آسماں کی گھومنے والی قوسیں آپ اپنے مرکز میں ٹھہر گئیں۔ بروج نے سیاروں کے پاؤں میں کیلیں ٹھونک دیں ۔ ہوا جنبش سے ، افلاک گردش سے ،زمین چکر سے اور دریا بہنے سے رک گئے ۔ پھولوں میں نکہت ، کلیوں میں خوشبو کونپلوں میں مہک یکدم مات پڑگئی۔ آہ وبکا ، وچیخ وپکار اور اشکوں کی برسات جاری ہوگئی ۔ عقلیں گم اور آوازیں بند ہو گئیں ۔سکتہ غالب عثمان ذوالنورین ہوا ، علی حرکات سے عاری اور عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہم صدمہ کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے ۔ ‘‘ (اصح السیر ، صفحہ :۵۳۷ )
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں : کہ جس دن وہ ہمارے ہاں تشریف لائے اس سے بہتر اور تابناک دن میں نے کبھی نہیں دیکھا اور جس دن انہوں نے وفات پائی اس سے زیادہ سخت تکلیف دہ اور تاریک دن بھی میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ (الرحیق المختوم ، ص:۶۳۰، دارمی ، مشکوۃ۲/۵۴۷)
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تیغ بے نیام لئے ہر اس شخص کے قتل پر تلے ہوئے تھے کہ جو کہے گا کہ ان کا انتقال ہو گیا ۔(اصح السیر ، ص/۵۳۷ )
یہ وہ تاریک دن تھا کہ ہرشے غم سے نڈھال ہوگئی ، اور جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بلا مبالغہ اپنے حواس کھو بیٹھے تھے اور زمین وآسمان سسکیاںبھر رہے تھے۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرطِ غم سے فرمایا :
’’ہائے ابا جان! جنہوں نے پروردگار کی پکار پر لبیک کہا ، ہائے اباجان ! جن کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہے ، ہائے اباجان! ہم جبرئیل کو آپ کی موت کی خبر دیتے ہیں ۔‘‘
کیونکہ آج بروز سوموار علی وقت چاشت ماہ ربیع الاول ۱۱ھ بمطابق جون ۶۲۳ء میں سید الکونین ، شفیع المذنبین ، محبوب خدا ، امام الأنبیاء خلاصئہ کائنات ، فخرِ موجودات ، خاتم النبیین ، رحمۃ العالمین یعنی محمد ﷺ اس دنیائے فانی سے ہمیشہ کیلئے رحلت فرما گئے۔ انا للہ وإنا إلیہ راجعون
شاعر کہتاہے :
ضوء منہ ماند پڑگئی
تنویر سراج مات پڑگئی
پڑگئی ، پڑگئی ہاں پڑگئی
زندگی ہماری بانجھ پڑ گئی
قارئین کرام ! نبی مکرم جناب محمد ا کی تاریخ وفات بقول جمہور مع اتفاقہم ۱۲ ربیع الأول بروز پیر ۱۱ھ ہے بعض ارباب سیر نے اس مسئلہ کوبھی مختلف بنایا ہے ، مولانا عبد الرؤف دانا پوری صاحب رحمہ اللہ ’’اصح السیر ‘‘ میں رقم طراز ہیں کہ :
’’امام السیر ابن اسحاق اور جمہور کاقول یہ ہے کہ اس روز ربیع الأول کی بارہ تاریخ تھی اور ابن سعد نے عمر بن علی بن ابی طالب سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور چہار شنبہ کے روز بیمار ہوئے جبکہ صفر کا ایک دن باقی تھا ، تیرہ روز بیمار رہے اور بارہ ربیع الاول کو انتقال ہوا ۔‘‘ (ص:۵۲۵)
اور اسی طرح مولانا صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ اپنی مایہ ناز تحریر ’’ الرحیق المختوم ‘‘ میں لکھتے ہیں :
