Categories: مارچ 2009

خصائص النبی ﷺ

اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول اکرم  ﷺ کو بہت سی ایسی خصوصیات سے نوازا جو کسی اور نبی یا رسول کے حصے میں نہ آسکیں جس سے آپ کا عظیم مرتبہ اور شرف و تکریم واضح ہوتاہے۔ علماء کرام نے ان خصائص کو مختلف حصوںمیں تقسیم کیا جن میں ایک وہ خصوصیات بھی ہیں جو دنیاوی زندگی میں ہی آپ  ﷺ کے ساتھ خاص کر دی گئیں، جن کا تذکرہ اختصار کے ساتھ ذیل میں کیا جا رہا ہے ۔

۱- عہد اور میثاق

اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء اور مرسلین جن کا سلسلہ حضرت آدم سے شروع ہو کر حضرت عیسی علیہ السلام تک اختتام پذیر ہوتاہے ان سے یہ عہد لیا کہ اگر ان کی زندگی میں رسول اکرم  ﷺ مبعوث کیے گئے تو تم سب کو ان کے ساتھ ایمان لا کران کی نصرت ومساعدہ میں شریک ہونا پڑے گا جس کیلئے ان کو کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہونی چاہئے اس طرح ان انبیاء اور مرسلین کو حکم دیا کہ وہ اپنی اپنی امتوں سے بھی یہ میثاق لے لیں کہ اگر ان کی زندگی میں آپ  ﷺ کو نبوت کے منصب پر فائز کیا جاتا ہے تو وہ بھی آپ  ﷺ پر ایمان لائیں گے اور ان کی مدد سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

{وَإِذْ أَخَذَ اللّہُ مِیثَاقَ النَّبِیِّیْنَ لَمَا آتَیْتُکُم مِّن کِتَابٍ وَحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَائَکُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہِ وَلَتَنصُرُنَّہُ}(آل عمران: ۸۱)

ترجمہ:  ’’اور جب اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے  عہد لیاکہ میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں اور جب تمہارے پاس وہ پیغمبرآئے جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرے تو تم اس کے ساتھ ایمان لانااور ضرور اس کی مدد کرنا‘‘

  حضرت علی ابن طالب اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا جس سے یہ عہد نہ لیا ہو کہ اگر ان کی زندگی میں محمد  ﷺ کو رسالت دی گئی تو ان کو آپ  ﷺ کی رسالت پر ایمان لا کران کی اطاعت کرنا  ہو گی اوران کی امتوں سے بھی یہی عہد لینے کا حکم دیا گیا۔(تفسیر الطبری وتفسیر ابن کثیر)

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر آج موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے توان کیلئے بھی میر ی اطاعت  لازمی ہوتی۔‘‘ (رواہ احمد، ۳/۳۸۶، وصححہ الالبانی)

۲-رسالت عام

آپ  ﷺ کی بعثت سے پہلے تمام انبیاء کرام کو خاص طور پراپنی اپنی امتوں کی طرف بھیجا جاتا تھا جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

{لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَی قَوْمِہِ فَقَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللَّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ}(الاعراف: ۵۹)

ترجمہ:’’بیشک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا :اے میری قوم صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود ہے ہی نہیں۔‘‘

{وَإِلَی عَادٍ أَخَاہُمْ ہُوداً قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ } (الاعراف:۶۵)

ترجمہ:’’اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا گیا انہوں نے کہا: اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو جس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں۔‘‘

{وَإِلَی ثَمُودَ أَخَاہُمْ صَالِحًا قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ}    (الاعراف: ، ۷۳)

ترجمہ:او رقوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو مبعوث کیا گیا تو انہوں نے کہا: اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو جس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں۔‘‘

{وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُم بِہَا مِنْ أَحَدٍ مِّن الْعَالَمِینَ}    (الاعراف: ۸۰)

ترجمہ:’’اور لوط علیہ السلام نے جب اپنی قوم سے کہا کیا تم ایسی بے حیائی کے مرتکب ہوتے ہو جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کی۔‘‘

{وَإِلَی مَدْیَنَ أَخَاہُمْ شُعَیْبًا قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ} (الاعراف:۸۵)

ترجمہ:’’اور اہل مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب علیہ السلام کو بھیجاانہوں نے کہا: اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو جس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں‘‘

{وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِی کُلِّ قَرْیَۃٍ نَذِیرًا} (الفرقان: ۵۱)

