تفصیلی خطاب ہو یا مختصر درس گفتگو کا آغاز ہمیشہ آیت قرآنی اور حدیث مبارکہ سے دعوت الی اللہ،صبر وثبات،راضی برضا اور ہر حال میں اللہ کا شکر یہ وہ انداز تھا جو گذشتہ کئی عشروں سے ملک کے طول وعرض بلکہ چار دانگِ عالم میں کچھ اس انداز سے گونجا۔اور اس آب وتاب سے اس’’ضیا‘‘ نے دلوں کو منور کیا کہ دین لوگوں کے سامنے ’’لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا‘‘ کی صورت میں واضح کر دیا۔ وللہ الحمد
29 اپریل 1977ء کو رحمٰن نے پروفیسر محمد ظفر اللہ a پر اپنی بے پایاں رحمت،فضل وکرم اور انعام فرماتے ہوئے فرزند ضیاء الرحمن سے نوازا جو علمی مدارج طے کرتے ہوئے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ پہنچے اور وہاں سے 1425ھ/2004ء میں انتہائی اعلیٰ نمبروں کے ساتھ «ممتاز مع مرتبة الشرف» ہائی فرسٹ ڈویژن کے ساتھ سند فراغت حاصل کی واپسی پر اپنی مادرعلمی جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں خدمات کا آغاز کیا۔ تدریسی ودعوتی خدمات سے شروع ہونے والا سفر جاری رہا۔ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی مجلس عامہ اور مجلس شوریٰ نے ان کی خداداد صلاحیتوں،تقویٰ اور للہیت کی بناء پر ان کو نائب مدیر اور پھر مدیر الجامعہ کی ذمہ داریاں سونپیں جو انہوں نے تادم شہادت (إن شاء اللہ) احسن طریقے سے پوری نبھائیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی شہادت کو قبول فرمائے اورجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
12 ستمبر 2023ء شہادت شیخ ضیاء الرحمن a کے بعد سے تادم تحریر اتنا کچھ لکھا اورکہا جاچکا ہے کہ ان کی زندگی کے بہت سے پہلو سامنے آئے ہیں اور ہر ہر پہلو سے جاننے کے بعد ہر کوئی اعتراف کرنے پر مجبور ہے کہ
انسانی باہمی تعلقات کے بیان سے لازماً کہیں کوئی تنقیص،خود ستائشی یا مبالغہ آرائی کا شائبہ رہتاہے۔ ان باتوں سے احتراز کی ایک صورت بعض اہل علم کے ہاں یہ دیکھی گئی ہے کہ باہمی تعلقات کے بجائے عمومی اوصاف کے ساتھ ساتھ یا ان سے ہٹ کر خصوصی طور پر دین،شریعت، قرآن وسنت سے خصوصی اور انوکھے تعلق کا تذکرہ کیا جاتاہے۔ وقت کے عظیم اسکالر،محقق اور نامور علمی شخصیت ڈاکٹر حماد لکھوی d، مولانا عائش محمد a کے متعلق بتاتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں قرآن کی جو عمدہ تفسیر مولانا عائش محمد a سے سنی اس سے پہلے ایسی تفسیر وترجمہ کبھی نہ سنا نہ پڑھا۔ انہوں نے مثال دی کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے جب گھر والوں کو آگ دیکھنے پر وہاں رکنے کے لیے ’’امْكُثُوْۤا ‘‘ بولا تو مولانا نے اس کا ترجمہ کیا کہ ’’آپ یہاں تشریف رکھیں‘‘۔ بالکل بعینہ اسی طرح شیخ ضیاء الرحمن شہید a کے متعلق کہاجاسکتا ہے کہ وہ قرآن وسنت بیان کرتے ہوئے اللہ کی خاص توفیق سے ایسے نکات بیان کرتے کہ ایک عام ادنیٰ طالب علم تو ایک طرف اہل علم بھی انگشت بدنداں رہ جاتے۔
تقویٰ کی تعریف،فضائل، اہمیت، ثمرات علماء سے بارہا سنے اور خداداد صلاحیتوں،تقویٰ کو عملی طور پر اپنانے اوراختیار کرنے کی بناء پر علماء عوام الناس اور طالبان علم نبوت کی الحمد للہ ثم الحمد للہ بھرپور رہنمائی کرنے کی حتیٰ المقدور کوشش کرتے ہیں تاہم شیخ ضیاء الرحمن شہید a نے جب مذکورہ بالا آیت کے الفاظ ’’ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ يُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ ‘ ‘کا مفہوم اورتفسیر اس انداز سے بیان کیا کہ تقویٰ اختیار کرو تو اللہ تبارک وتعالیٰ خود تمہارا معلم بن جائے گا اور تمہیں سکھائے گا۔تو یہ سوچ کر عام انسان اور ایک طالب علم کی بھی آنکھیں بھر آتی ہیں کہ انسانی کوشش جو کہ گنہگار کی کوشش بھی ہوسکتی ہے کہ وہ متقی بنے اور اس کا ثمرہ …… سبحان اللہ
یوں محسوس ہوتا کہ آیات قرآنی اور احادیث مبارکہ کے الفاظ کا باہمی ربط اور اس کے نتیجے میں لطیف نکات اور حکمت الٰہیہ کا بیان ضیاء الرحمن شہید a کو خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دل میں ڈالا جارہا ہو۔
فرمایا کرتے کہ اگر کوئی جانچنا چاہے کہ اس کے اعمال صالح افراد کے اعمال جیسے ہیں یعنی وہ صالح ہے کہ نہیں تو خود جائزہ لے لے کہ وہ اپنے والدین کے لیے کس قدر دعائیں کرتاہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کا صفوں میں لوگوں کے کھڑے ہونے کی ترتیب کے متعلق فرمان اس بات پر دلالت کرتاہے کہ جو صف اول میں امام کے جتنا قریب کھڑا ہونے کے لیے سبقت لے جانے کی کوشش کرے گا وہ صاحبان عقل وخرد میں شامل ہونے کی کوشش کے نتیجے میں اللہ کے فضل سے وہ درجہ پائے گا۔ اور آخری خطاب میں فرمایا کہ نو جوانوں کو قیادت سونپنے کے بعد أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَىعلماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ قریب رہ کر ہی راہنمائی فرمائیں۔
بیٹیوں کی ولادت پر خوبصورت انداز میں مبارکباد کہ اکثر انبیاء علیہم السلام بھی ابو البنات تھے اور یہ کہ مفسرین ’الْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ ‘ کی تفسیر بیٹیاں کرتے ہیں۔ نکاح کے موقع پر زوجین کے رشتہ کی اہمیت کچھ یوں بیان فرماتے کہ اس رشتے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کے بجائے سب سے پہلے میاں بیوی کا رشتہ پیدا فرمایا شریعت میں رسول اللہ ﷺ نے اولو الامر کی اطاعت اور امیر خواہ کوئی بھی ہو، کیسا بھی ہو جو مقرر کر دیا جائے تو اس سلسلے میں سینئر جونیئر کےدنیاوی معیار کے بجائے والدہ کے مقام کے باوجود بیٹے کے ولی ہونے کی مثال دیا کرتے۔ نماز جنازہ کی ادائیگی اور اس سے قبل مختصر گفتگو میں، حال اور مستقبل کے متعلق اللہ عالم الغیب کی حکمتوں کو امراض، ابتلاء،فتنوں کے متعلق انسانی سوچ کے مقابلے میں نعمت قرار دیتے، اسی طرح فوت شدگان کو معاف کر دینے کی تلقین کے ساتھ ساتھ جھنجھوڑنے والے انداز میں فرماتے کہ ہم جس شخص کو اللہ کی رضا کے لیے معاف کر رہے ہیں۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ہمیں بھی اس نے معاف کر دیا ہوگا لہٰذا زندگی میں باہمی معاملات صاف رکھنے چاہئیں اور آپس میں فوری طور پر معافی تلافی کر لینی چاہیے۔
اس موقع پر جب ضیاء الرحمن شہید (ان شاء اللہ) a، معلم خیر، عبد شکور، داعی الی اللہ کی حیثیت سے زندگی گزار کر شہادت کی خلعت فاخرہ زیب تن کئے۔(ان شاء اللہ) نَفْس مُطْمَئِنَّةاور عبد(مطیع) کی حیثیت سے اپنے اللہ کے حضور پیش ہوچکے ہیں بہت کچھ کہا جارہا ہے۔
کسی نے کہا:
چھپ گیا آفتاب شام ہوئی
اک مسافر کی راہ تمام ہوئی
کوئی اس انداز سے دعا کر رہا ہے
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
وہ خود بزبان حال کہہ رہے ہیں :
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
اور یہ تو میری طرح گویا ہر دل کی آواز ہے۔
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
میں بھی علامہ اقبال کی زبان میں دعاگو ہوں۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…