ترجمہ: عادا ور ثمود کی قوم کو ہم نے ہلاک کر دیا ، انکے ویران گھر انکی تباہی کی داستان کہہ رہے ہیں ، شیطان نے انکے برے اعمال انکی نگاہوں میں دلکش بنا دیئے تھے یہ لو گ بڑی سمجھ بوجھ اور عقل وہوش کے مالک تھے ۔
تفسیر: عاد اور ثمود اپنے دور کی اقتصادی طور پر خوشحال اور فوجی لحاظ سے بیحد طاقتور قومیں تھیںانہوں نے اپنی معاشی آسودگی اور عسکری قوت کو دنیامیں فساد مچانے میں استعمال کیااور انکی اقتصادی خوشحالی اور فوجی قوت نے ان میں غرہ پیدا کر دیا تھا انہوں نے اپنی طاقت میں بد مست ہو کر اردگردکی کمزور قوموں کو دبا لیا تھا انکے ملکوں پر قبضہ کر لیا تھا اپنے سے بالا کسی اقتدار اور قوت کو نہیں مانتی تھیں انہوں نے اپنی صلاحیتوں او رقوتوں کو اللہ کی زمین میں فساد برپا کرنے کیلئے استعمال کیا انکا طوفانِ بدتمیزی جب ہر سو پھیل گیا تو اللہ نے اپنی سنت کے مطابق انکی طرف اپنے رسول بھیجے تاکہ انہیں اللہ سے ڈرائیں ، کج روی سے روکیں ،راست روی کی روش اپنانے کی دعوت دیں ۔ وہ اللہ کی جس نے انہیں نعمتوں سے نوازا ہے اس کا شکر اداکرنے کی تلقین کریں اس کی عبادت کریں لیکن وہ تکبراور غرور میں اتنے اندھے ہو چکے تھے کہ کہنے لگے:
ترجمہ: کہنے لگے ہم سے بڑھ کر کو ئی طاقتور نہیں ہے کیا انہوں نے اس طرح کہتے ہوئے یہ نہیں سوچا کہ وہ اللہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے وہ طاقت میں سب سے بڑھ کر ہے وہ تھے ہی ہماری نشانیوں کے منکر‘‘
تو اللہ تعالیٰ نے انکے غرور کا جواب اس طرح دیا
’’ہم نے ان پر تیزوتند آندھی چلا دی وہ انکے لئے کمبختی کے دن تھے تاکہ انہیں ہم دنیا کی زندگی میں ذلت آمیز عذاب کا مزا چکھا ئیں اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی بڑھ کر ذلت آمیز اور رسوا کن ہوگا ‘‘
اللہ نے پل بھر میں انکے غرور کے غبارے سے ہوا نکال دی وہ دنیا کی زندگی میں ذلت کا نشان بنا دیے گئے او رآخرت میں جو کچھ ان کے ساتھ ہوگا وہ اس سے بھی زیادہ ہولناک او رتباہ کن ہو گا کو ئی بھی اس دن ان کی اس رسوائی سے بچانے کیلئے مدد کرنے کو نہیںآئیگا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہولناک انجام کو مزید اس طرح بیان فرمایا: {فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْھَا صَرْعیٰ کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃ}(الحاقۃ:۷)جب ہوا کا طوفان ان پر مسلط کیا گیا تو وہ پل بھر میں پیوند خاک ہو گئے کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح ان کی لاشیں ہر طرف پڑی ہوئی تھیں اور کو ئی ان کی لاشیں اٹھانے والا نہیں تھاوہ جو کل تک جن کی عظمت و خوشحالی کے چرچے تھے آج وہ دنیا کے لئے نشانِ عبرت تھے۔رہی قوم ثمود تو اللہ رب العزت نے ان کے بارے میں فرمایا:
ترجمہ: ہم نے ثمود کو ہدایت کی راہ دکھائی تھی لیکن انہوں نے راہ راست کو اپنانے کی بجائے اپنی آنکھیں موندے رکھنے ہی کو ترجیح دی ان کے برے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر رسوا کن عذاب ٹوٹ پڑا ۔
