Categories: مارچ 2009

جشن عید میلاد النبی ﷺ کی شرعی حیثیت

بڑے افسوس کے ساتھ عرض کرنا پڑرہا ہے کہ میلا د النبی  ﷺ کی خوشی منانے والے صرف پاکستان وہندوستان میں موجود ہیں گویہ کہ باقی لوگوں کو شاید کہ ان سے محبت ہے ہی نہیں نہ سعودی عرب کو گویا کہ محمد  ﷺ پیدا ہی وہیں ہوئے اور اسی طرح دنیا میں 53 ممالک جوکہ مسلم اسٹیٹ کے نام سے موسوم ہیں شاید کہ انہیں محبت نہیں اور ہمارے ہاں ہی ربیع الاول کا چاند نظر آتاہے تو عید کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیںحتی کہ نبی کائنات ﷺ کی وفات والے دن جوکہ   12 ربیع الاول کا دن ہے، چلو مان لیا کہ پیدائش کے دن میں اختلاف سہی مگر تمام علماء اہلسنت متفقہ طور پر ۱۲ وفات کے قائل ہیں جبکہ تاریخ دانوں اور ریاضی دانوں نے حساب لگاکر ایک تاریخ جوکہ ۲۰ اپریل ۵۷۱ء؁ تک سوموار کا دن اور بعد از طلوع فجر اور قبل از طلوع آفتاب محققین نے بتائی ہے جوکہ12 ربیع الاول کو ہی پیدائش اور12ربیع الاول کو ہی وفات النبیا مناتے ہیں۔ 

اب سوال پیدا ہوتاہے کہ اس مروجہ بدعت کی ابتداء کرنے والے کون بڑے مبتدعی ہیں۔ اس مروجہ عید میلاد النبی  ﷺ کا سلسلہ وار منانا جس کی ابتداء مظفر کے دور عہد میں ہوئی اس کے دربار میں ایک شاہی ملا رہتا تھا جو اپنے بادشاہوں کی خوشنودی کیلئے کچھ بھی فتویٰ دے سکتاتھا جوں ہی اس نے یہ طریقہ بدعت پیش کیا تو وہ بہت خوش ہوا اور اس نے بہت سے انعام واکرام سے نوازا ، بس تو پھر یہ سلسلہ چل پڑا یہ عہد مظفر کا دور سن 625ھ؁ کا واقعہ ہے۔

اور آج بھی اسی سلسلہ سے متعلقہ انعام کے لالچی کھانے پینے کے بھوکے حلوے مانڈے خور رحمت کائنات کاہیپی برتھ ڈے مناکر عیسائی رسم کو زندہ کرتے ہیں۔ گزشتہ سال 2007ء اور 2008ء میں لاہور میں بہت بڑا کیک کاٹا گیا اور اب یہ سلسلہ آئندہ دور میں مزید بڑھنے والا ہے رکنے والا نہیں۔ اس بدعت میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے ۔ چنانچہ ارشاد نبوی اہے کہ :

کُلُّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ وَکُلُّ ضَلاَلَۃٍ فِیْ النَّارِ۔‘‘(النسائی ، کتاب صلاۃ العیدین:۱۵۶۰)

اور اس بات کی ضرورت شاید ان کو اس لیے پیش آئی کہ وہ دین کو مکمل نہیں سمجھتے اس لیے وہ {الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ } کی آیت کے منکر ہیں۔ میلاد کی محافل میں جتنے امور سرانجام دیئے جاتے ہیں ان میں اگر اکثرکام خلاف سنت رسول اللہ  ﷺ ہوتے ہے (مرد اور عورتیں) مدحیہ اشعار پڑھتے ہیں اور قصیدے پڑھے جاتے ہیں اور قصیدہ گرجب یہاں پہنچتاہے رسول اللہ  ﷺ شکم ام سے مختون پیدا ہوئے تو سب لوگ تعظیما کھڑے ہوجاتے ہیں حضرت آمنہ کے شکم سے ایک منٹ کیلئے تصور لیکر کھڑے ہوتے ہیں ادب کے ساتھ کھڑے ہی رہتے ہیں اور خوشبو لائی جاتی ہے تو سب لوگ خوشبو لگاتے ہیں اور اس کے بعد سب میٹھے میٹھے بدعتی میٹھا میٹھا مشروب پیتے ہیں جبکہ خوشبو لگانے والے خوشبو اور کھیرکھانے والے کھیر اور مشروب پینے والے مشروبات وغیرہ پینے میں مصروف ہوجاتے ہیں اور پھر کیا نہیں ہوتا؟