ترجمہ:’’اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں کوئی ڈرانے والا بھیج دیتے۔‘‘

جبکہ آپ  ﷺ کو تمام امت کیلئے عام طور پر بھیجا گیا ہے ، جیسا کہ عز بن سلام بیان کرتے ہیں کہ آپ  ﷺ کی یہ خصوصیت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو  جن وانس اور تمام جہانوں کیلئے عام رسول بنا کر  مبعوث فرمایا۔ (بدایۃ السول فی تفصیل الرسول)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی اور کو نہیں دی گئیں ، ایک مہینے کی مسافت تک میرے رعب سے میری مدد کی گئی ، میری لیے ساری زمین کو پاک صاف بنا دیا گیا ہے پس میری امت کا کوئی آدمی جہاں چاہے نماز پڑھ سکتا ہے ، میرے لئے مال غنیمت کو حلال کر دیا گیا ، مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ، مجھ سے پہلے تمام انبیاء اپنی قوموں کی طرف خاص طور پر بھیجے جاتے تھے جبکہ مجھے تمام امت کیلئے عام طورپر بھیجا گیا۔‘‘ (بخاری، ۵۵۳، مسلم:۵۲۱)

3- خاتمۂ نبوت

اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا کرم ہے کہ اس نے محمد  ﷺ کو نبی بنا کر بھیجااور آپکی تکریم وتشریف کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپکو خاتم النّبیین اور دین کو مکمل کر کے پہنچانے والابنایا ہے ، اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور خود رسول اکرم  ﷺ نے اپنی زبان مبارکہ سے اس بات کو صراحت کے ساتھ بیان فرما دیا ہے کہ ان کے بعد کوئی اور نبی نہیں آنے والاہے تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ آپ کی وفات کے بعد اگر کوئی بھی منصب نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ کاذب ودجال ہو گا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے :

{مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللَّہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ}   (الاحزاب: ۴۰)

ترجمہ: ’’محمد  ﷺ تمہارے لوگوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہاں وہ تو اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں‘‘

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ میر ی اور دوسرے تمام انبیاء کی مثال اس طرح ہے جیسے کو ئی گھر بناتا ہے اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دیتا ہے جب لوگ اس کے گرد دیکھتے ہیں تو تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس میں یہ اینٹ لگ جاتی ، میں اسی اینٹ کی طرح اور خاتم النّبیین ہوں‘‘ (بخاری: ۳۵۳۵، مسلم : ۲۲۸۶)

حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک رسالت اور نبوت ختم ہو چکی ہے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا‘‘   (ترمذی ، حسن صحیح ، و صححہ الالبانی)

4- رحمت للعالمین

اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی  ﷺ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنایا ہے چہ جائیکہ وہ کافر ، مسلمان، جن وانس یا کوئی بھی ہو ، لیکن مؤمنین کیلئے خاص طور پر رؤف ورحیم بنایا ہے پس جس نے اس رحمت کو دل سے قبول کیا اس کیلئے دنیا وآخرت کی خوش نصیبی ہے جبکہ جس نے اس رحمت کو ٹھکر ا دیا اس کی قسمت میں خسارے کے سو ا کچھ بھی نہیں ہے ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے :

{وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِینَ}  (انبیاء: ۱۰۷)

ترجمہ: ’’اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے ‘‘

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ ﷺ سے کہا گیا کہ آپ کافروں پر بددعا کردیں تو آپ  ﷺ نے جواب دیا: ’’میں لوگوں پر لعنت کرنے کیلئے نہیں بلکہ میں توان کیلئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں‘‘ (مسلم: ۲۵۹۹)

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا:’’ اگر میں اپنی امت کے کسی آدمی کو گالی دوں یا اس پر لعنت کروں تو میں بھی آدم کی اولاد میں سے ہوں اور جس طرح تم لوگ غصہ کرتے ہو میں بھی اسی طرح غصہ کرتا ہوں لیکن مجھے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا گیا ہے اس لئے میں اس آدمی کیلئے قیامت کے دن اپنے غصے کو سلامتی بنا دوں گا‘‘ (ابو داؤد : ۴۶۵۹، احمد: ۵/۴۳۷)