جب انہوں حق کو قبول نہ کرنے کی ٹھان لی اور گمراہی میں ڈوبے رہنے کو پسند کرلیا ان کا وجود دنیائے زمین کیلئے ایک بوجھ بن گیا تو اللہ تعالیٰ نے ایک ہولناک عذاب کے ذریعے انہیں کوڑے کرکٹ کی طرح صاف کر دیا ۔
ترجمہ:’’ انکے ویران گھر ان کی داستان سنا رہے ہیں۔ ‘‘
اہل مکہ شام کی طرف تجارتی قافلے لیکر جاتے تو راستے میں ان قوموں کی ویران بستیوں سے ان کا گزر ہوتا وہ گھر جو انہوں نے بڑی محنت اور جانفشانی سے پہاڑ کرید کرید کر بنائے تھے وہ تو موجود ہیں لیکن ان کے باسی ناپید ہو گئے ہیں ان قوموں کی مادی ترقی اور عروج کا نشان ہے وہ قومیں اپنے دور میں فن تعمیر میں کس قدر ماہر اور ٹیکنالوجی میں کس قدر آگے تھیں کہ جس کی بدولت انہوں نے پہاڑ کھود کھود کر اپنے مکانات تعمیر کیے اے اہل مکہ اس سے سبق حاصل کرو کہ اللہ کی گرفت کا مضبوط ہاتھ جب کسی قوم کی گردن پر پڑتا ہے تو اس وقت اس قوم کی مادی ترقی اور اقتصادی خوشحالی اسے اللہ کی گرفت سے نہیں بچا سکتی ۔
آخر یہ قومیں اللہ کی گرفت اور غضب کی لپیٹ میں کیو نکر آئیں وہ اللہ کے غضب کا شکار اس لئے ہوئیں کہ یہ قومیں برائیوں پر برائیاں کئے جارہی تھیں حق کی طرف پلٹنے کی سب راہیں شیطان نے مسدود کر دی تھیں شیطان نے ان کے برے کرتوت ان کی نگاہ میں خوشنما کر دیے تھے ان کے ذہنوں میں اتنا بگاڑ پیدا کر دیاکہ وہ برائی کو برائی نہیں بلکہ اچھائی سمجھتے تھے ، بدعہدی ان کے نزدیک دانائی تھی ، ہر مفید جھوٹ انکے لیے عقل مندی اور سیاست کے پیچ وخم کی اونچائی تھی، ہر فحش عمل تہذیب اورتمدن کا نشان سمجھتے تھے ۔ بگاڑ کی دو صورتیں ہوتی ہیں ایک عادت کا بگاڑہوتاہے اس بگاڑ کی اصلاح ممکن ہے دوسرا ذہن کا بگاڑ ہوتا ہے اس کی اصلاح ناممکن ہے جو شخص ذہنی بگاڑ کا شکار ہو جائے اس میں برائی کو برائی سمجھنے کا احساس ختم ہو جاتا ہے اس کو سیدھی راہ ٹیڑھی نظر آتی ہے اور ہر ہدایت گمراہی ۔ وہ ذلالت کے اندھیروں میں ایسا ڈوب جاتا ہے کہ اگر اس کیلئے ہزاروں دیے بھی جلا دیے جائیں تو بھی وہ ان کی روشنی سے مستفید نہیں ہو سکے گا اور ہمیشہ اپنی آنکھے موندے رکھے گا۔
’’اور تھے وہ دیدہ بینا رکھنے والے ‘‘
اللہ رب العزت نے فرمایا کہ عاد اور ثمود بے وقوف قومیں نہیں تھیں یہ قومیں دنیاوی معاملات میں بڑی ہوشیار ، چالاک اور سمجھدار قومیں تھیں ، صنعت وحرفت اور تجارت میں سب سے آگے تھیں لیکن افسوس انہوں نے اپنی دانائی ، ہوشیاری اور عقل مندی کو دنیاوی معاملات میں خوب استعمال کیا لیکن اپنے خالق کو پہچاننے میں انہوں نے اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں اور قابلیتوں کو استعمال نہ کیا اس خالق کو نہ پہچانا جس نے انہیں یہ صلاحیتیں اور قوتیں عطا کی تھیں ان کی اس خامی نے ان کو منعم حقیقی کا ناشکرے بنا دیا تھا او ریہی وہ چیز تھی۔
جس پر اللہ ان پر ناراض ہوا او ران کا وجود صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ان کی داستانیں تاریخ کی کتابوں کے صفحات کی زینت بن کر رہ گئے ہیں ۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…