اور یہاں پر ایک بات کی وضاحت کردینا ضروری ہے کہ ان محفلوں میں جو قصیدہ گر جو قصیدہ پڑھتاہے اس میں بہت ہی زیادہ غلو کیا جاتا ہے یا پھر شرکیہ باتیں کی جاتی ہیں جبکہ سرور کائنات  ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ :

’’ لاَ تَطْرُوْنِیْ کَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَی عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عِبْدٌ فَقُوْلُوْا : عَبْدَ اللّٰہِ وَرَسُوْلَہُ‘‘ (بخاری :۳۱۸۹)

’’مجھے حد سے زیادہ نہ بڑھانا جس طرح نصاریٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو حد سے بڑھایا، لہذا میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں مجھے وہی سمجھو بس۔‘‘

اب میلاد کی شرعی حیثیت پڑھنے والا ہی خود فیصلہ کرسکتاہے کہ جب یہ ایجاد ہی ساتویں صدی کی ہے تو اسلام تو نہ ہوا بلکہ بدعت ہی ہوئی۔

کسی نے سوال کیا کہ سالانہ یادگار ہونا جس میں مسلمانان گرامی اپنے رسول اکرم  ﷺ کی یادگار مناتے ہیں جس سے نبی کریم  ﷺ کے ساتھ ان کی عظمت اور محبت میں اضافہ ہوتاہے۔

جواب میں کہا گیا کہ یہ بات تو تب صحیح مانی جاسکتی ہے کہ جب انسان دن میں ذکرنہ کرتا ہو تب اس کو یہ ضرورت پیش آتی ہے کہ سال میں ایک مرتبہ ہی سہی ذکر محمد  ﷺ تو ہوہی جاتاہے لہذا صرف اس ذہنیت کے حامل لوگ سالانہ یا ماہنامہ محفلیں قائم کرلیتے ہیں لیکن ان لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں کہ جو وہ دن نمازیں ادا کرتاہے وہ وہاں ذکر محمد  ﷺ بھی ساتھ کرتاہے ان پر درود پڑھتاہے اور جب بھی نماز کیلئے آذان کہی جاتی ہے یا اقامت کہی جاتی ہے ان اعمال میں ذکر محمد رسول اللہ  ﷺتوہوجاتاہے ۔

اور جب ان سے کہا جاتاہے کہ بھئی یہ بدعت آپ کیوں کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ بدعت حسنہ کرلینے سے حرج ہی کیا ہے؟ 

حدیث

کُلُّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ وَکُلُّ ضَلاَلَۃٍ فِیْ النَّارِ۔‘‘(النسائی ، کتاب صلاۃ العیدین نمبر :۱۵۶۰)

آیا وہاں پر تمام اقسام کی بدعات شمار ہیں چاہے بدعہ سیئہ چاہے وہ بدعت حسنہ ہوسب منع ہے۔ منع کا خیال صرف وہی رکھتاہے جو بات کرنے والے سے محبت کرتاہے اس کی مثال یوں ہے کہ کوئی بیٹا اپنے باپ سے کہے کہ ابو ابو مجھے آپ سے بہت محبت ہے بہت پیار کرتاہوں ساری دنیا سے بڑھ کر اچھا ذرا مجھے پیاس لگی ہے پانی تو پلادو ٹال مٹول کے بعد وہ کہتاہے دوبارہ کہنے پر کہ پانی پلاؤ ابو یہ کام نہ کہیں ویسے مجھے آپ سے بہت پیار ہے کیونکہ میں آپ سے سچی محبت کرتاہوں۔ کون اس کی ڈرامہ بازی سے ناآشنا ہو سکتاہے تو بالکل آج ہمارے ہاں بھی کچھ ایسا ہی ہے دعوے تو بہت ہیںلیکن اطاعت رسول  ﷺ بالکل نہیں ملتی اسی لیے کہیں میٹھی میٹھی بدعتیں اور کہیں میٹھی میٹھی سنتیں۔

اور پھر سوال ہوا کہ آیا رسول معظم  ﷺ کی پیدائش کی خوشی پر اظہار کیا جاسکتاہے اور کیا یہ محبت رسول ااور کمال ایمان کی دلیل ہے ۔؟

تو سوال کے جواب میں !