5- اپنے صحابہ کرام کیلئے امن وآشتی کا محور

اللہ تعالیٰ نے اس بات سے بھی نبی اکرم  ﷺ کی تکریم کی کہ آپ کی موجودگی میں تمام لوگوں کو عذاب سے محفوظ کر دیا، حالانکہ آپ سے پہلے انبیاء کی امتیں ان کی زندگی میں ہی ہلاک و برباد کی گئی تھیں اس طرح آپ  ﷺ کی زندگی میں آپکے صحابہ مختلف فتنوں، آپس کی لڑائیوں اور دیگر جھگڑے فساد اور ارتداد سے بھی محفوظ رہے ۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن ابوجہل کہنے لگا کہ اے اللہ اگر یہ نبی سچا اور حق ہے تو پھر آسمان سے ہمارے اوپر پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب بھیج دے تو یہ آیت نازل ہوئی:

{وَإِذْ قَالُواْ اللَّہُمَّ إِن کَانَ ہَذَا ہُوَ الْحَقُّ مِنْ عِندِکَ فَأَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَائِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِیمٍ وَمَا کَانَ اللّہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَأَنتَ فِیہِم وَمَا کَانَ اللّہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ}(الانفال: ۳۳-۳۴)

ترجمہ: اور جب ان لوگوں نے کہا : اے اللہ اگر یہ (قرآن)تیری طرف سے حق ہے تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب بھیج دے ، لیکن(اے پیغمبر) اللہ تعالیٰ آپکی اس قو م میں موجودگی کی وجہ سے انہیں عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا  اور نہ ہی انہیں عذاب میں ڈالنے والا ہے اگر وہ مغفرت طلب کرنے والے ہوں۔‘‘

یہ آپ  ﷺ کے رحمت للعالمین ہونے کا واضح ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی ا مت کے کافروں اور نافرمانوں کو پہلی امتوں کی طرح اجتماعی عذاب میں مبتلا کر کے ہلاک نہیں کیا۔

6- آپکی زندگی میں آپ کی قسم

اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلوقات میں بہت ساری چیزوں کی قسمیں بیان کی ہیں جو ان کی عظمت اور سننے والے کے ذہن میں اس کی تاکید کی وضاحت کرتی ہیں جن میں آسمان وزمین ، سورج ، چاند، فجر اورعصر وغیرہ شامل ہیں ۔ ان تمام چیزوں کے علاوہ انسانوں میں سے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ  ﷺ کے علاوہ کسی کی قسم نہیں کھائی ، جیسا کہ فرمایا:

{لَعَمْرُکَ إِنَّہُمْ لَفِی سَکْرَتِہِمْ یَعْمَہُونَ} (الحجر: ۷۲)

ترجمہ:’’(اے پیغمبر)آپکی جان کی قسم بے شک وہ اپنے نشے میں بھٹک رہے ہیں‘‘

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کسی اور کو اتنی عزت نہیں دی جتنی محمد  ﷺ کو دی ہے میں نے اللہ کے کلام میں یہ نہیں سنا کہ اللہ نے آپ  ﷺ کے سوا کسی اور کی زندگی میں اسکی قسم کھائی ہو: آپکے بارے میں فرمایا:

{لَعَمْرُکَ إِنَّہُمْ لَفِی سَکْرَتِہِمْ یَعْمَہُونَ} (الحجر :۷۲)

7- آپ  ﷺ کو رسالت کے وصف سے مخاطب کرنا

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے کلام میں آپکی تشریف وتکریم کے سبب نام لینے کی بجائے نبوت ورسالت کے منصب کا حوالہ دیکر پکارا ہے جبکہ باقی تمام انبیاء کو ان کے نام لیکر مخاطب کیا گیاتھا۔ مثلاً: ۔

{یَا أَیُّہَا الرَّسُولُ لاَ یَحْزُنکَ الَّذِینَ یُسَارِعُونَ فِی الْکُفْرِ} (المائدہ: ۴۱)

ترجمہ:’’ اے رسول آپ کفر کی طرف جلدی کرنے والوں کی وجہ سے غمگین ہر گز نہ ہوں‘‘

{یَا أَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَیْکَ مِن رَّبِّکَ }(المائدہ: ۶۷)

ترجمہ:’’اے رسول جو چیز آپ پر آپکے رب کی طرف سے اتاری گئی اس کو آگے پہنچاؤ‘‘

{یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّہُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ}(الانفال:۶۴)

ترجمہ:’’اے نبی آپ کو او رمؤمنین میں سے آپ کی اتباع کرنے والوں کیلئے اللہ ہی کافی ہے ‘‘

جبکہ دوسرے انبیاء کو اس طرح مخاطب کیا : ۔

{وَقُلْنَا یَا آدَمُ اسْکُنْ أَنتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ }(البقرہ: ۳۵)