’’ یہ واقعہ ۱۲ ربیع الأول ۱۱ ھ یوم دو شنبہ کو چاشت کی شدت کے وقت پیش آیا ، اس وقت نبی مکرم ا کی عمر مبارک تریسٹھ سال چار دن ہو چکی تھی ۔ (ص/۶۳۰)
علامہ ابو الحسن علی الندوی رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’قصص النبیین ‘‘ جلد پنجم میں کہتے ہیں :
’’اور یہ واقعہ بروز پیر ۱۲ ربیع الأول ، ۱۱ھ بعد زوال پیش آیا اور اس وقت آپ ﷺ کی عمر تریسٹھ برس تھی۔‘‘
صاحبزادہ عبد الرسول رحمہ اللہ ’’تاریخ اسلام ‘ میں ’’تاریخ وفات ۱۲ربیع الأول ۱۱ ھ مطابق جون ۶۲۳ء ہے سوموار کا دن تھا ۔ (ص:۸۹)
اور اسی طرح (سیرۃ المصطفیٰ جلد ۲، ص/۲۶۲ ) (اسلامی تاریخ ص/۱۳۲) پر موجود ہے کہ ’’آفتاب رسالت ۱۲ ربیع الأول ۱۱ ہجری میں ۶۳برس کی عمر میں غروب ہوگیا۔‘‘
اور اسی طرح اکثر وبیشتر ارباب سیر ۱۲ ربیع الاول کو ترجیح دیتے ہیں جیسے اوپر گزرا ہے کہ اس مسئلہ میںبعض مختلف فیہ ہیں ،اور ان میں سے علامہ سہیلی رحمہ اللہ اور ان کے متبعین اوائل صفوف کے معترف ہیں ۔
مولانا عبد الرؤف دانا پوری صاحب رحمہ اللہ اس اختلاف کو بیان کرتے ہیں اور ایک طویل بحث کے بعد نتیجہ اخذ کرتے ہیں ۔(ملاحظہ ہو ’’ اصح السیر ص/۵۳۵۔۵۳۶ )
اور ان کے ساتھ بعض دوسرے اصحاب السیر بھی اس مختلف فیہ مسئلہ کے حامی ہیں۔
شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’مختصر سیرۃ الرسول ‘‘ میں لکھتے ہیں ۔
اور آپ ﷺ کاانتقال آٹھ ربیع الاول کو ہوا ۔‘‘
علامہ شبلی کی تحقیق کے مطابق تاریخ وصال یکم ربیع الاول ۱۱ ہجری اس وقت حضور کی عمر ۶۳ برس تھی ۔ (تاریخ اسلام ،صاحبزادہ عبد الرسول ، ص/۸۹)
اور اسی طرح ابن عقبہ ، لیث اور خوار زمی وغیرہ کہتے ہیں کہ ربیع الاول کی پہلی تاریخ تھی اور ابو مخنف اور کلبی وغیرہ کہتے ہیں کہ دوسری تاریخ تھی۔ ( اصح السیر :ص/۵۳۵)
جبکہ برعکس اس کے تاریخ ولادت نبوی ﷺ کا مسئلہ اس سے اکثر مختلف فیہ ہے ۔ لیکن باتفاق العلماء مع تحقیق جدید ۹ ربیع الاول1 عام الفیل یوم دوشنبہ کو صبح کے وقت آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔
مولانا صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ الرحیق المختوم میں لکھتے ہیں : رسول اللہ ﷺ مکہ میں شعب بن ہاشم کے اندر ۹ ربیع الاول 1 عام الفیل یوم دوشنبہ کو صبح کے وقت پیدا ہوئے۔ اس وقت نوشیرواں کی تخت نشینی کا چالیسواں سال تھا اور ۲۰ یا ۲۲ اپریل ۵۷۱ ء کی تاریخ تھی ۔ علامہ محمد سلیمان سلمان منصور پوری اور محمود پاشافلکی رحمہم اللہ کی تحقیق یہی ہے۔(ص/۸۳)
چوہدری افضل حق رحمہ اللہ صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ’’ ۲۰ اپریل ۵۷۱ء ۹ ربیع الاول دو شنبہ کی مبارک صبح کو قدسی آسمان پر جگہ جگہ سرگوشیوں میں مصروف تھے کہ آج دعائے خلیل اور نوید مسیحا مجسم بن کر دنیا میں ظاہر ہوگی۔ (مقام رسول اپنوں اور غیروں کی نظر میں ، محمد اکرم کمبوہ ، ص/۳۰)
اور اسی طرح ’’تاریخ اسلام ‘‘ اکبر شاہ نجیب آبادی حصہ اول ص/۷۲ ، تاریخ اسلام معین الدین احمد ندوی ج/۱، ص/۳۵ ۔ اور ڈاکٹر اسرار احمد نے ’’رسول کامل ‘‘ ص/۲۳ ۔اور حفظ الرحمن سوہاری نے قصص القرآن ، ج/۴ ، میں ۹ ربیع الاول کو پیدائش کا دن ٹھہرایا ہے۔ اور اس کے علاوہ اکثر دور جدید کے محققین اسی کے قائل ہیں۔
مگر ساتھ اس کے بعض آٹھ ، دس ، گیارہ ، بارہ اورسترہ کے بھی قائل ہیں۔ اور شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ تو ۱۰ محرم الحرام کے قائل ہیں فرماتے ہیں :
’’ یوم عاشوراء کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے اس دن دس نبیوں کودس فضائل سے مخصوص فرمایا : حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی ، حضرت ادریس علیہ السلام کو اونچے مقام پر ٹھہرایا ، حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کو جودی پہاڑ پر ٹھہرایا ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پیدا فرمایا ، حضرت داؤد علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی ، حضرت سلیمان علیہ السلام کو دوبارہ ملک عطا فرمایا ، حضرت ایوب علیہ السلام کو پرانی بیماری سے شفاء بخشی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دریا سے نجات دلائی ، حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی ، حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا اور ہمارے محبوب نبی محمد ﷺ کو پیدا فرمایا ۔‘‘ (غنیۃ الطالبین ، حصہ/۳ ، ص/۱۳۱ ،ونیز ’’اسلامی مہینے اور بدعات مروجہ / تالیف : تفضیل احمد ، ص:۵۹)
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب ‘‘ ص/۳۱ پر لکھتے ہیں : یومِ تاریخ سب کا اتفاق کہ دو شنبہ اور تاریخ میں اختلاف ہے ، آٹھویں یا بارہویں ہے۔
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ متوفی ۷۵۱ء نے لکھا ہے کہ جمہور کا قول یہ ہے کہ آٹھ ربیع الاول کو آنحضرت ﷺ کی ولادت ہوئی ۔ (اسلامی مہینے اور بدعات مروجہ ، ص/۵۷)
مختصر سیرۃ الرسول لمحمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ ص/۷۸ ۔ سیرۃ المصطفیٰ ، ج/۱ ، ص/۴۹ لمکتبہ عثمانیہ ، پر تاریخ ولادت ۸ ربیع الاول بروز سوموار مکتوب ہے۔
’’الطبقات الکبری ‘‘ لابن سعد ، ص/۱۱۰ ۔ مطبوعہ بیروت اور اسلامی مہینے اور بدعات مروجہ ، ص/۵۸ پر ہے ’’ماہ ربیع الاول کی دس راتیں گزری تھیں کہ دوشنبہ کے دن رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے۔‘‘
خورشید احمد گیلانی رقم طراز ہیں : ’’ ۱۱ ربیع الاول کو صرف ظہور قدسی نہیں ہوا بلکہ عالم نو طلوع ہوا ، اس تاریخ کو حضور ﷺ نے جہانِ فانی میں قدم رکھا۔‘‘ (مقام رسول اپنوں اور غیروں کی نظرمیں ، ص/۳۳)