ان لوگوں کی یہ دلیل بے وزن ، کیونکہ خوشی رسول مکرم  ﷺ کی ہے کہ اس دن کی جس میں پیدائش ہوئی اگر رسول مکرم  ﷺ کی خوشی ہے تو ہمیشہ جب بھی رسول کائنات  ﷺ کا ذکر خیر ہوتو خوشی ہونی چاہیے اور اس کو کسی وقت کے ساتھ خاص نہیں ہونا چاہیے اور اگر خوشی دن کی ہے تو یہ وہی دن ہے جس میں آخر الزمان پیغمبر  ﷺ کی وفات بھی ہوئی یہ بات ہر آدمی اچھی طرح جانتاہے کہ جس شخصیت سے محبت کا دعویٰ کرنے کے بعد میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی بھی دانش مند یا صاحب عقل اپنے محبوب  ﷺ کی وفات والے دن میں خوشی کا اظہار کرے حالانکہ رسول کائنات  ﷺ کی وفات سب سے بڑی مصیبت ہے مسلمانوں کیلئے اور محبت کرنے والوں کیلئے کھوکھلے دعوے کرنے والوں کیلئے تو صرف حلوے مانڈے کادن ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کہتے ہیں کہ’’ہمارے کلیجے چھلنی ہوگئے غم سے نڈھال ہوگئے حتی کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آذان دیتے دیتے جب  اشہد ان محمداً رسول اللہ پر پہنچتے ہیں تو غش کھا کر گڑ پڑتے ہیں پتہ چلا ان کو اصل محبت تھی اور آج …؟اور یہاں پر میں ایک اور بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتاہوں کہ : ہوسکتاہے کہ یہودی اور عیسائی لا بی کی سازش ہوکہ چلو محمد  ﷺ سے تو ۱۲ ربیع الاول کو جان چھوٹی اب مسلمانوں کو پیدائش کی آڑ میں ہم ان سے وفات کی خوشی منوالیتے ہیں ۔ سادہ لوح مسلمان اور نام نہاد کلمہ گو اور دیگر سے یہ کام کروا کر اورثواب کی حدیثیں گھڑ گھڑ سنادیں اور امت مسلمہ کا ایک بہت بڑا گروہ اس سازش میں گرفتار …

پیٹو خان کو تو صرف کھانے کا پتہ ہوتاہے چاہے کوئی پیدا ہوچاہے کوئی فوت ہو اس کو تو صرف کھانے سے غرض ہے اور مسلمان تو پہلے ہی اس سازش میں دھوکہ دہی کا شکار ہوئے۔

اور اس دن کو منانے کیلئے تاریخ سے ایک حوالہ دے کرعوام الناس کو شبہات میں ڈال کر پیش کیا جاتاہے کہ ابو لہب کو خواب میں دیکھا گیا اس سے حالت پوچھی گئی تو اس نے کہا بہت بری حالت ہے البتہ پیر کے دن میرا عذاب کم ہوجاتاہے اور مجھے پانی پلایا جاتاہے وہ اس لیے کہ میں نے محمد  ﷺ کی پیدائش کی خوشی میں اپنی لونڈی ثوبیہ کو آزاد کیا تھا۔

اور یہ شبہ چند وجوہات کی بنا پر باطل ہے

۱۔ اہل اسلام کا اتفاق ہے شریعت کسی کے خواب سے ثابت نہیں ہونی چاہیے خواب دیکھنے والا کتنا ہی متقی، پرہیز گار کیوں نہ ہو مگر یہ کہ اگر اللہ کے کسی بھی نبی علیہ السلام کا خواب وہ وحی کا حصہ ہوتاہے جوکہ برحق ہے۔

۲۔اس خواب کو دیکھنے والے سیدنا عباس بن عبد المطلب ہیں ان سے روایت کرنے والے نے بالواسطہ روایت کیا ہے اس لیے یہ حدیث مرسل ہے جوکہ محدثین کے ہاں استدلال کے قابل نہیں ہے۔

۳۔سلف وخلف میں سے اکثر اہل علم کا مذہب ہے کہ کافر اگر کفر کی حالت میں مرجائے تو اس کو نیک اعمال کا ثواب نہیں ملے گا۔ جیسا کہ قرآن سے بھی ثابت ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :

{وَقَدِمْنَا إِلَی مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاہُ ہَبَاء مَّنثُورًا} (الفرقان )

