ، ابو حذیفہ کو مخاطب کرکے بولا :
ابو حذیفہ اب تمہاری لونڈی نے بھی ہمارے بتوں کو برا کہنا شروع کردیا ہے۔
بس زندگی کی شام ہونے والی تھی ۔ رب کائنات سے ملاقات کا وقت ہوچکا تھا، دن ڈھل چکا تھا ، رات کا اندھیرا چھا رہا تھا ۔ دن بھر کی ستائی ہوئی سمیہ بنت خباط رضی اللہ عنہا نے جونہی گھر میں قدم رکھا اور دم لینے بھی نہ پائی تھی کہ اتنے میں ابو جہل اور ظالم درندہ بھی آ دھمکا گالیوں پر گالیاں ،غصہ سے بھرا ہوا ، غمیضِ قلب نکالنے کیلئے نیزہ ستر عورت کی ایسی نازک جگہ پر مارا کہ نیزہ جسم کے پار نکل گیا،
پہلی شہیدہ سمیہ بنت خباط رضی اللہ عنہا اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر چکی تھی ، عماررضی اللہ عنہ اپنی والدہ کی مرگِ بیکسی پر فرطِ غم سے نڈھال دربار اقدس میں حاضر ہوئے اور والدہ کی شہادت بے بسی سے آگاہ کیا ، تو آپ ﷺنے فرمایا :
’’اے اللہ ! آل یاسر کو دوزخ سے بچا ۔‘‘
جنگ بدر میں ابوجہل زخمی ہوکر گر پڑا ، زبان کا ترش اور مزاج کا سخت ، منہ میں زبان کیا نوک خار تھی ، سینے میں نفرت کا کالا دھواں تھا ، سانپ کی طرح پھنکار رہا تھا ، دل جہنم کا آتش کدہ تھا ، دشمن حق تھا ۔
انتہائے حرب عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس عدوِّ دین اور دشمن حامیان اسلام کی تلاش میں نکلے ، تھوڑی دور منحوس چہرہ نظر آگیا ، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پاس پہنچے تو اسی حالت میں ہی زخمی ناگ کی طرح پھنکار رہا تھا گلے سے خون رس رہا تھا مگر نامراد زبان اب بھی زہر اگل رہی تھی ، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سینے پر قدم رکھ کر سر تن سے جدا کردیا ، اور مسلمانوں کے سامنے لاکر رکھ دیا۔
رسول اکرم ﷺ کو ابو جہل کی شقاوت اور حضرت سمیہ رضی اللہ عنہ کی مرگِ بیکسی یاد آگئی اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو بلا کر فرمایا :
’’اللہ نے تمہاری ماں کے قاتل سے بدلہ لے لیا ہے۔‘‘
حضرت سمیہ بنت خباط رضی اللہ عنہا کی شہادت ہجرت نبوی سے کئی سال قبل واقع ہوئی اس لئے تمام مؤرخین اسلام نے انہیں اسلام کی شہیدئہ اول قرار دیا ہے ۔ (رضی اللہ عنہم اجمعین)
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…