’’اسلامی تاریخ ‘‘ مؤمن امتیاز پراچہ ، ص/۳۵ ، ودلات نبوی ﷺ مؤلف امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد ، ص/۱۸ ۔ ’’دین مصطفی ‘‘ مؤلف محمود احمد رضوی ، ص/۸۴ ۔ ’’ ضیاء القرآن ‘‘ پیر کرم شاہ الازہری ، جلد /۵، ص/۶۶۵ ۔ ’’تبرکات صدر الافاضل ‘‘ تالیف حسین الدین سواد اعظم لاہور ، ص/۱۹۹ ۔ اور اسلامی مہینے اور بدعات مروجہ ، ص/۵۸ پر مکتوب ہے کہ : ’’ واقعہ فیل کے پچپن روز بعد ۱۲ ربیع الاول مطابق ۲۰ اپریل ۵۷۱ء کو حضور ﷺ کی ولادت ہوئی ۔‘‘
مسعود رضا خاکی نے مضمون’’ چودہ معصومین ‘‘ میں لکھا ہے کہ فقہ جعفریہ کے علماء کے نزدیک طے شدہ تاریخ ولادت ۱۷ ربیع الاول ہے ۔ (البشر ، ماہنامہ لاہور ہادی انسانیت نمبر فروری ۱۹۸۰ء ، ص/۵۰ ۔ اسلامی مہینے اور بدعا ت مروجہ ص/۵۸)
اس مختصر سی تحقیق سے اس بات کا ثبوت ملتاہے کہ ۱۲ ربیع الاول خصوصتاً نسبتِ ولادت سے اکثر مختلف فیہ ہے۔
اب یہاں کئی سوال جنم لیتے ہیں کہ ۱۲ ربیع الاول کی تاریخ جو کہ امت اسلامیہ میں مختلف فیہ ہے ،کیا اس میں مولود شریف کی مجلسیں ، تقریبات اور جلسوں کا انعقاد کرنا کسی عقلی یا نقلی دلیل کی روسے جائز ہے ؟
کیا ان خلاف شریعت افعال پر فاعل ہذا ماجور ومغفور عند اللہ ہوگا یا مذنوب ؟ کیا ان افعال سے محذورین کو مثیل ابلیس گردانتنا جائز ہے ؟ اور کیا صحابہ پر تہمت باندھنا اسلامی شعار کے موافق ہے ؟ جیسا کہ کہا ۔
نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عیدیں ربیع الاول
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منارہے ہیں
(صبح بہاراں ، مطبوعہ مکتبہ المدینہ ، مؤلف : محمد الیاس قادری ، ص/۱)
کیا صحابہ کرام اور ان کے متبعین(تابعی) اور ان کے متبعین (تبع تابعی)ائمہ دین اور محدثین ان افعال کے قائل و فاعل تھے؟
نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ :
’’سب سے بہترین زمانہ میراہے پھر ان کا جو صحابہ سے ملے اور پھر ان کا جو ان کے متبعین سے ملے۔‘‘
کیا ان کے زمانہ میں ان افعال کے آثار ملتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر کیوں ؟
جبکہ اجماعی اور اتفاقی روسے ۱۲ ربیع الاول یوم وفات ہے ناکہ ولادت ، اگر سرتسلیم خم بھی کرلیا جائے اور یوم ولادت سے اتفاق کرلیا جائے تو بھی یہ قانونِ شریعت کے مخالف ہے۔
ان حضرات کے وہ دلائل جن سے یہ ’’جشن عید میلاد النبی ﷺ ‘‘ کے استدلالات کرتے ہیں جوکہ عقل سے بالاتر اور ان کی کم علمی وفہمی کے عکاس ہیں۔
اگر ان کایہاں اجمالا ومفصلا ذکر کر دیا جائے تو مسئلہ کا فہم سہل ہوجائے گا۔
۱۔ تاجدار رسالت ﷺ جہاں میں فضل ورحمت بن کر تشریف لائے اور یقینا اللہ عزوجل کی رحمت کے نزول کا دن خوشی ومسرت کا دن ہوتاہے چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتاہے :
’’تم فرماؤ اللہ عزوجل ہی کے فضل اور اس کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے۔‘‘ (کنز الایمان)
اللہ اکبر ! رحمت خداوندی پر خوشی منانے کا قرآن کریم حکم دے رہا ہے ، اور کیا ہمارے پیارے نبی ﷺ سے بڑھ کر بھی کوئی اللہ عزوجل کی رحمت ہے ؟ دیکھئے : مقدس قرآن میں صاف صاف اعلان ہے ۔
’’اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہاں کیلئے ۔‘‘ (کنزالایمان)
(صبح بہاراں ، مطبوعہ مکتبہ المدینہ ، مؤلف : محمد الیاس قادری ، ص/۳۔۴)
اس کے رد میں نامور محقق مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ کا فتوی نقل کردیا جائے تو بہتر ہے ،کہتے ہیں :
’’نبی کریم ﷺ کی بعثت ، ہجرت ، تبلیغ ، جہاد ، امت پر شفقت اور آپ کی زندگی کے دوسرے احوال پر مسلمان سے خوشی مطلوب ہے۔ یہ خوشی سال کے ۳۶۰ دنوں میں سے صرف ایک دن یارات تک محدود نہیں بلکہ ہر زمانے میں ہر وقت اور ہر حالت میں ہونی چاہیے۔ یہ کس قدر زیادتی ہے کہ ہم مسلمان ہوکر سال میں صرف ایک دن تو خوشی اور جشن منائیں باقی سارا سال نہ ہمیں آپ کا قول وفعل یادرہے ، نہ ہی زندگی میں آپ کا اسوئہ نظر آئے بلکہ ہماری زندگی کا ہر پہلو یہود ونصاریٰ اور ہندوؤں کے رسم ورواج کا مظہر ہو اور سال میں صرف ایک دن رسول اللہ ﷺ کے نام پر وہ بھی ان غیر مسلم قوموں کی مشابہت میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اسوئہ کے خلاف گزرے۔ قرآن مجید کی آیت {فَلْیَفْرَحُوْا} سے نبی کریم ﷺ کی ولادت پر خوشی اورجشن منانے کا استدلال حقیقت میں تحریف قرآن ہے کیونکہ {فَلْیَفْرَحُوْا} کا معنی خوشی مناؤ کون سی لغت میں ہے بتاؤ کس مفسر یا مترجم نے لکھا ہے کہ {فَلْیَفْرَحُوْا} بسیں ، ٹرک ، ٹرالیاں سجا کر میدان میں آؤ ، گنبدِ خضرا کا ماحول بناؤ اور اونٹوں پر بیٹھ کر گلی گلی گھومو ، شرکیہ نعتیں پڑھو۔
ابو سعید خدری، ابن عباس ، ہلال بن یساف ، قتادۃ، زید بن اسلم اور ضحاک وغیرہم رحمہم اللہ ، صحابہ اور تابعین کے بلند پایہ مفسرین نے اس ’’ فضل ورحمت‘‘ کی تفسیر اسلام اور قرآن مجید کے ساتھ کی ہے جس کی تائید اس سے پہلی آیت بھی کرتی ہے ۔امام ابن جریر ، ابن کثیر ، امام بغوی ، امام قرطبی ، ابن العربی رحمہم اللہ اور دوسرے بہت سے مفسرین نے بھی یہی تفسیر کی ہے ۔ ائمہ کی تفاسیر میں سے کسی بھی تفسیر میں نہیں ہے کہ اس رحمت سے مراد نبی کریم ﷺ کی ولادت ہے۔ یہ واضح ہوکہ لوگوں کیلئے اصل رحمت نبی کریم ﷺ کی بعثت اور رسالت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
یہ آیت نص ہے کہ نبی کریم ﷺ کی رسالت جہانوں کیلئے رحمت ہے ۔ اور صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے ، سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کو کہا گیا کہ آپ مشرکین کیلئے بددعا کریں تو آپ ﷺ نے فرمایا :
’’کہ میں لوگوں پر لعنت کرنے کیلئے نہیں بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘
یہ آیت اور حدیث دونوں اس بات کو واضح کررہی ہیں کہ جہانوں کیلئے رحمت نبی کریم ﷺ کی بعثت ہے۔(مجلہ الدعوۃ : جولائی ۱۹۹۷ ۔ اور اسلامی مہینے اور بدعات مروجہ ، ص/۷۲۔۷۳)
تفسیر القرطبی میں ہے کہ {فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا} اشارہ ہے فضل کی طرف … اور فرح سے مراد :دل میں خوشی کو ملذذ کرنا محبوب کو یاد کرتے ہوئے۔ (القرطبی ج:۸، ص:۳۵۴)
یعنی اگر محبوب کو یاد کرکے خوشی محسوس ہوتی ہے تو اسے دل میںسمائے نہ کہ بھنگڑا ڈالے۔ واللہ أعلم
’’جب ابو لہب مرگیا تو اس کے بعض گھر والوں نے اسے خواب میں برے حال میںدیکھا پوچھا : کیا گزری؟ بولا ، تم سے جدا ہوکر مجھے کوئی خیر نصیب نہ ہوئی ، ہاں مجھے اس کلمے کی انگلی سے پانی ملتاہے کیونکہ (اس کے اشارہ سے)میں نے ثوبیہ لونڈی کو آزادکیا تھا۔ (بخاری ، ج/۱، ص/۱۵۳۔ حدیث نمبر :۵۱۰۱) ، (صبح بہاراں : ص/۶)
مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
دوسرا جو بخاری شریف کی حدیث سے استدلال ہے وہ بھی باطل ہے ، پہلی وجہ اہل سنت والجماعت کا یہ عقیدہ کہ دین اسلام وحی کے علاوہ کسی چیز سے ثابت نہیں ہوتا اور یہ بخاری کی حدیث میں جس بات کا تذکرہ ہے وہ خواب ہے اور خواب بھی نبی کریم ﷺ کا نہیں ، جوکہ وحی ہوتاہے بلکہ عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا ہے اور ہے بھی ان کے مسلمان ہونے سے پہلے کا۔ ایک کافر آدمی کے خواب سے دین کیسے ثابت ہوسکتا ہے ، جسے بیان بھی اس نے حالتِ کفر میں کیا ہو؟
دوسری وجہ یہ ہے کہ کافر کو مرنے کے بعد اس کے اچھے اعمال کی جزا نہیں ملتی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’اورجو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اسے لیکر ہم غبار کی طرح اڑا دیں گے۔‘‘
مزید فرمایا :
’’یہی وہی لوگ ہیںجنہوں نے کفر کیا اپنے رب کی آیتوں اور اس کی ملاقات کے ساتھ ، بربادہوگئے ان کے اعمال قیامت کے دن ہم ان کیلئے ترازو کھڑی نہیں کریں گے۔‘‘
اگر ابو لہب نبی کریم ﷺ کی ولادت کو سن کر خوش بھی ہوا تھا تو وہ ایک طبعی خوشی تھی کیونکہ ہر انسان اپنے عزیزوں کے بچے کی پیدائش پر خوش ہوتاہے اور جو خوشی اللہ کیلئے نہ ہو اس کا کوئی ثواب نہیںملتا اور پھر کیا وہ خوشی ہر سال مناتاتھا یا ایک ہی مرتبہ اس نے منائی تھی۔
قرآن مجید کی نصوص سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ کفار کے عذا ب میں تخفیف نہیں ہوگی ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کیلئے جہنم کی آگ ہے ، نہ کہ ان پر فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ مرجائیں اور نہ ہی ان میں سے ان کے عذا ب میں تخفیف کی جائے گی۔ ہم ہر ناشکرے کو اس طرح سزا دیتے ہیں ، وہ اس میں چلائیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اس سے نکال ہم اچھے کام کریں گے ، ان کاموں کے علاوہ جو دنیا میںکرتے تھے (اللہ تعالیٰ فرمائیں گے) کیا ہم نے عمر نہیں دی تھی تمہیں کہ اس میں سوچ لو جس نے سوچنا ہے اور تمہارے پاس ڈرانے والے بھی آئے تھے۔ اب چکھو کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ۔‘‘
دوسر ی آیت میںہے :
’’یقیناً مجرم جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہیں گے ،ان سے عذاب کو ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں ناامید ہوکر پڑے رہیں گے۔‘‘