’’ہم ان کے اعمال کی طرف متوجہ ہوکر ان کے اعمال کو منتشر کرکے غبار بنا دیں گے۔‘‘

اسی طرح سورئہ کہف کی آیت نمبر ۱۰۵ سے بھی یہی ثابت ہوتاہے ۔

{اُولَئِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا بِآیَاتِ رَبِّہِمْ وَلِقَائِہِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ} (الکہف :۱۰۵)

’’یہی لوگ ہیں جو کافر ہیں اور ان کی موت اس پر ہوئی ان کے اعمال برباد کردیئے جائیں گے۔ ‘‘

اور سیدنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کائنات ام المؤمنین نے رسول کائنات  ﷺ سے دریافت کیا کہ :

عبد اللہ بن جدعان جوکہ ہر سال حج کے موقعہ پر ایک ہزار اونٹ ذبح کرتاتھا اور ایک ہزار جوڑے تقسیم کرتا تھا جس نے حلف الفضول میں اپنے گھر پر دعوت دی تھی کیا اس کے اعمال اس کو فائدہ دیں گے۔ فرمایا نہیں۔

۴۔ اگر ابو لہب نے لونڈی آزاد کی تھی تو اپنے بھتیجے کی خوشی میں جوکہ ایک طبعی امر تھا تعبدی امر نہیں تھا جوکہ ہر شخص اپنے بھائی بھتیجے یا بھانجے کی ولادت پر تو خوش ہوتا ہی ہے اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر اسے رسول معظم  ﷺ کی پیدائش کی اتنی ہی خوشی تھی تو بعد میں نبی مکرم  ﷺ کی مخالفت کیا معنی رکھتی ہے اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی اکرم  ﷺ کی ولادت پر خوشی منانا ابو لہب کا طریقہ ہے اور وہ طریقہ حتی کہ نبی اکرم  ﷺ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ ، عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ ، عثمان ابن عفان اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم اجمعین اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا طریقہ نہیں ۔

میں پھروہی بات قارئین کی نظر کرونگاکہ ان کو خوشی نہ تھی ؟ آج کانام نہاد مسلمان اس کو زیادہ محبت اور زیادہ خوشی ہے ۔سب سے اچھا جواب اس کا یہ ہے کہ

۱ ۔ اگرسیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے خواب کو سچا تسلیم کرلیں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ ابو لہب کو لونڈی آزاد کرنے کی وجہ سے عذاب میں تخفیف ہوتی ہے تو قرآن کی اس آیت کا کیا کریں گے ۔

{مَا أَغْنَی عَنْہُ مَالُہُ وَمَا کَسَبَ}(لہب)

’’ابو لہب کے مال اور اعمال نے اسے کوئی فائدہ نہ دیا۔‘‘

جبکہ مسلمان کا عقیدہ قرآن وسنت پر ہوتاہے نہ کہ کسی کے خواب پر یہ تمام دلائل انہوں نے سادہ لوح مسلمانوں کو پھنسانے کیلئے پیش کئے ۔(الشیخ ابو بکر الجزائری کے مضمون سے اقتباس)

۲۔اور اسی طرح وہ لوگوں کو شبہوں میں ڈال کر ان سے اس بدعتی عمل کی تکمیل کرواتے ہیں ۔

روایت ہے کہ امت کیلئے عقیقہ کی مشروعیت کے بعد نبی کریم  ﷺ نے اپنا عقیقہ فرمایا چونکہ نبی مکرم  ﷺ کے دادا عبد المطلب نے آپ  ﷺ کا عقیقہ نہ کیا تھا اور عقیقہ دوبار نہیں ہوتا۔

پس ثابت ہوا کہ فخر مجسم  ﷺ نے عقیقہ اپنی ولادت کی خوشی وتشکر میں کیا۔

جواب:اول تو یہ روایت ثابت ہی نہیں ہے سوائے سیوطی کے اور سیوطی کے بارے محدث علماء اور محققین کی رائے ہے کہ وہ رطب اور یابس باتیں اس قسم کی لے لیا کرتے تھے۔

کیا یہ ثابت ہے کہ اہل عرب دور جاہلیت میںعقیقہ کا رواج تھا تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ عبد المطلب نے اپنے پوتے کا عقیقہ کیا تھا۔

 اور کیا اسلام میں دور جاہلیت کے اعمال کا کچھ شمار واعتبار ہے ؟

۳۔ ھادی کائنات  ﷺ نے عاشوراء کا روزہ اس لئے رکھا کہ اس دن موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی ۔ اس نجات کے شکریہ کے طور پر روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

جواب کمانڈر اعظم رہبر اعظم  ﷺ کی سنت پر عمل کرنا ہے تو پھر روزہ رکھنا چاہیے دعوتیں اور مختلف قسم کے کھانے پکوا کر عید نہ منائی جائے یعنی کہ دلیل روزہ رکھنے کی ہے جبکہ عمل روزہ نہ رکھنے کا ہے جبکہ سرداردو عالم  ﷺ کا حکم اطہر ہے کہ عاشوراء کے دن روزہ رکھو لیکن ہم توکھانے پینے کے چکروں میں پھنسا کر اپنے پیٹ کی خاطر سنت کے خلاف عمل بھی کروادیتے ہیں۔

۴۔ نبی کائنات  ﷺ کی صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ سرور کائنات  ﷺ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے روزہ رکھنے کی وجہ یہ بتائی کہ جمعرات کو اعمال اللہ کے حضور پیش ہوتے ہیں اور پیر کو میں پیدا ہوا اور اسی دن مبعوث ہوا۔

۴۔پیر کو بوجہ ولادت وبعثت روزہ رکھنا یہ نبی  ﷺ کی سنت ہے ۔ مگر یہ بات سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اس نے سالانہ عید میلاد النبی  ﷺ کیسے ثابت ہوتی ہے جبکہ پیرکادن تو مہینہ میں چار مرتبہ آتاہے اور نبی محترم  ﷺ پیر کو روزہ رکھتے تھے ۔ جشن وشن نہیں مناتے تھے پھر وہی دلیل کہ روزہ رکھنا سنت ہے۔ لہذا سال میں ایک مرتبہ عید بھی مناؤ تو یہ سنت سے کیسے ثابت ہوا پتہ چلا زبردستی عید سنت سے ثابت کرنے کی ناپاک جسارت کی جارہی ہے جبکہ ہر پیر کو روزہ رکھنے کی بجائے خوب پیٹ کو بڑھایا جاتاہے۔اور اگر نبی مکرم  ﷺ کی خوشی منانی ہے تو طریقہ بھی وہی اختیار کیا جائے تاکہ کسی کوٹانگ اور کسی دلیل کا سرپکڑ۔ پس ثابت ہوکہ میلاد منانا سنت ہے ۔ انا للہ وانا إلیہ راجعون

یا اللہ بدعتیوں کے شر سے محفوظ فرمانا۔ آمین

اور دوسری بات یہ ہے کہ رسول کائنات  ﷺ ۱۲ ربیع الاول کو نہ خود روزہ رکھا اور نہ کسی صحابی کوروزہ رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا ۔ تو پیر کے دن کے عمل کو سال میں ایک مرتبہ عید منانا کیسے ثابت ہوتاہے۔؟

اور تیسری بات یہ ہے کہ جب نبی اکرم  ﷺ نے پیر کو ولادت اور بعثت کی خوشی میں روزہ رکھا تو کیا نبی کائنات  ﷺ نے کوئی تقریب یا محفل ، جلسہ ، جلوس کا اہتمام اونٹوں یا گاڑیوں پر سوار ہوکر نعرے لگائے  یا پھر نبی اکرم  ﷺ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی نے کوئی عمل کیا اگر نہیں تو پھر مان لیا جائے اور جان لیا جائے کہ یہ سب کام بدعت ہے اور جہنم کے جانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

قرآن کہتاہے کہ :

{وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانتَہُوا وَاتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ شَدِیدُ الْعِقَابِ} (الحشر)

’’اور جو کچھ تمہیں رسول عطا کرے وہ لے لو اور جس چیز سے منع کرے اس سے رک جاؤ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو ، بیشک اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے۔؛؛

بہتر یہ ہے کہ سال کے سال صرف نبی معظم  ﷺ کے شمائل وفضائل بیان کرکے کھانے پینے کی محافل سجانے کی بجائے رہبر اعظم  ﷺ کی سنتوں پر عمل کیاجائے اور جلسے جلوس پر قوم کا پیسہ برباد نہ کیا جائے رسول اللہ ا  کا ارشاد گرامی ہے کہ کوئی آدمی مؤمن نہیں اس وقت تک جب تک کہ وہ جو اپنے لیے پسند کرتا ہے وہی دوسرے کیلئے پسندنہ کرنے لگے اپنا نقصان اگر پسند نہیں تو دوسروں کا کاروبار بھی خراب نہ کرے ۔

admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago