بعثتِ نبی ﷺ پوری تاریخ انسانی میں ایک لافانی اہمیت کی کا حامل ہے اس عظیم واقعہ نے تاریخ انسانی کے دھارے کا رخ تک موڑ دیا۔ انسانیت کو پستیوں سے نکال کر عظمت اور رفعت کے آسمان پر پہنچادیا انسان کو ان زنجیروں سے نجات دلائی جس میں وہ صدیو ں سے جکڑا چلا آرہا تھا ۔ اس کی پشت سے وہ بوجھ اتاردیئے جن کے نیچے وہ قرنہا قرن سے دبا جارہا تھا۔اور آپ ﷺ نے ان کو کفر وضلالت کی تاریکیوں سے نکال کر راہ حق و ہدایت پر چلایا اور دنیا کو ایک ایسا نظام اجتماعی دیاجس کو اپنا کر وہ امن وسلامتی کا گہوارہ بن سکتی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت اور عقیدت ایمان کا لازمی تقاضا ہے جس شخص میں آپ کی محبت نہیں وہ اپنے دعوی ایمان میں جھوٹا ہے ایمان واسلام اور رسول اکرم ﷺ سے محبت لازم وملزوم ہے۔ اور محبت بھی ایسی کہ جس کے آگے ساری محبتیں ماند پڑ جائیں لیکن اس محبت کا تقاضا پورا کرنے کا جو ڈھنگ ہم مسلمانوں نے اختیار کیاہے وہ ہمیں سلف صالحین کی زندگی میں کہیں نظر نہیں آتا ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کا محب صادق اور کون ہو سکتاہے ؟ ہمیں ان کی زندگی میں ایسے واقعات تو نظر آتے ہیں کہ وہ ھادئ برحق ﷺ کے اشارہ ابروپر اپنا گھر بار ، بال بچے ، مال ومتاع قربان دیتے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے متبعین نے اپنی سیرت اور کرداراورخون جگرسے محبت وعقیدت کی جو لازوال اور بے مثال تاریخ مرتب کی ہے اس تاریخ میں کوئی ایسا ورق نظر نہیں آتا جس میں یہ لکھا ہو کہ یہ نفوسِ قدسیہ کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت بھی مناتے تھے۔ اپنی بستیوں کو جھنڈیوں سے آراستہ وپیراستہ کرتے تھے اپنے گھروں میں چراغاں کرتے اور جلوس نکالتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں شرکیہ قصائد پڑھتے اور باجوں اور تاشوں سے سڑکوں اور گلیوں میں ہنگامہ مچاتے ہوئے پورا دن رات گزار دیتے تھے۔
عشق رسول ﷺ کے اظہار کا یہ بہت سستا اور آسان طریقہ صدیوں بعد تراشا گیا جب مسلمان فکری اور سیاسی اعتبار سے زوال وانحطاط کی راہ پر گامزن ہوچکے تھے جب علم دین کا لبادہ اوڑھے ہوئے تن آسان اور پیٹ پرستوں نے مسلمانوں کو غیر اسلامی سرگرمیوں پر ٹوکنا، نیکی کے کاموں کا حکم دینا، قوم کی صحیح خطوط پر اخلاقی اور دینی تربیت کرنا چھوڑ دیا تھا اور معصوم مسلمانوں پر اپنی بزرگی کا سکہ برقرار رکھنے کیلئے ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا جو ان کے دینی جذبات سے کھیلتے ہوئے انہیں دین کے نام پر نئے نئے مشاغل میں مصروف کیے رکھتے۔ اسی نظریئہ فکر نے اسلامی معاشرت میں جوجو بدعات رائج کیں ان میں عید میلاد النبی ﷺ کی بدعت سرفہرست ہے ۔
واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں جتنی بدعات ، گمراہیاں ، مشرکانہ رسوم ، قبیح رواج اور غیر اسلامی اعمال وافعال پائے جاتے ہیں ، انہوں نے اسلام ہی کے نام پر ان کے اندر راہ پائی ہے۔ مسلمان ان بدعات ، مشرکانہ رسوم وعقائد میں صرف اس لیے مبتلا ہیں کہ علماء سوء نے انہیں یہی بتایا ہے کہ اسلام انہی چیزوںکانام ہے ۔ وہ ان بدعات اور غیر اسلامی اعمال کو جس خلوص ، جوش وخروش اور حسن عقیدت سے انجام دیتے ہیں اس سے بجائے خود ایک بڑا اہم سبق ملتاہے ۔ وہ یہ کہ اگر ان کے اس خلوص ، جوش وخروش اور حسن عقیدت کارخ صحیح راستے کی طرف موڑ دیا جائے تو اس سے ایک عظیم اسلامی انقلاب برپا کیاجاسکتاہے۔
مسلمانوں کی صلاحیتیں غلط راہوں سے موڑ کر جب بھی صحیح راستوں پر ان سے کام لیا گیا ہے ایک عظیم انقلاب معاشرہ میں رونما ہواہے۔ برصغیر میں اس کی بہترین مثال تحریک سیدین شہیدین شہداء بالا کوٹ سید احمد شہید رحمہ اللہ علیہ کی تحریک میں ملتی ہے۔ سید شہید رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کی جدوجہد سے لاکھوں مسلمانوں نے بدعات ، گمراہیوں ، مشرکانہ رسوم ، قبیح رواجوں اور غیر اسلامی زندگی سے توبہ کر کے خالص اسلامی زندگی بسر کرنے کا عہد کیا۔ اس طرح ان کا خلوص ، حسن عقیدت ، جوش وخروش ، سرگرمیاں اور دلچسپیاں جو پہلے غلط ، بے نتیجہ اور مضر کاموں میں صرف ہورہی تھی ۔اب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے مشن کی تکمیل میں صرف ہونے لگیں۔ اب کیا عالم ، کیا عامی ، ہرشخص معروفات کو پھیلانے ، منکرات کو مٹاتے اور اعلائے کلمۃ اللہ بلند کرنے کی جدوجہد میں لگ گیا۔ جس وقت یہ تحریک اٹھی تھی مسلمان معاشرتی ، اخلاقی اور سیاسی زوال کا بڑی تیزی سے شکار ہورہے تھے لیکن اس تحریک نے ان کے اس زوال کی تیز رفتاری کو روک دیا اور ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ایسے سرفروش پیدا کئے جنہوں نے اپنے جگر کا خون دے کر گلشنِ اسلام پر چھائی ہوئی خزاں کو بہار میں بدلنے کی جدوجہد کی ۔ ان سرفروش مجاہدین کی داستانِ رنگیں سرحد کے کوہ ودشت سے لیکر انڈیمان کے جزائر تک پھیلی ہوئی ہے جس کا تفصیلی تذکرہ ماہنامہ اسوئہ حسنہ میں کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ چونکہ اس وقت برصغیر میں اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلا جارہا تھا اس لیے اس تحریک کو اپنی ساری توانائیاں اس اقتدار کو بحال کرنے میں صرف کرنی پڑیں اور اللہ کو ابھی منظور نہ تھا کہ وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوتی ۔ لیکن اس کے باوجود عام مسلمان معاشرے پر اس تحریک کے جو انقلابی اثرات مرتب ہوئے وہ کچھ کم نہ تھے۔یہ تحریک جہاں جہاں پہنچی ، شریعت کی پابندی ایمان کی پختگی ، اخوت ، باہمی محبت ورافت اور شرک وبدعت سے نفرت ، صداقت شعاری جفا کشی ، تقوی ، سادگی وتواضع ، ایثار ، خدمتِ خلق ، غیرتِ دینی ، شوقِ جہاد وشہادت ، صبر واستقامت اور دوسری اسلامی اقدار کا دور دورہ ہوگیا۔ بعد کے برسوں میں برصغیر میں مسلمانوں نے اپنے دین وتہذیب کو فرنگی تہذیب سے بچانے کی جتنی بھی جدوجہد کی وہ فی الحقیقت اسی تحریک کا پیدا کردہ ثمرہ تھی۔
کہنے کا مقصود یہ ہے کہ اس وقت اس تحریک نے مسلمانوں کے فکر وعمل میں جو عظیم انقلاب برپا کیا، اقتدار ہاتھوں میں نہ ہونے کی وجہ سے اس سے ملت کی اجتماعی زندگی کو اسلامی خطوط پر تعمیر نہ کیا جاسکا۔ اب اللہ کے فضل وکرم سے اقتدار مسلمانوں کو واپس مل چکاہے اور یہ اقتدار حاصل بھی اسی لیے کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعے اسلامی نظام ِ حیات کو ملت کی انفرادی واجتماعی زندگی میں نافذ کیا جائے۔ اب مسلم عوام کی توانائیوں ، صلاحیتوں اور ان کے دینی جذبات واحساسات کا رخ صحیح سمت موڑ کر ان سے بڑا عظیم الشان انقلاب بپا کیا جاسکتاہے۔بشرطیکہ ہمارے ارباب حل وعقداس طرف کما حقہ متوجہ ہوں ۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی درندوں نے گزشتہ دنوں فلسطین کی نہتے بے گناہ مسلمانوں پر وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں تقریبا 1300فلسطینی مسلمان شہید ہوگئے جن میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی تھی ۔ اس بربریت کے نتیجہ میں 41 مساجد کو بھی شہید کیا گیا ۔ دنیا میں جتنی بھی قتل وغارت گری ہو رہی ہے یہ صرف اور صرف اسلامی قوانین سے روگردانی کا نتیجہ ہے اگر آج بھی ارضِ خاکی پر خدائے وحدہ لاشریک کے اسلام کو نافذ کر دیا جائے تو دنیا میں امن کا بول بالا ہو جائے گا جس کی تازہ ترین مثال سوات میں حکومت اور طالبان کے درمیان طے ہونے والا معاہدہ امن ہے اس معاہدہ پر دستخط ہوتے ہی سوات میں امن قائم ہوگیا حالانکہ حکومتِ وقت نے اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے پوری قوت صرف کر ڈالی پھر بھی وہ امن کو ممکن نہ بنا سکی۔ اس معاہدہ کے فوائد کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلامی نظامِ عدل پورے پاکستان میں نافذ ہونا چاہئے تاکہ انصاف کیلئے دربدر ٹھوکریں کھاتی عوام اسلامی نظام عدل سے راحت وسکون پا سکیں ۔ حدوداللہ کا نفاذ صرف سوات تک ہی کیوں محدود ہے حالانکہ شریعت محمدیہ اور احکامات الہیہ کسی علاقے یا قوم کے لئے خاص نہیں ہیں بلکہ اس کے نفاذ کو پوری دنیا میں رائج کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور خاص طور پر ملک پاکستان میں کہ جس کی بنیادیں ہی اسلام اور کلمہ طیبہ پر رکھی گئی ہیں ۔ اہل حل وعقد کو چاہئے کہ اس نظام عدل کو پورے پاکستان میں نافذ کریں تاکہ قیام پاکستان کے بنیادی مقاصد کو حاصل کیا جا سکے ۔ پاکستان کی بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال اور گوناگوں مسائل کا حل بھی اسی نظام کے ذریعے ممکن ہے اور پاکستان میں پیش آنے والے واقعات سے امریکیوں کا مشکل میں آنا فہم وفراست سے بالا تر ہے ۔ رچرڈ ہالبروک کو سوا ت میں نفاذ عدل اور طالبان سے معاہدے پر جو تکلیف ہوئی ہے اسکا امریکا اور اسکے شہریوں سے کیا تعلق ہے۔ ؟؟
سوات پر ’’قبضہ‘‘ کرنے والوں کو برے لوگ کہنا پاکستانی شہریوں کی ہی نہیں حکومت کی بھی توہین ہے ۔ یہ لوگ ہتھیار رکھ کر امن وسکون پر آمادہ ہوگئے ہیں شاید اس لئے امریکا کی نظر میں برے ہیں ۔ اگر پاکستان کے شمالی علاقوں اور ملک بھر میں حکومت اور اسکی پالیسیوں سے اختلاف رکھنے والوں کے درمیان مفاہمت ہو جائے تو امریکا کے پاس پاکستان میں دخل اندازی اور ڈرون حملوں کا کوئی جواز نہیں رہے گا اور یہی بات خطے میں امریکا کے آئندہ عزائم میں رکاوٹ بن سکتی ہے ۔
ایک ایسے ماحول میں کہ جب ابھی اعتماد کے رشتے میں شک کی ملاوٹ باقی ہے اوراعتبار بھی مجروح ہے کوئی ایک حرکت حالات کا رخ بدل سکتی ہے ۔ تاریخ اور خاص طور پر مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ کئی بار ایسا ہوا ہے کہ فریقین نے پورے خلوص اور محبت کے ساتھ اپنے تنازعات ختم کرنے کی کوشش کی اوروہ کسی معاہدے پر متفق بھی ہوئے لیکن ’’خارجیوں ‘‘ نے اس کو پایہ تکمیل تک پہچانے میں مختلف حربے استعمال کرتے ہوئے رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کردیں تاکہ اس امن کے قیام کو مستحکم ہونے سے پہلے ہی انجام تک پہنچا دیا جائے ۔اب تمام مسلمانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے حربوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ کر اس نظام عدل کے قیام کو یقینی بنائیں تاکہ عوام دن کو چین حاصل کریں اور رات کو سکون کی نیند سو سکیں۔ وما علینا إلا البلاغ المبین
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…