اگر واقعی آپ کے خیال میں ان دلیلوں سے نبی کریم ﷺ پر خوشی اور جشن منانے کا شرعی حکم ثابت ہوتاہے تو خود امام الانبیاء اور ان کے ایک لاکھ سے زائد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی سمجھ نہ آئی۔ اگر انہیں بھی سمجھ تھی تو انہوں نے یہ جشن کیوں نہیں منایا؟
پھر اس روایت میں ہے کہ ابو لہب نے کہا : میںاپنی انگلی سے پانی چوستاہوں ، جبکہ انگلی اس کے ہاتھ کا جز ہے ، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
’’ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہوگیا۔‘‘
قرآن مجید کی یہ آیت بھی اس کی تردید کررہی ہے اب بات ابو لہب کی درست ماننی ہے یا قرآن کی ۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
اور یاد رکھیں ! نبی کریم ﷺ پر خوشی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ دین اسلام میںوہ چیزیں داخل کردیں جن کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ نے دین پہنچانے میںخیانت کی۔ (نعوذ باللہ من ذالک)
بلکہ خوشی کامطلب یہ ہے کہ آپ کے لائے ہوئے دین کومضبوطی سے تھام لیں اور اس میں کسی قسم کا اضافہ کرنے سے پرہیز کریں اور دل وجان سے اسلام کے احکامات تسلیم کریں ۔ یہی آپ کی محبت واطاعت واتباع ہے۔(مجلہ الدعوۃ : جولائی ۱۹۹۷ ۔ اور اسلامی مہینے اور بدعات مروجہ ، ص/۷۳۔۷۶)
رحمت عالم ﷺ نے جب سُوئے مدینہ ہجرت فرمائی اورمدینہ پاک کے قریب ’’مونع غمیم ‘‘ میں پہنچے تو بریدہ اسلمی ، قبیلہ بنی سہم کے ستر سوار لیکر سرکار نامدار ﷺ کو معاذ اللہ گرفتار کرنے آئے ، مگر سرکار عالی وقار ﷺ کی نگاہِ فیض آثار سے خود ہی محبتِ شاہ ابرار ﷺ میں گرفتار ہوکر پورے قافلے سمیت مشرف بہ اسلام ہوگئے۔ اب عرض کی ، یا رسول اللہ ! مدنیہ منورہ میں آپ کا داخلہ پرچم کے ساتھ ہونا چاہیے ۔ چنانچہ اپنا عمامہ سر سے اتار کر نیزے پر باندھ لیا اور سرکارِ مدینہ ، راحت قلب وسینہ ﷺ کے آگے آگے روانہ ہوئے۔ (وفاء الوفا ، ج/۱ ، ص /۳۴۳ دار احیاء التراث العربی بیروت /صبح بہاراں ص/۸۔۹)
قارئین کرام ! صحیح اور مستند روایت احادیث وسیر کے مطابق یہ واقعہ کچھ اس طرح ہے ۔
مولانا صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ آپ حکم الٰہی کے مطابق سوار ہوئے ، ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے ردیف تھے ، آپ نے بنو النجار کو جو آپ ﷺ کے مامؤوں کا قبیلہ تھا اطلاع بھیج دی تھی ۔ چنانچہ وہ تلواریں حمائل کئے حاضر ہوئے ۔ آپ نے (ان کی معیت میں) مدنیہ کا رخ کیا ، بنو سالم بن عوف کی آبادی میں پہنچے تو جمعہ کا وقت آگیا ، آپ نے بطنِ وادی میں اس مقام پر جمعہ پڑھا جہاں اب مسجد ہے ۔کل ایک سو آدمی تھے ۔ (رحیق المختوم :ص/۲۴۰۔ صحیح بخاری ، ۱/۵۵۵۔۵۶۰ ، زاد المعاد ۲/۵۵ ، ابن ہشام ۱/۴۹۴ ، رحمۃ للعالمین ۱/۱۰۲ ، تاریخ اسلام صاحبزادہ عبد الرسول /۳۴ ، نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب /۱۰۱۔۱۰۲ ، اسلامی تاریخ امتیاز پراچہ /۶۴ ، تاریخ اسلام شاہ معین الدین ندوی /۵۲)
گیارہ کی شام کو ورنہ ۱۲ ویں شب کو غسل کیجئے ۔ ہوسکے تو اس عیدوں کی عید کی تعظیم کی نیت سے سفید لباس ، عمامہ ، سربند، ٹوپی ، مسواک ، جیب کا رومال ، چپل ، تسبیح ، عطر کی شیشی ، ہاتھ کی گھڑی ، قلم ، قافلہ پیڑ وغیرہ اپنے استعمال کی ہر چیز ممکنہ صورت نئی لیجئے۔
آئی نئی حکومت سکہ نیا چلے گا
عالم نے رنگ بدلا صبح شبِ ولادت
۱۲ ویں شب اجتماع میلاد میں گزار کر بوقتِ صبح صادق اپنے ہاتھوںمیں سبز سبز پرچم اٹھائے درود وسلام کے ہار لئے اشکبار آنکھوں سے ’’ صبح بہاراں ‘‘ کا استقبال کیجئے ۔ بعد نماز فجر سلام وعید مبارک کہہ کر ایک دوسرے سے گرم جوشی کے ساتھ ملاقات فرمائیے اور سارا دن عید کی مبارکباد پیش کرتے اور عید ملتے رہئے۔
عید میلاد النبی ﷺ تو عید کی بھی عید ہے
آج تو ہے عید عیدان عید میلاد النبی ﷺ
(صبح بہاراں :۴۲)
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا بروز پیر کے روزہ کے بارے میں ، پس آپ نے کہا : اسی دن میں پیدا ہوا ہوں ، اور اسی دن میں مبعوث کیا گیاہوں اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل ہوا ہے ۔‘‘
یہ حدیث مبارکہ اس بات کی تصریح کررہی ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی ولادت کے روز کی مناسبت سے روزہ رکھا کرتے تھے۔
اگر یوم ولادت کی مناسبت سے روزہ رکھنا جائز ہے تو یومِ ولادت کو ’’عید سوم‘‘ کا لقب دینا جائز نہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ نے عید کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ، جیسا کہ ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
بیشک رسول اللہ ﷺ نے دو روز کے روزوں سے منع کیا ہے : ۱۔ یوم الفطر ، ۲۔یوم النحر (بقرہ عید)۔
یعنی عید کے روز روزہ رکھنا منع ہے تو پھر نبی کریم ﷺ نے پیر کے روز اپنی ولادت کی مناسبت سے روزہ کیوں رکھا۔کیا نعوذ باللہ من ذلک انہیں اس دن کا علم نہیں تھا یا انہوں نے اس عید کو مخفی رکھا۔
اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اس عید کی کوئی دلیل نہیں ہے ، نقلی نہ عقلی بلکہ یہ تو اسلام کی تذلیل اور توہین ہے کیونکہ ۱۲ ربیع الاول جمہوری واجماعی اعتبار سے یوم وفات ہے اور یوم وفات پر جشن منانا نبی کریم ﷺ سے محبت نہیں بلکہ نفرت کے مترادف ہے۔ واللہ اعلم
قارئین کرام! اس مختصر سی تحقیق سے آپ کتنے مستفید ہوئے ہیں یہ ربِ کائنات ہی جانتاہے میں بس آخر میں اتنا کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ ان بدعات وشرکیہ افعال سے اجتناب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین )
نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے :
کوئی بھی شخص جوکوئی بھی عمل کرتاہے اگر اس پر ہمارا حکم نہیں تو وہ مردود ہے۔‘‘
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…