ترجمہ: ’’اور ہم نے کہا :اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو‘‘

{قِیلَ یَا نُوحُ اہْبِطْ بِسَلاَمٍ }ہود: ۴۸)

ترجمہ:’’(نوح سے )کہا گیا اے نوح سلامتی سے اتر جاؤ‘‘

{قَالَ یَا مُوسَی إِنِّی اصْطَفَیْتُکَ عَلَی النَّاسِ بِرِسَالاَتِی } (اعراف : ۱۴۴)

ترجمہ:’’(اللہ نے کہا) اے موسیٰ بے شک میں نے تمہیں لوگوں پر اپنی رسالت کیلئے منتخب کرلیا ہے ‘‘

{وَنَادَیْنَاہُ أَنْ یَا إِبْرَاہِیمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إِنَّا کَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ}(صافات:۱۰۴، ۱۰۵)

ترجمہ:’’اور ہم نے پکاراکہ اے ابراہیم بے شک آپ نے خواب کو سچ کر دکھایا ہم اسی طرح احسان کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں ‘‘

ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں جہاں بھی آپ کا نام استعمال کیا گیا ہے اس کے ساتھ رسالت کا لفظ ضرور بیان کیا گیا ہے ، مثال کے طورپر:

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَ سُوْلٌ (آٓل عمران: ۱۴۴)

بیشک محمد اللہ کے رسول ہیں‘‘

مُحَمَّدٌ رَ سُوْ لُ اللہِ …  (الفتح: ۲۹)

’’محمد اللہ کے رسول ہیں‘‘

8- مؤمنین کو آپ  ﷺ کا نام لیکر پکارنے سے منع کرنا

اللہ نے جس طرح آپ  ﷺ کی عزت وشرف کی وجہ سے آپ کا نام لیکر نہیں پکا را اسی طرح مومنین کو بھی منع فرما دیا کہ وہ آپ کو پکارتے وقت نام نہ لیا کریں بلکہ ’’اے اللہ کے نبی‘‘ یا ’’اے اللہ کے رسول‘‘ کہہ کر پکاریں ۔ ارشاد ربّانی ہے :۔

’’ تم لوگ رسول اللہ  ﷺ کو اس طرح ہرگز نہ پکارو جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔‘‘(النور:۶۳)

ترجمان قرآن ابن عباس رضی اللہ عنہ ، مجاہد اور سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ لوگ ’’ اے محمد یا اے ابو القاسم ‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے جو کہ اللہ تعالیٰ نے آپکی تعظیم کی خا طر منع فرما دیا ۔ (تفسیر ابن کثیر ، تفسیر ابن جریر)

9-جوامع الکلم

اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی  ﷺ کو دوسرے انبیاء پر اس لحاظ سے بھی فضیلت بخشی کہ آپکو ایسے کلمات عطا کیے گئے جو بظاہر الفاظ میں تو بہت کم ہوتے ہیں لیکن ان کا معنٰی ومفہوم بہت وسیع ہوتا ہے ۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا : ’’ مجھے دوسرے تمام انبیاء پر چھ چیزوں میں فضیلت دی گئی ، مجھے جوامع الکلم عطا کیے گئے ، رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی، میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ، میرے لئے ساری زمین کو پاک کر دیا گیا ہے ، مجھے تما م مخلوق کیلئے عام طور پر مبعوث کیا گیا ہے ، اور مجھ پر سلسلہ نبوت کا اختتام کیا گیا ہے ۔‘‘  (بخاری ومسلم )

جوامع الکلم کی ایک مثال :

’’اِنَّمَاْ الْاَعْمَاْلُ بِا لْنِّیِّاتِ‘‘(بخاری ومسلم)

’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے  ‘‘

امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو علم کا ایک تہائی حصہ کہا ہے۔

10- رعب کے ذریعے مدد کرنا:

اللہ تعالیٰ نے آپ  ﷺ کو یہ بھی ایک امتیازی خصوصیت عطا فرمائی کہ آپکے دشمن کو ایک مہینے کی مسافت سے ہی مرعوب کر دیا جس کی وجہ سے وہ آپکا سامنا نہ کر سکتے تھے۔

حضرت ابی امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا: مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی اور کے حصے میں نہیں آئیں ، رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے …… (بخاری، مسلم :۵۲۱)

11- زمین کے خزانوں کی چابیاں آپکے ہاتھوں میں

آپ  ﷺ کو رب تعالیٰ کی طرف سے اس اعزاز سے بھی نوازا گیا کہ زمین کے خزانوں کی چابیاں آپ کے ہاتھوںمیں دیدی گئیں جس کے بعد اللہ نے آپکی امت کو لوگوں کیلئے دوسرے ملکوں کو فتح کر کے ان کے خزانوں کو غنیمت کے طور پر حاصل کرنے ، اور زمین کے معدنی ذخائر کو نکالنے میں آسانی پیدا کر دی ہے ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا: ’’ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئیں اور میرے ہاتھوں پر رکھ دی گئیں ‘‘ (بخاری،مسلم)

12- گناہوں کی بخشش

رسول اللہ  ﷺ کیلئے یہ بات بھی خاص کر دی گئی کہ آپ کی تمام اگلی پچھلی کوتاہیوں کو معاف کر دیا گیا جبکہ آپ  ﷺ اس وقت ابھی تک بقیدحیات تھے ۔

ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت

{اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا لِیَغْفِرَلَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ} (الفتح: ۱،۲)

’’ بے شک ہم نے آپکے لئے فتح مبین عطا فرما دی تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے تما م اگلی پچھلی خطائیں معاف فرما دے۔‘‘

حضرت انس رضی اللہ عنہ قیامت کے دن کی شفاعت والی حدیث میں بیان کر تے ہیں کہ جب قیامت کے دن لوگ شفاعت کی غرض سے حضر ت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ فرمائیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں آپ لوگ محمد  ﷺ کے پاس چلے جائیں جن کے تمام اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے تھے‘‘   (بخاری ،مسلم)

13- ہمیشہ کیلئے محفوظ رہنے والی کتاب:

اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس کی تائید کیلئے نشانیاں اور معجزات عطا کیے تھے تاکہ لوگ ان کو دیکھ کر ایمان لے آئیں لیکن وہ تمام معجزات وقتی طور پر تھے جو کہ اب ختم ہو چکے ہیں جبکہ رسول اللہ  ﷺ کو جو سب سے بڑا معجزہ عطا کیا گیا وہ قرآن کریم ہے جو کہ تا قیامت بغیر کسی تغییر ، تحریف یا تبدیل کے باقی رہنے والا ہے ۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہی فرماتے ہیں :

{اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الْذِّکْرَ وَاِنَّا لَہُ لَحَافِظُوْنَ} (الحجر:۹)

’’ بے شک ہم نے یہ ذکر اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ‘‘

{قُلْ لَئِنِ جْتَمَعَتِ الاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَی أنْ یَّاتُوْا بِمِثْلِ ھَذَا الْقُرْآنِ لَا یَأ تُوْنَ بِمِثْلِہِ }  (اسراء: ۸۸)

’’(اے پیغمبر ) کہہ دو کہ بے شک اگر انسان اور جن قرآن کی طرح لانے کیلئے اکٹھے بھی ہو جائیںتو اس کی طرح ہرگز نہیں لاسکتے ‘‘

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا:’’ ہر نبی کو اللہ تعالیٰ نے کچھ آیات عطا کی ہیں جن پر ان کی قوم کے لوگ ایمان لاتے تھے اور مجھے اللہ کی طرف سے وحی کی گئی ہے اور میں اس بات کی امید رکھتا ہوں کہ قیامت تک اس کے سب سے زیادہ پیروکار ہوں گے ‘‘

14- اسراء اور معراج

اسراء و معراج بھی رسول کریم  ﷺ کی ایسی امتیازی خصوصیت تھی کہ جس کے اعزاز سے باقی تمام انبیاء کرام محروم رہے جس میں آپ  ﷺ کو مکہ کی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ لیجایا گیا پھر وہاں سے آسمان دنیا پر پہنچا دیا گیا جس میں آپکو بہت بڑی نشانیاں بھی عطا کی گئیں جن میں اللہ تعالیٰ سے کلام ، نمازوں کا تحفہ ، بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھنا اور تمام انبیاء کی امامت شامل ہیں۔

{سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الأَقْصَی } (اسراء: ۱،۲)

’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو مسجد حرام سے راتوں رات مسجد اقصی تک لے گئی۔‘‘

جس رسول ﷺ درج بالا خصوصیات ہوں اگر اس کا کہہ نہیں مانے گے تو کس شخص کا حکم مانیں گے لہذا ہمیں چاہیے کہ اپنے جملہ امور میں رسول اللہ  ﷺ کے اسوئہ حسنہ کی طرف رجوع کریں تاکہ سعادت دارین کے مستحق بن سکیں ۔

محمد حسان دانش

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago